قیام پاکستان اور جماعت احمدیہ

تحریک آزادی پاکستان اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئےجماعت کی خدمات

جماعت احمدیہ کے دوسرے امام اور خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ؓ نے تحریک آزادی پاکستان کے دوران قدم قدم پر مسلمانوں کی نہ صرف علمی و نظری راہنمائی کی بلکہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہر ممکن عملی کوششیں بھی کیں۔
مسلمانوں کے خلاف ہندو کانگریس کے پلیٹ فارم سے اٹھنے والی تحریکات شدھی، ترک موالات، خلافت اور ہجرتوغیرہ سے مسلمانان ہند کو بروقت آگاہ کیا ۔
            انہیں خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے اخبار ’’مشرق‘‘گورکھ پور نے لکھا :۔
’’جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہو رہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمیعت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام سر انجام دے رہی ہے۔‘‘
                                                                                    (اخبار مشرق گورکھپور 23ستمبر1927ء)

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمات

(1)    حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے 1928ء میں ’’نہرو رپورٹ پر تبصرہ ‘‘نامی کتاب لکھی جس میں مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کیا ۔
(2)    1930ءمیں پہلی گول میز کانفرنس کے موقعہ پر ایک بیش قیمت کتاب ’’ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل‘‘لکھ کر تقسیم کروائی۔
(3)    1931ء میں مسلمانانِ کشمیر کی حمایت اور ڈوگرہ مہاراج سے ان کے حقوق دلوانے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ملی خدمات اور سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر اس کمیٹی کی صدارت کےلئے علامہ محمد اقبال نے آپ کا نام پیش کیا ۔ آپ کی راہنمائی میں کشمیر کمیٹی اور جماعت احمدیہ نے کشمیر کے مسلمانوں کی ناقابل فراموش اور تاریخ ساز خدمات انجام دیں۔

قائد اعظم کی لندن سے واپسی کے لئے تحریک

1933ء میں قائد اعظم محمد علی جناح بر صغیر کے حالات سے مایوس ہو کر انگلستان چلے گئے ۔ ایسے وقت میں حضرت مرزا بشیر الدین  محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے اس معاملہ کی نزاکت کا احساس کرتےہوئے لندن میں مقیم مولانا عبد الرحیم صاحب درد کے ذریعہ قائد اعظم کو واپس ہندوستان آکر مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالنے کی تحریک فرمائی۔ یہ کوشش کامیاب ہوئی ، اس کا اعلان قائد اعظم نے جماعت احمدیہ کے مرکز بیت الفضل لندن میں خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ میں اعلان فرمایا :۔
            “The eloquent persuasion of the Imam left me no escape,”

ترجمہ:۔ امام (مسجد لندن)کی وسیع و بلیغ ترغیب نے میرے لئے کوئی راہ بچنے کےلئے نہ چھوڑی۔ ‘‘

 (Madras Mail 7th April 1933)

کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں ہندوستانی وفد کی قیادت

23مارچ1940ء کو لاہور میں قرار دادِ پاکستان پاس ہوئی۔ اس کے بعد سر سٹیفورڈ کرپس ہندوستان آئے اور ہندوستان کی آزادی کےلئے ایک جدید فارمولا پیش کیا جسے مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے مسترد کر دیا ۔ جس کے نتیجہ میں ہندوستان کی آزادی ناممکن دکھائی دینے لگی ۔ انہی دنوں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں ہندوستان وفد کے قائد کی حیثیت سے انگلستان جانا پڑا۔ آپ نے انگریز حکومت کے سامنے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ ایسے مدلل اور پرشوکت الفاظ میں پیش کیا کہ دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا اور حکومت برطانیہ نے مجبورًا لارڈ ویول وائسرائے ہند کو انتقال اقتدار کا نیا فارمولا دینے کےلئے لندن طلب کیا۔

اس موقع پر ایک ہندو اخبار ’’پر بھات ‘‘نے لکھا کہ
            ’’ایک ایک ہندوستانی کو سر ظفر اللہ خان کا ممنون ہونا چاہیے کہ انہوں نے انگریزوں کے گھر جا کرحق بات کہہ دی ۔‘‘

                                                                   (اخبار پربھات 20فروری1945ء)


مسلم لیگ کی پر جوش حمایت

1945ء کے اواخر میں وائسرائے ہند سر ویول نے انتخابات کروانے کا اعلان کیا ان انتخابات میں ہندو کانگرس نے مسلمان علماء کے ذریعہ پاکستان اور مسلم لیگ کے خلاف پراپیگینڈہ کا ایک جال پھیلا دیا تا مسلم لیگ ان انتخابات میں ناکام ہو اور پاکستان کا قیام عمل میں نہ آسکے ایسے وقت میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے یہ اعلان فرمایا  ’’آئندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہیے۔ ‘‘

(الفضل 22اکتوبر1945ء)

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب

باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمدیہ کے عظیم سپوت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جو عظیم الشان خدمات سر انجام دیں ان خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے قائد اعظم نے آپ کو U.N.O.میں پاکستانی وفد کا قائد مقرر کیا اور پھر 25دسمبر 1947ء کو پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کا قلمدان آپ کے سپرد کیا ۔چنانچہ نوائے وقت لکھتا ہے :۔

            ’’قائد اعظم نے خوش ہوکر آپ (چوہدر ی ظفر اللہ خان صاحب )کو  U.N.O.میں پاکستانی وفد کا قائد مقرر کر دیا۔۔۔۔آ پ نے ملک و ملت کی شاندار خدمات سر انجام دیں تو قائد اعظم انہیں پاکستان کے اس عہدہ پر فائز کرنے کےلئے تیار ہو گئے۔ جو باعتبار منصب وزیر اعظم کے بعد سب سے اہم اور وقیع عہدہ شمار ہوتا ہے ۔‘‘

                                                                   (نوائے وقت 24اگست1948ء)