شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کا عقیدہ وفات مسیح

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ لکھا کہ 
فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہ و ابن قیّم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 221)
اور اس کا ثبوت مانگا جاتا ہے کہ حوالہ دکھایا جائے کہاں ان دونوں بزرگوں نے حضرت عیسیٰ کی وفات کا اقرار کیا ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں : 
فَأَمَّا حِكَايَتُهُ لِحَالِهِ بَعْدَ أَنْ رُفِعَ فَهُوَ مِثْلُهَا فِي التَّوْرَاةِ ذَكَرَ وَفَاةَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَعْلُومٌ أَنَّ هَذَا الَّذِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ مِنْ الْخَبَرِ عَنْ مُوسَى وَعِيسَى بَعْدَ تَوَفِّيهِمَا لَيْسَ هُوَ مِمَّا أَنْزَلَهُ اللَّهُ وَمِمَّا تَلَقَّوْهُ عَنْ مُوسَى وَعِيسَى بَلْ هُوَ مِمَّا كَتَبُوهُ مَعَ ذَلِكَ لِلتَّعْرِيفِ بِحَالِ تَوَفِّيهِمَا وَهَذَا خَبَرٌ مَحْضٌ مِنْ الْمَوْجُودِينَ بَعْدَهُمَا عَنْ حَالِهِمَا لَيْسَ هُوَ مِمَّا أَنْزَلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَلَا هُوَ مِمَّا أَمَرَا بِهِ فِي حَيَاتِهِمَا وَلَا مِمَّا أَخْبَرَا بِهِ النَّاسَ.
(مجموعہ الفتاویٰ از امام ابن تیمیہ ۔الجزء الثالث عشر ۔ صفحہ ۵۸ )
ترجمہ : پس جو ان کے رفع کے بعد کے حال کی باتیں ہیں تو وہ توراۃ میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے ذکر کی طرح ہیں۔ چنانچہ یہ معلوم بات ہے کہ موسیٰ اور عیسیٰ کے متعلق تورات اور انجیل میں جو خبریں ہیں وہ ان دونوں کی وفات کے بعد کی ہیں۔ان میں سے کچھ بھی نہ اللہ نے نازل کی ہیں اور نہ ہی انہیں موسیٰ و عیسیٰ سے حاصل کیا گیا ہے بلکہ وہ ان دونوں کی وفات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ اور یہ خبریں وہاں موجود لوگوں سے ان کے احوال کے متعلق ان کے بعد لی گئی ہیں۔ نہ تو انہیں اللہ نے ان دونوں پر نازل کیا ، نہ ہی ان دونوں نے اپنی حیات میں اس کا حکم دیا اور نہ ہی ان دونوں نے لوگوں کو اس کی خبر دی۔  

امام ابن قیم فرماتے ہیں :

مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْعُوثٌ إِلَى جَمِيعِ الثِّقْلَيْنِ. فَرِسَالَتُهُ عَامَّةٌ لِلْجِنِّ وَالْإِنْسِ، فِي كُلِّ زَمَانٍ. وَلَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ حَيَّيْنِ لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ.
(مدارج السالکین از علامہ ابن قیم الجوزی ، الجزء الثانی ، صفحہ ۴۹۶ )

ترجمہ : محمد ﷺ تمام عالم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔پس ان کی رسالت ہر زمانے کے جن و انس کے لئے عام ہے۔ اور اگر موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو وہ دونوں لازمًا ان کے پیروکاروں میں شامل ہوتے۔