مقطعاتِ قرآنی

سورۃ یونس کی تفسیر کرتے ہوئے  سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود، خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے مقطعات قرآنی پر درج ذیل لطیف نکات بیان فرمائے :
حروف مقطعات اپنے اندر بہت سے راز رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض راز بعض ایسے افراد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کا قرآن کریم سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں ہونا چاہئے۔ لیکن اس کے علاوہ یہ الفاظ قرآن کریم کے بعض مضامین کے لئے قفل کا بھی کام دیتے ہیں۔ کوئی پہلے ان کو کھولے تب ان مضامین تک پہنچ سکتا ہے۔ جس جس حد تک ان کے معنوں کو سمجھتا جائے اسی حد تک قرآن کریم کا مطلب کھلتا جائے گا۔ 

میری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب حروف مقطعات بدلتے ہیں تو مضمون قرآن جدید ہو جاتا ہے اور جب کسی سورت کے پہلے حروف مقطعات استعمال کئے جاتے ہیں تو جس قدر سورتیں اس کے بعد ایسی آتی ہیں جن کے پہلے مقطعات نہیں ہوتے ان میں ایک ہی مضمون ہوتا ہے۔ اسی طرح جن سورتوں میں وہی حروف مقطعات دہرائے جاتے ہیں وہ ساری سورتیں مضمون کے لحاظ سے ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہوتی ہیں۔ 
میں بتا چکا ہوں کہ میری تحقیق میں سورہ بقرہ سے لے کر سورہ توبہ تک ایک ہی مضمون ہے۔ یہ سب سورتیں الٓم سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورۂ بقرہ الم سے شروع ہوتی ہے۔ پھر سورہ آل عمران بھی الم سے شروع ہوتی ہے۔ پھر سورہ نساء، سورہ مائدہ اور سورہ انعام حروفِ مقطعات سے خالی ہیں۔ اور اس طرح گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔ جن کی ابتداء الم سے ہوئی ہے۔ ان کے بعد سورۂ اعراف المٓصٓ سے شروع ہوتی ہے اس میں بھی وہی الم موجود ہے۔
ہاں حرف ص کی زیادتی ہوئی ہے۔ اس کے بعد سورہ انفال اور براءۃ حروف مقطعات سے خالی ہیں۔ پس سورۂ براءۃ تک الم کا مضمون چلتا ہے۔ سورہ اعراف میں جو ص بڑھایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرف تصدیق کی طرف لے جاتا ہے۔ سورہ اعراف انفال اور توبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی اور اسلام کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۂ اعراف میں اصولی طور پر اور انفال اور توبہ میں تفصیلی طور پر تصدیق کی بحث ہے اس لئے وہاں صٓ کو بڑھادیا گیا ہے۔ 
سورہ یونس سے الم کی بجائے الر شروع ہو گیا ہے۔ الٓ تو وہی رہا اور مٓ کو بدل کر ر کر دیا۔ پس یہاں مضمون بدل گیا۔ اور فرق یہ ہوا کہ بقرہ سے لے کر توبہ تک تو علمی نقطہ نگاہ سے بحث کی گئی تھی اور سورۂ یونس سے لے کر سورہ کہف تک واقعات کی بحث کی گئی ہے۔ اور واقعات کے نتائج پر بحث کو منحصر رکھا گیا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ الٓر یعنی انااللہ اری۔ میں اللہ ہوں جو سب کچھ دیکھتا ہوں۔ اور تمام دنیا کی تاریخوں پر نظر رکھتے ہوئے اس کلام کو تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔ غرض ان سورتوں میں رؤیت کی صفت پر زیادہ بحث کی گئی ہے اور پہلی سورتوں میں علم کی صفت پر زیادہ بحث تھی۔ 
میں فی الحال اس جگہ اختصاراً اتنی بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حروف مقطعات کے متعلق بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ بے معنی ہیں اور انہیں یونہی رکھ دیا گیا ہے۔ مگر ان لوگوں کی تردید خود حروفِ مقطعات ہی کر رہے ہیں۔ چنانچہ جب ہم تمام قرآن پر ایک نظر ڈال کر یہ کہتے ہیں کہ کہاں کہاں حروف مقطعات استعمال ہوئے ہیں تو ان میں ایک ترتیب نظر آتی ہے۔ سورہ بقرہ الم سے شروع ہوتی ہے۔ پھر سورۂ آل عمران الم سے شروع ہوتی ہے۔ پھر سورۂ نساء سورۂ مائدہ سورۂ انعام حروف مقطعات سے خالی ہیں پھر سورۂ اعراف المص سے شروع ہوتی ہے۔ اور سورہ انفال اور براءۃ خالی ہیں۔ ان کے بعد سورۂ یونس، سورۂ ہود، سورۂ یوسف الر سے شروع ہوتی ہیں۔ اور سورۂ رعد میں م بڑھا کر الٓمٓرٰ کر دیا گیا ہے۔ لیکن جہاں المصٓ میں صٓ آخر میں رکھا یہاں مٓ کو رٰ سے پہلے رکھا گیا ہے۔ حالانکہ اگر کسی مقصد کو مدنظر رکھے بغیر زیادتی کی جاتی تو چاہئے تھا کہ میم کو جو زائد کیا گیا تھا راء کے بعد رکھا جاتا۔ میم کو الٓرٰ کے درمیان رکھ دینا بتاتا ہے کہ ان حروف کے کوئی خاص معنی ہیں۔ اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے الٓمٓ کی سورتیں ہیں اور اس کے بعد الٓرٰ کی تو صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ مضمون کے لحاظ سے میم کو راء پر تقدم حاصل ہے۔ اور سورۂ رعد میں میم اور راء جب اکٹھے کر دیئے گئے ہیں تو میم کو راء سے پہلے رکھنا اس امر کو بالکل واضح کر دیتا ہے کہ یہ سب حروف خاص معنی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان حروف کو جو معنی تقدم رکھتے ہیں ہمیشہ مقدم ہی رکھا جاتا ہے۔ سورۂ رعد کے بعد ابراہیم اور حجر میں الٓرٰ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن نحل بنی اسرائیل اور کہف میں مقطعات استعمال نہیں ہوئے۔ اور یہ سورتیں گویا پہلی سورتوں کے مضامین کے تابع ہیں۔ ان کے بعد سورۂ مریم ہے جس میں کٓہٰیٰعٓصٓ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔ سورۂ مریم کے بعد سورہ طٰہٰ ہے اور اس میں طٰہٰ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان میں حروف مقطعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ گویا یہ سورتیں طٰہٰ کے تابع ہیں۔ آگے سورۂ شعراء طٰسٓمٓ سے شروع کی گئی ہے گویا طاء کو قائم رکھا گیا ہے اور ھاء کی جگہ س اور میم لائے گئے ہیں۔ اس کے بعد سورۂ نمل ہے۔ جو طٰسٓ سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں سے میم کو اڑا دیا گیا ہے۔ اور طاء اور س قائم رکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد سورہ قصص کی ابتداء پھر طٰسٓمٓ سے کی گئی ہے۔ گویا میم کے مضمون کو پھر شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد سورۂ عنکبوت کو پھر الٓمٓ سے شروع کیا گیا ہے اور دوبارہ علم الٰہی کے مضمون کو نئے پیرایہ اور نئی ضرورت کے ماتحت شروع کیا گیا ہے۔ (اگرچہ میں ترتیب پر اس وقت بحث نہیں کررہا لیکن اگر کوئی کہے کہ الٓمٓ دوبارہ کیوں لایا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سورہ بقرہ سے الٓمٓ کے مخاطب کفار تھے اور یہاں سے الٓمٓ کے مخاطب مومن ہیں۔) سورہ عنکبوت کے بعد سورہ روم، سورہ لقمان اور سورہ سجدہ کو بھی الٓمٓ سے شروع کیا گیا ہے۔ ان کے بعد سورہ احزاب، سبا، فاطر بغیر مقطعات کے ہیں۔ اور گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔ ان کے بعد سورہ یسٓ ہے۔ جس کو یس کے حروف سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سورہ صافات بغیر مقطعات کے ہے۔ اس کے بعد سورہ صٓ حرف صٓ سے شروع کی گئی ہے۔ پھر سورۂ زمر حروف مقطعات سے خالی اور پہلی سورت کے تابع ہے۔ اس کے بعد سورہ مومن حٰمٓ سے شروع کی گئی ہے۔ اس کے بعد سورہ حم سجدہ کو بھی حٰمٓ سے شروع کیا گیا ہے۔ پھر سورہ شوریٰ کو بھی حٰمٓ سے شروع کیا گیا ہے لیکن ساتھ حروف عٓسٓقٓ بڑھائے گئے ہیں۔ اس کے بعد سورۂ زخرف ہے اس میں بھی حٰمٓ کے حروف ہی استعمال کئے گئے ہیں۔ پھر سورہ دخان، جاثیہ اور احقاف بھی حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں۔ ان کے بعد سورہ محمد، فتح اور حجرات بغیر مقطعات کے ہیں اور پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔ سورہ قٓ صرف ق سے شروع ہوتی ہے۔ اور قرآن کریم کے آخر تک ایک ہی مضمون چلا جاتا ہے۔ 
یہ ترتیب بتارہی ہے کہ یہ حروف یونہی نہیں رکھے گئے۔ پہلے الٓمٓ آتا ہے۔ پھر الٓمٓصٓ آتا ہے۔ جس میں صٓ کی زیادتی کی جاتی ہے۔ پھر الٓمٓرٰٓ آتا ہے کہ جس میں ص پر چار اور حروف کی زیادتی ہے۔ پھر طٰہٰ لایا جاتا ہے اور پھر اس میں کچھ تبدیلی کرکے طٰسٓمٓ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ہی قسم کے الفاظ کا متواتر لانا اور بعض کو بعض جگہ بدل دینا بعض جگہ اور رکھ دینا بتاتا ہے کہ خواہ یہ حروف کسی کی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں جس نے انہیں رکھا ہے کسی مطلب کے لئے ہی رکھا ہے۔ اگر یونہی رکھے جاتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ کہیں ان کو بدل دیا جاتا، کہیں زائد کر دیا جاتا، کہیں کم کر دیا جاتا۔ 
علاوہ مذکورہ بالا دلائل کے خود مخالفین اسلام کے ہی ایک استدلال سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ مقطعات کچھ معنی رکھتے ہیں۔ مخالفین اسلام کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب ان کی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے ہے۔ اب اگر یہ صحیح ہے تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ سورتیں اپنی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے آگے پیچھے رکھی گئی ہیں ایک قسم کے حروف مقطعات اکٹھے آتے ہیں۔ الٓمٓ کی سورتیں اکٹھی آگئی ہیں۔ الٓرٰ کی اکٹھی۔ طٰہٰ اور اس کے مشترکات کی اکٹھی۔ پھر الٓمٓ کی اکٹھی۔ حٰمٓ کی اکٹھی۔ اگر سورتیں ان کے حجم کے مطابق رکھی گئی ہیں تو کیا یہ عجیب بات نہیں معلوم ہوتی کہ حروف مقطعات ایک خاص حجم پر دلالت کرتے ہیں۔ اگر صرف یہی تسلیم کیا جائے تب بھی اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حروف مقطعات کے کچھ معنی ہیں۔ خواہ یہی معنی ہوں کہ وہ سورت کی لمبائی اور چھوٹائی پر دلالت کرتے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ ایک قسم کے حروف مقطعات کی سورتوں کا ایک جگہ پر جمع ہوجانا بتاتا ہے کہ ان کے معنوں میں اشتراک ہے اور یہ حروف سورتوں کے لئے بطور کنجیوں کے ہیں۔ (تفسیر کبیر جلد سوم ، صفحہ ۷ تا ۱۰ )

وفاتِ مسیح کے متعلق غیبی دلائل – دلچسپ واقعات

امام مسجد فضل لندن مولانا عطاء المجیب راشد صاحب لکھتے ہیں :

” کہتے ہیں کہ تیر وہ ہے جو نشانہ پر بیٹھے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دلیل اور حربہ وہی ہوتا ہے جو موقع پر کام آئے۔ جو لوگ تبلیغ کے میدان میں اترنے والے ہیں ان کا بہت وسیع تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تبلیغی گفتگو کے مواقع پر خود راہنمائی کرتا ہے۔ علماء کو بھی وہی سکھاتا ہے اور معمولی پڑھے لکھے ہوئے لوگوں کی بھی وہی راہنمائی کرتا ہے ۔ مخالفین کے مقابل پر پیش کی جانے والی بات اور دلیل بعض اوقات بہت معمولی اور سادہ سی دکھائی دیتی ہے لیکن بہت ہی کارگر اور مسکت ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی میدان میں داعیان الی اللہ کے برجستہ اور موثر جوابات کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
 میرے والد محترم ، خالد احمدیت ، حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری مرحوم و مغفور اکثر یہ دلچسپ تبلیغی واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ فلسطین میں ایک موقعہ پر نابلس کے چند استاد تبلیغی گفتگو کے لئے آئے۔احمدیہ دارالتبلیغ میں اس وقت آپ کے علاوہ چند احمدی بزرگ بھی موجود تھے ۔وفات مسیح کا ذکر ہو رہا تھا ۔غیر احمدی عالم نے کہا کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام واقعی فوت ہو چکے ہیں تو ان کی قبر کہاں ہے ؟انہیں بتایا گیا کہ تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ ان کی قبر سری نگر ،کشمیر میں ہے ۔کشمیر کا نام سن کر بے اختیار ان میں سے ایک کی زبان سے نکلا کہ اتنی دور!یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابھی میں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا تھا کہ ہمارے مرحوم بھائی علی القزق جو معمولی تعلیم یافتہ تھے نے جھٹ فرمایا کہ کیا کشمیر آسمان سے بھی دور ہے ؟ یہ برجستہ جواب سن کر وہ غیر احمدی عالم اور باقی سب اساتذہ لاجواب ہو گئے ۔”
وفات مسیح ہی کے ضمن میں ربوہ کا ایک واقعہ بہت دلچسپ ہے ۔چند غیر احمدی علماء ربوہ میں آئے ۔احمدی علماء کرام سے وفات مسیح کے موضوع پر بہت تفصیلی بات چیت ہوئی ۔متعدد قرآنی آیات سننے پر بھی ان کی تسلّی نہ ہوئی ۔اور بار بار یہ مطالبہ کرتے رہے کہ وفات مسیح پر کوئی واضح آیت بیا ن کی جائے ۔بالآخر ان کے احمدی ساتھی ان کو محترم مولانا احمد خان صاحب نسیم کے پاس ملاقات کے لئے لائے ۔غیر احمدی عالم نے یہاں بھی وہی بات دہرائی کہ وفات مسیح کے بارہ میں کوئی آیت وغیرہ سنائیں ۔مولانا صاحب نے بڑا پُر حکمت انداز اختیار کیا اور بجائے آیت پیش کرنے کے اس سے بڑا سادہ سا سوال کیا کہ کیا تم نے باقی سارے انبیاء کو آیت قرآنی کی وجہ سے فوت شدہ سمجھا ہے جو حضرت عیسیٰ ؈ کے لئے خاص طور پر آیت کا مطالبہ کر رہے ہو ؟۔یہ جواب ایسا تسلّی بخش ثابت ہو ا کہ وہ غیر احمدی عالم کہنے لگا کہ بس بس اب مجھے کسی آیت کی ضرورت نہیں ۔یہ مسئلہ مجھ پر خوب کھل گیا ۔”

(تبلیغی میدان میں تائید الٰہی کے ایمان افروز واقعات صفحہ 19-18)

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

سیرت

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

تصنیف

سیدناحضرت مرزابشیرالدین محمود احمد

خلیفۃالمسیح الثانی نوراللہ مرقدہٗ

شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان

دیباچہ

حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام بانی سلسلہ احمدیہ کی سیرت و سوانح کا مطالعہ ہم سب کے لیے انتہائی اہم اور ضروری ہے، نہ صرف ہمارے علم اور معلومات کے لیے بلکہ عمل وایمان کی مضبوطی اور ترقی کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے دیباچہ میں از خود کچھ عرض کرنے کی بجائے اس کتاب کے دیباچہ اوّل کو من وعن یہاں لکھنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں جو حضرت مصلح موعودنے اس کتاب کے لیے رقم فرمایا تھا آپ فرماتے ہیں :۔

"چونکہ احمدیہ جماعت کی روز مرہ ترقی اور اطرافِ عالم میں پھیلنے والی لہر کو دیکھ کربہت سے لوگوں کو جو اس کے حالات سے واقف نہیں خیال پیدا ہوتاہے کہ وہ اس کے حالات سے آگاہ ہوں لیکن بوجہ مجبوری کے وہ مفصل کتب کو نہیں دیکھ سکتے اس لیے میں نے چاہا کہ ایک ایسا رسالہ لکھ دوں جس میں مختصرطور پر اس سلسلہ اور اس کے بانی کے حا لات درج ہوں تا کہ طالبانِ حق کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت راہنماکا کام دے اور مزید تحقیق کے لیے ان کے دلوں میں تحریک پیدا کرے اور آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے والوں کے لیے راستہ صاف کرے۔ اس مختصر ٹریکٹ میں مندرجہ ذیل امورپر روشنی ڈالی جائے گی۔ احمدؑ بانی سلسلہ احمدیہ کے حالات، اس کی سیرت، اس کا دعوی اور دلائل، اس کی مشکلات، اس کی پیشگوئیاں، اس کاکام، اس کے بعد اس کے قا ئم کردہ سلسلہ کے حالات”۔

(دیباچہ طبع اوّل)
خلافت احمدیہ صدسالہ جوبلی کے تاریخی اور بابرکت موقع پر اس کتاب کی ایک دفعہ پھر اشاعت کی جارہی ہے۔ دعا ہے کہ تمام احمدی بچوں اور نوجوانوں کے لیے اس کتاب کامطالعہ باعث ازدیادِ ایمان وعمل ہو۔ آمین

والسلام

خاکسار

فرید احمد نوید

صدرمجلس خدام الاحمدیہ پاکستان

پیش لفظ

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی سیرت وسوانح کا مطالعہ کرنا ہم میں سے ہر احمدی کا فرض بھی ہے اور علم و عمل میں رنگ اور یقین پیدا کرنے کا ذریعہ بھی۔
"سیرت مسیح موعود علیہ السلام” حضرت مصلح مو عو د کی تصنیف لطیف ہے۔ شعبہ اشاعت مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اس کتاب کو پھر شائع کر رہا ہے حضرت مصلح موعودنے یہ کتاب1916ء میں تصنیف فرمائی تھی اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
1979ء میں صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کے زمانہ صدارت میں یہ کتاب مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے شائع ہوئی تھی۔ پھرقلیل عرصہ کے دوران اس کی دوباراشاعت کی گئی۔ خلافت احمدیہ صدسالہ جوبلی کے تاریخی اور بابرکت موقع پر اس کتاب کی ایک دفعہ پھر اشاعت کی جارہی ہے۔
اس کتاب کی تیاری کے دوران خاکسار کے ساتھ مکرم سہیل احمد ثاقب صاحب اور مکرم میرانجم پرویزصاحب نے تعاون کیا۔ فجزاھم اللّٰہ احسن الجزاء
والسلام

خاکسار

اسفندیارمنیب

مہتمم اشاعت

مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان

سیرت

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

احمدقادیانی علیہ السلام اور آپ کے خاندانی حالات

احمد جوسلسلہ احمدیہ کے بانی تھے۔ آپ کا پورانام غلام احمد تھا اور آپؑ قادیان کے باشندے تھے جو بٹالہ ریلوے اسٹیشن سے گیارہ 11میل، امرتسرسے چوبیس24میل اور لاہور سے قریباً ستاون 57میل جانب مشرق پرایک قصبہ ہے۔ آپ قریباً1836ء یا 1837ء میں اِسی گاؤں میں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے ہاں جمعہ کے دن پیدا ہوئے٭ اور آپ کی ولادت توام تھی یعنی آپ کے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی تھی جو تھوڑی ہی مدت بعدفوت ہوگئی۔
پیشتر اس کے کہ میں آپؑ کے حالات بیان کروں ضروری معلوم ہوتاہے کہ مختصراً آپ کے خاندان کے بھی کچھ حالات بیان کر دیے جائیں۔
آپ کا خاندان اپنے علاقے میں ایک معزّز خاندان تھا اور اس کا سلسلہ نسب برلاس سے جو امیر تیمور کا چچا تھا ملتا ہے اور جبکہ امیرتیمورنے علاقہ کُش پربھی جس پر اس کا چچا حکمران تھا قبضہ کر لیا تو برلاس خاندان خراسان میں چلاآیا اور ایک مدت تک یہیں رہا لیکن دسویں صدی ہجری یا سولہویں صدی مسیحی کے آخر میں اس خاندان کا ایک ممبر مرزا ہادی بیگ بعض غیر معلوم وجوہات کے با عث اس ملک کو چھوڑ کر قریباً 200 دو سَو آدمیوں سمیت ہندوستان آگیا اور دریائے بیاس کے قریب کے علاقہ میں اُس نے اپنا ڈیرہ لگایا اور بیاس سے نو میل کے فاصلہ پرایک گاؤں بسایا اور اُس کا پورا نام اِسلام پور رکھا (یعنی اسلام کا شہر) چونکہ آپ ایک نہایت قابل آدمی تھے دہلی کی حکومت کی طرف سے اِس علاقہ کے قاضی مقرر کیے گئے اور اِس عُہدہ کی وجہ سے آپ کے گاؤں کا نام بجائے اسلام پور کے اِسلام پور قاضی ہوگیایعنی اِسلام پورجو قاضی کا مقام ہے اور بگڑتے بگڑتے اسلام پور کا نام تو بالکل مٹ گیا اور صرف قاضی رہ گیاجو پنجابی تلفظ میں قادی بن گیا اور آخر اس سے بگڑکر اس گاؤں کانام قادیان ہوگیا۔
غرض مرزا ہادی بیگ صاحب نے خراسان سے آکر بیاس کے پاس ایک گاؤں بساکراس میں بودو باش اختیارکی اور اسی جگہ پران کا خاندان ہمیشہ قیام پذیررہا اور باوجوددہلی پایہ تختِ حکومت سے دور رہنے کے اِس خاندان کے ممبرمغلیہ حکومت کے ماتحت معزز عہدوں پر مامور رہے اور جب مغلیہ خاندان کو ضعف پہنچا اور پنجاب میں طوائف الملوکی پھیل گئی تو یہ خاندان ایک آزاد حکمران کے طور پر قادیان کے اردگردکے علاقہ پر جو قریباً ساٹھ میل کا رقبہ تھا حکمران رہا لیکن سکّھوں کے زور کے وقت رام گڑھیا سِکّھوں نے بعض اور خاندانوں کے ساتھ مِل کر اِس خاندان کے خلاف جنگ شروع کی اور گو اُن کے پڑدادا نے تو اپنے زمانہ میں ایک حدتک دُشمن کے حملوں کو روکا لیکن آہستہ آہستہ (حضرت) مرزا صاحبؑ کے دادا کے وقت اِس ریاست کی حالت ایسی کمزور ہو گئی کہ صرف قادیان جو اُس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا اور اس کے چاروں طرف فصیل تھی اُن کے قبضہ میں رہ گیا اور باقی سب علاقہ اُن کے ہاتھوں سے نکل گیا اور آخر بعض گاؤں کے باشندوں سے سازش کر کے سِکھ اِس گاؤں پر بھی قابض ہو گئے اور اِس خاندان کے سب مرد و زن قید ہو گئے لیکن کچھ دِنوں کے بعد سِکھوں نے اُن کو اس علاقے سے چلے جانے کی اجازت دے دی اور وہ ریاست کپورتھلہ میں چلے گئے اور وہاں قریباَ سولہ سال رہے۔ اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سِنگھ کا زمانہ آگیا اور انہوں نے سب چھوٹے چھوٹے راجوں کو اپنے ماتحت کرلیا اور اس انتظام میں حضرت مرزاصاحبؑ کے والد کو بھی اُس کی جاگیر کا بہت کچھ حصہ واپس کردیا اور وہ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں ملازم ہو گئے اور جب انگریزی حکومت نے سِکھوں کی حکومت کو تباہ کیاتو اُن کی جاگیر ضبط کی گئی مگر قادیان کی زمین پر اُن کومالکیّت کے حقوق دیے گئے۔

آپ کا خاندانی تذکرہ تاریخوں میں

یہ مختصر حالات لکھنے کے بعد سر لیپل گریفن کی کتاب۔۔۔ "پنجاب چیفس” کا وہ حصّہ جو حضرت مرزا صاحبؑ کے خاندان کے متعلق ہے ہم لکھ دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ :۔
ِِْْْْْْْْٔٔٔٔٔٔ”شہنشاہ بابرکے عہدِ حکومت کے آخری سال یعنی 1530ء میں ایک مغل مسمی ہادی بیگ باشندئہ سمرقند اپنے وطن کو چھوڑکر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بودو باش اختیار کی۔ یہ کسی قدر پڑھا لکھاآدمی تھا (۱) اور قادیان کے گرد و نواح کے ستّر مواضعات کا قاضی یا مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ قادیان اُس نے آباد کیا اور اُس کا نام اِسلام پور قاضی رکھا جو بدلتے بدلتے قادیان (۲)ہو گیا۔ کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی عہدِ حکومت میں معزز عہدوں پرممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔ (مرزا) گُل محمد اور اُس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیا اور کنھیا مِسلوں سے جن کے قبضہ میں قادیان کے گرد و نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے۔ آخر کار اپنی تمام جاگیر کو کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلووالیہ (۳)کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔ اُس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیا مِسْل کے تمام جاگیر پر قابض ہو گیا تھا، غلام مرتضیٰ کو قادیان واپس بلا لیا اور اس کی جدی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اُسے واپس دے دیا۔ اِس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔ نونہال سنگھ، شیر سنگھ اور دربارِ لاہور کے دَور دَورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔ 1841ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلّو کی طرف بھیجا گیا اور 1843ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان بنا کرپش اور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدہ میں اُس نے کارہائے نمایاں کیے اور جب 1848ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔ اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔ جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لیے دیوان مولراج کی امداد کے لیے ملتان کی طرف جا رہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیرداران لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور اُن کو شکست فاش دی۔ اُن کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا جہاں چھ سَو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مَر گئے۔
الحاق کے موقعہ پر اِس خاندان کی جاگیر ضبط کی گئی مگر 700روپیہ کی ایک پنشن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی اور قادیان اور اُس کے گردو نواح کے مواضعات پر اُن کے حقوق مالکانہ رہے۔
اِس خاندان نے غدر 1857ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کیے اور اُس کا بیٹا غلام قادر جرنیل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اُس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریموگھاٹ پر 46 نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہِ تیغ کیا۔ جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سَند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ 1857ء میں خاندانِ قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔
غلام مرتضیٰ جو ایک لائق حکیم تھا 1876ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔ غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اُس کے پاس اُن افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔ یہ کچھ عرصہ تک گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔ اُس کا اکلوتا بیٹا کم سِنی میں فوت ہوگیا اور اُس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنّٰی کر لیا جو غلام قادر کی وفات یعنی 1883ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔ مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اب اکسٹرا اسسٹنٹ ہے۔ یہ قادیان کا نمبردار بھی ہے۔۔۔۔ نظام الدین کا بھائی امام الدین جو 1904ء میں فوت ہوا دہلی کے محاصرے کے وقت ہاڈسن ہورس (رسالہ) میں رسالدار تھا۔ اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا۔
یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص 1837ء میں پیدا ہوا اور اس کو تعلیم نہایت اچھی ملی۔ 1891ء میں اُس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، چونکہ یہ ایک عالم اور منطقی تھا اِس لیے دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کے معتقد ہوگئے اور اب احمدیہ کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ مرزا، عربی فارسی اور اُردو کی بہت سی کتابوں کا مصنّف تھا جن میں اُس نے جہاد کے مسئلہ کی تردید کی اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اُن کتابوں نے مسلمانوں پر اچھا اثر کیا ہے۔ مدت تک یہ بڑی مصیبت میں رہا کیونکہ مخالفین مذہب سے اس کے اکثر مباحثے اور مقدمے رہے لیکن اپنی وفات سے پہلے جو 1908ء میں ہوئی اس نے ایک رتبہ حاصل کر لیا کہ وہ لوگ بھی جو اُس کے خیالات کے مخالف تھے اس کی عزت کرنے لگے۔ اس فرقہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمدیہ نے ایک بہت بڑا سکول کھولا ہے اور چھاپہ خانہ بھی ہے جس کے ذریعہ سے اس فرقہ کے متعلق خبروں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد کاخلیفہ ایک مشہور حکیم مولوی نورالدین ہے جو چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہا ہے۔
اِس خاندان کے سالم موضع قادیان پرجو ایک بڑا موضع ہے، حقوق مالکانہ ہیں اور نیز تین ملحقہ مواضعات پر بشرح پانچ فیصدی حقوق تعلق داری حاصل ہیں "۔ (دی پنجاب چیفس حصہ اوّل مطبوعہ 1919ء لاہور)

پیدائش حضرت اقدس علیہ السلام و زمانۂ طفولیّت و تذکرہ والد بزرگوار

حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے مختصر حالات لکھنے کے بعد ہم آپ کے حالات بیان کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ 1836ء یا 1837ء میں پیدا ہوئے تھے جو کہ آپ کے والد کے عروج کا زمانہ تھا کیونکہ اُس وقت اُن کو جاگیر کے بعض مواضع اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی خدمت کی وجہ سے اچھی عظمت حاصل تھی لیکن منشاء الٰہی یہ تھا کہ ایک ایسے رنگ میں پرورش پائیں جس میں آپ کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو۔ اِس لیے آپ کی پیدائش کے تین ہی سال بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے ساتھ ہی سکھ حکومت پر زوال آ گیا اور اِس زوال کے ساتھ آپ کے والد صاحب بھی مختلف تفکرات میں مبتلا ہوگئے اور آخر الحاق پنجاب کے موقعہ پر اُن کی جائیداد ضبط ہوگئی اور باوجود ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کے وہ اپنی جاگیر واپس نہ لے سکے جس کا صدمہ اُن کے دل پر آخری دم تک رہا چنانچہ خود حضرت مرزا صاحب اپنی ایک کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔
"میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔ انہوں نے پیرویٔ مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر کار ناکامی تھی کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور اُن کا واپس آنا ایک خام خیال تھا۔ اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گردابِ غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے اِن حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لَوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیاوی کدورتوں سے پاک ہے۔ اگرچہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سرکارِ انگریزی کی طرف سے کچھ انعام سالانہ مقرر تھا اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اِس لحاظ سے وہ سب کچھ ہیچ تھا۔ اِس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بار ہا کہتے تھے کہ جس قدر مَیں نے اِس پلید دنیا کے لیے سعی کی ہے اگر مَیں وہ سعی دین کے لیے کرتا تو آج شاید قطبِ وقت یا غوثِ وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ ع
عمر بگذشت نماند است جز ایّامے چند
بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند
اور مَیں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے اور وہ یہ ہے ع
از درے تو اے کسے ہر بے کسے
نیست اُمیدم کہ بروم ناامید
اور کبھی دردِ دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے ع
بآب دیدۂ عشاق و خاکپائے کسے
مرادے است کہ درخون تپدبجائے کسے
حضرتِ عزت جلّشانہٗ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں اُن پر غلبہ کرتی گئی تھی۔ بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لیے مَیں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی”۔

بچپن ہی میں عبادتِ الٰہی کا شوق

اِس تحریر سے جو حضرت مرزا صاحب نے اپنے والد کی اس حالت کے متعلق لکھی ہے جس میں آپ کے زمانۂ طفولیّت اور جوانی کے وقت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے رنگ میں آپ کی تربیت فرمائی تھی کہ جس کی وجہ سے دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیدا ہی نہ ہونے پائی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے والد اور بڑے بھائی کی دنیاوی حالت اُس وقت بھی ایسی تھی کہ وہ دنیاوی لحاظ سے معزز و ممتاز کہلاتے تھے اور حکّام اُن کا ادب و لحاظ کرتے تھے لیکن پھر بھی اُن کا دنیا کے پیچھے پڑنا اور اپنی ساری عمر اس کے حصول کے لیے خرچ کر دینا لیکن پھر بھی اس کا اِس حد تک ان کو حاصل نہ ہونا جس حد تک کہ وہ اُس پر خاندانی حق خیال کرتے تھے اس پاک دل کو جو اپنے اندر کسی قسم کی مَیل نہ رکھتا تھا یہ بتا دینے کے لیے کافی تھا کہ دنیا روزے چند اور آخرت باخداوند۔ چنانچہ اُس نے اپنے بچپن کی عمر سے اس سبق کو ایسا یاد کیا کہ اپنی وفات تک نہ بھلایا اور گو دنیا طرح طرح کے خوبصورت لباسوں میں اس کے سامنے آئی اور اُس کو اپنے راستہ سے ہٹا دینے کی کوشش کی لیکن اس نے کبھی اس کی طرف التفات نہ کی اور اس سے ایسی جدائی اختیار کی کہ پھر اس سے کبھی نہ ملا۔
غرض مرزا صاحب کو اپنی بچپن کی عمر سے ہی اپنے والد کی زندگی میں ایک ایساتلخ نمونہ دیکھنے کا موقع ملاکہ دنیا سے آپ کی طبیعت سرد ہوگئی اور جب آپ بہت ہی بچہ تھے تب بھی آپ کی تمام تر خواہشات رضائے الٰہی کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں۔ چنانچہ آپ کے سوانح نویس شیخ یعقوب علی صاحب آپ کے سوانح میں ایک عجیب واقعہ جو آپ کی نہایت بچپن کی عمر کے متعلق ہے تحریر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اُس وقت آپ ایک اپنی ہم سن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہوگئی، کہا کرتے تھے کہ
"نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے”
اِس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہایت پچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہو رہا تھا اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہوگئی تھی کیونکہ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اسی پر موقوف جانتے تھے۔ نماز پڑھنے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی جاننا اور پھر اس گھر میں پرورش پا کر جس کے چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے، ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے جو دنیا کی ملونی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لیے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو، نہیں نکل سکتی۔

حصولِ تعلیم کا زمانہ

جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے ہیں وہ نہایت جہالت کا زمانہ تھا اور لوگوں کی تعلیم کی طرف بہت ہی کم توجہ تھی اور سکھوں کے زمانہ کی بات تو یہاں تک مشہور ہے کہ اگر کسی کے نام کسی دوست کا کوئی خط آ جاتا تو اس کے پڑھوانے کے لیے اُسے بہت مشقت اور محنت برداشت کرنی پڑتی تھی اور بعض دفعہ مدت تک خط پڑا رہتا تھا اور بہت سے رؤساء بالکل اَن پڑھ تھے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے چونکہ آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا اِس لیے آپ کی تعلیم کا اس نے آپ کے والد کے دل میں شوق پیدا کر دیا اور باوجود اِن دنیاوی تفکرات کے جن میں وہ مبتلا تھے انہوں نے اِس جہالت کے زمانہ میں بھی اپنی اولاد کو اس زمانہ کے مناسبِ حال تعلیم دلانے میں کوتاہی نہ کی۔ چنانچہ جب آپ بچہ ہی تھے تو آپ کے والد نے ایک استاد آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھا جن کا نام فضل الٰہی تھا۔ اُن سے حضرت مرزا صاحب نے قرآن مجید اور فارسی کی چند کتب پڑھیں۔ اِس کے بعد دس سال کی عمر میں فضل احمد نام ایک استاد ملازم رکھے گئے۔ یہ اُستاد نہایت نیک اور دیندار آدمی تھا اور جیسا کہ حضرت مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں، آپ کو نہایت محنت اور محبت سے تعلیم دیتا تھا۔ اس اُستاد سے حضرت صاحب نے صَرف و نحو کی بعض کتب پڑھیں۔ اِس کے بعد سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں مولوی گل علی شاہ آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھے گئے اِن سے نحو منطق اور حکمت کی چند کتب آپ نے پڑھیں اور فن طبابت کی چند کتب اپنے والد صاحب سے جو ایک نہایت تجربہ کار طبیب تھے، پڑھیں اور یہ تعلیم اُن دنوں کے لحاظ سے جن میں آپ تعلیم پا رہے تھے، بہت بڑی تعلیم تھی۔ لیکن درحقیقت اس کام کے مقابلہ میں جو آپ نے کرنا تھا کچھ بھی نہ تھی۔ چنانچہ ہم نے بعض وہ آدمی دیکھے ہیں جو آپ کے ساتھ اُن اُستادوں سے پڑھتے تھے جن کو آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھا تھا اور وہ نہایت معمولی لیاقت کے آدمی تھے اور ان کو ایک معمولی خواندہ آدمی سے زیادہ وقعت نہیں دی جا سکتی اور جو استاد آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھے گئے تھے وہ بھی کوئی بڑے عالم نہ تھے کیونکہ اس وقت علم بالکل مفقود تھا اور فارسی اور عربی کی چند کتب کا پڑھ لینے والا بڑا عالم خیال کیا جاتا تھا۔ پس جن حالات کے ماتحت اور جن اُستادوں کی معرفت آپ کی تعلیم ہوئی وہ ایسے تھے کہ اُن کی وجہ سے آپ کو کوئی ایسی تعلیم نہیں مل سکتی تھی جو اس کام کے لیے آپ کو تیار کر دیتی جس کے کرنے پر آپ نے مبعوث ہونا تھا۔ ہاں اِس قدر اس تعلیم کا نتیجہ ضرور ہوا کہ آپ کو فارسی اور عربی پڑھنی آ گئی اور فارسی میں اچھی طرح سے اور عربی میں قدرے قلیل آپ بولنے بھی لگ گئے تھے۔ اس سے زیادہ آپ نے کوئی تعلیم نہیں حاصل کی اور دینی تعلیم تو باقاعدہ طور پر کسی استاد سے حاصل نہیں کی۔ ہاں آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اور آپ اپنے والد صاحب کے کتب خانہ کے مطالعہ میں اِس قدر مشغول رہتے تھے کہ بارہا آپ کے والد صاحب کو ایک تو اِس وجہ سے کہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے اور ایک اِس وجہ سے کہ آپ اس طرف سے ہٹ کر اُن کے کام میں مددگار ہوں، آپ کو روکنا پڑتا تھا۔

ملازمت کے حالات اور مسیحیوں سے مباحثات

جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے اُس وقت گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت پنجاب میں مستحکم ہوچکی تھی۔ غدر کا پُر آشوب زمانہ بھی گذر چکا تھا اور اہلِ ہند اِس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت ہی میں تمام عزت ہے اِس لیے مختلف شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ ایسے حالات کے ماتحت اور اِس بات کو معلوم کر کے کہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت زمینداری کے کاموں میں بالکل نہیں لگتی، اپنے والد صاحب کے مشورہ سے آپ سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے اور وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہوگئے مگر اکثر وقت علمی مشاغل میں ہی گذرتا اور ملازمت سے فراغت کے اوقات میں یا تو آپ خود مطالعہ کرتے یا دوسرے لوگوں کو پڑھاتے تھے یا مذہبی مباحث میں حصہ لیتے تھے اور اُس وقت بھی آپ کی پرہیز گاری اور تقویٰ کا اتنا اثر تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ بالکل نوجوان تھے اور صرف اٹھائیس سال کی عمر تھی مگر بوڑھے بوڑھے آدمی مسلمانوں میں سے بھی اور ہندوؤں میں سے بھی آپ کی عزت کرتے تھے لیکن آپ کی عادت اُس وقت بھی خلوت پسندی کی تھی۔ اپنے مکان سے باہر کم جاتے اور اکثر وقت وہیں گذارتے۔ مسیحی مشن اُن دنوں پنجاب میں نیا نیا آیا تھا اور مسلمان اُن کے حملوں سے ناواقف تھے اور اکثر مسیحیوں سے شکست کھاتے تھے لیکن حضرت مرزا صاحب سے جب کبھی بھی مسیحیوں کی گفتگو ہوئی اُن کو نیچا دیکھنا پڑا۔ چنانچہ پادریوں میں سے جو لوگ حق پسند تھے وہ باوجود اختلاف مذہبی کے آپ کی بہت عزت کرتے چنانچہ آپ کا سوانح نگار لکھتا ہے کہ ریورنڈبٹلر ایم۔ اے جو سیالکوٹ کے مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت مرزا صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کے لیے چلے آئے اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا کہ کس طرح تشریف لائے ہیں تو ریورنڈ مذکور نے کہا کہ صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لیے اور جہاں آپ بیٹھے تھے وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔
یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب کہ گورنمنٹ برطانیہ کی نئی نئی فتح کو پادری لوگ اپنی فتح کی علامت قرار دیتے تھے اور اُن میں تکبر اِس قدر سرایت کر گیا تھا کہ ان دنوں میں جو کتب اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں اُن کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پادری صاحبان نے اُس وقت شاید یہ خیال کر رکھا تھا کہ چند ہی روز میں تمام مسلمانوں کو پکڑ کر بزور شمشیر گورنمنٹ مسیحی بنا لے گی اور وہ اسلام اور بانیٔ اسلام کے خلاف سخت سے سخت الفاظ استعمال کرنے سے بھی نہ رکتے تھے، حتیّٰ کہ بعض دانا یوروپین صاحبان کو ہی اُن تصانیف کو دیکھ کر لکھنا پڑا کہ اِن تحریروں کی وجہ سے اگر دوبارہ 1857ء کی طرح غدر ہو جائے تو کوئی تعجب نہیں اور یہ حالت اُس وقت تک قائم رہی جب تک کہ مسیحی پادریوں کو یہ یقین نہ ہوگیا کہ ہندوستان میں حکومت انگلستان کی ہے نہ کہ پادریوں کی۔ اور یہ کہ کوئین وکٹوریہ کی گورنمنٹ بزور شمشیر دین مسیحی پھیلانے کی ہرگز روادار نہیں اور وہ کبھی پسند نہیں کرتی کہ کسی مذہب کی ناجائز طور پر دل آزاری کی جائے۔ غرض اُس وقت مسیحیوں اور مسلمانوں کے تعلقات نہایت کشیدہ تھے اور پادریوں کے اخلاق اُن دنوں میں صرف انہی لوگوں تک محدود ہوتے تھے جو اُن کی باتوں کی تصدیق کریں اور جو آگے سے جواب دے بیٹھیں اُن کے خلاف اُن کا جوش بڑھ جاتا تھا لیکن باوجود اس کے کہ حضرت مرزا صاحب دین میں غیور تھے اور مذہبی مباحثات میں کسی سے نہ دبتے تھے۔ ریورنڈ بٹلر آپ کی نیک نیتی اور اخلاص اور تقویٰ کو دیکھ کر متاثر تھے اور باوجود اِس بات کو محسوس کرنے کے کہ یہ شخص میرا شکار نہیں، ہاں ممکن ہے کہ مَیں اس کا شکار ہو جاؤں اور باوجود اس طبعی نفرت کے جو ایک صَید کو صیاد سے ہوتی ہے وہ دوسرے مذہبی مناظرین کی نسبت مرزا صاحب سے مختلف سلوک کرنے پر مجبور ہوئے اور جاتے وقت کچہری میں ہی آپ سے ملنے کے لیے آگئے اور آپ سے ملے بغیر جانا پسند نہ کیا۔

علیحدگی ملازمت اور پیروی مقدمات

قریباً چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے لیکن نہایت کراہت کے ساتھ۔ آخر والد صاحب کے لکھنے پر فوراً استعفیٰ دے کر واپس آگئے اور اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت اُن کے زمینداری کے مقدمات کی پیروی میں لگ گئے لیکن آپ کا دل اس کام پر نہ لگتا تھا۔ چونکہ آپ اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار تھے اِس لیے والد صاحب کا حکم تو نہ ٹالتے تھے لیکن اس کام میں آپ کا دل ہرگز نہ لگتا تھا۔ چنانچہ اُن دنوں کے آپ کو دیکھنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات کسی مقدمہ میں ہار کر آتے تو آپ کے چہرہ پر بشاشت کے آثار ہوتے تھے اور لوگ سمجھتے کہ شاید فتح ہوگئی ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوتا کہ ہار گئے ہیں۔ جب وجہ دریافت کی جاتی تو فرماتے کہ ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا، منشائے الٰہی یہی تھا اور اس مقدمہ کے ختم ہونے سے فراغت تو ہوگئی ہے۔ یادِ الٰہی میں مصروف رہنے کا موقعہ ملے گا۔ یہ زمانہ آپ کا عجیب کشمکش کا زمانہ تھا۔ والد صاحب چاہتے تھے کہ آپ یا تو اپنے زمینداری کے کام میں مصروف ہوں یا کوئی ملازمت اختیار کریں اور آپ اِن دونوں باتوں سے متنفر تھے اور اِس لیے اکثر طعن و تشنیع کا شکار رہتے تھے۔ جب تک آپ کی والدہ صاحبہ زندہ رہیں آپ پر ایک سِپر کے طور پر رہیں لیکن اُن کی وفات کے بعد آپ اپنے والد صاحب اور بھائی صاحب کی ملامت کا اکثر نشانہ ہو جاتے اور بعض دفعہ وہ لوگ سمجھتے تھے کہ آپ کا دنیاوی کاموں سے متنفر ہونا سُستی کی وجہ سے ہے۔
چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض دفعہ آپ کے والد نہایت افسردہ ہو جاتے تھے اور کہتے تھے کہ میرے بعد اس لڑکے کا کس طرح گزارہ ہوگا اور اِس بات پر ان کو سخت رنج تھا کہ یہ اپنے بھائی کا دستِ نگر رہے گا اور کبھی کبھی وہ آپ کے مطالعہ پر چڑ کر آپ کو مُلّاں بھی کہہ دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ ہمارے گھر میں مُلّاں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے خود اُن کے دل میں بھی آپ کا رعب تھا اور جب کبھی وہ اپنی دنیاوی ناکامیابی کو یاد کرتے تھے تو دینی باتوں میں آپ کے استغراق کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور اس وقت فرماتے تھے کہ اصل کام تو یہی ہے جس میں میرا بیٹا لگا ہوا ہے۔ لیکن چونکہ اُن کی ساری عمر دنیا کے کاموں میں گذری تھی اِس لیے افسوس کا پہلو غالب رہتا تھا۔ مگر حضرت مرزا صاحب اِس بات کی بالکل پرواہ نہ کرتے تھے بلکہ کسی کسی وقت قرآن حدیث اپنے والد صاحب کو بھی سنانے کے لیے بیٹھ جاتے تھے اور یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ باپ اور بیٹا دو مختلف کاموں میں لگے ہوئے تھے اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کوشکار کرنا چاہتا تھا۔ باپ چاہتا تھا کہ کسی طرح بیٹے کو اپنے خیالات کا شکار کرے اور دنیاوی عزت کے حصول میں لگا دے اور بیٹا چاہتا تھا کہ اپنے باپ کو دنیا کے خطرناک پھندہ سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی لَو لگا دے۔ غرض یہ عجیب دن تھے جن کا نظارہ کھینچنا قلم کا کام نہیں ہر ایک شخص اپنی اپنی طاقت کے مطابق اپنے دل کے اندر ہی اِس کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔ ان دنوں آپ کے سامنے پھر ملازمت کا سوال پیش ہوا اور ریاست کپور تھلہ کے محکمہ تعلیم کا افسر بنانے کی تجویز ہوئی لیکن آپ نے نامنظور کر دیا اور اپنے والد صاحب کے ہموم و غموم کو دیکھ کر اِس بات کو ہی پسند فرمایا کہ جس تنگی سے بھی گذارہ ہو گھر پر ہی رہیں اور ان کے کاموں میں جہاں تک ہو سکے ہاتھ بٹائیں۔ گو جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے آپ کا دل اِس کام کی طرف بھی راغب نہ تھا لیکن آپ اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت اُن کے آخری ایام کو جہاں تک ہو سکے باآرام کرنے کے لیے اس کام میں لگے ضرور رہتے تھے گو فتح و شکست سے آپ کو دلچسپی نہ تھی۔

ایک مقدمہ میں نشانِ الٰہی

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام گو اس زمانہ میں اپنے والد صاحب کی مدد کے لیے اُن کے دنیاوی کاموں میں لگے ہوئے تھے لیکن آپ کا دل کسی اور طرف تھا اور "دست درکار دل بایار” کی مثال بنے ہوئے تھے۔ مقدمات سے ذرا فارغ ہوتے تو خدا تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہو جاتے اور اِن سفروں میں جو آپ کو اُن دنوں مقدمات میں کرنے پڑتے آپ ایک وقت کی نماز بھی بے وقت نہ ہونے دیتے بلکہ اپنے اوقات پر نماز ادا کرتے بلکہ مقدمات کے وقت بھی نماز کو ضائع نہ ہونے دیتے چنانچہ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ آپ ایک ضروری مقدمہ کے لیے جس کا اثر بہت سے مقدمات پر پڑتا تھا اور جس کے آپ کے حق میں ہو جانے کی صورت میں آپ کے بہت سے حقوق محفوظ ہو جاتے تھے، عدالت میں تشریف لے گئے۔ اُس وقت کوئی ضروری مقدمہ پیش تھا اُس میں دیر ہوئی اور نماز کا وقت آ گیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مجسٹریٹ تو اس مقدمہ میں مصروف ہے اور نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے تو آپ نے اس مقدمہ کو خدا کے حوالے کیا اور خود ایک طرف جاکر وضو کیا اور درختوں کے سایہ تلے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ جب نماز شروع کردی تو عدالت سے آپ کے نام پر آواز پڑی۔ آپ آرام سے نماز پڑھتے رہے اور بالکل اِس طرف توجہ نہ کی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو یقین تھا کہ مقدمہ میں فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری مل گئی ہوگی کیونکہ عدالت ہائے کا قاعدہ ہے کہ جب ایک فریق حاضر عدالت نہ ہو تو فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری دی جاتی ہے۔ اِسی خیال میں عدالت میں پہنچے۔ چنانچہ جب عدالت میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقدمہ فیصل ہو چکا ہے۔ لیکن چونکہ فیصلہ عدالت معلوم کرنا ضروری تھا جا کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ نے، جو ایک انگریز تھا کاغذات پر ہی فیصلہ کر دیا اور ڈگری آپ کے حق میں دی اور اِس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی طرف سے وکالت کی۔ غرض آپ ان دنیاوی کاموں میں اسی طرح مشغول تھے جس طرح ایک شخص سے کوئی ایسا کام کرایاجائے جس کے کرنے پر وہ راضی نہ ہو حالانکہ وہ کام خود آپ کے نفع کا تھا کیونکہ آپ کے والد صاحب کی جائیداد کا محفوظ ہونا درحقیقت آپ کی جائیداد کا محفوظ ہونا تھا کیونکہ آپ اُن کے وارث تھے۔ پس آپ کا باوجود عاقل و بالغ ہونے کے اِس کام سے بیزار رہنا اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ دنیا سے بکّلی متنفر تھے اور خدا تعالیٰ ہی آپ کا مقصود تھا۔

محنت اور جفاکشی کی عادت

باوجود اِس کے کہ آپ دنیا سے ایسے متنفر تھے آپ سُست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ پا بیس پچیس کوس کا سفر طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے۔ بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے تھے اور عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی۔ ستر سال سے متجاوز عمر میں جب کہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں، اکثر روزانہ ہَوا خوری کے لیے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اُٹھ کر (نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے) سَیر کے لیے چل پڑتے تھے اور وڈالہ تک پہنچ کر (جو بٹالہ سڑک پر قادیان سے قریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے) صبح کی نماز کا وقت ہوتا تھا۔

مکالمۂ الٰہیہ کا آغاز

آپ کی عمر قریباً چالیس سال کی تھی جب کہ 1876ء میں آپ کے والد صاحب یکدفعہ بیمار ہوئے اور گو اُن کی بیماری چنداں خوفناک نہ تھی لیکن حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام بتایا کہ وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ یعنی رات کے آنے والے کی قسم۔ تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہے رات کو آنے والا۔ اور ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ اِس الہام میں آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبر دی گئی ہے جو کہ بعد مغرب واقعہ ہوگی۔ گو حضرت صاحب کو اس سے پہلے ایک مدت سے رؤیائے صالحہ ہو رہے تھے جو اپنے وقت پر نہایت صفائی سے پورے ہوتے تھے اور جن کے گواہ ہندو اور سکھ بھی تھے اور اب تک بعض ان میں سے موجود ہیں۔ لیکن الہامات میں سے یہ پہلا الہام ہے جو آپ کو ہوا اور اِس الہام کے ذریعہ سے گویا خداتعالیٰ نے اپنی محبت کے ساتھ آپ کو بتایا کہ تیرا دُنیاوی باپ فوت ہوتا ہے لیکن آج سے مَیں تیرا آسمانی باپ ہوتا ہوں۔ غرض پہلا الہام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا وہ یہی تھا جس میں آپ کو آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبر دی گئی تھی۔ اس خبر پر بالطبع آپ کے دل میں رنج پیدا ہونا تھا چنانچہ آپ کو اس خبر سے صدمہ پیدا ہوا اور دل میں خیال گذرا کہ اب ہمارے گذارے کی کیا صورت ہوگی؟ جس پر دوسری دفعہ پھر الہام ہوا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے تسلی دی۔ اِس واقعہ کو مَیں اِس جگہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ آپ تحریر فرماتے ہیں :۔

آپ کے والد کی وفات اور الٰہی تصرفات

"جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب بمقتضائے بشریت کے مجھے اِس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہی کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے جو اُن کی حیات سے مشروط تھی اس لیے یہ خیال گذرا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہوگا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں گذر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیاخدا تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے۔ اِس الہام کے ساتھ ایسا دل قوی ہوا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دَم میں اچھا ہو جاتا ہے۔ جب مجھ کو الہام ہوا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ تومَیں نے اُسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ تب مَیں نے ایک ہندو کھتری ملاوامَل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ سنایا اور اس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے اور مَیں نے اس ہندو کو اس کام کے لیے محض اِس غرض سے اختیار کیا کہ وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جاوے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپے تیار ہوکر میرے پاس پہنچ گئی جو اَب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے:۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلدنمبر22 صفحہ 219-220)
غرض جس دن حضرت صاحب کے والد صاحب نے وفات پائی تھی اُس دن مغرب سے چند گھنٹے پہلے ان کی وفات کی اطلاع آپ کو دے دی گئی اور بعد میں خداتعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ خود ہی تمہارا انتظام فرماوے گا۔۔ جس دن یہ الہامات ہوئے اُسی دن شام کو بعد مغرب آپؑ کے والد صاحب فوت ہوگئے اور آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

بعض مشکلات اور آپؑ کا اِستقلال

آپ کے والد صاحب کی جائیداد کچھ مکانات اور دوکانات بٹالہ، امرتسر اور گورداسپور میں تھی اور کچھ مکانات اور دوکانیں اور زمین قادیان میں تھی۔ چونکہ آپ دو بھائی تھے اِس لیے شرعًا و قانونًا وہ جائیداد آپ دونوں کے حصہ میں آتی تھی۔ چونکہ آپ کا حصہ آپ کے گزارہ کے لیے کافی تھا لیکن آپ نے اپنے بڑے بھائی سے وہ جائیداد تقسیم نہیں کرائی اور جو کچھ وہ دیتے اُس پر گزارہ کر لیتے اور اِس طرح گویا والد کے قائم مقام آپ کے بڑے بھائی ہوگئے۔ لیکن چونکہ وہ ملازم تھے اور گورداسپور رہتے تھے اِس لیے اُن دنوں آپ کو بہت تکلیف ہوگئی حتیّٰ کہ ضروریاتِ زندگی کے حاصل کرنے میں بھی آپ کو تکلیف ہوتی تھی اور یہ تکلیف آپ کو آپ کے بھائی کی وفات تک برابر رہی اور یہ گویا آپ کے لیے آزمائش کے سال تھے اور آپ نے اُن آزمائش کے دنوں میں صبرواستقلال سے کام لیا وہ آپ کے درجہ کی بلندی کی بیّن علامت ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ آپ کا اپنے والد صاحب کی متروکہ جائیداد پر برابر کا حصہ تھا پھر بھی آپ نے ان کی دنیا کی رغبت دیکھ کر اُن سے اپنا حصہ طلب نہ کیا اور محض کھانے اور کپڑے پر کفایت کی۔ گو آپ کے بھائی بھی اپنی طبیعت کے مطابق آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور آپ سے ایک حد تک محبت بھی رکھتے تھے اور کسی قدر اَدب بھی کرتے تھے لیکن باوجود اس کے چونکہ وہ دنیاداری میں بالکل منہمک تھے اور حضرت صاحب دنیا سے بالکل متنفر تھے اِس لیے وہ آپ کو ضرورتِ زمانہ سے ناواقف اور سُست سمجھتے تھے اور بعض دفعہ اِس بات پر اظہارِ افسوس بھی کرتے تھے کہ آپ کسی کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ ایک دفعہ کسی اخبار کے منگوانے کے لیے آپ نے اُن سے ایک نہایت قلیل رقم منگوائی تو انہوں نے باوجود اس کے کہ آپ کی جائیداد پر قابض تھے، انکار کر دیا اور کہا کہ یہ اسراف ہے۔ کام تو کچھ کرتے نہیں اور یونہی بیٹھے کتب و اخبار کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ غرض آپ کے بھائی صاحب بوجہ دنیاداری میں کمال درجہ کے مشغول ہونے کے آپ کی ضروریات کو نہ خود سمجھ سکتے تھے اور نہ اُن کو پورا کرنے کی طرف متوجہ تھے جس کی وجہ سے آپ کو بہت کچھ تکلیف پہنچتی۔ مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ آپ کے بھائی بھی اکثر قادیان سے باہر رہتے تھے اور اُن کے پیچھے اُن کے منتظمین آپ کے تنگ کرنے میں خاص طور پر کوشاں رہتے۔

آپ کا مجاہدہ اور ایثار اور خدمت اسلام

انہی ایام میں آپ کو بتایا گیا کہ الٰہی انعامات کے حاصل کرنے کے لیے کچھ مجاہدہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ کہ آپ کو روزے رکھنے چاہئیں۔ اِس حکم کے ماتحت آپ نے متواتر چھ ماہ کے روزے رکھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کا کھانا جب گھر سے آتا تو آپ بعض غرباء میں تقسیم کر دیتے اور جب روزہ کھول کر گھر سے کھانا منگواتے تو وہاں سے صاف جواب ملتا اور آپ صرف پانی پر یا اور کسی ایسی ہی چیز پر وقت گزار لیتے اور صبح پھر آٹھ پہرہ ہی روزہ رکھ لیتے۔ غرض یہ زمانہ آپ کے لیے ایک بڑے مجاہدات کا زمانہ تھا جسے آپ نے نہایت صبرواستقلال سے گذارا۔ سخت سے سخت تکالیف کے ایام میں بھی اشارۃً اور کنایۃً کبھی جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کی تحریک نہیں کی۔
نہ صرف روزوں کے دنوں میں بلکہ یوں بھی آپ کی ہمیشہ عادت تھی کہ ہمیشہ کھانا غرباء میں بانٹ دیتے تھے اور بعض دفعہ ایک چپاتی کا نصف جو ایک چھٹانک سے زیادہ نہیں ہو سکتا آپ کے لیے بچتا تھا اور آپ اُسی پر گزارہ کرتے تھے۔ بعض دفعہ صرف چَنے بھنوا کر کھا لیتے اور اپنا کھانا سب غرباء کو دے دیتے۔ چنانچہ کئی غریب آپ کے ساتھ رہتے تھے اور دونوں بھائیوں کی مجلسوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ ایک بھائی کی مجلس میں سب کھاتے پیتے آدمی جمع ہوتے تھے اور دوسرے بھائی کی مجلس میں غریبوں اور محتاجوں کا ہجوم رہتا تھا جن کو وہ اپنی قلیل خوراک میں شریک کرتا تھا اور اپنی جان پر اُن کو مقدم کر لیتاتھا۔
انہی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدمت اسلام کے لیے کوشش شروع کی اور مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ میں اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کیے جن کی وجہ سے آپ کا نام خود بخود گوشۂ تنہائی سے نکل کر میدانِ شہرت میں آ گیا لیکن آپ خود اُسی گوشۂ تنہائی میں ہی تھے اور باہر کم نکلتے تھے بلکہ مسجد کے ایک حجرہ میں جو صرف 5×6 فٹ کے قریب لمبا اور چوڑا تھا رہتے تھے اور اگر کوئی آدمی ملنے کے لیے آ جاتا تو مسجد سے باہر نکل کر بیٹھ جاتے یا گھر میں آ کر بیٹھے رہتے۔ غرض اس زمانہ میں آپ کا نام تو باہر نکلنا شروع ہوا لیکن آپ باہر نہ نکلے بلکہ اسی گوشۂ تنہائی میں زندگی بسر کرتے۔
اِن مجاہدات کے دنوں میں آپ کو کثرت سے الہامات ہونے شروع ہوگئے اور بعض امورِ غیبیہ پر بھی اطلاع ملتی رہی جو اپنے وقت پر پورے ہو جاتے اور آپ کے ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتے اور آپ کے دوست جن میں بعض ہندو اور سکھ بھی شامل تھے اِن باتوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے۔

اشتہار کتاب براہین احمدیہ

پہلے تو آپ نے صرف اخبارات میں مضامین دینے شروع کیے لیکن جب دیکھا کہ دشمنانِ اسلام اپنے حملوں میں بڑھتے جاتے ہیں اور مسلمان اُن حملوں کی تاب نہ لا کر پسپا ہو رہے ہیں تو آپ کے دل میں غیرتِ اسلام نے جوش مارا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے الہام اور وحی کے ماتحت مامور ہو کر ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب تحریر فرمائیں جس میں اسلام کی صداقت کے وہ اصول بیان کیے جائیں جن کے مقابلہ سے مخالف عاجز ہوں اور آئندہ اُن کو اسلام کے مقابلہ کی جرأت نہ ہو اور اگر وہ مقابلہ کریں تو ہر ایک مسلمان اُن کے حملہ کو رَدّ کر سکے۔ چنانچہ اِس ارادہ کے ساتھ آپ نے وہ عظیم الشان کتاب لکھنی شروع کی جو براہین احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور جس کی نظیر کسی انسان کی تصانیف میں نہیں ملتی۔ جب ایک حصہ مضمون کا تیار ہو گیا تو اُس کی اشاعت کے لیے آپ نے مختلف جگہ پر تحریک کی اور بعض لوگوں کی امداد سے جو آپ کے مضامین کی وجہ سے پہلے ہی آپ کی لیاقت کے قائل تھے اس کا پہلا حصہ جو صرف اشتہار کے طور پر تھا شائع کیا گیا۔
اس حصہ کا شائع ہونا تھا کہ مُلک میں شور پڑ گیا اور گو پہلا حصہ صرف کتاب کا اشتہار تھا لیکن اُس میں بھی صداقت کے ثابت کرنے کے لیے ایسے اصول بتائے گئے تھے کہ ہر ایک شخص جس نے اُسے دیکھا اِس کتاب کی عظمت کا قائل ہو گیا۔ اِس اشتہار میں آپ نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ اگر وہ خوبیاں جو آپ اسلام کی پیش کریں گے وہی کسی اور مذہب کا پَیرو اپنے مذہب میں دکھا دے یا اُن سے نصف بلکہ چوتھا حصہ ہی اپنے مذہب میں ثابت کر دے تو آپ اپنی سب جائیداد جس کی قیمت دس ہزار روپے کے قریب ہوگی، اُسے بطور انعام کے دیں گے (یہ ایک ہی موقع ہے جس میں آپ نے اپنی جائیداد سے اُس وقت فائدہ اُٹھایا اور اسلام کی خوبیوں کے ثابت کرنے کے لیے بطور انعام مقرر کیا تا کہ مختلف مذاہب کے پَیرو کسی طرح میدانِ مقابلہ میں آجائیں اور اِس طرح اسلام کی فتح ثابت ہو)
یہ پہلا حصہ 1880ء میں شائع ہوا۔ پھر اِس کتاب کا دوسرا حصہ 1881ء میں اور تیسرا حصہ 1882ء اور چوتھا حصہ 1884ء میں شائع ہوا۔ گو جس رنگ میں آپ کا ارادہ کتاب لکھنے کا تھا وہ درمیان میں ہی رہ گیا کیونکہ اِس کتاب کی تحریر کے درمیان میں ہی آپ کو بذریعہ الہام بتایا گیا کہ آپ کے لیے اشاعت اسلام کی خدمت کسی اور رنگ میں مقدرہے لیکن جو کچھ اِس کتاب میں لکھا گیا وہی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا۔
اس کتاب کی اشاعت کے بعد آپ کے دوست دشمن سب کو آپ کی قابلیت کا اقرار کرنا پڑا اور مخالفین اسلام پر ایسا رعب پڑا کہ اُن میں سے کوئی اِس کتاب کا جواب نہ دے سکا۔ مسلمانوں کو اِس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ وہ بِلا آپ کے دعوٰی کے آپ کو مجدد تسلیم کرنے لگے اور اُس وقت کے بڑے بڑے علماء آپ کی لیاقت کا لوہا مان گئے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اُس وقت تمام اہل حدیث وہابی فرقہ کے سرگروہ تھے اور وہابی فرقہ میں اُن کو خاص عزت حاصل تھی اور اِسی وجہ سے گورنمنٹ کے ہاں بھی اُن کی عزت تھی انہوں نے اِس کتاب کی تعریف میں ایک لمبا آرٹیکل لکھا اور بڑے زور سے اِس کی تائید کی اور لکھا کہ تیرہ سَو سال میں اسلام کی تائید میں ایسی کتاب کوئی نہیں لکھی گئی۔

اخبارِ غیبیہ اور سلسلۂ الہامات کی کثرت

اِس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض الہامات بھی لکھے ہیں جن میں سے بعض کا بیان کر دینا یہاں مناسب ہوگا کیونکہ بعد کے واقعات سے اُن کے غلط یا درست ہونے کا پتہ لگتا ہے:۔
"دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور اور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا”۔ (تذکرہ صفحہ104)
"یَاتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ وَیَا تُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ”۔ (تذکرہ صفحہ 50)
"بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے”۔ (تذکرہ صفحہ10)
یہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ 1884ء میں شائع کیے گئے تھے جبکہ آپ دنیا میں ایک کسمپرس آدمی کی حالت میں تھے لیکن اِس کتاب کا نکلنا تھا کہ آپ کی شہرت ہندوستان میں دور دور تک پھیل گئی اور بہت لوگوں کی نظریں مصنّف براہین احمدیہ کی طرف لگ گئیں کہ یہ اسلام کا کشتی بان ہوگا اور اِسے دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا اور یہ خیال اُن کا درست تھا لیکن خدا تعالیٰ اِسے اور رنگ میں پورا کرنے والا تھا اور واقعات یہ ثابت کرنے والے تھے کہ جو لوگ اِن دنوں اُس پر جان فدا کرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے وہی اُس کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے اور ہر طرح اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے اور آپ کی قبولیّت کسی انسانی امداد کے سہارے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے زبردست حملوں کے ذریعہ سے مقدر تھی۔

آپ کے بھائی صاحب کی وفات

1884ء میں آپ کے بھائی صاحب بھی فوت ہوگئے اور چونکہ وہ لاولد تھے اِس لیے اُن کے وارث بھی آپ ہی تھے لیکن اس وقت بھی آپ نے اُن کی بیوہ کی دلدہی کے لیے جائیداد پر قبضہ نہ کیا اور اُن کی درخواست پر نصف حصہ تو مرزا سلطان احمد صاحب کے نام پر لکھ دیا جنہیں آپ کی بھاوج نے رسمی طورپر متبنّٰی قرار دیا تھا آپ نے تبنّیت کے سوال پر تو صاف لکھ دیا کہ اسلام میں جائز نہیں لیکن مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوہ کی دلدہی اور خبرگیری کے لیے اپنی جائیداد کا نصف حصہ بخوشی خاطر دے دیا اور باقی نصف پر بھی خود قبضہ نہ کیا بلکہ مدت تک آپ کے رشتہ داروں ہی کے قبضہ میں رہا۔

دوسری شادی، خلق خدا کا رجوع، اعلانِ دعویٰ حقّہ

بھائی صاحب کی وفات کے ڈیڑھ سال بعد آپ نے الہامِ الٰہی کے ماتحت دوسری شادی دہلی میں کی۔ چونکہ براہین احمدیہ شائع ہوچکی تھی۔ اب کوئی کوئی شخص آپ کو دیکھنے کے لیے آنے لگا تھا اور قادیان جو دنیا سے بالکل ایک کنارہ پر ہے مہینہ دو مہینے کے بعد کسی نہ کسی مہمان کی قیام گاہ بن جاتی تھی اور چونکہ لوگ براہین احمدیہ سے واقف ہوتے جاتے تھے۔ آپ کی شہرت بڑھتی جاتی تھی اور یہ براہین احمدیہ ہی تھی جسے پڑھ کر وہ عظیم الشان انسان جس کی لیاقت اور علمیّت کے دوست دشمن قائل تھے اور جس حلقہ میں بیٹھتا تھا خواہ یورپینوں کا ہو یا دیسیوں کا اپنی لیاقت کا سکہ اُن سے منواتا تھا آپ کا عاشق و شَیدا ہو گیا اور باوجود خود ہی ہزاروں کا معشوق ہونے کے آپ کا عاشق ہونا اُس نے اپنا فخر سمجھا۔ میری مراد اُستاذی المکرم حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سے ہے جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت جموں میں مہاراجہ صاحب کے خاص طبیب تھے۔ انہوں نے وہاں ہی براہین احمدیہ پڑھی اور ایسے فریفتہ ہوئے کہ تادمِ مرگ حضرت صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔

سلسلہ بیعت کا آغاز اور پہلی بیعت

غرض براہین احمدیہ کا اثر رفتہ رفتہ بڑھنا شروع ہوا اور بعض لوگوں نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ بیعت لیں لیکن آپ نے بیعت لینے سے ہمیشہ انکار کیا اور یہی جواب دیا کہ ہمارے سب کام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ حتیّٰ کہ 1888ء کا دسمبر آ گیا جب کہ آپ کو الہام کے ذریعے لوگوں سے بیعت لینے کا حکم دیا گیا اور پہلی بیعت 1889ء میں لدھیانہ کے مقام پرجہاں میاں احمد جان نامی ایک مخلص تھے۔ اُن کے مکان پر ہوئی اور سب سے پہلے حضرت مولانا مولوی نورالدینؓنے بیعت کی اور اُس دن چالیس کے قریب آدمیوں نے بیعت کی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ کچھ لوگ بیعت میں شامل ہوتے رہے۔

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور اُس کا اعلان

لیکن 1891ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا یعنی حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیں، فوت ہوچکے ہیں اور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آ سکیں گے اور یہ کہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو اُن کی خوبو پر آوے اور وہ آپ ہی ہیں۔ جب اِس بات پر آپ کو شرح صدر ہوگیا اور بار بار الہام سے آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ اِس بات کا اعلان کریں تو آپ کو مجبورًا اِس کام کے لیے اُٹھنا پڑا۔ قادیان میں ہی آپ کو یہ الہام ہوا تھا۔ آپ نے گھر میں فرمایا کہ اب ایک ایسی بات میرے سپرد کی گئی ہے کہ اب اِس سے سخت مخالفت ہوگی اِس کے بعد آپ لدھیانہ چلے گئے اور مسیح موعود ہونے کا اعلان 1891ء میں بذریعہ اشتہار کیا گیا۔

علماء زمانہ کی شدید مخالفت اور مباحثہ لدھیانہ

اِس اعلان کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان بھر میں شور پڑ گیا اور اس قدر مخالفت ہوئی کہ الامان! وہی علماء جو آپ کی تائید کرتے تھے آپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔

مولوی محمد حسین بٹالوی کی مخالفت

مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنّہ میں آپ کی تائید میں زبردست آرٹیکل لکھے تھے انہوں نے ہی آپ کے خلاف زمین و آسمان سر پر اُٹھا لیا اور لکھا کہ مَیں نے ہی اس شخص کو چڑھایا تھا اور اب مَیں ہی اِسے گراؤں گا یعنی میری ہی تائید سے اِن کی کچھ عظمت قائم ہوئی تھی اب مَیں اتنی مخالفت کروں گا کہ یہ لوگوں کی نظروں سے گر جائیں گے اور بدنام ہو جائیں گے۔ مولوی صاحب مع بعض دیگر علماء کے لدھیانہ بھی پہنچے۔

مباحثہ لدھیانہ

اور مباحثہ کا چیلنج دیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منظور بھی فرما لیا۔ لیکن مباحثہ٭میں فریق مخالف نے اِس قسم کی کج بحثیاں شروع کیں کہ کچھ فیصلہ نہ ہو سکا اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے دیکھا کہ ایک فتنۂ عظیم برپا ہے اور قریب ہے کہ کوئی صورت غدر کی پیدا ہو جائے تو انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک خاص حکم کے ذریعے لدھیانہ سے اُسی دن چلے جانے پر مجبور کیا۔ اِس پر بعض دوستوں کے مشورہ سے کہ شاید ایسا حکم آپ کے متعلق بھی جاری ہو آپ لدھیانہ سے امرتسر تشریف لے آئے اور آٹھ دن وہاں رہے لیکن بعد میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب نے دریافت کرنے پربتایا کہ آپ کے متعلق کوئی حکم نہ تھا جس پر آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے اور پھر وہاں ہفتہ بھر کے قریب رہے اور پھر قادیان تشریف لے آئے۔

دہلی کا سفر اور مولوی نذیر حسین سے مباحثہ

اِس کے بعد کچھ مدت قادیان رہ کر پھر لدھیانہ تشریف لے گئے جہاں کچھ مدت رہے اور وہاں سے دہلی تشریف لے گئے جہاں آپ 28 ستمبر 1891ء کی صبح کو پہنچے۔ چونکہ دہلی اس زمانہ میں تمام ہندوستان کا علمی مرکز سمجھا جاتا تھا وہاں کے لوگوں میں پہلے سے ہی آپ کے خلاف جوش پھیلایا جاتا تھا آپ کے وہاں پہنچتے ہی وہاں کے علماء میں ایک جوش پیدا ہوا اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کے چیلنج دینے شروع کیے اور مولوی نذیر حسین جو تمام ہندوستان کے علمائِ حدیث کے اُستاد تھے، اُن سے مباحثہ قرار پایا۔ مسجد جامع مقامِ مباحثہ قرار پائی لیکن مباحثہ کی یہ سب قرار داد مخالفین نے خود ہی کر لی۔ کوئی اطلاع آپ کو نہ دی گئی۔ عین وقت پر حکیم عبدالمجید خان صاحب دہلوی اپنی گاڑی لے کر آگئے اور کہا کہ مسجد میں مباحثہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے فساد کے موقعہ پر ہم نہیں جا سکتے جب تک پہلے سرکاری انتظام نہ ہو، پھر مباحثہ کے لیے ہم سے مشورہ ہونا چاہیے تھا اور شرائطِ مباحثہ طَے کرنی تھیں۔ آپ کے نہ جانے پر اور شور ہوا۔ آخر آپ نے اعلان کیا کہ مولوی نذیر حسین دہلوی جامع مسجد میں قَسم کھا لںر کہ حضرت مسیح علیہ السلام قرآن کی رُو سے زندہ ہیں اور اب تک فوت نہیں ہوئے اور اس قَسم کے بعد ایک سال تک کسی آسمانی عذاب میں مبتلا نہ ہوں تو مَیں جھوٹا ہوں اور مَیں اپنی کتب کو جلا دوں گا اور اس کے لیے تاریخ بھی مقرر کر دی۔ مولوی نذیر حسین صاحب کے شاگرد اِس سے سخت گھبرائے اور بہت روکیں ڈالنی شروع کر دیں لیکن لوگ مصر ہوئے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ سن کر قَسم کھا جائیں کہ یہ جھوٹا ہے اور لوگ اُس وقت کثرت سے جامع مسجد میں اکٹھے ہوگئے۔ حضرت صاحب کو لوگوں نے بہت روکا کہ آپ نہ جائیں سخت بلوہ ہو جائیگا لیکن آپ وہاں ٭ گئے اور ساتھ آپ کے بارہ دوست تھے (حضرت مسیحؑ کے بھی بارہ ہی حواری تھے۔ اِس معرکۃ الآراء موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ تعداد بھی ایک نشان تھی) جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر آدمیوں سے پُر تھی بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے گزر کر جب کہ سب لوگ دیوانہ وار خون آلود نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے آپ اس مختصر جماعت کے ساتھ محرابِ مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔
مجمع کے انتظام کے لیے سپرنٹنڈنٹ پولیس مع دیگر افسران پولیس اور قریباً سَو کانسٹیبلوں کے آئے ہوئے تھے۔ لوگوں میں سے بہتوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور ادنیٰ سے اشارے پر پتھراؤ کرنے کو تیار تھے اور مسیح ثانی بھی پہلے مسیح کی طرح فقیہیوں اور فریسیوں کا شکار ہو رہا تھا۔ لوگ اِس دوسرے مسیح کو سُولی پر لٹکانے کی بجائے پتھروں سے مارنے پر تُلے ہوئے تھے اور گفتگوئے مباحثہ میں تو انہیں ناکامی ہوئی۔ مسیح کی وفات پر بحث کرنا لوگوں نے قبول نہ کیا۔ قَسم بھی نہ کسی نے کھائی نہ مولوی نذیر حسین کو کھانے دی۔ خواجہ محمد یوسف صاحب پلیڈر علیگڑھ نے حضرت سے آپ کے عقائد لکھائے اور سنانے چاہے لیکن چونکہ مولویوں نے لوگوں کو یہ سنا رکھا تھا کہ یہ شخص نہ قرآن کو مانے نہ حدیث کو نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ انہیں یہ فریب کُھل جانے کا اندیشہ ہوا، اِس لیے لوگوں کو اُکسادیا۔ پھر کیا تھا ایک شور برپا ہوگیا اور محمد یوسف کو وہ کاغذ سنانے سے لوگوں نے باز رکھا۔
افسر پولیس نے جب دیکھا کہ حالت خطرناک ہے تو پولیس کو مجمع منتشر کرنے کا حکم دیا اور اعلان کیا کہ کوئی مباحثہ نہ ہوگا۔ لوگ تتربتر ہوگئے۔۔ پولیس آپ کو حلقہ میں لے کر مسجد سے باہر گئی۔ دروازہ پر گاڑیوں کے انتظار میں کچھ دیر ٹھہرنا پڑا۔ لوگ وہاں جمع ہوگئے اور اشتعال مںہ آکر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ اِس پر افسران پولیس نے گاڑی میں سوار کرا کر آپ کو روانہ کیا اور خود مجمع کے منتشر کرنے میں لگ گئے۔
اِس کے بعد مولوی محمدبشیر صاحب کو دہلی کے لوگوں نے بھوپال سے بلوایا اور اُن سے مباحثہ ہوا جس کا تمام حال چھپا ہوا موجود ہے۔

ڈپٹی عبداللہ آتھم سے مباحثہ کے حالات

کچھ دن کے بعد آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔ چند ماہ کے بعد1892ء میں پھر ایک سفر کیا۔ پہلے لاہور گئے وہاں مولوی عبدالحکیم کلانوری سے مباحثہ ہوا وہاں سے سیالکوٹ اور وہاں سے جالندھر اور پھر وہاں سے لدھیانہ تشریف لائے۔ لدھیانہ سے پھر قادیان تشریف لے آئے۔

مسیحیوں سے مباحثہ "جنگِ مقدس”

اس کے بعد 1893ء میں حضور کا مباحثہ مسیحیوں سے قرار پایا اور مسیحیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم مباحث مقرر ہوئے۔ یہ مباحثہ امرتسر میں ہوا اور پندرہ دن تک رہا اور "جنگِمقدس” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
اس مباحثہ میں بھی جیسا کہ ہمیشہ آپ کے مخالفین کو زک ہوتی رہی ہے، مسیحی ناظرین کو سخت زک ہوئی اور اس کا نہایت مفید اثر ہوا۔ اِس مباحثہ کے پڑھنے سے (یہ مباحثہ تحریری ہوا تھا اور طرفین آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کے پرچہ کا جواب دیتے تھے اور وہ اصل تحریریں ایک کتاب کی صورت میں شائع کی گئی ہیں ) معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی مباحث آپ کے زبردست استدلال سے تنگ آ جاتا تھا اور بار بار دعویٰ بدلتا جاتا تھا اور بعض جگہ تو مسیحیوں کی طرف سے ناروا سخت کلامی تک کی گئی ہے۔ آپ نے اس جدید علمِ کلام کو پیش کیا کہ ہر ایک فریق اپنے مذہب کی صداقت کے دعاوی اور دلائل اپنی مسلّمہ کتب سے ہی پیش کرے۔

ایک عجیب واقعہ

اِس مباحثہ میں ایک عجیب واقعہ گزرا جس میں دوست دشمن آپ کی خداداد ذہانت بلکہ الٰہی تائید کے قائل ہو گئے اور وہ یہ کہ گو بحث اور اُمور پر ہو رہی تھی مگر مسیحیوں نے آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے ایک دن کچھ لولے، لنگڑے اور اندھے اکٹھے کیے اور عین دوران مباحثہ میں آپ کے سامنے لا کر کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ تو لولے لنگڑے اور اندھوں کو اچھا کیاکرتے تھے۔
پس آپ کا دعویٰ تب ہی سچا ہو سکتا ہے جب کہ آپ بھی ایسے مریضوں کو اچھا کر کے دکھلائیں اور دور جانے کی ضرورت نہیں مریض حاضر ہیں۔ جب انہوں نے یہ بات پیش کی سب لوگ حیران رہ گئے اور ہر ایک شخص محو حیرت ہو کر اِس بات کا انتظار کرنے لگا کہ دیکھیں کہ مرزا صاحب اِس کا کیا جواب دیتے ہیں ؟ اور مسیحی اپنی اِس عجیب کارروائی پر بہت خوش ہوئے کہ آج اِن پر نہایت سخت حجت تمام ہوئی ہے اور بھری مجلس میں کیسی خجالت اُٹھانی پڑی ہے۔ لیکن جب آپ نے اِس مطالبہ کا جواب دیا تو اُن کی ساری خوشی مبدل بہ افسوس و ندامت ہوگئی اور فتح شکست سے بدل گئی اور سب لوگ آپ کے جواب کی برجستگی و معقولیت کے قائل ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ اِس قسم کے مریضوں کو اچھا کرنا تو انجیل میں لکھا ہے ہم تو اِس کے قائل ہی نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تو حضرت مسیحؑ کے معجزات کا رنگ ہی اور تھا۔ یہ تو انجیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے بیماروں کو جسمانی رنگ میں اچھا کرتے تھے اور اس طرح ہاتھ پھیر کر نہ کہ دعا اور دوا سے۔ لیکن انجیل میں لکھا ہے کہ اگر تم میں ذرّہ بھر بھی ایمان ہو تو تم لوگ اِس سے بڑھ کر عجیب کام کر سکتے ہو۔ پس اِن مریضوں کا ہمارے سامنے پیش کرنا آپ لوگوں کا کام نہیں بلکہ ہمارا کام ہے اور اب ہم اِن مریضوں کو جو آپ لوگو ں نے نہایت مہربانی سے جمع کر لیے ہیں آپ کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ براہِ مہربانی انجیل کے حکم کے ماتحت اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہے تو اِن مریضوں پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اچھے ہو جاؤ۔ اگر یہ اچھے ہوگئے تو ہم یقین کر لیں گے کہ آپ لوگ اور آپ کا مذہب سچا ہے ورنہ جو دعویٰ آپ لوگوں نے خود کیا ہے اُسے بھی پورا نہ کر سکیں تو پھر آپ کی صداقت پر کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے۔ اِس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ مسیحی بالکل خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہ دے سکے اور بات ٹال دی۔
اس کے بعد انہی دنوں آپ ایک دفعہ فیروز پور تشریف لے گئے۔ اِن تمام سفروں میں ہر جگہ آپ کو دِق کیا گیا اور لوگوں نے آپ کو بڑا دکھ دیا اور جو کچھ تحریر کے ذریعہ شائع کیا گیا اس کی کوئی حد ہی نہیں۔ جہاں آپ جاتے وہیں لوگ مل کر آپ کو دکھ دیتے۔

تعطیل جمعہ کی کوشش

یکم جنوری 1896ء کو آپ نے اسلامی عظمت کے اظہار اور زبردست اسلامی شعار نماز جمعہ کے عام رواج کے لیے ایک کوشش کا آغاز فرمایا۔ یعنی گورنمنٹ ہند سے تعطیل جمعہ کی تحریک کی کارروائی شروع کی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں جمعہ کے متعلق جو اُن کے لیے مسیح موعود کا ایک زبردست عملی نشان تھا ایسی غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں کہ بعض شرائط کو ملحوظ رکھ کر جمعہ کی فرضیت پر ہی بحث چھڑ چکی تھی اور عملی طور پر جمعہ بہت جگہ متروک ہو گیا تھا آپ نے اُس کو زندہ کیا اور چاہا کہ گورنمنٹ جمعہ کی تعطیل منظور فرمائے۔ اِس بارہ میں جو میموریل گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجنا آپ نے تجویز فرمایا اُس کی تیاری سے پہلے ہی مولویوں نے اپنی عادت کے موافق مخالفت کی اور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیناچاہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ کام محض للّٰہیّت سے کر رہے تھے آپ کو کسی تحسین و داد کی تمنا نہ تھی۔ آپ کا مدعا تو اِس اہم دینی خدمت کا انجام پانا تھا خواہ کسی کے ہاتھ سے ہو۔ آپ نے کل کام مولوی محمد حسین بٹالوی کی درخواست پر اُن کے سپرد کر دینے کا اعلان کر دیا کہ وہ جمعہ کی تعطیل کے لیے خود کوشش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کریں۔ مگر افسوس! انہوں نے اِس مفید کام کو اس راہ سے روک دیا مگر آپ کی یہ تحریک الٰہی تحریک تھی آخر خدا تعالیٰ نے آپ ہی کی جماعت کے ذریعہ اس کو پورا کیا۔

مذاہب عالَم کا عظیم الشان جلسہ

1896ء کے اواخر میں چند لوگوں نے مل کر لاہور میں ایک مذہبی کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے تمام مذاہب کے پَیروان کو شامل ہونے کی دعوت دی جنہوں نے بڑی خوشی سے اِس بات کو قبول کیا۔ بحث میں شرط تھی کہ کسی مذہب پر حملہ نہ کیا جاوے اور حسبِ ذیل پانچ مضامین پر مختلف مذاہب کے پیَروان سے مضامین لکھنے کی درخواست کی گئی:
(1) انسان کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی حالتیں
(2) انسان کی زندگی کے بعد کی حالت
(3) دنیا میں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے اور وہ کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔
(4) کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا و عاقبت میں کیا ہوتا ہے۔
(5) علم گیان و معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں۔
اس کانفرنس کا مجوزہ حضرتؑ کی خدمت میں بھی قادیان حاضر ہوا اور آپ نے ہر طرح اُن کی تائید کا وعدہ کیا بلکہ اصلی معنوں میں اِس کانفرنس کی بنیاد خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی رکھی تھی۔ جو شخص بعد میں کانفرنس کا مجوز قرار پایا، قادیان آیا تو حضرت نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ چونکہ آپ کی غرض دنیا کو اس صداقت سے آگاہ کرنا تھا جو آپ لے کر آئے تھے اور آپ کا ہر کام نمود ونمائش سے بالا تر ہوتا تھا اِس لیے آپ نے اس شخص کو اس تحریک میں سعی کرنے پر آمادہ کیا اور اس کا پہلا اشتہار قادیان میں ہی چھاپ کر شائع کرایا۔ اپنے ایک مرید کو مقرر کیا کہ وہ ہر طرح اُن کی مدد کرے اور خود بھی مضمون لکھنے کاوعدہ کیا۔ جب آپ مضمون لکھنے لگے تو آپ سخت بیمار ہوگئے اور دستوں کی بیماری شروع ہوگئی لیکن اس بیماری میں بھی آپ نے ایک مضمون لکھا اور جب آپ وہ مضمون لکھ رہے تھے تو آپ کو الہام ہوا کہ "مضمون بالا رہا”۔ یعنی آپ کا مضمون اس کانفرنس میں دوسروں کے مضامین سے بالا رہے گا۔ چنانچہ آپ نے قبل از وقت ایک اشتہار کے ذریعہ یہ بات شائع کر دی کہ میرا مضمون بالا رہے گا۔
اجلاس کانفرنس 28-27-26 دسمبر 1896ء کو مقرر تھے۔ جلسہ کے انتظام کے لیے چھ ماڈریٹر صاحبان مقرر تھے جن کے اسمائِ گرامی مندرجہ ذیل ہیں :۔
1۔ رائے بہادر پرتول چندر صاحب جج چیف کورٹ پنجاب
2۔ خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب جج سمال کاز کورٹ لاہور
3۔ رائے بہادر پنڈت رادھا کشن کول پلیڈر چیف کورٹ سابق گورنر جنرل جموں
4۔ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب طبیب شاہی
5۔ رائے بہادر بھوانی داس ایم۔ اے سیٹلمنٹ آفیسر جہلم
6۔ سردار جواہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کالج کمیٹی لاہور
اِس کانفرنس کے لیے مختلف مذاہب کے مشہور علماء نے مضامین تیار کیے تھے اِس لیے لوگوں میں اِس کے متعلق بڑی دلچسپی تھی اور بہت شوق سے حصہ لیتے تھے اور یہ جلسہ ایک مذہبی دنگل کا رنگ اختیار کر گیا تھا اور ہر مذہب کے پَیرو اپنے اپنے قائم مقاموں کی فتح دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ اِس صورت میں تمام پُرانے مذاہب جن کے پَیرو کثرت سے پیدا ہو چکے ہیں بالکل محفوظ تھے کیونکہ اُن کی داد دینے والے لوگ جلسہ گاہ میں کثرت سے پائے جاتے تھے لیکن مرزا صاحب کا مضمون ایک ایسے جلسے میں سنایا جانا تھا جس میں دوست برائے نام تھے اور سب دشمن ہی دشمن تھے کیونکہ اُس وقت تک آپ کی جماعت دو تین سَو سے زیادہ نہ تھی اور اُس جلسہ میں تو شاید پچاس سے زائد آدمی بھی شامل نہ ہوں گے۔
آپ کی تقریر 27 دسمبر کو ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک تھی۔ آپ خود تو وہاں نہ جا سکے تھے لیکن آپ نے اپنے ایک مخلص مرید مولوی عبدالکریم صاحب کو اپنی طرف سے مضمون پڑھنے پر مقرر کیا تھا۔ جب انہوں نے تقریر شروع کی تو تھوڑی ہی دیر میں ایسا عالَم ہو گیا کہ گویا لوگ بُت بنے بیٹھے ہیں اور وقت کے ختم ہونے تک لوگوں کو معلوم ہی نہ ہوا کہ کس قدر عرصہ تک آپ بولتے رہے ہیں۔ وقت ختم ہونے پر لوگوں کو سخت تشویش ہوئی کیونکہ آپ کے مضمون کا ابھی پہلا سوال ہی ختم نہ ہوا تھا اور اُس وقت لوگوں کی خوشی کی کوئی انتہانہ رہی جب کہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے، جن کا لیکچر آپ کے بعد تھا اعلان کیا کہ آپ کے مضمون کا وقت بھی حضرت صاحب کو ہی دیا جائے۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب آپ کا لیکچر پڑھتے چلے گئے حتیّٰ کہ ساڑھے چار بج گئے جب کہ جلسہ کا وقت ختم ہونا تھا لیکن اب بھی پہلا سوال ختم نہ ہوا تھا اور لوگ مُصِر تھے کہ اِس لیکچر کو ختم کیا جائے۔ چنانچہ منتظمین جلسہ نے اعلان کیا کہ بِلالحاظ وقت کے یہ مضمون جاری رہے جس پر ساڑھے پانچ بجے تک سنایا گیا تب جا کر پہلا سوال ختم ہوا۔
مضمون کے ختم ہوتے ہی لوگوں نے اصرار کیا کہ اِس مضمون کے ختم کرنے کے لیے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا جائے چنانچہ 28 تاریخ کے پروگرام کے علاوہ 29تاریخ کو بھی جلسہ کا انتظام کیا گیا اور اُس روز چونکہ بعض اور مذاہب کے قائم مقاموں نے بھی وقت کی درخواست کی تھی اس لیے کارروائی جلسہ صبح کو بجائے ساڑھے دس بجے کے ساڑھے نو بجے سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا اور سب سے پہلے آپ ہی کا مضمون رکھا گیا اور گو پہلے دنوں میں لوگ ساڑھے دس بجے بھی پوری طرح نہ آتے تھے لیکن آپ کے پہلے دن کے لیکچر کا یہ اثر تھا کہ ابھی نو بھی نہ بجے تھے کہ ہر مذہب وملت کے لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ میں جمع ہونے شروع ہوگئے اور عین وقت پر جلسہ شروع کیا گیا۔ اُس دن بھی گو آپ کے مضمون کے لیے اڑھائی گھنٹے دیے گئے تھے لیکن تقریر کے اس عرصہ میں ختم نہ ہو سکنے کی وجہ سے منتظمین کو وقت اور دینا پڑا کیونکہ تمام حاضرین یک زبان ہو کر اس تقریر کے جاری رکھنے پر مُصِر تھے چنانچہ ماڈریٹر صاحبان کو وقت بڑھانا پڑا۔ غرض دو روز کے قریباً ساڑھے سات گھنٹوں میں جا کر یہ تقریر ختم ہوئی اور تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور سب لوگوں نے تسلیم کیا کہ مرزا صاحب کامضمون بالا رہا اور ہر مذہب و ملِّت کے پَیرو اس کی خوبی کے قائل ہوئے۔ جلسہ کی رپورٹ مرتب کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ آپ کے لیکچروں کے وقت حاضرین کی تعداد بڑھتے بڑھتے سات آٹھ ہزار تک ترقی کر جاتی تھی۔ غرض یہ لیکچر ایک عظیم الشان فتح تھی جو آپ کو حاصل ہوئی اور اس دن آپ کا سِکّہ آپ کے مخالفوں کے دلوں میں اور بھی بیٹھ گیا اور خود مخالف اخبارات نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ آپ کا مضمون اِس کانفرنس میں بالا رہا۔ یہ مضمون وہی ہے جس کا انگریزی ترجمہ "ٹیچنگز آف اسلام” یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر قبولیت حاصل کر چکا ہے۔
1897ء کے آغاز کے ساتھ عیسائی دنیا پر اتمامِ حجت کے لیے ایک اور طریق پیش کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی حقیقی شخصیت کے ثابت کرنے کے لیے عیسائیوں کے غلط عقائد کی اصلاح کی خاطر چہل روزہ دعوتِ مقابلہ کا اعلان کیا۔ اگرچہ اِس مقابلہ میں دوسرے اہل مذاہب بھی شامل تھے مگر عیسائی بالخصوص مخاطب تھے۔ اِس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی اُس شخص کے لیے مقرر تھا جو یسوع کی پیشگوئیوں کو حضرت مسیح موعودکی پیشگوئیوں اور نشانوں سے قوی تر دکھا سکے مگر کسی کو جرأت اور حوصلہ نہ ہوا۔

واقعہ قتل لیکھرام

1897ء میں لیکھرام نامی ایک آریہ 6 مارچ کو آپ کی ایک پیشگوئی کے مطابق مارا گیا اور اس پر آریوں میں سخت شور برپا ہوا اور بعض شریروں نے طرح طرح سے احمدیوں کو اور پھر اُن کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی دکھ دینا شروع کیا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف تو سخت ہی شور برپا ہوا اور کھلے لفظوں میں آپ پر قتل کا الزام لگایا گیا اور فورًا آپ کی تلاشی لی گئی کہ شاید کوئی سراغ قتل کا مل جاوے لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ہر طرح ناکام رکھا اور باوجود اس کے کہ ہر طرح آپ پر الزام لگانے کی کوشش کی گئی لیکن پھر بھی کامیابی نہ ہوئی اور آپ اس الزام سے بالکل پاک ثابت ہوئے۔

حسین کامی رومی سفیر کا قادیان میں آنا

مئی 1897ء میں ایک عظیم الشان واقعہ کا آغاز ہوا جو تاریخ میں ایک نشان کے طور پر رہے گا۔ حسین کامی سفیر روم اپنی متعدد درخواستوں کے بعد حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی خدمت میں قادیان حاضر ہوا۔ حضرت نے اپنی خداداد فراست اور الہامی اطلاع پر اُسے اشارۃً اُس کی اپنی حالت اور ٹرکی پر آنے والے مصائب سے اطلاع دی کیونکہ سفیر مذکور نے سلطنتِ روم کی نسبت ایک خاص دعا کی تحریک کی تھی جس پر آپ نے اس کو صاف فرما دیا کہ سلطان کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور مَیں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک اِن حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔
اِن باتوں سے سفیر مذکور ناراض ہو کر چلا گیا اور لاہور کے ایک اخبار میں گندی گالیوں کا ایک خط چھپوایا جس سے مسلمانانِ ہندوپنجاب میں شور مچ گیا مگر بعد میں آنے والے واقعات نے اس حقیقت کو کھول دیا اِس کے ضمن میں بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو گئیں۔ خود سفیر مذکور حضرت کے مشہور الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا نشانہ بنا کیونکہ وہ ایک سنگین الزام میں ماخوذ ہو کر سزا یاب ہوا اور جس اخبار نے نہایت زور سے اِس مضمون کی تائید کی تھی اور اُسے چھاپا تھا وہ بھی سزا سے نہ بچا اور سلطنت ٹرکی کی جو حالت ہے وہ ہر شخص پر عیاں ہے۔

مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک

اِسی سن کی یکم اگست کو آپ کے خلاف ڈاکٹر مارٹن کلارک نام ایک مسیحی پادری نے مقدمہ سازش قتل مسٹر اے۔ ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں دائر کیا اور بیان کیا کہ مرزا صاحب نے عبدالحمید نام ایک شخص کو میرے قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اوّل تو ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے آپ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا لیکن بعد میں اُن کو معلوم ہوا کہ بوجہ غیر ضلع ہونے کے یہ بات اُن کے اختیار سے باہر ہے۔ پس مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر ضلع گورداسپور کی عدالت میں منتقل کیا جن کا نام ایم۔ ڈبلیو ڈگلس ہے اور جو اِس وقت جزائر انڈیمان کی چیف کمشنری سے پنشن یاب ہو کر ولایت میں ہیں۔ آپ کے سامنے بھی عبدالحمید نے یہی بیان کیا کہ مجھے مرزا صاحب نے مارٹن کلارک صاحب کے قتل کے لیے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ ایک بڑے پتھر سے اِن کو مار دو۔ لیکن چونکہ اس بیان میں جو اُس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے سامنے دیا تھا اور اُس میں جو اب آپ کے سامنے دیا کچھ فرق تھا اِس لیے آپ کو کچھ شک پڑ گیا اور آپ نے بڑے زور سے اِس امر کی تحقیقات شروع کی اور چار ہی پیشیوں میں 27 دن کے اندر مقدمہ فیصلہ کر دیا اور باوجود اِس کے کہ آپ کے مقابلہ پر ایک مسیحی جماعت تھی بلاتعصب حضرت مسیح موعود کے حق میں فیصلہ دیا اور آپ کو صاف بَری کر دیا بلکہ اجازت دی کہ اپنے مخالفین کے خلاف مقدمہ دائر کریں لیکن آپ نے اُن کو معاف کر دیا اور اُن پر کوئی مقدمہ نہ کیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب اپنے فیصلہ میں تحریر فرماتے ہیں :۔

"ہم نے اُس کا بیان سنتے ہی اس کو بعید از عقل سمجھا کیونکہ اوّل تو اُس کا بیان جو ہمارے سامنے ہوا اُس بیان سے مختلف تھا جو امرتسر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کے سامنے ہوا۔ علاوہ ازیں اس کی وضع قطع ہی شُبہ پیدا کرنے والی تھی۔ دوسرے ہم نے اس کے بیانات میں یہ عجیب بات دیکھی کہ جس قدر عرصہ وہ بٹالہ میں مشن کے ملازموں کے پاس رہا اُس کا بیان مفصّل اور طویل ہوتا گیا۔ چنانچہ اُس نے ایک بیان 12 اگست کو دیا اور ایک 13 اگست کو اور دوسرے دن کے بیان میں کئی تفصیلات بڑھ گئیں جو پہلے دن کے بیان میں نہ تھیں۔ چونکہ اس سے ہمیں شُبہ پیدا ہوا کہ یا تو اسے کوئی سکھاتا ہے یا اِسے بہت کچھ معلوم ہے جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ اِس لیے ہم نے صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہا جو ایک یورپین آفیسر تھے کہ اِس کو مشن کمپاؤنڈ سے نکال کر اپنی تحویل میں رکھو اور پھر بیان لو۔ انہوں نے اُسے مشن کے قبضہ سے نکال لیا اور جب آپ نے اُس سے بیان لیا تو بلا کسی وعدہ معافی کے وہ رو کر پاؤں پر گِر گیا اور بیان کیا کہ مجھ کو ڈرا کر یہ سب کچھ کہلوایا گیا ہے۔ مَیں اپنی جان سے بیزار ہوں اور خود کشی کے لیے تیار تھا اور درحقیقت جو کچھ مَیں نے مرزا صاحب کے خلاف بیان کیا وہ عبدالرحیم، وارث الدین اور پریم داس عیسائیوں کی سازش اور اُن کے سکھانے سے کیا ہے۔ مرزا صاحب نے نہ مجھ کو بھیجا اور نہ میرا اُن سے کوئی تعلق تھا۔ چنانچہ جو دقت ایک دن کے بیان میں آتی دوسرے دن یہ مجھے سکھا دیتے اور مرزا صاحب کے جس مرید کی نسبت مَیں نے بیان کیا تھا کہ اُس نے بعد از قتل مجھے پناہ دینی تھی اُس کی شکل سے بھی مَیں واقف نہیں نہ اُس کا نام سنا تھا انہوں نے خود ہی اس کا نام اور پتہ مجھے یاد کرا دیا اور اِس ڈر سے کہ مَیں بھول نہ جاؤں میری ہتھیلی پر پنسل سے نام لکھ دیا تھا کہ اُس وقت دیکھ لینا اور یہ بھی کہا کہ جب پہلے مجھ سے مرزا صاحب کے خلاف بیان لکھوایا تو اِن عیسائیوں نے خوش ہو کر کہا کہ اب ہمارے دل کی مراد بَر آئی (یعنی اب ہم مرزا صاحب کو پھنسائیں گے)”۔

یہ تمام تفصیل لکھ کر مجسٹریٹ صاحب بہادر نے آپ کو بَری کیا۔ اِس مقدمہ پر آپ کے مخالف اِس قدر خوش تھے کہ ایک آریہ وکیل نے بلا اُجرت اِس میں مسیحیوں کی طرف سے پَیروی کی اور مسلمان مولوی بھی آپ کے خلاف گواہی دینے آئے۔ غرض مسیحی، ہندو اور مسلمان مل کر آپ پر حملہ اور ہوئے اور بعض ناجائز طریق بھی اختیار کیے گئے لیکن خدا تعالیٰ نے کپتان ڈگلس کو پیلاطوس سے زیادہ ہمت اور حوصلہ دیا۔ انہوں نے ہر موقعہ پر یہی کہا کہ مَیں بے ایمانی نہیں کر سکتا اور یہ نہیں کیا کہ اپنے ہاتھ دھو کر مسیح موعود کو اس کے دشمنوں کے ہاتھ میں دے دیتے بلکہ انہوں نے آپ کو بَری کیا اور اِس طرح رومن حکومت پر برٹش راج کی برتری ثابت کر دی۔
انہی دنوں میں آپ نے "اَلصُّلْحُ خَیْر” کے نام سے ایک اشتہار شائع کر کے مسلمان علماء کے آگے تجویز پیش کی کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجائیں اور آپ کو دشمنوں کا مقابلہ کرنے دیں اور اس کے لیے 10دس سال کی مدت مقرر کی کہ اس معیاد کے اندر اگر میں جھوٹا ہوں تو خود تباہ ہو جاؤں گا اور اگر سچا ہوں تو تم عذاب سے بچ جاؤ گے جو سچوں کی مخالفت کے سبب خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دشمنان اسلام سے مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے سے ہی مقابلہ پسندکیا۔

ایک سفر

اکتوبر 1897ء میں آپ کو ایک شہادت پر ملتان جانا پڑا۔ وہاں شہادت دے کرجب واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں لاہور بھی ٹھہرے۔ یہاں جن جن گلیوں سے آپ گذرتے ان میں لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکا ر پکار کر بُرے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے نکالتے۔ میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔ میں اس مخالفت کی جو لوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لیے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گذرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں ؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈا شخص جس کا ایک پہنچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا باندھا ہوا تھا نہیں معلوم کہ ہاتھ کے کٹنے کا ہی زخم باقی تھا یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں میں شامل ہوکر غالباً مسجد وزیرخاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا : ہائے ہائے مرزانٹھ گیا،، (یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا) اور میں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا خصوصاًاس شخص پر اور دیر تک گاڑی سے سرنکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔ لاہور سے حضرت صاحب سیدھے قادیان تشریف لے آئے۔

پنجاب میں طاعون اور حضور کی احتیاطی تدابیر

اُسی سال ملک پنجاب میں طاعون پھوٹا اور جب کہ تمام مذہبی آدمی اُن تدابیر کے سخت مخالف تھے جو گورنمنٹ نے انسدادِ طاعون کے متعلق نافذ کی تھیں۔ آپ نے بڑے زور سے اُن کی تائید کی اور اپنی جماعت کو آگاہ کیا کہ اِن تدابیر کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اسلام کا حکم ہے کہ ہر قسم کی تدابیر جو حفظانِ صحت کے متعلق ہوں اُن پر عمل کیاجائے اور اِس طرح آپ نے امنِ عامہ کے قیام میں بہت بڑا کام کیا۔ کیونکہ اس وقت لوگوں میں عام طور پر یہ بات پھیلائی جاتی تھی کہ گورنمنٹ خود ہی طاعون پھیلاتی ہے اور جو تدابیر اس کے انسداد کی ظاہر کی جاتی ہیں وہ درحقیقت اِس وباء کو پھیلانے والی ہیں اور اسلام کے بھی خلاف ہیں۔ چنانچہ علماء نے بڑے زور کے ساتھ فتویٰ دے دیا تھا کہ طاعون کے دنوں میں گھر سے نکلنا سخت گناہ ہے اور اِس طرح ہزاروں جاہلوں کی موت کا باعث ہوگئے۔ چوہے مارنے کی گولیاں تقسیم کی گئیں تو انہی کو باعث طاعون قرار دیا گیا۔ پنجرے دیئے گئے تو اُن پر اعتراض کیا گیا۔ غرض اِس طرح شورش برپا تھی اور بعض جگہ حکّامِ سرکار پر حملے بھی ہوئے۔ ایسے وقت میں آپ کے اعلان اور آپ کی جماعت کے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت ہوئی اور آپ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ طاعون کے دنوں میں گھروں سے باہر نکلنا اور بستی سے باہر رہنا اسلام کی رُو سے منع نہیں بلکہ منع صرف یہ بات ہے کہ ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں جائے کیونکہ اس سے بیماری کے دوسرے شہروں میں پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

قانونِ سڈیشن پر گورنمنٹ کو میموریل اور تجاویز

یہ ایام مذہبی بحث مباحثہ کے سبب سخت خطرناک ہو رہے تھے اور 1897ء اور 1898ء سَن خاص طور پر ممتاز تھے۔ آپس کی مخالفت سخت بڑھ رہی تھی اور سیاسی مفسدہ پرداز اس مذہبی دشمنی سے فائدہ اُٹھا کر گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اُکسانے میں مشغول تھے اور اسی شرارت کو محسوس کر کے گورنمنٹ نے 1897ء میں سڈیشن کا قانون بھی پاس کیا تھا لیکن باوجود اس قانون کے ہندوستان امن سے فساد کی طرف منتقل ہو رہاتھا اور اس قانون کا کوئی عمدہ نتیجہ نہ نکلا تھا کیونکہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور یہاں کے لوگ جتنے مذہب کے معاملہ میں جوش میں آ سکتے ہیں اتنے سیاسی امور میں نہیں آتے۔ لیکن اِس قانون میں مذہبی لڑائی جھگڑوں کا سدِّباب نہیں کیا گیا تھا اور نہ اس کی ضرورت گورنمنٹ اُس وقت محسوس کرتی تھی مگر جس بات کو مدبرانِ حکومت سمجھنے سے قاصر تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک گوشۂ تنہائی میں بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے چنانچہ ستمبر 1897ء میں ایک میموریل تیار کر کے لارڈ ایلجن بہادر وائسرائے ہند کی خدمت میں ارسال کیا اور اُسے چھاپ کر شائع بھی کر دیا۔ اُس میں آپ نے ہِزایکسی لینسی کو بتایا کہ فتنہ و فساد کا اصلی باعث مذہبی جھگڑے ہیں اِن کے نتیجہ میں جو شورش لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے اُسے بعض شریر گورنمنٹ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ پس قانون سڈیشن میں مذہبی سخت کلامی کو بھی داخل کرنا چاہیے اور اس کے لیے آپ نے تین تجاویز بھی پیش کیں۔
(1) اوّل یہ کہ قانون پاس کر دینا چاہیے کہ ہر ایک مذہب کے پَیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو بے شک بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہوگی۔ اس قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرفداری ہوگی اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پَیرو اِس بات پر ناخوش ہوں کہ اُن کو دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔
(2) اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملے کرنے سے لوگوں کو روک دیا جائے جو خود اُن کے مذہب پر پڑتے ہوں۔ یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خود ان کے ہی مذہب میں موجود ہوں۔
(3) اگر یہ بھی ناپسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک فرقہ سے دریافت کرکے اس کی مسلّمہ کتب مذہبی کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ اس مذہب پر ان کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ جب اعتراضات کی بنیاد صرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو جنہیں اس مذہب کے پَیرو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر اُن کے رُو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ باہمی بغض و عداوت ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔
اگر اس تحریک پر گورنمنٹ اُس وقت عمل کرتی تو جو فتنے اور فساد ہندوستان میں پہلے دنوں نمودار ہوئے وہ کبھی نہ ہوتے لیکن گورنمنٹ نے اس موقعہ پر اس ضرورت کو محسوس نہ کیا اور اس کے مدبرانِ سلطنت کی آنکھ اُن جراثیم کی بڑھنے والی طاقت کو نہ دیکھ سکی جنہیں اِس نبی وقت نے اُن کی ابتدائی حالت میں دیکھ لیا تھا مگر 1908ء میں پورے دس سال بعد گورنمنٹ کو مجبورًا یہ قانون پاس کرنا پڑا کہ ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنا اور ناروا سختی کرنی درست نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس پمفلٹ یا مضمون کے چھاپنے والے پریس یا اخبار کی ضمانت لی جائے یا اُسے ضبط کیا جائے۔ لیکن یہ قانون اس قدر عرصہ کے بعد پاس ہوا کہ اس کا وہ اثر اب نہیں ہو سکتا جو اُس وقت ہو سکتا تھا۔ دراصل ہندوستان کے سارے فتنے کی جڑ مذہبی جھگڑا ہے جو بعض شریروں کی عجیب پیچ درپیچ سازشوں کے ساتھ گورنمنٹ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور جب کسی مذہب کے پیرؤں کی سب سے پیاری چیز (اُن کے مذہب) پر گندے الفاظ میں حملہ کیا جائے تو جاہل عوام کو گورنمنٹ سے بدظن کرنے کے لیے اِسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ سارا قصور گورنمنٹ کا ہے جس کے ماتحت ہمیں اِس قدر دکھ دیا جاتا ہے اور وہ لوگ اس ظالم کا پیچھا چھوڑ کر محسن گورنمنٹ کے سَر ہو جاتے ہیں۔

ایک دل آزار کتاب

1898ء میں ایک عیسائی مرتد نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے خلاف ایک نہایت دل آزار کتاب (۱)شائع کی جس سے مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ ملک کے امن پر اثر انداز ہوگا۔ لاہور کی ایک انجمن (۲)نے گورنمنٹ کے حضور اس کتاب کی ضبطی کے لیے میموریل بھیجنے کی تیاری کی لیکن آپ نے منع فرمایا کہ اِس کا نتیجہ مفید نہ ہوگا اور مشورہ دیا کہ اس کا ایک زبردست جواب لکھا جائے مگر انجمن والوں نے اس مشورہ کی قدر نہ کی جس پر آخر انہیں اُسی طرح ناکام رہنا پڑا جیسے آپ نے اُن کو قبل از وقت بتلا دیا تھا۔ خود حضرتؑ نے اس میموریل(۳) کی اعلانیہ مخالفت کی کیونکہ اصولی طور پر اس میموریل کا انجام بصورت منظوری یہ ہونا چاہیے تھا کہ اِسلام کا ضعف ثابت ہو آپ نے جواب دینے کے طریق کو مقدم کیا اور گورنمنٹ نے آپ کے میموریل کو قدر کی نظر سے دیکھا اِس طرح پر آپ نے مسلمانوں کے ایک جائز حق کی حفاظت کی جو انہیں تبلیغ اسلام اور اپنے مذہب کے خلاف لکھنے والوں کے جواب دینے کا تھا۔
(۱) یہ کتاب امہات المومنین کے نام سے ایک عیسائی  ڈاکٹر احمد شاہ مرتد نے شائع کی تھی۔(۲) لاہور کی انجمن سے  انجمن حمایت اسلام لاہور مراد ہے ۔(۳) حضرت اقدس علیہ اسلام نے 8 مئی 1898 کولیفٹیننٹ گونر پنجاب کے پاس یہ میموریل بھیجا تھا کہ جب ہزار کاپی اس کتاب کی  مسلمانوں میں مفت  تقسیم کر کے ان کی دل آزاری کی گئی ہے تو اس کا ظبط کرنا لا حاصل ہے ۔ پادریوں نے ایسی  ہزاروں کتابیں لکھ کر مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے ۔ اس طریقِ مباحثہ کی اصلاح ہونی چاہیے اور اس قسم کے دل آزار اور ناپاک کلمات کے استعمال سے حکماََ  روک دینا چاہیے ۔

جماعت کی شیرازہ بندی اور مخالفین کی ناکامی

اِسی سال آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے اور خصوصیاتِ سلسلہ کے قائم رکھنے کے لیے جماعت کے تعلقاتِ ازدواج اور نظامِ معاشرت کی تحریک کی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدی لوگوں کو نہ دیا کریں۔
اِسی سال گورنمنٹ کو بھی آپ نے نشان بینی کی دعوت دی۔ دراصل اِسی ذریعہ سے آپ کو عمالِ حکومت پر اپنی تبلیغ کا کامل طور پر پہنچا دینا مقصودتھا جو علیٰ وجہ الاتم پورا ہوگیا۔
1898ء میں آپ نے اپنی جماعت کے بچوں کے لیے ایک ہائی سکول کی بنیاد رکھی جس میں اپنی جماعت کے طلباء چاروں طرف سے آ کر پڑھیں جس کی غرض یہ تھی کہ دوسرے سکولوں کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ پہلے سال یہ سکول صرف پرائمری تک تھا لیکن ہر سال ترقی کرتا چلا گیا اور 1903ء میں میٹریکولیشن کے امتحان میں اس کے لڑکے شامل ہوئے۔
1899ء میں آپ پر ایک اور مقدمہ حفظِ امن کے متعلق آپ کے دشمنوں نے قائم کیا لیکن اس میں بھی آپ کے دشمن سخت ذلیل اور ناکام ہوئے اور آپ کو کامیابی حاصل ہوئی۔
1900ء میں آپ نے عیسائی مذہب پر ایک اتمامِ حجت کیا۔ یعنی آپ نے لاہور کے بشپ صاحب کو خدائی فیصلہ کی دعوت دی مگر باوجودیکہ ملک کے نامی اخبارات نے تحریک کی مگر بشپ صاحب اِس مقابلہ میں نہ آ سکے۔

جماعت کا نام احمدی رکھنا

1901ء میں مردم شماری ہونے والی تھی اس لیے 1901ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذاتِ مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی مسلمان لکھوائیں گویا اِس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔

مقدمہ انہدامِ دیوار

اِسی سال آپ کے مخالف رشتہ داروں نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو دکھ دینے کے لیے (بیت اقصیٰ) کے دروازہ کے آگے ایک دیوار کھینچ دی جس کے سبب نمازیوں کو بہت دور سے پھیر کھا کر آنا پڑتا تھا اور اِس طرح بہت تکلیف اور حرج ہوتاتھا۔ جب انہوں نے کسی طرح نہ مانا تو مجبور ہو کر جولائی 1901ء میں آپ کو عدالت میں نالش دائر کرنی پڑی اور اگست سنہِ مذکور میں وہ مقدمہ آپ کے حق میں فیصل ہوا اور دیوار گرائی گئی اور خرچہ مقدمہ بھی آپ کے مخالفوں پر پڑا لیکن آپ نے اُن کو معاف کر دیا۔

ریویو آف ریلیجنز کا اجراء

1902ء میں آپ نے ولایت میں تبلیغ اسلام کے لیے ایک ماہوار رسالہ نکالنے کا حکم دیا جو ریویو آف ریلیجنز کے نام سے بفضل خدا اَب تک جاری ہے۔ اِس کا ایک ایڈیشن انگریزی اور ایک اُردو میں نکلتا ہے۔ اِس ریویو کے ذریعہ سے امریکہ اور یورپ میں نہایت احسن طور پر تبلیغ اسلام ہو رہی ہے اور اس کے زبردست مضامین کی دوست دشمن نے تعریف کی ہے۔ ابتداء میں علاوہ دیگر ممبرانِ سلسلہ کے خود حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بھی اِس رسالہ میں مضمون دیا کرتے تھے جو دراصل اُردو میں لکھے جاتے تھے پھر اُن کا ترجمہ انگریزی رسالہ میں شائع ہوتا تھا۔ اِن مضامین کا پڑھنے والوں پر نہایت گہرا اثر پڑتا تھا اور یہی مضامین تھے جنہوں نے ریویو کی عظمت پہلے ہی سال میں قائم کر دی تھی۔

خطبہ الہامیہ

اِس سال عیدالاضحیہ کے موقعہ پر جو حج کے دوسرے دن ہوتی ہے الہامِ الٰہی کے ماتحت ایک تقریر آپ نے فی البدیہہ عربی زبان میں کی۔
اُس وقت ایک عجیب حالت آپ پر طاری تھی اور آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور چہرہ سے نور ٹپکتا تھا اور نہایت پُر رعب وہیبت حالت تھی اور ایسا معلوم ہوتاتھا جیسے غنودگی کے عالَم میں ہیں۔ یہ تقریر ایسی لطیف اور اِس کی زبان ایسی بے مثل ہے کہ بڑے بڑے عربی دان اِس کی نظیر لانے سے قاصر ہیں اور اس کے اندر ایسے ایسے حقائق و معارف بیان ہوئے ہیں کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے- یہ تقریر خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور سب کی سب عربی زبان میں ہے۔

عربی زبان کی ترویج کیلیے اسباب کا سلسلہ

اِسی زمانہ میں آپ نے اپنی جماعت کو عربی سکھانے کے لیے ایک نہایت لطیف تجویز فرمائی جو یہ تھی کہ نہایت فصیح اور آسان عبارت میں کچھ جملے بنائے جنہیں لوگ یاد کر لیں اور اِس طرح آہستہ آہستہ اُن کو عربی زبان پر عبور حاصل ہو جائے اور اُن فقرات میں یہ خوبی رکھی گئی تھی کہ وہ ایسے امور کے متعلق ہوتے تھے جن سے انسان کو روزمرہ کام پڑتا ہے اور جن میں ایسی اشیاء کے اسماء اور ایسے افعال استعمال کیے جاتے تھے جو انسان روز مرہ بولتا ہے۔ کچھ اسباق اس سلسلہ کے نکلے لیکن بعد میں بعض زیادہ ضروری امور کی وجہ سے یہ سلسلہ رہ گیا تا ہم آپ اپنی جماعت کے واسطے ایک راہ نکال گئے جس پر چل کروہ کامیاب ہو سکتی ہے۔ آپ کا منشاء یہ تھا کہ ہر ایک مُلک کی اصل زبان کے علاوہ عربی زبان بھی مسلمانوں کے واسطے مادری زبان ہی کی طرح ہو جائے اور عورت مرد سب اسے سیکھیں تا کہ آئندہ نسلوں کے لیے اس کا سیکھنا آسان ہو اور بچے بچپن میں ہی اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی زبان سیکھ لیں اور یہ ارادہ تھا جس کے پورا ہوئے بغیر اسلام اپنی جڑوں پر پوری طرح نہیں کھڑا ہو سکتا کیونکہ جو قوم اپنی دینی زبان نہیں جانتی وہ کبھی اپنے دین سے واقف نہیں ہو سکتی۔ اور جو قوم اپنے دین سے واقف نہیں وہ کبھی اپنے دشمنانِ دین کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتی اور جو قومیں دین سے واقف ہونے کے لیے صرف ترجموں پر قناعت کرتی ہیں وہ نہ دین سے واقف رہتی ہیں نہ اُن کی کتاب سلامت رہتی ہے کیونکہ ترجمہ آہستہ آہستہ لوگوں کو اصل کتاب کے مطالعہ سے غافل کر دیتا ہے۔ چونکہ ترجمہ اصل کتاب کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اِس لیے آخر کار وہ جماعت کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے۔ آپ کے اِس ارادہ کو پورا کرنے کی طرف آپ کی جماعت کی توجہ لگی ہوئی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن کامیابی ہو جائے گی۔

منارۃ المسیح کی بنیاد

اِس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض پیشگوئیوں کی بنا پر کہ مسیح دمشق کے مشرق کی جانب ایک سفید منارہ پر اُترے گا ایک منارہ کی بنیاد رکھی تا کہ وہ پیشگوئی لفظًا بھی پوری ہو جائے۔ گو اِس پیشگوئی کے حقیقی معنے یہی تھے کہ مسیح موعود کھلے کھلے دلائل اور براہین کے ساتھ آئے گا اور تمام دنیا پر اس کا جلال ظاہر ہوگا اور اس کو بہت بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ علمِ تعبیر الرؤیا میں منارے سے مراد وہ دلائل ہیں جن کا انسان انکار نہ کر سکے اور بلندی پر ہونے کے معنے ایسی شان حاصل کرنے کے ہیں جو کسی کی نظر سے پوشیدہ نہ رہے اور مشرق کی طرف آنے سے مراد ایسی ترقی ہوتی ہے جسے کوئی نہ روک سکے۔

مقدمۂ کرم دین (ازالہ حیثیت عُرفی)

1902ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک شخص کرم دین نے ازالہ عرفی کا مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لیے آپ کے نام سمن جاری ہوا۔ چنانچہ آپ جنوری 1903ء میں وہاں تشریف لے گئے۔ یہ سفر آپ کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا کہ گو آپ ایک فوجداری مقدمہ کی جواب دہی کے لیے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔ جس وقت آپ جہلم کے سٹیشن پر اُترے ہیں اُس وقت وہاں اس قدر انبوہِ کثیر تھا کہ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونے کی جگہ نہ رہی تھی بلکہ اسٹیشن کے باہر بھی دو رویہ سڑکوں پر لوگوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ گاڑی کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا حتیّٰ کہ افسرانِ ضلع کو انتظام کے لیے خاص اہتمام کرنا پڑا اور غلام حیدر صاحب تحصیلدار اِس اسپیشل ڈیوٹی پر لگائے گئے۔ آپ حضرت صاحب کے ساتھ نہایت مشکل سے راستہ کراتے ہوئے گاڑی کو لے گئے کیونکہ شہر تک برابر ہجومِ خلائق کے سبب راستہ نہ ملتا تھا۔ اہلِ شہر کے علاوہ ہزاروں آدمی دیہات سے بھی آپ کی زیارت کے لیے آئے تھے۔ قریباً ایک ہزار آدمی نے اِس جگہ بیعت کی اور جب آپ عدالت میں حاضر ہونے کے لیے گئے تو اِس قدر مخلوق کارروائی مقدمہ سننے کے لیے موجود تھی کہ عدالت کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔ دور میدان تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔ پہلی ہی پیشی میں آپ بَری کیے گئے اور مع الخیر واپس تشریف لے آئے۔

جماعت کی ترقی اور کرم دین والے مقدمہ کا طول پکڑنا

1903ء سے آپ کی ترقی حیرت انگیز طریق سے شروع ہوگئی اور بعض دفعہ ایک ایک دن میں پانچ پانچ سَو آدمی بیعت کے خطوط لکھتے تھے اور آپ کے پَیرو اپنی تعداد میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئے۔ ہر قسم کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ سلسلہ بڑے زور سے پھیلنا شروع ہو گیا اور پنجاب سے نکل کر دوسرے صوبوں اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا۔
اِسی سال جماعت احمدیہ کے لیے ایک دردناک حادثہ پیش آیا کہ کابل میں اِس جماعت کے ایک برگزیدہ ممبر کو صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے سنگسار کیا گیا۔
مقدمات کا سلسلہ جو جہلم میں شروع ہوکر بظاہر ختم ہو گیا تھا پھر بڑے زور سے شروع ہو گیا۔ یعنی کرم دین جس نے پہلے وہاں آپ کے خلاف مقدمہ کیا تھا اُسی نے پھر گورداسپور میں آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش دائر کر دی۔ اِس مقدمہ نے اِتنا طول کھینچا کہ جسے دیکھ کرحیرت ہوتی ہے۔ اِس مقدمہ کی کارروائی کے دوران میں ایک مجسٹریٹ بھی بدل گیا اور اس کی پیشیاں ایسے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے رکھی گئیں کہ آخر مجبور ہو کر آپ کو گورداسپور کی ہی رہائش اختیار کرنی پڑی۔
اس مقدمہ کو اس قدر طول دیا گیا تھا کہ صرف تین چار الفاظ پر گفتگو تھی۔ کرم دین نے آپ کے خلاف ایک صریح جھوٹ بولا تھا۔ آپ نے اُس کی نسبت اپنی کتاب میں کذاب کا لفظ لکھا تھا جس کے معنی عربی زبان میں جھوٹا بھی ہیں اور بہت جھوٹا بھی۔ اِسی طرح ایک لفظ لئیم ہے جس کے معنے کمینہ ہیں۔ لیکن کبھی ولد الزنا کے معنوں میں بھی استعمال ہو جاتا ہے اور اُس کا زور اِس بات پر تھا کہ مجھے بہت جھوٹا اور ولدالزنا کہا گیا ہے۔ حالانکہ اگر ثابت ہے تو یہ کہ مَیں نے ایک جھوٹ بولا ہے۔ اِس پر عدالت میں ان الفاظ کی تحقیقات شروع ہوئی اور بعض اِس قسم کے اور باریک سوال پیدا ہوگئے جن پر ایسی لمبی بحث چھڑی کہ دو سال اِن مقدمات میں لگ گئے۔ دورانِ مقدمہ میں ایک مجسٹریٹ کی نسبت مشہور ہوا کہ اس کے ہم مذہبوں نے کہا ہے کہ مرزا صاحب اِس وقت خوب پھنسے ہوئے ہیں، ان کو سزا ضرور دو خواہ ایک دن کی قید کیوں نہ ہو۔ جن دوستوں نے یہ بات سنی سخت گھبرائے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور نہایت ڈر کر عرض کیا کہ حضور ہم نے ایسا سنا ہے۔ آپ اس وقت لیٹے ہوئے تھے یہ بات سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایک ہاتھ کے سہارے سے ذرا اُٹھ بیٹھے اور اُٹھ کر بڑے زور سے فرمایا کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے؟ اگر اُس نے ایسا کیا تو وہ دیکھ لے گا کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔ نہ معلوم یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی لیکن اس مجسٹریٹ کو انہی دنوں وہاں سے بدل دیا گیا اور باوجود کوشش کے فوجداری اختیارات اُس سے لے لیے گئے اور کچھ مدت کے بعد اُس کا عہدہ بھی کم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مقدمہ ایک اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا اُس نے بھی نہ معلوم کیوں اِس کو بہت لمبا کیا اور گو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں تو آپ کو کرسی ملتی تھی لیکن اِس مجسٹریٹ نے باوجود آپ کے سخت بیمار ہونے کے آپ کو کرسی نہ دی اور بعض دفعہ سخت پیاس کی حالت میں پانی پینے تک کی اجازت نہ دی۔ آخر ایک لمبے مقدمہ کے بعد آپ پر دو سَو روپے جرمانہ کیا اس پر سیشن جج صاحب امرتسر مسٹرہیری صاحب کی عدالت میں جو ایک یورپین تھے، اِس فیصلہ کی نگرانی کی گئی اور جب انہوں نے مقدمہ کی مسل دیکھی تو سخت افسوس ظاہر کیا کہ ایسے لغو مقدمہ کو مجسٹریٹ نے اس قدر لمبا کیوں کیا اور کہا کہ اگر یہ مقدمہ میرے پاس آتا تو مَیں ایک دن میں اِسے خارج کر دیتا۔ کرم دین جیسے انسان کو جو لفظ مرزا صاحب نے استعمال کیے اگر اُن سے بڑھ کر بھی کہے جاتے تو بالکل درست تھا۔ جو کچھ ہوا نہایت ناواجب ہوا اور انہوں نے دو گھنٹے کے اندر آپ کو بَری کر دیا اور جرمانہ معاف کر دیا اور اِس طرح دوسری دفعہ ایک یورپین حاکم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ حکومت انہی لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہے جن کو وہ اس کے قابل سمجھتا ہے۔
اِس مقدمہ کا فیصلہ جنوری 1905ء میں ہوا اور اس فیصلہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے جو وحی آپ پر کئی سال پیشتر مقدمہ کے انجام کی نسبت کی تھی وہ پوری ہوئی۔
اِس مقدمہ کی کارروائی کو ایک جگہ بیان کرنے کے لیے مَیں آپ کے دو ضروری سفر چھوڑ گیا ہوں جن میں سے آپ کا پہلا سفر تو لاہور کی طرف تھا جو دورانِ مقدمہ میں ماہِ اگست 1904ء میں ہوا۔ اِس دفعہ آپ لاہور میں پندرہ دن رہے۔ اِس سفر میں بھی چاروں طرف سے لوگ آپ کی زیارت کے لیے جوق در جوق آئے اور اسٹیشن پر تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور اس تمام عرصہ میں ایک شور پڑا رہا۔ آپ کی قیام گاہ کے نیچے صبح سے شام تک برابر ایک مجمع رہتا۔ مخالف آن آن کر گالیاں دیتے اور شور مچاتے حتیّٰ کہ بعض شریروں نے زنانہ مکان میں گھسنے کی بھی کوشش کی جنہیں زبردستی باہر نکالا گیا۔ لاہور کے دوستوں کی درخواست پر آپ کا لیکچر مقرر ہوا جو چھاپا گیا اور ایک وسیع ہال میں وہ لیکچر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پڑھ کر سنایا آپ بھی پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ قریباً سات آٹھ ہزار آدمی تھے۔ اِس لیکچر کے ختم ہونے پر لوگوں نے درخواست کی کہ آپ کچھ زبانی بھی بیان فرمائیں۔ اس پر آپ اُسی وقت کھڑے ہوگئے اور آدھ گھنٹہ تک ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔ چونکہ یہ ایک تجربہ شدہ بات تھی کہ آپ جہاں جاتے ہر مذہب و ملت کے لوگ آپ کے خلاف جوش دکھلاتے خصوصاً مسلمان کہلانے والے، اس لیے افسران پولیس نے اس دفعہ بہت اعلیٰ انتظام کیا ہوا تھا۔ دیسی پولیس کے علاوہ یوروپین سپاہی بھی انتظام کے لیے لگائے گئے تھے جو تلواریں ہاتھ میں لیے تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے کھڑے ہوئے تھے۔ چونکہ پولیس افسروں کو معلوم ہو گیا تھا کہ بعض جہلاء جلسہ گاہ سے باہر فساد پر آمادہ ہیں اِس لیے انہوں نے آپ کی واپسی کے لیے خاص انتظام کر رکھا تھا اور چند سوار کچھ فاصلہ پر آگے آگے چلے جاتے تھے اور پیچھے آپ کی گاڑی تھی۔ گاڑی کے پیچھے پھر کچھ پولیس کے جوان تھے اور ان کے پیچھے پھر پولیس کے سوار جن کے پیچھے پیادہ پولیس مَین۔ اِس طرح بڑی حفاظت سے آپ کو گھر پہنچایا گیا اور منصوبہ بازوں کو اپنی شرارت میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ وہاں سے آپ واپس گورداسپور تشریف لے آئے۔ اواخر اکتوبر 1904ء میں آپ گورداسپور کے مقدمات سے گونہ فراغت پا کے قادیان آگئے۔
27 اکتوبر کو سیالکوٹ تشریف لے گئے کیونکہ وہاں کے دوستوں نے باصرار وہاں تشریف لے جانے کی درخواست کی تھی اور عرض کیا تھا کہ آپ اپنی ابتدائی عمر میں یہاں کئی سال رہے ہیں پس اب بھی جبکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو عظیم الشّان کامیابی عطافرمائی ہے ایک دفعہ اِس طرف قدم رنجہ فرما کر اس زمین کو برکت دیں یہ سفر بھی آپ کی کامیابی کابیّن ثبوت تھا کیونکہ ہر ایک اسٹیشن پر آپ کی زیارت کے لیے اِس قدرمخلوق آتی تھی کہ سٹیشن کے حکام کو انتظام کرنا مشکل ہو جاتا تھا اور لاہور کے اسٹیشن پر تو اِس قدرہجوم ہوا کہ پلیٹ فارم ٹکٹ ختم ہوگئے اور اسٹیشن ماسٹر کو بلا ٹکٹ ہی لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دینی پڑی۔ جب آپ سیالکوٹ پہنچے تو اسٹیشن سے آپ کی قیام گاہ تک جو میل بھر کے فاصلہ پر تھی، برابر لوگوں کا ہجوم تھا۔ شام کے وقت ٹرین اسٹیشن پر پہنچی تو سواری گاڑیوں میں چڑھتے چڑھاتے دیر لگ گئی اور آپ کی گاڑی ابھی تھوڑی ہی دور چلنے پائی تھی کہ اندھیرا ہوگیا۔ ہجوم خلائق کے سبب اور رات کے پڑ جانے سے اندیشہ ہوا کہ کہیں بعض لوگ گاڑیوں کے نیچے نہ آجائیں چنانچہ پولیس کو اِس بات کا خاص انتظام کرنا پڑا کہ آپ کے آگے آگے راستہ صاف رہے۔ سیالکوٹ کے ایک رئیس اور آنریری مجسٹریٹ پولیس کے ساتھ اِس کام پر تھے۔ اُن کو بڑی مشکل اور سختی سے راستہ کرانا پڑتا تھا اور گاڑی نہایت آہستہ آہستہ چل سکتی تھی۔ گاڑی کی کھڑکیاں کھول دی گئی تھیں۔ بازاروں اور گلیوں میں لوگ علاوہ دو رویہ کھڑے ہونے کے، دوکانوں کے برآمدے بھی بھرے ہوئے تھے اور بعض تو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کھڑکیوں کے چھجوں پر چڑھے بیٹھے تھے۔ تمام چھتوں پر ہندوؤں اور مسلمانوں نے آپ کی شکل دیکھنے کے لیے ہنڈیاں اور لیمپ جلا رکھے تھے اور چھتیں عورتوں اور مردوں سے بھری پڑی تھیں جوآپ کی گاڑی کے قریب آنے پر مشعلیں آگے کر کر کے آپ کی شکل دیکھتے تھے اور بعض لوگ آپ پر پُھول پھینکتے تھے۔

لیکچر سیالکوٹ

سیالکوٹ آپ نے پانچ روز قیام فرمایا اور علاوہ تبلیغ کے جو آپ گھر پر ملنے والوں کو کرتے رہے آپ کا ایک پبلک لیکچر بھی وہاں ہوا۔ جس وقت لیکچر کا اعلان ہوا اُسی وقت سیالکوٹ کے علماء نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ کوئی شخص مرزاصاحب کا لیکچر سُننے نہ جائے اور یہ بھی فتویٰ دے دیا کہ جو شخص آپ کا لیکچرسُننے جائے گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا( یہ ایک زبردست ہتھیار اُس وقت سے علماء ہند کے پاس ہے جس کے ذریعہ سے وہ جاہل مسلمانوں پر اپنی حکومت قائم رکھتے ہیں اور جس کے لیے جھوٹی سچی کوئی بھی دلیل اُن کے پاس نہیں ) اور اِس اعلان کو ہی کافی خیال نہ کیا گیا بلکہ جس مکان میں آپ کا لیکچر تھا اُس کے مقابل چند مخالف مولویوں نے اپنے لیکچروں کا اِعلان کر دیا تا کہ لوگ آپ کے لیکچروں میں شامل نہ ہونے پائیں اور باہر کے باہر ہی رُک جائیں۔ علاوہ ازیں کچھ آدمی لیکچر گاہ کے دروازہ پر بھی مقرر کر دیے کہ اندر جانے والوں کو روکیں اور بتائیں کہ آپ کے لیکچر میں جانا گناہ ہے اور بعض تو اِس حد تک بڑھے کہ آنے والوں کو پکڑ پکڑ کر دوسری طرف لے جاتے تھے مگر باوجود اِس کے لوگ بڑی کثرت سے آئے اور جس وقت لوگوں نے سُنا کہ آپ لیکچر گاہ میں تشریف لے آئے ہیں تو مخالف علماء کا لیکچر چھوڑ کر وہاں بھاگ آئے اور اِس قدر شوق سے لوگوں نے حصّہ لیا کہ سرکاری ملازم بھی باوجود تعطیل کا دن نہ ہونے کے لیکچر میں شامل ہوئے۔
یہ لیکچر بھی چھپا ہوا ہے اور مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھ کر سُنایا تھا۔ دوران لیکچر میں بعض لوگوں نے شور مچانا چاہا۔ پولیس افسر نے جو ایک یوروپین صاحب تھے، نہایت ہوشیاری سے اُن کو روکا اور ایک بڑی لطیف بات فرمائی کہ تم مسلمانوں کو اِن کے لیکچر پر گھبرانے کی کیا وجہ ہے، تمہاری تو یہ تائید کرتے ہیں اور تمہارے رسول کی عظمت قائم کرتے ہیں۔ ناراض ہونے کا حق تو ہمارا تھا کہ جن کے خدا (مسیح) کی وفات ثابت کرنے پر یہ اِس قدر زور دیتے ہیں۔ غرض افسرانِ پولیس کی ہوشیاری کے باعث کوئی فتنہ وفساد نہ ہوا۔ اِس لیکچر میں ایک خصوصیّت یہ تھی کہ آپ نے پہلی مرتبہ اپنے آپ کو اہل ہنودپر اتمام حُجت کرنے کے لیے پبلک میں بحیثیت کرشن پیش کیا۔ جب لیکچر ختم ہوکر گھر کو واپس آنے لگے تو پھر بعض لوگوں نے پتھر مارنے کا ارادہ کیا لیکن پولیس نے اِس مفسدہ کو بھی روکا۔ لیکچر کے بعد دوسرے دن آپ واپس تشریف لے آئے اور اِس موقعہ پر بھی پولیس کے انتظام کی وجہ سے کوئی شرارت نہ ہو سکی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ہمیں دُکھ دینے کا کوئی موقعہ نہیں ملا تو بعض لوگ شہر سے کچھ دور باہر جاکر ریل کی سٹرک کے پاس کھڑے ہوگئے اور چلتی ٹرین پر پتھر پھینکے لیکن اس کا نتیجہ سوائے کچھ شیشے ٹوٹ جانے کے اور کیا ہو سکتا تھا۔

مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات اور سفرِ دہلی کے حالات

11 اکتوبر 1905ء کو آپ کے ایک نہایت مخلص مرید مولوی عبدالکریم صاحب جو مختلف موقعوں پر آپ کے لیکچر سُنایا کرتے تھے ایک لمبی بیماری کے بعد فوت ہوئے اور آپ نے قادیان میں ایک عربی مدرسہ کھولنے کا ارشاد فرمایا جس میں دین اسلام سے واقف علماء پیدا کیے جائیں تا کہ فوت ہونے والے علماء کی جگہ خالی نہ رہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات سے چند روز بعد آپ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں قریباً پندرہ دن رہے۔ اُس وقت دہلی گوپندرہ سال پہلے کی دہلی نہ تھی جس نے دیوانہ وار شور مچایا تھا لیکن پھر بھی آپ کے جانے پر خوب شور ہوتا رہا۔ اس پندرہ دن کے عرصہ میں آپ نے دہلی میں کوئی پبلک لیکچر نہ دیا لیکن گھر پر قریباً روزانہ لیکچر ہوتے رہے جن میں جگہ کی تنگی کے سبب دو اڑھائی سَو سے زیادہ آدمی ایک وقت میں شامل نہںی ہو سکتے تھے۔ ایک دو دن لوگوں نے شور بھی کیا اور ایک دن حملہ کر کے گھر پر چڑھ جانے کا بھی ارادہ کیا لیکن پھر بھی پہلے سفر کی نسبت بہت فرق تھا۔
اِس سفر سے واپسی پر لدھیانہ کی جماعت نے دو دن کے لیے آپ کو لدھیانہ میں ٹھہرایا اور آپ کا ایک پبلک لیکچر نہایت خیروخوبی سے ہوا۔ وہاں امرتسر کی جماعت کا ایک وفدپہنچا کہ آپ ایک دو روز امرتسر بھی ضرور قیام فرمائیں جسے حضرتؑ نے منظور فرمایا اور لدھیانہ سے واپسی پر امرتسر میں اُتر گئے۔ وہاں بھی آپ کے ایک عام لیکچر کی تجویز ہوئی۔ امرتسر سلِسلہ احمدیہ کے مخالفین سے پُر ہے اور مولویوں کا وہاں بہت زورہے۔ اُن کے اُکسانے سے عوام الناس بہت شور کرتے رہے۔ جس دن آپ کالیکچر تھا اُس روز مخالفین نے فیصلہ کر لیا کہ جس طرح ہو لیکچر نہ ہونے دیں۔ چنانچہ آپ لیکچر ہال میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دروازہ پر مولوی بڑے بڑے جُبّے پہنے ہوئے لمبے لمبے ہاتھ مار کر آپ کے خلاف وعظ کر رہے تھے اور بہت سے لوگوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے۔ آپ لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا۔ لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ ملا جس پر لوگوں کو بھڑکائیں۔ پندرہ منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اُس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔ اس پر آپ نے بھی اُس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔ لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔ مولویوں نے شور مچادیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار یا مسافر روزہ نہ رکھے بلکہ جب شفا ہو یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور مَیں تو بیمار بھی ہوں اور مسافر بھی۔ لیکن جوش میں بھرے ہوئے لوگ کب رُکتے ہیں۔ شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرونہ ہو سکا۔ آخر مصلحتاً آپ بیٹھ گئے اور ایک شخص کو نظم پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ اُس کے نظم پڑھنے پر لوگ خاموش ہوگئے۔ تب پھر آپ کھڑے ہوئے تو پھر مولویوں نے شور مچادیا اور جب آپ نے لیکچر جاری رکھا تو فساد پر آمادہ ہوگئے اور سٹیج پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔
پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن ہزاروں آدمیوں کی رَو اُن سے روکے نہ رُکتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سمندر کی ایک لہر ہے جو آگے ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔ جب پولیس سے اُن کا سنبھالنامشکل ہوگیا تب آپ نے لیکچر چھوڑ دیا لیکن پھر بھی لوگوں کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے سٹیج پر چڑھ کر حملہ اور ہونے کی کوشش جاری رکھی۔ اس پر پولیس انسپکٹر نے آپ سے عرض کی کہ آپ اندر کے کمرہ میں تشریف لے چلیں اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ بند گاڑی لے آئیں۔ پولیس لوگوں کو اِس کمرہ میں آنے سے روکتی رہی اور دوسرے دروازہ کے سامنے گاڑی لاکر کھڑی کر دی گئی، آپ اُس میں سوارہونے کے لیے تشریف لے چلے۔ آپ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ آپ گاڑی میں سوار ہو کر چلے ہیں۔ اِس پر جو لوگ لیکچر ہال سے باہر کھڑے تھے وہ حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے اور ایک شخص نے بڑے زور سے ایک بہت موٹا اور مضبوط سونٹا آپ کو مارا۔ ایک مخلص مرید پاس کھڑا تھا وہ جھٹ آپ کو بچانے کے لیے آپ کے اور حملہ کرنے والے کے درمیان میں آگیا۔ چونکہ گاڑی کا دروازہ کُھلا تھا سونٹااُس پر رُک گیا اور اُس شخص کے بہت کم چوٹ آئی ورنہ ممکن تھا کہ اُس شخص کا خون ہو جاتا۔ آپ کے گاڑی میں بیٹھنے پر گاڑی چلی لیکن لوگوں نے پتھروں کا مینہ برسانا شروع کر دیا گاڑی کی کھڑکیاں بند تںیھ۔ اُن پر پتھر گرتے تھے تو وہ کُھل جاتی تھی۔ ہم انہیں پکڑ کر سبنھالتے تھے لیکن پتھروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے ہاتھوں سے چُھوٹ چُھوٹ کر وہ گِر جاتی تھیں لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی کے چوٹ نہیں آئی صرف ایک پتھر کھڑکی میں سے گذرتا ہوا میرے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر لگا۔ چونکہ پولیس گاڑی کے چاروں طرف کھڑی تھی بہت سے پتھر اُسے لگے جس پر پولیس نے لوگوں کو وہاں سے ہٹایا اور گاڑی کے آگے پیچھے بلکہ اُس کی چھت پر بھی پولیس مَین بیٹھ گئے اور دوڑاکر گاڑی کو گھر تک پہنچایا۔ لوگوں میں اِس قدر جوش تھا کہ باوجود پولیس کی موجودگی کے وہ دُورتک گاڑی کے پیچھے بھاگے۔ دوسرے دن آپ قادیان واپس تشریف لے آئے۔

وفات کی پیشگوئی اور سلسلہ کا نظام۔ صَدرانجمن کا قیام

دسمبر1905ء میں آپ کو الہام ہوا کہ آپ کی وفات قریب ہے جس پر آپ نے ایک رسالہ "الوصیّۃ” لکھ کر اپنی تمام جماعت میں شائع کر دیا اور اُس میں جماعت کو اپنی وفات کے قُرب کی خبر دی اور اُن کو تسلی دی اور الہام الٰہی کے ماتحت ایک مقبرہ بنائے جانے کا اعلان فرمایا اور اُس میں دفن ہونے والوں کے لیے یہ شرط مقرر کی کہ وہ اپنی تمام جائیداد کا دسواں حصہ اشاعتِ اسلام کے لیے دیں اور تحریر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ اِس مقبرہ میں صرف وہی دفن ہو سکیں گے جو جنّتی ہوں گے اور ان اموال کی حفاظت کے لیے جو اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لیے لوگ بغرض اشاعت اسلام دیں گے ایک انجمن مقرر فرمائی۔ اِس انتظام کے علاوہ یہ بھی پیشگوئی کی کہ جماعت کی حفاظت اور اس کو سنبھالنے کے لیے خداتعالیٰ خود میری وفات کے بعد اسی طرح انتظام کرے گا جس طرح کہ پہلے نبیوں کے بعد کرتا رہا ہے اور ایسے لوگوں کو کھڑا کرتا رہے گا جو جماعت کی نگرانی اسی طرح کریں گے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے کی تھی۔ سلسلہ کی ضروریاتِ تعلیمی و تبلیغی کے لیے الوصیّۃ کی اشاعت تک مدرسہ اور میگزین کی انتظامی کمیٹیاں تھیں اور مقبرہ کے لیے ایک جدید انجمن تجویز ہوئی مگر خدام کی درخواست پر 1906ء کے دسمبر میں آپ نے اس انجمن کی بجائے جسے وصیتوں کے اموال کی حفاظت کے لیے مقرر کیا گیا تھا ایک ایسی انجمن قائم کر دی جس کے سپرد دینی اور دُنیاوی تعلیم کے مدارس، ریویوآف ریلیجنز، مقبرہ بہشتی وغیرہ سب متفرق کام کر دیئے اور مخ۔ تلف انجمنوں کی بجائے ایک ہی صدر انجمن قائم کر دی۔
1907ء میں ستمبر کے مہینے میں آپ کا لڑکا مبارک احمد اس پیشگوئی کے مطابق جواس کی پیدائش کے وقت ہی چھاپ کر شائع کر دی گئی تھی، ساڑھے آٹھ سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔
اِسی سال صدرانجمن کی مختلف شہروں میں شاخیں قائم کرنے کی تجویز کی گئی۔ دو مرد اور ایک عورت امریکن آپ سے ملنے کے لیے آئے جن سے دیر تک گفتگو ہوئی اور انہیں مسیح کی بعثتِ ثانیہ کی حکمت اور اصلیت سمجھائی۔
اِس سال پنجاب میں کچھ ایجی ٹیشن پیدا ہو گیا اس پر آپ نے اپنی جماعت کو گورنمنٹ کا ہرطرح وفادار رہنے کی تاکید فرمائی اور مختلف جگہ پر آپ کی جماعت نے اِس شورش کے فرو کرنے میں بِلا کسی لالچ کے خدمت کی۔
دسمبر میں آریوں نے لاہور میں ایک مذہبی کانفرنس منعقد کی اور سب مذاہب کے لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ لیکن یہ شرط رکھی کہ کسی مذہب کے پَیروؤں کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی اور خود بھی اسی شرط کی پابندی کا اقرار کیا۔ آپ سے بھی اس میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تو آپ نے اُسی وقت کہہ دیا کہ مجھے تو اس تجویز میں دھوکے کی بو آتی ہے لیکن پھر بھی حجت پوری کرنے کے لیے ایک مضمون لکھ کر اُس میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔ اس مضمون میں آپ نے بڑے زور سے آریوں کو صلح کی دعوت دی اور نہایت نرمی سے صرف اسلام کی خوبیاں ان کے سامنے پیش کیں۔ ہماری جماعت کے قریباً پانچ سَو آدمی ٹکٹ خرید کر اس کانفرنس میں شامل ہوتے رہے اور ہمارے باعث دوسرے مسلمان بھی شامل ہوتے رہے لیکن جب آریوں کی باری آئی تو انہوں نے نہایت گندہ طور پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور بُرے سے بُرے الفاظ حضورؐ کی نسبت استعمال کیے لیکن ہم آپؐ کی تعلیم کی ماتحت خاموشی سے اُن لیکچروں کو سنتے رہے اور کسی نے اُٹھ کر اِتنا بھی نہیں کہا کہ ہم سے وعدہ خلافی کی گئی ہے۔
21 مارچ 1908ء میں سرولسن صاحب بہادر فنانشل کمشنر صوبہ پنجاب قادیان تشریف لائے۔ چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب کا ایک ایسا معزز اعلیٰ عہدیدار قادیان آیا۔ آپ نے تمام جماعت کو ان کے استقبال کا حکم دیا اور اپنی سکول گراؤنڈ میں اُن کا خیمہ لگوایا اور ان کی دعوت بھی کی۔ چونکہ آپ کی نسبت آپ کے مخالفین نے مشہور کر رکھا تھا کہ آپ درپردہ گورنمنٹ کے مخالف ہیں کیونکہ افسرانِ بالا سے باوجود اپنے قدیم خاندانی تعلقات کے کبھی نہیں ملتے آپ نے عملی طور پر اس اعتراض کو دور کر دیا اور فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات کے لیے خود تشریف لے گئے۔ اُس وقت آپ کے ساتھ سات آٹھ آدمی آپ کی جماعت کے بھی تھے۔ صاحب ممدوح نے نہایت تکریم کے ساتھ اپنے خیمہ کے دروازے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ریسیو کیا اور آپ سے مختلف امور آپ کے سلسلہ کے متعلق دریافت کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اُن دنوں میں مسلم لیگ نئی نئی قائم ہوئی تھی اور حکّامِ انگریزی اس کی کونسی ٹیوشن پر ایسے خوش تھے کہ اُن کے خیال میں کانگریس کے نقائص دور کرنے میں یہ ایک زبردست آلہ ثابت ہوگی اور بعض حکّام رؤساء کو اشارۃً اِس میں شامل ہونے کی تحریک بھی کرتے تھے۔ فنانشل کمشنر صاحب بہادر نے بھی برسبیلِ تذکرہ آپ سے مسلم لیگ کا ذکر کیا اور اس کی نسبت آپ کی رائے دریافت کی۔ آپ نے فرمایا مَیں اسے پسند نہیں کرتا۔ فنانشل کمشنر نے اس کی خوبی کا اقرار کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ راہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اسے کانگرس پر قیاس نہ کریں اس کا قیام تو ایسے رنگ میں ہوا تھا کہ اس کا اپنے مطالبات مںگ حد سے بڑھ جانا شروع سے نظر آ رہا تھا لیکن مسلم لیگ کی بنیاد ایسے لوگوں کے ہاتھوں اور ایسے قوانین کے ذریعے پڑی ہے کہ یہ کبھی کانگرس کا رنگ اختیار کر ہی نہیں سکتی۔ اس پر آپ کے ایک مرید خواجہ کمال الدین نے جو ووکنگ مشن کے بانی اور رسالہ مسلم انڈیا کے مالک ہیں، سرولسن کی تائید کی اور کہا کہ مَیں بھی اس کا ممبر ہوں اس کے ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں۔ مگر دونوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے تو اس سے بو آتی ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگرس کا رنگ اختیار کر لے گی۔ مَیں اس طرح سیاست میں دخل دینے کو خطرناک سمجھتا ہوں۔ یہ گفتگو تو اس پر ختم ہوئی لیکن ہر ایک سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ آپ کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔
اِسی سال 26 اپریل کو بوجہ والدہ صاحبہ کی بیماری کے آپ کو لاہور جانا پڑا۔ جس دن قادیان سے چلنا تھا اُس رات کو الہام ہوا:۔
"مباش ایمن از بازیٔ روزگار”
یعنی حوادثِ زمانہ سے بے خوف مت ہو۔ اِس پر آپ نے فرمایا کہ آج یہ الہام ہوا ہے کہ جو کسی خطرناک حادثہ پر دلالت کرتا ہے۔ اتفاق سے اُسی رات میرے چھوٹے بھائی مرزا شریف احمد بیمار ہوگئے لیکن جس طرح سے ہو سکا روانہ ہوئے جب بٹالہ پہنچے، جو قادیان کا اسٹیشن تھا، تو وہاں معلوم ہوا کہ بوجہ سرحدی شورش کے گاڑیاں کافی نہیں اِسی لیے گاڑی ریزرو نہیں ہو سکی وہاں دو تین دن انتظار کرنا پڑا۔ آپ نے اپنے گھر میں فرمایا کہ اِدھر الہام متوحش ہوا ہے اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روکیں پڑ رہی ہیں۔ بہتر ہے کہ یہیں بٹالہ میں کچھ عرصہ کے لیے ٹھہر جائیں آب و ہَوا تبدیل ہو جائے گی۔ علاج کے لیے کوئی لیڈی ڈاکٹر یہیں بُلا لی جائے گی۔ لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ نہیں لاہور ہی چلو۔ آخر دو تین دن کے انتظار کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے۔ آپ کے پہنچتے ہی تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور حسب دستور مولوی لوگ آپ کی مخالفت کے لیے اکٹھے ہوگئے۔ جس مکان میں آپ اُترے ہوئے تھے اُس کے پاس ہی ایک میدان میں آپ کے خلاف لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو روزانہ بعد نماز عصر سے لے کر رات کے نو دس بجے تک جاری رہتا۔ اِن لیکچروں میں گندی سے گندی گالیاں آپ کو دی جاتیں اور چونکہ آپ کے مکان تک پہنچنے کا یہی راستہ تھا آپ کی جماعت کو سخت تکلیف ہوتی لیکن آپ نے سب کو سمجھا دیا کہ گالیوں سے ہمارا کچھ نہیں بگڑتا تم لوگ خاموش ہو کے پاس سے گزر جایا کرو۔ اُدھر دیکھا بھی نہ کرو۔ چونکہ اس دفعہ لاہور میں کچھ زیادہ رہنے کا ارادہ تھا اس لیے جماعت کے احباب چاروں طرف سے اکٹھے ہوگئے تھے اور ہر وقت ہجوم رہتا تھا اور لوگ بھی آپ سے ملنے کے لیے آتے رہتے تھے۔

لاہور کے رؤساء کو دعوت اور حضور کی تقریر

چونکہ رؤساء ہند بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ساری دنیا کے رؤساء دین سے نسبتاً غافل ہوتے ہیں، اس لیے آپ نے اُن کو کچھ سنانے کے لیے یہ تجویز فرمائی کہ لاہور کے ایک غیر احمدی رئیس کی طرف سے جو آپ کا بہت معتقد تھا رؤساء کو دعوت دی اور دعوتِ طعام میں کچھ تقریر فرمائی۔ تقریر کسی قدر لمبی ہوگئی جب گھنٹہ کے قریب گزر گیا تو ایک شخص نے ذرا گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ اس پر بہت سے لوگ بول اُٹھے کہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں لیکن یہ کھانا (غذائے روح) تو آج ہی میسر ہوا ہے۔ آپ تقریر جاری رکھیں۔ دو اڑھائی گھنٹہ تک آپ کی تقریر ہوتی رہی۔ اس تقریر کی نسبت لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپ نے اپنا دعویٔ نبوت واپس لے لیا۔ لاہور کے اُردو روزانہ اخبارِ عام نے یہ خبر شائع کر دی۔ اس پر آپ نے اُسی وقت اس کی تردید فرمائی اور لکھا کہ ہمیں دعویٔ نبوت ہے اور ہم نے اسے کبھی واپس نہیں لیا۔ ہمیں صرف اِس بات سے انکار ہے کہ ہم کوئی نئی شریعت لائے ہیں۔ شریعت وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔

حضور علیہ السلام کا وصال

آپ کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔ لاہور تشریف لانے پر یہ شکایت زیادہ ہوگئی اور چونکہ ملنے والوں کا ایک تانتا رہتا تھا اس لیے طبیعت کو آرام بھی نہ ملا۔ آپ اسی حالت میں تھے کہ الہام ہوا اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ یعنی کوچ کرنے کا وقت آگیا پھر کوچ کرنے کا وقت آ گیا۔ اس الہام پر لوگوں کو تشویش ہوئی لیکن فوراً قادیان سے ایک مخلص دوست کی وفات کی خبر پہنچی اور لوگوں نے یہ الہام اُس کے متعلق سمجھا اور تسلی ہوگئی لیکن آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ سلسلہ کے ایک بہت بڑے شخص کی نسبت ہے، وہ شخص اس سے مُراد نہیں۔ اس الہام سے والدہ صاحبہ نے گھبرا کر ایک دن فرمایا کہ چلو واپس قادیان چلیں۔ آپ نے جواب دیا کہ اَب واپس جانا ہمارے اختیار میں نہیں۔ اَب اگر خدا ہی لے جائے گا تو جا سکیں گے۔ مگر باوجود اِن الہامات اور بیماری کے آپ اپنے کام میں لگے رہے اور اس بیماری ہی میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے لیے آپ نے ایک لیکچر دینے کی تجویز فرمائی اور لیکچر لکھنا شروع کر دیا اور اس کا نام "پیغام صلح” رکھا۔ اس سے آپ کی طبیعت اور بھی کمزور ہو گئی اور دستوں کی بیماری بڑھ گئی۔ جس دن یہ لیکچر ختم ہونا تھا اُس رات الہام ہوا:۔

"مکن تکیہ برعمر ناپائیدار”

یعنی نہ رہنے والی عمر پر بھروسہ نہ کرنا۔ آپ نے اُسی وقت یہ الہام گھر میں سنا دیا اور فرمایا کہ ہمارے متعلق ہے۔ دن کو لیکچر ختم ہوا اور چھپنے کے لیے دے دیا گیا۔ رات کے وقت آپ کو دست آیا اور سخت ضعف ہو گیا۔ والدہ صاحبہ کو جگایا۔ وہ اُٹھیں تو آپ کی حالت بہت کمزور تھی۔ انہوں نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے؟ فرمایا وہی جو مَیں کہا کرتا تھا (یعنی بیماری موت) اس کے بعد پھر ایک اور دست آیا۔ اس سے بہت ہی ضعف ہو گیا فرمایا مولوی نور الدین صاحب کو بلواؤ (مولوی صاحب جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے بہت بڑے طبیب تھے) پھر فرمایا کہ محمود (مصنف رسالہ ہذا) اور میر صاحب (آپ کے خسر) کو جگاؤ۔ میری چارپائی آپ کی چارپائی سے تھوڑی ہی دور تھی۔ مجھے جگایا گیا اُٹھ کر دیکھا تو آپ کو کرب بہت تھا۔ ڈاکٹر بھی آ گئے تھے انہوں نے علاج شروع کیا لیکن آرام نہ ہوا۔ آخر انجکشن کے ذریعہ بعض ادویات دی گئیں۔ اس کے بعد آپ سو گئے۔ جب صبح کا وقت ہوا اُٹھے اور اُٹھ کر نماز پڑھی۔ گلا بالکل بیٹھ گیا تھا کچھ فرمانا چاہا لیکن بول نہ سکے۔ اس پر قلم دوات طلب فرمائی لیکن لکھ بھی نہ سکے۔ قلم ہاتھ سے چھٹ گئی۔ اس کے بعد لیٹ گئے اور تھوڑی دیر تک غنودگی سی طاری ہوگئی اور قریباً ساڑھے دس بجے دن کے آپ کی روح پاک اُس شہنشاہِ حقیقی کے حضور حاضر ہوگئی جس کے دین کی خدمت میں آپ نے اپنی ساری عمر صرف کر دی تھی اِنَّا لِلّہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ بیماری کے وقت صرف ایک ہی لفظ آپ کی زبان مبارک پر تھا اور وہ لفظ اللہ تھا۔
آپ کی وفات کی خبر بجلی کی طرح تمام لاہور میں پھیل گئی۔ مختلف مقامات کی جماعتوں کو تاریں دے دی گئیں اور اُسی روز شام یا دوسرے دن صبح کے اخبارات کے ذریعہ کُل ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر مل گئی۔ جہاں وہ شرافت جس کے ساتھ آپ اپنے مخالفوں کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے ہمیشہ یاد رہے گی، وہاں وہ خوشی بھی کبھی نہیں بھلائی جا سکتی جس کا اظہار آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں نے کیا۔ لاہور کی پبلک کا ایک گروہ نصف گھنٹہ کے اندر ہی اس مکان کے سامنے اکٹھا ہو گیا جس میں آپ کا جسم مبارک پڑا تھا اور خوشی کے گیت گا گا کر اپنی کورباطنی کا ثبوت دینے لگا۔ بعضوں نے تو عجیب عجیب سوانگ بنا کر اپنی خباثت کا ثبوت دیا۔
آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی اس کا حال اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس بات کے قبول کرنے کے لیے تو تیار تھے کہ اپنے حواس کو تو مختل مان لیں لیکن یہ ب اور کرنا انہیں دشوار و ناگوار تھا کہ اُن کا حبیب ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے۔ پہلے مسیح کے حواریوں اور اس مسیح کے حواریوں کی اپنے مرشد کے ساتھ محبت میں یہ فرق ہے کہ وہ تو مسیح کے صلیب پر سے زندہ اُتر آنے پر حیران تھے اور یہ اپنے مسیح کے وصال پر ششدر تھے۔ اُن کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح زندہ کیونکر ہے اور اِن کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح فوت کیونکر ہوا۔ آج سے تیرہ سَو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النبیین ہو کر آیا تھا اُس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت بھرا ہوا شعر کہا تھا کہ

کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ

مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ

ترجمہ: کہ "تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔ تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہوگئی۔ اب تیرے بعد کوئی شخص پڑا مرا کرے ہمیں اُس کی پرواہ نہیں کیونکہ ہم تو تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے”۔
آج تیرہ سَو سال کے بعد اُس نبیؐ کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشمِ فلک نے دیکھا کہ جنہوں نے اُسے پہچان لیا تھا اُن کا یہ حال تھا کہ یہ دنیا اُن کی نظروں میں حقیر ہوگئی اور اُن کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں ہی چلی گئی بلکہ اب تک کہ آٹھ سال گزر چکے ہیں اُن کا یہی حال ہے اور خواہ صدی بھی گزر جائے مگر وہ دن اُن کو کبھی نہیں بھول سکتے جب کہ خدا تعالیٰ کا پیارا رسول اُن کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔
درد انسان کوبیتاب کر دیتا ہے اور مَیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا ذکر کر کے کہیں سے کہیں چلا گیا۔ مَںت نے ابھی بیان کیا ہے کہ ساڑھے دس بجے آپ فوت ہوئے۔ اُسی وقت آپ کے جسم مبارک کو قادیان میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا اور شام کی گاڑی میں ایک نہایت بھاری دل کے ساتھ آپ کی جماعت نعش لے کرروانہ ہوئی اور آپ کا الہام پورا ہوا جو قبل از وقت مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا کہ "اُن کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں "۔
بٹالہ پہنچ کر آپ کا جنازہ فوراً قادیان پہنچایا گیا اور قبل اس کے کہ آپ کو دفن کیا جاتا قادیان کی موجودہ جماعت نے (جن میں کئی سَو قائم مقام باہر کی جماعتوں کا بھی شامل تھا ) بالاتفاق آپ کا جانشین اور خلیفہ حضرت مولوی حاجی نورالدین صاحب بھیروی کو تسلیم کر کے اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح الوصیۃ کی وہ شائع شدہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ کھڑے کیے گئے تھے، میری جماعت کے لیے بھی خدا تعالیٰ اسی رنگ میں انتظام فرمائے گا۔ اس کے بعد خلیفۂ وقت نے آپ کا جنازہ پڑھا اور دوپہر کے بعد آپ دفن کیے گئے اور اس طرح آپ کا وہ الہام کہ("ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق”) جو دسمبر 1902ء میں ہوا اور مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا پورا ہوا کیونکہ 26 مئی کو آپ فوت ہوئے اور 27 تاریخ کو آپ دفن کیے گئے اور اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی تھا جس سے اس الہام کے معنی واضح کر دیے گئے تھے اور وہ الہام یہ تھا "وقت رسید” یعنی تیری وفات کا وقت آ گیا ہے۔
آپ کی وفات پر انگریزی و دیسی ہندوستان کے سب اخبارات نے باوجود مخالفت کے اِس بات کا اقرار کیا کہ اِس زمانہ کے آپ ایک بہت بڑے شخص تھے۔

٭٭٭٭٭ تمت بالخیر ٭٭٭٭٭

 PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

اللہ وسایا کی کتاب "پارلیمنٹ میں قادیانی شکست" پر تبصرہ

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

اللہ وسایا کی کتاب "پارلیمنٹ میں قادیانی شکست” پر تبصرہ (مجیب الرحمن ، ایڈوکیٹ)

 PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

منکرین فیضان ختم نبوت ،جو عوام الناس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے معروف ہیں، کے طائفہ کے ایک رکن اللہ وسایا نے ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں احمدیہ مسئلہ کے تعلق میں پہلے ۱۹۹۴ء میں ’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ ۔ ۱۳روزہ کا رروائی ‘‘ اور پھر ۲۰۰۰ء میں ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے ۔ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اس طائفہ کی فطری روش کے مطابق یہ کتاب بھی کتمان حق ،تلبیس و تحریف ،قطع وبرید اور دجل و فریب کا ایک پلندہ ہے۔

مکرم مجیب الرحمان صاحب نے، ان بے شمار سعید روحوں کے لئے جو ہر دور میں ہمیشہ سچائی کی تلاش میں رہتی ہیں،ذاتی حیثیت میں، اپنی ذمہ داری پر اس کتاب پر ایک مختصرمگربھرپور تبصرہ لکھا ہے جو ان کے شکریہ کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے۔

جناب مجیب الرحمان ایک معروف قانون دان ، پاکستان سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ او ربار کے سینئر رکن ہیں۔ بالخصوص بنیادی انسانی حقوق کے حوالہ سے آپ کی مساعی قابل ذکر ہیں۔ آپ متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مل کرکام کرچکے ہیں۔ آرڈیننس (xx) کے خلاف قانونی جہد میں فیڈرل شریعت کورٹ ، عدالت ہائے عالیہ او ر سپریم کورٹ آف پاکستان میں آپ کی پیروی اسلامی فقہی لٹریچر اور عصری قوانین میں آپ کی گہری نظر اور وسیع مطالعہ کی آئینہ دار ہے۔ (مدیر)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ حضوری باغ روڈ ملتان‘ کی طرف سے شائع کردہ جناب اﷲوسایا کی مرتبہ کتاب بعنوان’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست ‘‘ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی اس مبینہ کارروائی کی اشاعت غیر قانونی اور بدوں اختیار و بلااجازت افسران مجاز ہونے کی وجہ سے کسی طرح بھی ایک مستند حوالہ قرار نہیں دی جاسکتی اس قسم کی جعلسازیوں اور گمراہ کن کارروائیوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کی مستند کارروائی جوقانون کے مطابق لفظ بہ لفظ ریکارڈ کی گئی تھی سرکاری طور پر شائع کردی جائے۔ قومی اسمبلی نے خود تو کارروائی شائع نہیں کی اور نہ ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس دیدہ دلیری اور غیر قانونی اشاعت کو قابلِ اعتناء سمجھا ہے ۔لہٰذا تاریخ کا ریکارڈدرست رکھنے کی خاطر ہم نے اس مبینہ کارروائی پر تبصرہ کی اشاعت کو ضروری سمجھا ہے تاکہ سند رہے۔

آئندہ صفحات میں اللہ وسایاکی کتاب پر ایک تبصرہ پیشِ خدمت ہے جس میں ان کو اپنی ہی کتاب کا آئینہ دکھایا گیا ہے۔ اﷲوسایا کی یہ کتا ب کیوں مستند حوالہ کے طور پر استعمال نہیں کی جاسکتی ، یہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق خصوصی کمیٹی ’’احمدیہ مسئلہ ‘‘ پر غور کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ لہٰذا ہم نے اس مضمون کے لئے اسی عنوان کا انتخاب کیا ہے۔

(۱)۔۔۔۔حافظہ نہ باشد

جو لوگ قرآن حکیم کو غور اور تدبر سے پڑھتے ہیں ان پر یہ امر خوب روشن ہے کہ تاریخ مذاہب کے ہر دور میں جب دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بن پڑا تو ہمیشہ ہی مذہب کے ٹھیکیداروں نے سیاسی اقتدار کو اپنا حلیف و ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی مامورین کی تاریخ سے مختلف نہیں۔ اﷲ وسایا اس بات کو تاریخ اور دنیا کی نظر سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتے کہ ۱۹۷۴ ء میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی بھی ایک سیاسی طالع آزما اور مذہب کے ٹھیکیداروں کے مابین ایک سازش اور گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھی۔ اللہ وسایا جس بت کو خدا بنائے بیٹھے ہیں اور وہ پارلیمنٹ جس کی قرار داد کو وہ فرمانِ الٰہی اور فرمودات رسول سے بڑھ کر کوئی چیز سمجھ بیٹھے ہیں اس کا اپنا یہ عالم ہے کہ اسے کسی پہلو قرار نصیب نہیں ۔ آئے دن بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہے ، چشم بینا کیلئے پارلیمنٹ کے اس حشر میں کافی سامان عبرت موجود ہے۔ مگر جناب اللہ وسایا ان لوگوں میں سے ہیں جو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے اور کوئی تازیانہ عبرت ان کی آنکھیں نہیں کھولتا۔اس اسمبلی کے نمائندوں کے بارہ میں اﷲ وسایا کے ممدوح ’’خادمِ اسلام‘‘ جناب ضیاء الحق کی حکومت نے قرطاسِ ابیض شائع کیا۔اس سے خوب ظاہر ہے کہ وہ کس کردارکے حامل، کیسے لوگ تھے اور دینی امورمیں اجتہاد یا رائے دینے کے کتنے اہل تھے جنہوں نے ایک مہتم بالشان معاملہ میں مداخلت فی الدین کی جرأت کی ۔رہ گئے جناب اﷲ وسایا کے اکابرین علماء حضرات تو انہوں نے اٹارنی جنرل کی اس دینی مسئلہ میں جو امداد کی وہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ مسئلہ ختمِ نبوّت سے متعلق تحریک کا سامنا کرنے کا تو حوصلہ ہی علماء حضرات کو نہ ہوا۔ان کی علمی بے بسی اور عجز کا اعتراف تو پہلے ہی دن ہو گیا جب انہوں نے وزیرِ قانون کی طرف سے پیش کردہ، ختمِ نبوت سے متعلق قرارداد سے جان چھڑانے کی خاطر اپنی ایک الگ قرارداد پیش کردی۔ قادیانیت کی جس شکست اور اپنی جس فتح کا اعلان اللہ وسایا موصوف کر رہے ہیں اس پر خود ان کے اپنے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ خدمت اسلام کی مہم میں وہ دروغگوئی اور تلبیس اور اخفاء حق کے مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ لئے بغیر اپنی کارروائی پر اعتماد نہیں کر پا رہے۔ قریب نصف درجن جھوٹ تو اﷲ وسایا کے رقم کردہ دیباچہ ہی سے جھانکتے نظر آتے ہیں۔

قطع وبرید اور تحریف کا شاہکار

زیرِ نظر کتاب کی اشاعت اوّل جولائی ۲۰۰۰ء ظاہر کی گئی ہے مگر اللہ وسایا صاحب کی طرف سے رقم کردہ دیباچہ کے آخر میں اس کتاب کو ’’جدید اور خوبصورت ایڈیشن‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ جس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ کتاب کی اشاعتِ اوّل نہیں ہے۔امر واقع یہی ہے کہ اس سے پہلے۱۹۹۴ ء میں اللہ وسایا صاحب کی طرف سے ایک کتاب ’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ ۱۳ روزہ کارروائی‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس وقت اﷲ وسایا صاحب نے جو مقدمہ تحریر کیا اس میںیہ لکھا:۔
’’اس وقت اسمبلی کے اراکین مفکر الاسلام مولانا مفتی محمود ، شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق اور دوسرے اکابر سے اسمبلی کی کارروائی کے متعلق زبانی اور تحریری جو معلومات حاصل ہوتی رہیں۔ ممبران اسمبلی سے سوالات و جوابات کی تفصیل قلمبند ہوتی رہی۔ مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا محمد حیات فاتح قادیان کی یادداشتوں سمیت جو کچھ بن پڑا حاضر خدمت ہے۔‘‘
گویا اس بات کے تو اللہ وسایا صاحب خود اقبالی ہیں کہ قومی اسمبلی کی تیرہ دن کی جو مبینہ کارروائی ا نہوں نے شائع کی تھی اسے اسمبلی کے ریکارڈ سے مرتب نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ بھان متی کا کنبہ انہوں نے زبانی اور تحریری معلومات اور مختلف اراکین سے حاصل کردہ یادداشتوں سے جوڑا تھا۔ حالانکہ اسمبلی کے قواعد کی رو سے موصوف کے اکابرین اللہ وسایا صاحب کو یہ معلومات مہیا کرنے کے مجاز ہی نہیں تھے۔ لہذا اللہ وسایا صاحب نے یا تو ان مرحوم اکابرین پر قواعد کی خلاف ورزی کا داغ لگایا ،یا خود جھوٹ کے مرتکب ہوئے ۔
۱۹۹۴ ء کی اشاعت کے مقدمہ میں اﷲوسایا صاحب نے مزیدلکھا:
’’میں یہ تو عرض کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں کہ تحریک ختم نبوت 74کی یہ دوسری جلد قومی اسمبلی کی مکمل کارروائی پر مشتمل ہے ‘تاہم اگر کسی دن قدرت کو منظور ہوااور یہ کارروائی حکومت نے شائع کر دی تو انشاء اﷲالعزیز ہمیں اپنی دیانت پر اتنا اعتماد ہے کہ آپ کو سوائے تفصیل اور اجمال کے اور کوئی فرق نظر نہیں آئیگا۔‘‘
یہ ان کا دوسرا 5 اقرار تھا کہ کارروائی مکمل نہیں بلکہ بقول انکے صرف ’’اجمال‘‘ ہے ۔ حالانکہ در اصل جسے وہ اجمال قرار دے رہے تھے وہ اجمال نہیں قطع و برید اور تحریف کا شاہکار تھا۔
اب اسی کارروائی کو، جسے’’ اجمال‘‘ کے پردے میں شائع کیا گیا تھا بڑی ڈھٹائی سے’’ مکمل روداد‘‘کے نام سے شائع کر دیا گیا ہے۔چنانچہ زیر نظر کتاب میں اللہ وسایا کا یہ دعویٰ ہے کہ:
’’آج سے سالہا سال پہلے جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے بارہ میں ایک کیس تھا۔ اس کیس کی پیروی کے لئے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے صدر پاکستان جناب محمد ضیاء الحق صاحب مرحوم سے وفد بھجوانے کی درخواست کی۔ پاکستانی حکومت نے مولانا تقی عثمانی‘ جناب محمد افضل چیمہ‘ سید ریاض الحسن گیلانی‘ مولانا مفتی زین العابدین ‘ جناب پروفیسر غازی محمود احمد کو افریقہ بھجوا دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ختم نبوت‘ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر اور عبدالرحمن یعقوب باوا کیس کی پیروی کیلئے افریقہ گئے۔ قومی اسمبلی میں قادیانی اور لاہوری مرزائیوں پر جو جرح ہوئی تھی‘ جناب جنرل ضیاء الحق صاحب نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کی’’مکمل کاپی ‘‘ فراہم کر دی۔ حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم‘ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم‘ مولانا عبدالحق صاحب مرحوم کی یادداشتوں اور ان کو بحیثیت ایک ممبر قومی اسمبلی جو کارروائی کی کاپیاں ملتی تھیں اس مواد سے زیر نظر کتاب کو جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی اصل کارروائی کے ساتھ ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے۔‘‘
گویا اب بھی موصوف واضح طور پر یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ اصل کارروائی کا مکمل ریکارڈ ہے۔ بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ’’یادداشتوں کو‘‘ ضیاء الحق صاحب کی فراہم کردہ ’’مکمل کاپی‘‘ اورجنوبی افریقہ بھیجی جانے والی ’’اصل کارروائی کے ساتھ ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے‘‘۔ مگر یہ بات بھی جھوٹ سے خالی نہیں۔
جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں تین مقدمات زیر سماعت آئے جن کی تفصیل یہ ہے۔
۱۔ مقدمہ نمبر: 10058/82
عنوان: اسمعیل پیک بنام مسلم جوڈیشل کونسل ۔
عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ
Cape of Good Hope
پراونشل ڈویژن
۲۔ مقدمہ نمبر: 1438/86
عنوان: محمد عباس جسیم بنام شیخ ناظم محمد وغیرہ
عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ
Cape of Good Hope
پراونشل ڈویژن
۳۔ مقدمہ نمبر: 201/92
عنوان: شیخ ناظم محمدوغیرہ بنام محمد عباس جسیم
عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ اپیل ڈویژن
اللہ وسایا صاحب کا کہنا یہ ہے کہ آج سے سالہا سال پہلے جنرل ضیاء الحق نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کارروائی کی مکمل کاپی فراہم کر دی۔ جناب اللہ وسایا نہ تو پاکستانی وفد میں شریک تھے اورنہ ہی ان علماء میں ان کا نام دکھائی دیتا ہے جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جنوبی افریقہ گئے اور نہ ہی وہ یہ بتاتے ہیں کہ وفد کے کس رکن سے انہوں نے جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی کارروائی حاصل کی۔
جنوبی افریقہ والے مقدمات 1994 ء سے بہت پہلے سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستانی وفد بہت پہلے جنوبی افریقہ جا چکا تھا لہذا اگر جنوبی افریقہ والے مقدمہ کی پیروی کے دوران کارروائی کی نقل حاصل ہو چکی تھی تو اللہ وسایا صاحب نے اس وقت یہ ذکر کیوں نہ کیا؟اس وقت’’ مکمل ‘‘روداد 5 دستیاب تھی تو ’’اجمال ‘‘کا نقاب اوڑھنے کی کیا ضرورت
تھی ؟اور ضیاء الحق صاحب نے کس اختیار کے تحت چپکے چپکے اسمبلی کی کارروائی ان کے حوالہ کر دی؟ اور کی بھی یا نہیں اس کی سند کیا ہے؟
وزیر قانون کا ریزولیوشن اور حزب اختلاف کی تحریک ۳۰ جون ۱۹۷۴ ء کو پیش کئے گئے تھے۔ اﷲ وسایا صاحب نے کارروائی کا آغاز’’ ۵؍اگست ۱۹۷۴ء کی کارروائی ‘‘ سے کیا ہے۔ ۵؍ اگست سے تو جر ح کا آغاز ہوا ۔ ۳۰؍ جون اور ۵؍ اگست کے درمیانی عرصہ کی کارروائی بھی غائب ہے ۔ وہ بیان جس پر جرح کی گئی وہ بھی غائب ہے۔ الغرض یہ بات تو واضح ہے کہ اﷲ وسایا کی شائع کردہ کتاب قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی’’ مکمل کارروائی‘‘ ہرگز نہیں ۔ اسے مکمل کارروائی قرار دینا جھوٹ اور تلبیس کے سوا کچھ نہیں۔
۱۳ دن کی کارروائی کی جو نامکمل رپورٹ ممبران اسمبلی کو مہیا کی جاتی رہی اس کا حجم بھی دو اڑھائی ہزار صفحات سے کم نہیں تھا۔ جرح کے دوران حضرت مرزا ناصر احمد صاحب آیاتِ قرآنی‘ احادیث اور عربی حوالہ جات پڑھتے رہے جو کارروائی قلمبند کرنے والا عملہ قلمبند نہیں کر پاتا تھا اور کارروائی میں وہ حصے درج نہیں ہوتے تھے۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے طویل اقتباسات اسمبلی میں پڑھ کر سنائے تھے جن میں سے کسی کا بھی اللہ وسایا کی شائع کردہ کارروائی میں پتہ نہیں ملتا۔ بسااوقات سوالات انگریزی زبان میں ہوتے تھے اور وہ انگریزی ہی میں درج تھے ان کا کوئی ذکر اس کارروائی میں نہیں ملتا۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے بعض سوالات کے جواب میں تحریری بیان بھی داخل کئے تھے وہ تحریری بیان کیا تھے، وہ کہاں ہیں؟ ان کا بھی یہاں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ وہ تفصیل سے اپنی بات سمجھانے کے لئے بیان دیتے رہے اور اراکین اسمبلی ان کے جوابات سے اتنے متأثر تھے کہ جناب مفتی محمود کی نیند اڑ گئی۔ اس بارہ میں مفتی محمود صاحب کا شائع شدہ اقرار موجود ہے۔
قومی اسمبلی کے روبرو کارروائی کے دوران اپنے محضر نامہ میں بھی اور جرح کے دوران سوالات کے جواب میں بھی امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے دیوبندی مسلک کے بزرگ مولانا قاسم نانوتوی، بریلوی مسلک کے بزرگ مولانا احمد رضا خان بریلوی، اہلِ حدیث مسلک کے بزرگ نواب صدیق الحسن خان صاحب کے
حوالہ جات اور دیگر بزرگان کے طویل حوالہ جات پیش کئے اور پڑھ کر سنائے تھے، جن کا ان دنوں قومی اسمبلی کے اراکین میں بڑا چرچا تھا ۔ اﷲ وسایا کی شائع کردہ مبینہ کارروائی میں ان حوالہ جات کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگر واقعی ان کے پاس مکمل کارروائی موجود ہے تو ان حصوں کو شائع نہ کرنا صریح بد دیانتی ہے۔ آخر قومی اسمبلی میں بلانے کا مبیّنہ مقصد یہی تھا کہ جماعت احمدیہ کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔ جو وضاحتیں دی گئیں اگر وہ غائب کر دی جائیں تو سمجھا یہی جائے گا کہ ان وضاحتوں سے احمدیوں کے خلاف گمراہ کن پراپیگینڈے کا تار پود بکھر کر رہ گیا تھا۔ ورنہ وہ وضاحتیں جو بقول انکے مکمل کارروائی میں ان کے پاس موجود ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں شائع کیوں نہیں کیں۔ اور اگر مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہے تو اپنی کتاب کو مکمل ریکارڈ کا نام کیوں دیا؟ ختمِ نبوت کے مقدس نام پر دین کی خدمت کے لئے نکلے ہیں تو یہ دھوکہ دہی اور فریب کیوں؟
بد قسمتی سے وطنِ عزیز ان دنوں مذہبی منافرت اور عدمِ رواداری کی گرفت میں ہے۔ رواداری ،برداشت اور صبروتحمّل عنقاء ہیں۔ منافرت کی فتنہ سامانیاں آزاد اور بے لگام ہیں ۔ معقولیت اور اعتدال پسندی تشدد کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ احمدیوں پر پابندیاں، مقدمات کی بھرمار ، تبلیغ پر پابندی، اخبارات و جرائد پر پابندی، اﷲ وسایا صاحب سیاسی اقتدار کی ساز باز سے ان سب زنجیروں کا بندوبست کرکے احمدیوں کو للکارتے پھرتے ہیں۔ اگر واقعی خود پر بھروسہ ہے تو احمدیوں کے ساتھ مل کر یہ مطالبہ کریں کہ احمدیوں کے جرائد اور رسائل پر پابندیاں ختم کی جائیں اورتبلیغ پر پابندی ختم کی جائے توخوب کھل جائے گاکہ کس کے نصیب میں شکست اور کس کے مقدر میں آسمان نے فتح لکھ دی ہے۔اس طرح کی جعلسازی اور مفسدانہ کارروائیوں سے حق نہ کبھی چُھپا ہے اور نہ کبھی چُھپے گا۔

(۲) قانونی حیثیت

دُنیا جانتی ہے یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی خفیہ تھی ۔ خفیہ کیوں رکھی گئی؟ آیا خفیہ رکھا جانا مناسب تھا یا نہیں،یہ ایک الگ سوال ہے۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ یہ کارروائی شائع ہونی چاہیے، مگر امر واقع یہ ہے کہ اسمبلی کی کارروائی شائع نہیں کی گئی۔ایسی کارروائی جو اسمبلی کے قواعد کی رُو سے خفیہ رکھی جائے اس کارروائی کا ریکارڈ رکھنا یا اس کی رپورٹ تیار کرنا صرف قومی اسمبلی کے سپیکر کے اختیار میں ہے اور قواعد کی رُوسے کسی دیگر شخص کو یہ اختیار اور اجازت نہیں کہ وہ کوئی نوٹ رکھے یا اس کو کُلی یاجُزوی طور پر ریکارڈکرے یا اس کی رپورٹ کا کوئی حصہ اشاعت کے لئے جاری کرے یا اس کوظاہر کرے یا اس کی کارروائی کی کوئی ایسی رپورٹ جاری کرے جو مزعومہ طور پر اسمبلی کی کارروائی سمجھی جائے۔ایسی خفیہ کارروائی پر سے پابندی اٹھانے کا اختیار صرف اسمبلی کو ہے اور اس پابندی اٹھانے کاتحرّک قائد ایوان کی طرف سے ہونا ضروری ہے۔ قائد ایوان کی تحریک جب منظور ہوجائے تو بھی کارروائی کی رپورٹ سپیکر کی زیرہدایت سیکرٹری جنرل ہی تیار کرواسکتا ہے۔
قومی اسمبلی کے متعلقہ قواعد درج ذیل ہیں۔
قاعدہ نمبر ۲۰۷: خفیہ اجلاس
کسی کمیٹی کے خفیہ اجلاس منعقد کئے جا سکتے ہیں اگر کمیٹی اس طرح فیصلہ کرے۔
قاعدہ نمبر ۲۰۸: شہادت قلمبند کرنے یا کاغذات،ریکارڈیا دستاویزات طلب کرنے کا اختیار
(۴)کمیٹی کو کسی شخص کی حا ضر ی کی تعمیل کر ا نے اور دستاویزات کو جبراً پیش کرانے کیلئے وہی اختیار حاصل ہوں گے جودیوانی عدالت کو مجموعہ ضابطہ دیوانی (ایکٹ نمبر5 بابت 1908)ء) کے تحت حاصل ہیں۔
قاعدہ نمبر ۲۱۰ : گواہوں کا بیان
(۵) جب کسی گواہ کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے تو کمیٹی کی کارروائی کا لفظ بلفظ ریکارڈ رکھا جائے گا۔
(۶) کمیٹی کے سامنے دی گئی شہادت کمیٹی کے تمام اراکین کوفراہم کی جا سکے گی۔
قاعدہ نمبر۲۷۴: کارروائی کی رپورٹ
سپیکر کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی کی ایک رپورٹ ایسے طریقے سے مرتب کراسکتا ہے جو وہ مناسب سمجھے لیکن کوئی دوسرا شخص کسی خفیہ اجلاس کی کسی کارروائی یا فیصلوں کا کوئی نوٹ یا ریکارڈ، خواہ جزوی یا کلی طور پر نہیں رکھے گایا ایسی کارروائی کی کوئی رپورٹ جاری یا افشاء نہیں کرے گا یا کوئی ایسا بیان نہیں دے گا جس سے ایسی کارروائی مترشح ہو۔
قاعدہ نمبر ۲۷۵: دیگر امور کے بارے میں طریق کار۔ ان قواعد کے تابع‘ کسی خفیہ اجلاس کے سلسلے میں تمام دیگر امور کاطریق کار ایسی ہدایت کے مطابق ہوگا جو اسپیکر جاری کرے گا۔
قاعدہ نمبر۲۷۶: اخفائے راز کی پابندی ختم کرنا
جب یہ خیال کیا جائے کہ کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی کے بارے میں اخفائے راز کی ضرورت باقی نہیں رہی تو اسپیکر کی رضامندی کے تابع،قائد ایوان یا اس بارے میں اس کی جانب سے مجاز کردہ کوئی رُکن تحریک کرسکتاہے کہ وہ آئندہ راز تصورنہ کی جائے۔
(۲) ذیلی قاعدہ(۱)کے تحت کسی تحریک کے منظور کئے جانے پر سیکرٹری جنرل اس خفیہ اجلاس کی کارروائی کی رپورٹ مرتب کروائے گا اور جتنی جلدی ممکن العمل ہو‘ اسے ایسی شکل میں اور ایسے طریقے سے شائع کرائے گاجس کی اسپیکر ہدایت دے۔
قاعدہ نمبر۲۷۷: کارروائی یا فیصلوں کا افشائ
ماسوائے جیسا کہ قاعدہ 276میں قرار دیا گیا ہے‘ کسی شخص کی جانب سے کسی بھی طریقے سے کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی یا فیصلہ کا افشاء اسمبلی کے استحقاق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
قواعد کی اس صورت حال کے پیش نظرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ یا ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘کے زیر عنوان کتاب کی اشاعت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔قانوناً یہ فرضی اور جعلی کارروائی متصور ہو گی اور اسے کسی حوالے کے طور پر ہر گزاستعمال نہیں کیا جاسکتا۔
ہاں البتہ جیسا کہ ہم آگے چل کرواضح کریں گے کہ یہ کتاب ہر منصف مزاج محقق کے لئے اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی رہے گی کہ مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک سیاسی تنظیم نے کس کس حربے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ کتاب جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کی ہے ان کی عملی بددیانتی اور فریب اور جعلسازی کی ایک بدنما مثال کے طور پرتاریخ میں محفوظ رہے گی۔

(۳) دوسری آئینی ترمیم

سال ۱۹۷۴ء میں تاریخ کا ایک انوکھا واقع رونما ہوا یعنی پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ سے احمدیوں کو آئین اور قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قراردے دیا۔ اس غرض کے لئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ ’’خصوصی کمیٹی کی تشکیل اور اس کے دائرہ کار کے بارے میں وزیر قانون نے مندرجہ ذیل تحریکات پیش کیں‘‘۔
رولز آف بزنس کے قاعدہ نمبر۲۰۵کے تحت مندر جہ ذیل تحریک پیش کرنے کا نوٹس دیتا ہوں۔
یہ کہ ’’ایوان ایک ایسی خصوصی کمیٹی تشکیل کرے جو کہ پورے ایوان پرمشتمل ہو، اس کمیٹی میں وہ اشخاص شامل ہوں جوایوان کو خطاب کرنے کا حق رکھتے ہوں۔نیز ایوان کی کارروائی میں حصہ کا استحقاق رکھتے ہوں۔ سپیکر صاحب اس خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ہوں اور یہ کمیٹی مندرجہ ذیل امُور سرانجام دے۔
(1) دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرناجو حضرت محمدﷺ کے آخری نبیؐ ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔
(2)کمیٹی کی جانب سے متعین کردہ میعادکے اندر اراکین سے تجاویز،مشورے،ریزولیشن وصول کرنااوران پر غورکرنا۔
(3) مندرج بالا متنازعہ امور کے بارے میں شہادت لینے کے بعداورضروری دستاویزات پر غور کرنے کے بعدسفارشات پیش کرنا۔
کمیٹی کیلئے’’کورم‘‘چالیس افراد پر مشتمل ہوگا‘ جن میں سے دس کا تعلق ان پارٹیوں سے ہو گا جو کہ قومی اسمبلی کے اندرحکومت کی مخالف ہیںیعنی حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں‘‘۔
30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بھی احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے ایک قرارداد پیش کی‘ جس کا متن درج ذیل ہے۔
’’جناب سپیکر‘‘قومی اسمبلی پاکستان ۔
محترمی !
ہم حسبِ ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کے یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اسکا جھوٹا اعلان‘ بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں، اسلام کے بڑے احکام سے غداری تھی۔
نیز ہرگاہ کے وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اسلام کو جھٹلاناہے۔
نیز ہرگاہ کہ پوری امتِ مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اُسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ نیز ہر گاہ کہ ان کے پیروکار، چاہے اُنہیں کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمانوں کے ساتھ گھل مِل کر اور اسلام کاایک فرقہ ہونے کا ایک بہانہ کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں،جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر اہتمام 6اور10اپریل 1974ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دُنیا بھر کے تمام حصّوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی،متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت،اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے،جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار،انہیں کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو مؤثّر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیرمسلم اقلیت کے طور پر انکے جائز حقوق ومفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں‘‘۔
قومی اسمبلی نے پورے ایوان کو ایک خصوصی کمیٹی کی شکل دے کر جماعت احمدیہ کے نمائندگان کو اسمبلی میں پیش ہونے کا پابند کیا۔ جماعت احمدیہ نے اپنا مؤقف ایک محضرنامہ کی شکل میں پیش کردیا جس میں ایوان کی اس حیثیت اور اختیار کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ کسی کے ایمان کے بارے میں فیصلہ کرے ۔چنانچہ محضرنامہ کے آغازہی میں لکھا کہ:۔
’’پیشتر اس کے کہ ان دونوں قراردادوں میں اُٹھائے جانے والے سوالات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے ہم نہایت ادب سے یہ گزارش کرناضروری سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ اُصولی سوال طے کیا جائے کہ کیا دُنیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہٖ اس بات کی مجاز ہے کہ:۔
اوّل:۔ کسی شخص سے یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسُوب ہو؟
دوم: ۔ یا مذہبی امُور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذہب ہے؟‘‘
جماعت احمدیہ کامؤقف یہ تھا کہ:
’’ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ ونسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منُسوب ہو اور دُنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے ۔ اقوام متحدہ کے دستورالعمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منُسوب ہو‘‘۔
چنانچہ کم وبیش دس صفحات پر پھیلے ہوئے دلائل اور وجوہات بیان کرنے کے بعد محضرنامہ میں اسمبلی سے یہ اپیل کی گئی کہ:۔
’’ پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے معاملات پر غور کرنے اور فیصلہ کرنے سے گریز کرے جن کے متعلق فیصلہ کرنا اور غور کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور پاکستان کے دستور اساسی کے خلاف ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ارشادات نبویؐکے بھی سراسر منافی ہے اور بُہت سی خرابیوں اور فساد کو دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘
اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے امام اور ان کے ساتھ ایک وفد پیش ہواجن پر گیارہ روز تک جرح کے رنگ میں مختلف سوالات کئے جاتے رہے۔ وہ سوالات کیا تھے، ان کے جوابات کس انداز میں دیئے گئے، ان جوابات کی علمی حیثیت اور مقام و مرتبہ اور اثر آفرینی ایک الگ مضمون ہے۔ لیکن بالآخر ۷؍ ستمبر۱۹۷۴ء کو ایک قرارداد منظور کرلی گئی اور اس کی روشنی میں آئین میں ترمیم کر دی گئی جس کی رو سے یہ قرار دیا گیا کہ:۔
جو شخص حضرت محمد ﷺ، جو کہ آخری نبی ہیں ،کے آخری نبی ہونے پرقطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔
ترمیم سے و اضح ہے کہ مجددین، امام مہدیؑ اور عیسیٰ ؑ کے ظہور سے متعلق اُمّت مُسْلمہ کے ۱۴۰۰ سالہ مُسلَّمہ عقیدہ سے انحراف کیا گیا ہے۔ ترمیم میں’’ قطعی اور غیر مشروط‘‘ اور ’’ کسی بھی مفہوم‘‘ کے الفاظ اس بات کی بھی غمازی کر رہے ہیں کہ احمدی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تو ضرورمانتے ہیں۔ ترمیم پر احمدیوں کو تو دکھ ہونا ہی تھا وطن عزیز کے سنجیدہ طبقہ نے بھی اس ترمیم پر دُکھ محسوس کیا۔البتہ تنگ نظر مُلاّؤں نے جشن منائے اور تحریک ختم نبوت نے اس ساری کارروائی کا سہرہ اپنے سر باندھا اور اس بات کو 1953ء سے لیکر 1974ء تک اپنی مساعی کا نتیجہ قرار دے کر فتح و کامرانی کے ڈنکے بجائے ۔ دوسری طرف ایک سیاسی طالع آزما نے، جسے مذہب سے کوئی سروکار نہیں تھا ، اپنے خیال میں ۹۰سالہ مسئلہ حل کر دیا اور بزعم خود ایک تیر سے کئی شکار کئے۔ ترمیم تو منظور ہو گئی، مگر کیسے منظور ہوئی ، اس بارہ میں جناب الطاف حسن قریشی مدیر اُردو ڈائجسٹ نے ’’عوامی حقوق کی جنگ ‘‘ کے زیر عنوان تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔
’’اس امر واقع سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پہلی ترمیم اور دوسری ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی اور دوسری ترمیم میں بالخصوص تمام قوائد وضوابط ایک طرف رکھ دیئے گئے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ترمیم کا تعلق قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے تھا ۔ہم نے اس خطرناک پہلو کی پہلے ہی نشان دہی کی تھی کہ وزیراعظم ایک پتھر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے۔ ایک طرف دستور میں ترمیم کرکے عوامی جذبات پر فتح حاصل کرلی جائے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کو دستوری ترمیم عجلت میں پاس کرنے کا خوگر بنا دیا جائے۔ مسٹر بھٹو نے قادیانی مسئلے کے بارے میں آخری اقدام کے لئے ۷؍ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی مگر ایسے حالات بھی پیدا کئے جن میں آخری وقت تک کوئی بات فیصلہ کُن نظر نہ آتی تھی۔ قومی اسمبلی میں کئی روز سے قادیانی مسئلے کے سلسلے میں خفیہ کارروائی ہو رہی تھی اور قادیانی جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیاتھا۔ یہ بحث ۶؍ستمبر تک چلتی رہی اور کچھ طے نہ پایاکہ دستوری ترمیم کے الفاظ کیا ہوں گے۔ ۷؍ستمبرکو چار بجے شام تک ایک غیر سرکاری مسودے پر مختلف پارلیمانی قائدین کے مابین گفت و شنید ہوتی رہی۔ ہونا یہ چاہئے تھاکہ خفیہ کارروائی کے نتیجہ میں ایک بل تیار ہوتا اور اس پر قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں غور ہوتا اور اس کے بعد اسے بحث و تمحیص کیلئے ایوان میں پیش کر دیا جاتا۔ جناب بھٹو اس پورے طریق کار کو ختم کر دینے کے درپے تھے تاکہ آئندہ کے لئے ایک مثال قائم ہو جائے۔ چنانچہ وہ آخری وقت تک طرح دیتے رہے اور پانچ بجے کے قریب بل پڑھ کر سنایاگیااور ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی رات سینٹ کا اجلاس طلب ہوا اور اس ایوان میں بھی کچھ زیادہ وقت نہ لگا۔ اس رواروی اور گہماگہمی میں کچھ بھی غوروفکر نہ ہوااور دُوسری آئینی ترمیم میں چند بنیادی خامیاں رہ گیئں جن پر اب صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے‘‘۔(اُردو ڈائجسٹ لاہور۔دسمبرء ۱۹۷۵ء صفحہ۵۷)
تحریک ختم نبوت والوں نے جشن تو خوب منایا اور دُنیا کو یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ جماعت احمدیہ عقائد کے اعتبار سے مسلمان نہیں اور اس بات پر گویا قومی اسمبلی نے مہر ثبت کر دی ہے۔ مگر مجلس تحفظ ختمِ نبوت اور مولوی حضرات کو اپنی کامیابی پر دل سے یقین کبھی نہیں آیا اور وہ ہمیشہ ہی اپنے دل کو تسلی دلانے کیلئے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔پہلے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک صاحب، فقیر اﷲوسایاکی مرتبہ ایک کتاب’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ کے نام سے شائع کی گئی ، جسے حضوری باغ روڈ ملتان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا، اور اب اسی کارروائی کو ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘ کے نام سے شائع کر دیا ہے۔

(۴) مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوّت

مولوی اﷲ وسایا کی مرتب کردہ اورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ کتاب کے پایۂ استناد اور پسِ پردہ محرکات کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے حقیقی خدوخال کا علم ضروری ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دراصل مجلس احرار کادوسرا جنم ہے۔ مجلس احرار ایک سیاسی جماعت تھی اور تحریکِ پاکستان کے دوران اس کا گھناؤنا کردار کسی ذی علم پاکستانی سے مخفی نہیں ۔ تحریکِ پاکستان اور جدو جہدِ آزادی کے دوران مجلس احرار نے کانگرس کی بھرپور حمائت کی اور مسلم لیگ، قائدِاعظم اور پاکستان کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا۔ سیاسی میدان میں مسلمانوں کے مفادات کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کے بعد مجلس احرار کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں تھی اورسیاسی طور پر پذیرائی کا کوئی امکان نہیں تھا۔چنانچہ مجلس احرار نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا اورخود کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام دے دیا۔ اس بات کی تاریخی اور دستاویزی شہادت خود ان کی کی شائع کردہ کتاب ’’تحریک ختم نبوت جلد دوم‘‘ کے باب چہارم میں مہیا کردی گئی ہے۔(صفحہ ۳۸۳)
صفحہ ۳۸۷ میں ۴؍ستمبر۱۹۵۴ء کے مرکزی شورٰی کے اجلاس کی کارروائی درج ہے جس میں یہ فقرہ تحریر ہے ۔
’’ہدایات نمبر۱۔مجلس احرار نے جب سیاسیات سے علیحدگی اختیار کی تو مقصد الیکشن سے علیحدگی تھا۔لیکن ملکی اور شہری حقوق سے دستبرداری یا حکومت پر جائز نکتہ چینی سے دستبرداری مراد نہ تھی۔اب مجلس تحفظ ختم نبوت کی بُنیاد یہ ہے کہ یہ جماعت صرف تبلیغی جماعت ہے اس کو دینی باتیں صرف وعظ و پند کے طور پر کہنی ہوں گی۔ تنقید اور نکتہ چینی کا رنگ نہ ہوگا………… ‘‘۔گو یا

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

مندرجہ بالا ہدایت فی الواقعہ ایک ہدایت تھی یا ایک پردہ تھا اور مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کہاں تک اپنی اس ہدایت پر قائم رہ سکی یہ تاریخ کا حصہ ہے اور اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ۱۳ دسمبر ۱۹۵۴ء کو امیر شریعت سید عطاء اﷲشاہ بخاری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر اوّل قرار پائے اور پھر تادم حیات اس کے امیر رہے۔ ان کے بعد دوسرے امیر قاضی حسین احمد شجاع آبادی ہوئے وہ بھی مجلس احرار کے رُکن تھے۔تیسرے امیرمولانا محمد علی جالندھری، چوتھے امیر لال حسین اختر، پانچویں مولانا یوسف بنوری مقرر ہوئے ۔مجلس کی اس ساخت سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار ہی کاتسلسل ہے۔ اور مجلسِ احرار کے بارہ میں منیر انکوائری رپورٹ میں عدالت نے لکھا:
’’احرار کے رویّہ کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان کا طرزِ عمل بطورِ خاص مکروہ اور قابلِ نفرین تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلہ کی توہین کی‘‘۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحہ۲۷۷)
اسی طرح عدالت نے لکھا:۔
’’ مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ احرار پاکستان کے مخالف تھے۔۔۔۔۔۔ اس مقرر نے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لئے پلیدستان کا لفظ استعمال کیا اور سید عطاء اﷲ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا۔ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراًقبول کر لیا ہے۔‘‘ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحہ۲۷۴)
اسی طرح رپورٹ کے صفحہ۱۴۹‘ ۱۵۰ پر لکھا:۔

’’ ان (احراریوں) کے ماضی سے ظاہر ہے کہ وہ تقسیم سے پیشتر کانگرس اور ان دوسری جماعتوں سے مل کر کام کرتے تھے جو قائدِ اعظم کی جدوجہد کے خلاف صف آراء ہو رہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس جماعت نے دوبارہ اب تک پاکستان کے قیام کو دل سے گوارہ نہیں کیا۔‘‘

عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت اور مجلسِ احرار کے تاریخی رشتوں اور پاکستان کے بارہ میں ان کے رویّوں کی مختصر طور پر نشاندہی کے بعد اب ہم اس کتاب کا جائزہ لیتے ہیں جو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی کے طور پر شائع کی گئی ہے۔

(۵) اڑنے سے پیشتربھی ترا رنگ زرد تھا

بات دراصل یہ ہے کہ موصوف اور ان کی قبیل کے دُوسرے حضرات اس بات کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے کہ جماعت احمدیہ کا مؤقف یا جماعت احمدیہ کے ایمان واعتقاد کے بارے میں جماعت احمدیہ کا اپنا بیان اور ان کی اپنی وضاحت عوام الناس تک پہنچے ۔ یہ حضرات سیاق وسباق سے کاٹ کر عبارت پیش کر کے عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں،کبھی پوری تحریر پیش نہیں کرتے اوراس بات کی تاب نہیں لاسکتے کہ کوئی اُن کی پیش کردہ کسی گمراہ کُن عبارت کو اس کے سیاق وسباق میں پیش کر کے ان کے فریب کا طلسم توڑ دے۔ اس لئے ان کی ساری کوشش اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی ہو ، لٹریچر پر پابندی ہو اور ان سے معاشرتی تعلقات پر پابندی ہو تاکہ لوگ نام نہاد علماء کی فریب دہی کی تہہ تک نہ پہنچ جائیں۔ اپنی’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ کی کارروائی میں بھی اﷲوسایا موصوف کو ’’اجمال‘‘ کی ضرورت اس لئے ہی پیش آئی کہ جو وضاحتیں امام جماعت احمدیہ نے پیش کیں وہ عوام کے سامنے نہ آجائیں۔ یہ حضرات عوام کو یہ تأثّر دینا چاہتے ہیں کہ احمدیوں کو پورا موقع دیا گیااور مولوی حضرات نے گویا قادیانیت جیسے کفر کو چاروں شانے چت کیا مگر اس کارروائی کی تفصیلات جو ان کی ’’عظیم فتح‘‘کی آئینہ دار ہیں عوام کے سامنے لانے کو تیار نہیں۔خود ان کی کتاب سے ظاہر ہے کہ ان کی پوری کوشش یہ رہی کہ قومی اسمبلی میں بھی جماعت احمدیہ کا پورا مؤقف سامنے نہ آنے پائے۔ان کی کوششوں کی راہ میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی شخصیت ، ان کا علم اور ان کی فراست ایک نور کی دیوار بن کرحائل ہو گئی تھی جو ان کی پیداکردہ شرارتوں اور ظلمتوں کو پاش پاش کر رہی تھی ۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے امام جماعت احمدیہ کے بیان کو اور اس کی تاثیرات کو ماند کر سکیں۔ان کی اس کوشش کی جھلک اﷲوسایا موصوف کی مرتب کردہ کتاب میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔
اﷲوسایا موصوف نے اپنی گمراہ کن کارروائی کے ذریعہ جو کچھ انصاف پسند قارئین کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی ہے اس کا جائزہ تو ہم آگے چل کر لیں گے۔ فی الحال کچھ مختصر نشاندہی اُن امور کی بھی ہو جائے جو ان کی کتاب میں گویا سطح پر ہی تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جنہیں وہ تہِ دامن چھپا نہیں سکے گو اس کی کوشش بہت کی۔
جو باتیں اس کتاب سے ظاہر ہیں وہ یہ ہیں:۔
(۱) کارروائی کے دوران اسمبلی میں علماء میں سے مفتی محمود صاحب، غلام غوث ہزاروی صاحب،مصطفی الازہری صاحب، ظفراحمد انصاری صاحب اور شاہ احمد نورانی صاحب گویا دیو بندی، بریلوی، ازہری ہر طبقہ فکر کے علماء موجود تھے جو اٹارنی جنرل جناب یحيٰ بختیار کو سوالات تیار کرکے دیتے تھے۔
(۲) ارکانِ اسمبلی کو جماعت احمدیہ کا پیش کردہ محضرنامہ مل چکا تھا اور وہ اس کے مندرجات سے بخوبی واقف تھے۔
(۳) اﷲوسایا کی شائع کردہ کارروائی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ محضرنامے اور بحث کا جو اصل موضوع تھا اس پر علماء کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ گیارہ دنوں کی جرح کے دوران ان علماء حضرات نے کوئی ایک سوال بھی محضرنامے میں اٹھائے گئے علمی سوالات کے بارے میں نہیں کیا۔ کسی ایک حوالے کی نشاندہی بھی علماء نے اٹارنی جنرل کے ذریعہ نہیں کروائی کہ آئمہ سلف کے جو حوالے ختمِ نبوت کے مفہوم کے بارہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے دیئے گئے،ان میں سے کوئی حوالہ غلط ہے۔
ختم نبوت کا عقیدہ بحث میں ایک بنیادی حیثیت رکھتاتھا مگر آیت خاتم النبینﷺ کے سلسلے میں جو حوالے جماعت احمدیہ کے محضرنامے میں دیئے گئے تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی بحث نہیں کی گئی۔ یہ علماء حضرات موجود نہ ہوتے تو یہ وہم گزرسکتا تھا کہ اٹارنی جنرل اس میدان کے شناور نہیں لہٰذا وہ سوالات رہ گئے ہوں۔ مگر یہاں تو نہ صرف یہ کہ علماء موجود تھے بلکہ وہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے واضح طور پر موئے آتش دیدہ کی طرح بل کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ادھرمرزا ناصر احمد ہیں کہ وہ نہایت تحمل اور بردباری سے پورے ٹھہراؤ کے ساتھ حوالوں کی جانچ پڑتال کرکے پوری وضاحتوں کے ساتھ حوالے دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ مولوی حضرات نے آیت خاتم النبینﷺ کے بارے میں مرزا ناصر احمد سے کوئی سوال پوچھے ہوں اور ان کو لاجواب کردیا ہو تو اللہ وسایا اس حصّے کو شائع نہ کریں۔
(۴) اللہ وسایا کی کتاب سے یہ بھی ظاہر ہے کہ وضاحتیں اور تفصیلات غائب کردی گئی ہیں مثلاً:۔
(i) صفحہ۱۳۹ پراٹارنی جنرل کے اس سوال کے جواب میں کہ کلمۃالفصل کے اقتباس کے حوالہ سے حقیقی مسلمان کی تعریف کیا ہے، مرزا ناصر احمد صاحب کا مختصر جواب ایک فقرہ میں درج ہے مگر جو حوالہ وہ دے رہے ہیں وہ غائب ہے۔
(ii) صفحہ۵۸ پر منیر انکوائری رپورٹ میں آئینۂ صداقت کے حوالہ سے، مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کے جواب کا ذکر ملتا ہے اور اس بارہ میں جرح بھی کی گئی ہے مگر مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب ایک فقرہ میں درج کر کے منیر انکوائری رپورٹ میں دیئے گئے جواب کو غائب کر دیا گیا ہے تا کہ زیرِ بحث مسئلہ پر جماعت احمدیہ کا موقف واضح نہ ہو سکے۔
(iii) صفحہ ۲۸۷ پر اٹارنی جنرل کا بیان ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب نے زیرِ اعتراض ایک شعر کی وضاحت اسی نظم کے ایک دوسرے شعر سے کرنے کی کوشش کی، مگر وہ وضاحتی شعر کارروائی اور جرح کے دوران کہیں نظر نہیں آتا۔ آخر کیوں ؟ پھریہ مکمل ریکارڈ یا مکمل کارروائی کیسے ہوئی۔
(iv) اﷲ وسایا کی شائع شدہ کارروائی میں بار بار یہ اعتراض نظر آتا ہے کہ جواب لمبا ہے، مختصر کرنے کی ہدایت کی جائے مگر کوئی ایک لمبا جواب بھی کارروائی میں نظر نہیں آتا سب غائب کر دیئے گئے۔کوئی ایک جواب تو درج ہوتا جس سے پتہ لگ سکتا کہ غیر ضروری طوالت سے کام لیا جا رہا ہے۔
(v) ان مولوی حضرات کا تلملانا کہ جواب مختصر دیا جائے ہم خطبہ سُننے نہیں آئے، وضاحتوں سے روکا جائے، ہاں یا نہ میں جواب دیں، ان کو پابند کیا جائے کہ جواب ہاں یا نہ تک محدود رکھیں۔یہ بیٹھ کر کیوں جواب دے رہے ہیں،یہ بھی کھڑے رہیں اور جواب دیں۔یہ سب باتیں ان مولوی حضرات کی پریشانی اور اضطراب کی آئینہ دار ہیں جو اﷲ وسایا کی کتاب سے جھلکتے ہیں۔
انہی دنوں جناب مفتی محمود صاحب نے کراچی کے ایک استقبالیہ میں قومی اسمبلی کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ:۔

’’ اسمبلی میں قرارداد پیش ہوئی اور اس پر بحث کے لئے پوری اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دے دی گئی۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کی دونوں جماعتیں خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی ان کو اسمبلی میں بلایا جائے اور ان کا موقف سنا جائے تاکہ کل اگر ان کے خلاف فیصلہ کر دیا جائے تو وہ دنیا میں اور بیرونی ممالک میں یہ نہ کہیں کہ ہم کو بلائے بغیر اور موقف سنے بغیر ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ بطور اتمام حجت کے ان کا موقف سننا ہمارے لئے ضروری تھا اس لئے ان کو بلایا گیا ۔ جب انہوں نے اپنے بیانات پڑھے تو ان پر تیرہ دن بحث ہوئی گیارہ دن مرزا ناصر پر اور دو دن صدر الدین پر جرح ہوئی۔

اس میں شبہ نہیں کہ جب انہوں نے اپنا بیان پڑھا تو مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے فائدہ اُٹھایا اور یہ ثابت کیا کہ فلاں فرقے نے فلاں پر کفر کا فتوٰی دیا ہے اور فلاں نے فلاں کی تکفیر کی ہے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو لے کر اسمبلیوں کے ممبران کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ مولویوں کا کام ہی صرف یہی ہے کہ وہ کفر کے فتوے دیتے ہیں یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو کہ صرف قادیانیوں سے متعلق ہو۔یہ انہیں تاثر دیا۔

اس میں شک نہیں کہ ممبران اسمبلی کا ذہن ہمارے موافق نہیں تھا، بلکہ ان سے متاثر ہو چکا تھا تو ہم بڑے پریشان تھے چونکہ ارکان اسمبلی کا ذہن بھی متاثر ہوچکا تھا اور ہمارے ارکان اسمبلی دینی مزاج سے بھی واقف نہ تھے اور خصوصاً جب اسمبلی ہال میں مرزا ناصر آیا تو قمیض پہنے ہوئے اور شلواروشیروانی میں ملبوس بڑی پگڑی طرہ لگائے ہوئے تھا اور سفید داڑھی تھی۔تو ممبران نے دیکھ کر کہاکیا یہ شکل کافر کی ہے؟ اور جب وہ بیان پڑھتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب حضوراکرمﷺ کا نام لیتا تو درود شریف بھی پڑھتاتھا اور تم اسے کافر کہتے ہو،اور دشمن کہتے ہو اور پروپیگنڈے کے لحاظ سے یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے تو جب وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو تمہیں کیا حق ہے کہ آپ ان کو کافر کہیں؟ تو ہم اﷲسے دست بدعا تھے کہ اے مقلب القلوب ان دلوں کو پھیر دے اگر تم نے بھی ہماری امداد نہ فرمائی تو یہ مسئلہ قیامت تک اسی مرحلہ میں رہ جائے گا اور حلنہیں ہو گا حتی کے مَیں اتنا پریشان تھا کہ بعض اوقات مجھے رات کے تین یا چار بجے تک نیند نہیں آتی تھی‘‘۔ (ہفت روزہ لولاک لائلپور۔ ۲۸؍دسمبر۱۹۷۵ء صفحہ ۱۷۔۱۸)

(۵) پانچویں بات جو اس کارروائی سے ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ مولانا مفتی محمود صاحب کی پریشانی کا حل یہ نکالا گیا کہ اصل مسئلہ کو زیر بحث لانے کی بجائے ایسے سوالات چنے گئے جو ہمیشہ سے عامۃ الناس کو اشتعال دلانے کی خاطرمولوی حضرات بیان کیا کرتے ہیں ۔
ایک متفقہ آئین میں ایک نہائت متنازعہ اور ایسی ترمیم زیرِ غور تھی جس کے نتیجہ میں مداخلت فی الدین کے ایسے نازک مسائل زیرِ بحث آنے تھے جس کی نظیر قوموں کی آئینی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔ خیال تو یہ تھا کہ بڑے سنجیدہ ماحول میں گمبھیر مسائل زیرِ بحث آئیں گے، علمی مباحث ہوں گے قرآن و حدیث سے دلائل کا ایک انبار علماء کی طرف سے لگا دیا جائے گا مگر ساری کارروائی میں تیرہ روز کی جرح اور اٹارنی جنرل کی بحث میں جو سوال اٹھائے گئے ، وہ کیا تھے؟ چند پٹے ہوئے اعتراضات یعنی:۔
۱۔احمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔
۲۔احمدی مسلمانوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔
۳۔احمدی مسلمانوں میں رشتہ ناطہ نہیں کرتے۔
۴۔بانی ٔ جماعت احمدیہ کی بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں ۔
۵۔احمدیوں کا تصورِ جہاد عام مسلمانوں سے مختلف ہے۔
۶۔احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
کوئی پوچھے کیا یہ آئینی اہمیت کے سوال تھے؟ یہ سوالات بار بار فریقین کی کتب میں زیرِ بحث نہیں آچکے تھے؟ کیا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اسی غرض کے لئے قائم کی گئی تھی ؟ اگر ایسا تھا تو ان امور کا ذکر وزیر قانون کی تحریک میں کیوں نہیں تھا ؟
اور اگر یہی بنیاد تھی تو ترمیم یوں ہونی چاہئے تھی کہ:۔

’’جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے یا کسی مسلمان کا جنازہ نہ پڑھے یا رشتہ نہ دے یا تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کی مخالفت کر چکا ہو وہ آئین و قانون کی ا غراض کے لئے غیر مسلم ہو گا۔ ‘‘

بہرحال اللہ وسایا کی کتاب جو کہانی سنا رہی ہے اس کے مطابق تو یہی سوالات ایک سٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے ترتیب پا کر اٹارنی جنرل کو مہیا کر دئے گئے۔ اٹارنی جنرل بے چارے کیا کرتے انہی علماء پر بھروسہ کرتے ہوئے وہی سوال پوچھتے رہے ۔ جو لوگ اِن معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں ان کی حقیقت معلوم ہے وہ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اﷲوسایا موصوف نے امام جماعت احمدیہ کے جوابات کو قطع و برید یا بقول ان کے ’’اجمال‘‘ کی آڑ میں کتنا بھی مسخ کر دیا ہو جب سوال سامنے آ گیا تو جواب کے لئے اگر اسمبلی کی کارروائی مہیا نہ بھی ہو تو جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے رجوع کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ۔
ہم اصلاحِ احوال اور ازالۂ اشتعال انگیزی کی خاطر ان میں سے چندسوالات کے جوابات اختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ جوابات کا اکثر حصہ اﷲ وسایا کی کتاب ہی کے حوالہ سے ہے اور کچھ ان کی کتاب میں درج حوالوں کے تعلق میں جماعت احمدیہ کے لٹریچر اور دیگر مستند تاریخی کتب پر مبنی ہے۔مگر ان اعتراضات اور جزئیات کی طرف توجہ کرنے سے پہلے چند بنیادی سوال ہمیں اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کچھ ان کا ذکر ہو جائے۔

(۶) چاراہم سوال

پہلا سوال:

اﷲوسایاصاحب کی مرتبہ کتاب پارلیمنٹ میں قادیانی شکست میں صفحہ۳۳پر ۵؍اگست ۱۹۷۴ء کی کارروائی سے آغاز کیا گیاہے اور اس کے مطابق حضرت امام جماعت پر اس دن جرح کا آغاز ہوا ۔ سب جانتے ہیں کہ گواہ پر جرح اسکے بیان پر کی جاتی ہے۔ جرح سے پہلے حضرت امام جماعت احمدیہ نے کوئی بیان بھی دیا ہو گا اٹارنی جنر ل کے بیان اور خود موصوف کی کتاب سے ظاہر ہے کہ تحریری بیان بھی داخل کیا گیا اوراسے حلف لینے کے بعد پڑھ کر سنایا بھی گیا۔ اس بیان کا ایک دوسری جگہ اٹارنی جنرل نے محضر نامے کے طور پر بھی ذکر کیاہے۔
قانونِ شہادت کے مطابق گواہ کا بنیادی اظہار اور جرح دونوں مل کر گواہ کی شہادت کہلاتے ہیں، لہٰذا اﷲوسایا موصوف سے ہمارا پہلا سوال تو یہ ہے کہ جرح کی کارروائی تحریر کرنے سے پہلے انہوں نے وہ ابتدائی، بنیادی، مفصل بیان کیوں درج نہ کیا؟ موصوف کے وہ بزرگان اور قائدین جنہوں نے اتنی محنت سے بقول اﷲوسایاصاحب زبانی اور تحریری یادداشتیں تیار کررکھی تھیں، کیا ان کے پاس یہ محضرنامہ موجود نہیں تھا؟ اس محضرنامے کی نقول تو تمام ممبران اسمبلی کو مہیا کی گئی تھیں ۔ اس کی تیاری کے بارے میں تو وہ مشکلات اسمبلی کی طرف سے درپیش نہیں تھیں جن کا اﷲوسایاکی شائع کردہ کارروائی کے دوران جگہ جگہ ذکر ملتاہے۔ پوری کارروائی میں کسی ایک ممبر نے بھی یہ سوال نہیں اُٹھایاکہ انہیں جماعت احمدیہ کے محضرنامے کی نقل نہیں ملی۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ اﷲوسایا نے اس بنیادی مفصّل بیان کو چھوڑ کر جرح سے اپنی کتاب کا آغاز کیا؟ کیا ان کے بزرگان نے یہ محضرنامہ ان سے چھپا لیا اور ان کو اسکی ہوا تک نہیں لگنے دی۔ یا پھر یہ کارستانی اﷲوسایا کی اپنی ہے کہ وہ اس کو گول کر گئے اور خود یوں نقاب پوش ہوگئے کہ گویا یہ بھی ’’اجمال‘‘ ہی کا حصہ ہے۔ پورے بیان کو حذف کر دینا تو اجمال نہیں ہوتا۔ تو پھر آخرکیوں یہ کارروائی کی گئی؟
کیا صرف اس لئے کہ کہیں جماعت احمدیہ کا مؤقف ان کے اپنے الفاظ میں، عوام کے پاس نہ پہنچے اور کوئی بالغ نظر منصف مزاج قاری ان سے یہ نہ پوچھ بیٹھے کہ کارروائی کیا تھی اور نتیجہ کیا نکلا؟
یا اس لئے کہ اپنے بیان میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے واضح طور پر ایسے سوال اٹھائے تھے اور نمایاں طور پر تنقیحات وضع کرکے اسمبلی کو توجہ دلائی تھی کہ کوئی بھی فیصلہ ان تنقیحات کے جواب کے بغیرممکن نہیں۔ یا اس لئے کہ اﷲوسایاصاحب میں قوم کو یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کہ ان حضرات کے پاس ان تنقیحات کا کوئی جواب نہیں اورانہوں نے ان تنقیحات کو نظر انداز کر کے خدا اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی ہے۔

دوسرا سوال:

خصوصی کمیٹی کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:۔

’’دینِ اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پربحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘‘

عقیدۂِ ختمِ نبوت اورشانِ خاتم النبیینﷺ کے بارہ میں امام جماعت احمدیہ نے اپنے مفصّل اور مدلّل تحریری بیان میں کہا تھا کہ:۔

’’جماعت احمدیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ اصولی اور بنیادی طور پر ختمِ نبوت کی ان تمام تفاسیر کو بدل و جان تسلیم کرتی ہے جن سے آنحضرت ﷺکی ارفع اور منفرد شان دوبالا ہوتی ہے اورجو بزرگانِ اُمّت نے گزشتہ تیرہ صدیوںمیں وقتاًفوقتاًبیان فرمائیں‘‘۔

اور اسکے ساتھ ضمیمہ کے طور پر تیرہ صدیوں کے بزرگانِ امت کے اسمائِ گرامی اور حوالہ جات بھی پیش کئے تھے۔
اﷲوسایا صاحب سے ہمارادوسرا سوال یہ ہے کہ موصوف کی شائع کردہ کارروائی میں کوئی ایک سوال بھی ایسا کیوں نہیں جس میں اس بارے میں جرح کی گئی ہو۔ اگر اس بیان پر جرح نہیں کی گئی تو قانون کے مطابق سمجھا جائے گا کہ بیان تسلیم کر لیا گیا ہے۔
کیا اس لئے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ حوالہ جات جن بزرگان اور صلحائے امت سے منسوب تھے وہ تمام نام اتنے معزز اور محترم ہیں کہ ان کے فرمودات رد نہیں کئے جا سکتے۔ اور مولوی حضرات میں سے کسی کی یہ مجال نہیں کہ ان بزرگوں کی حیثیت متعین کرکے انہیں خارج از دائرہ اسلام قرار دے۔

تیسراسوال:

موصوف کی کتاب’’ تحریکِ ختمِ نبوت جلد دوئم‘‘ کے باب چہارم میں جو مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں درج کی گئی ہیں اس میں۱۹۵۶ء کی مرکزی مجلس کے اجلاس مورخہ۱۲؍فروری کی کارروائی میں جو قرارداد منظورکی گئی اس میں مطالبہ یہ تھاکہ۔

’’یہ اجلاس مجلس دستور ساز سے پر زور مطالبہ کرتاہے کہ وہ اپنے اس اعلان کی روشنی میں مسلمان کی تعریف کرے۔‘‘

اﷲوسایا صاحب سے ہمارا تیسرا سوال یہ ہے کہ۳۰؍جون ۱۹۷۴ء کو جو قرارداد حزب اختلاف کی طرف سے ۳۷؍افراد کے دستخطوں سے پیش کی گئی اس میں آئین میں مسلمان کی تعریف کرنے کا مطالبہ کیوں ترک کر دیا گیا؟
کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس بارے میں امام جماعت احمدیہ نے جو سات عدد تنقیحات وضع فرما دی تھیں ان کی روشنی میں ایسا کرنا ناممکن تھا اورانہوں نے آپ کے لئے کوئی راہِ فرار نہیں چھوڑی تھی۔ اوریہ ہو نہیں سکتاتھا کہ ان سوالات پر کوئی غور کرے اور مسلمان کی تعریف کے بارہ میں وہ رویہ نہ اپنائے جو جماعت احمدیہ نے تحریری بیان میں اختیار کیا،جو یہ تھا:۔
’’دنیا بھرمیں یہ ایک مسلّمہ امر ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی نوع معین کرنے سے قبل اس نوع کی جامع و مانع تعریف کردی جاتی ہے جو ایک کسوٹی کا کام دیتی ہے اور جب تک وہ تعریف قائم رہے اِس بات کا فیصلہ آسان ہو جاتاہے کہ کوئی فرد یا گروہ اس نوع میں داخل شمار کیا جاسکتاہے یا نہیں ۔ اس لحاظ سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر مزید غور سے قبل مسلمان کی ایک جامع ومانع متّفق علیہ تعریف کی جائے جس پر نہ صرف مسلمانوں کے تمام فرقے متّفق ہوں بلکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کا اس تعریف پر اتفاق ہو ۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل تنقیحات پر غور کرنا ضروری ہوگا۔
(الف)۔۔۔کیا کتاب اﷲ یا آنحضرتﷺ سے مسلمان کی کوئی تعریف ثابت ہے جس کا اطلاق خود آنحضرتؐ کے زمانے میں بِلا استثناء کیا گیا ہو؟ اگر ہے تو وہ تعریف کیا ہے؟
(ب)۔۔۔ کیا اس تعریف کو چھوڑ کر جو کتاب اﷲاور آنحضرتؐ نے فرمائی ہو اور خود آنحضورؐ کے زمانہ ٔمبارک میں اس کااطلاق ثابت ہو، کسی زمانہ میں بھی کوئی اور تعریف کرنا کسی کے لئے جائز قرار دیا جاسکتاہے؟
(ج)۔۔۔ مذکورہ بالا تعریف کے علاوہ مختلف زمانوں میں مختلف علماء یا فرقوں کی طرف سے اگر مسلمان کی کچھ دوسری تعریفات کی گئی ہیں تو وہ کونسی ہیں؟ اوراوّل الذکرشق میں بیان کردہ تعریف کے مقابل پر ان کی کیاشرعی حیثیت ہو گی؟
(د)۔۔۔ حضرت ابو بکر صّدیق ؓ کے زمانہ میں فتنۂ ارتداد کے وقت کیا حضرت ابوبکر صّدیق ؓ یا آپ ؐ کے صحابہؓ نے یہ ضرورت محسوس فرمائی کہ آنحضورؐ کے زمانے میں رائج شدہ تعریف میں کوئی ترمیم کریں۔
(ر)۔۔۔ کیا زمانہ ٔ نبوی ؐ یا زمانہ ٔ خلافت راشدہ میں کوئی ایسی مثال نظر آتی ہے کہ کلمہ لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اﷲ کے اقرار کے اور دیگر چار ارکانِ اسلام یعنی نماز ‘ زکوٰۃ ‘ روزہ اور حج پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو؟
(س)۔۔۔ اگر اس بات کی اجازت ہے کہ پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو قرآن کریم کی بعض آیات کی ایسی تشریح کرنے کی وجہ سے جو بعض دیگر فرقوں کے علماء کو قابلِ قبول نہ ہو، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے یا ایسا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے جو بعض دیگر فرقوں کے نزدیک اسلام کے منافی ہے تو ایسی تشریحات اور عقائدکی تعیین بھی ضروری ہوگی تاکہ مسلمان کی مثبت تعریف میں یہ شق داخل کر دی جائے کہ پانچ ارکانِ اسلام کے باوجود اگر کسی فرقہ کے عقائد میں یہ یہ اُمور داخل ہوں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔‘‘
اس کے بعدمحضر نامہ میں پر زور اپیل کی گئی تھی کہ:۔
’’ اگر حقیقتاً عقل اور انصاف کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام میں جماعت احمدیہ کی حیثیت پر غور فرمانا مقصود ہے یا اسلام میں آیت خاتم النبییّن کی کسی تشریح کے قائل ہونے والے کسی فرد یا فرقہ کی حیثیت کا تعین کرنا مقصود ہے تو پھر ایسا پیمانہ تجویزکیا جائے جس میں ہر منافیٔ اسلام عقیدہ رکھنے والے کے کفر کو ماپا جاسکتاہو اور اس پیمانہ میں جماعت احمدیہ کے لئے بہرحال کوئی گنجائش نہیں ‘‘۔
اورمزید یہ کہا گیا تھا کہ:۔
’’جماعت احمدیہ کے نزدیک مسلمان کی صرف وہی تعریف قابل قبول اور قابل عمل ہو سکتی ہے جو قرآن عظیم سے قطعی طور پر ثابت ہو اور آنحضرت ﷺ سے قطعی طور پر مروی ہو اور آنحضرتﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں اُس پر عمل ثابت ہو ۔ اس اصل سے ہٹ کر مسلمان کی تعریف کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ رخنوں اور خرا بیوں سے مبرانہیں ہوگی بالخصوص بعد کے زمانو ں (جبکہ اسلام بٹتے بٹتے بہتّرفرقوں میں تقسیم ہو گیا ) میں کی جانے والی تمام تعریفیں اس لئے بھی ردّ کرنے کے قابل ہیں کہ اُن میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہے اور بیک وقت اُن سب کو قبول کرنا ممکن نہیں اور کسی ایک کو اختیار کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ اس طرح ایسا شخص دیگر تعریفوں کی رُو سے غیر مسلم قراردیا جائے گا اور اس دلدل سے نکلنا کسی صورت میں ممکن نہیں رہے گا ۔ ‘‘
کیا یہ درست نہیں کہ ان تنقیحات اور بنیادی سوالات کا کوئی جواب بَن نہیں پڑا تو ’’مسلمان‘‘ کی تعریف کے مطالبے سے ہی دستبردار ہو گئے؟

چوتھا سوال:

ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ اﷲوسایا صاحب کی کتاب میں مسلمان کی تعریف کے بارے میں ان تنقیحات پر کوئی بحث یا جرح کیوں نہیں؟ کیاان پر جرح کی ہی نہیں گئی؟ اگر جرح کی گئی تو اسے شائع کیوں نہیں کیا گیا؟
یہ ہو نہیں سکتا کہ ان پر جرح کر کے ،بقول اﷲوسایا صاحب، مرزا ناصر احمد صاحب کو’’چاروں شانے چت‘‘ گرایا ہو اوراﷲ وسایا صاحب یہ کارنامہ عوام کے سامنے نہ لائیں۔
انہوں نے راہِ فرار اختیار کر کے خدا اور اس کے رسول کے ارشادات سے رو گردانی کی ہے۔
اس سوال پر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا متعلقہ حصہ اہلِ نظر کے لئے ایک پڑھنے کی چیز ہے۔

(۷) اٹارنی جنرل کی مشکل ’’ کفر کم تر از کفر‘‘

مولوی حضرات ہمیشہ یہ کہہ کر مسلمانوں کو اشتعال دلاتے ہیں کہ احمدی مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام اور اُمّتِ مسلمہ سے خارج تصور کرتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کا مؤقف بڑا واضح ہے اور اُمّت کے سابقہ بزرگوں کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔اس موضوع پر ساری کارروائی میں سے تفصیلات کو حذف کر دینا ایک بہت بڑی بددیانتی ہے۔ مگر جوکارروائی جناب اللہ وسایا نے شائع کی اس کے مطالعہ سے بھی احمدیوں کا مؤقف بڑی آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ امام جماعت کا مؤقف کیا تھا ، اٹارنی جنرل کیا کہہ رہے تھے،امام جماعت کے مؤقف کی بنیاد کیا تھی ،یہ سب اس کارروائی سے کافی حد تک واضح ہو جاتاہے اور یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ اللہ وسایا کو اس ’اجمال‘ اور قطع و برید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
جرح کے بعد اپنی بحث کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا:۔
’’جناب والا!اب میں دوسرے موضوع کی طرف آتاہوں جو زیادہ اہم ہے میں نکات ۴،۵ کو اکٹھا لوں گا۔ یہ نکات یہ ہیں ’’مرزا صاحب کے نبوت کے دعویٰ کو نہ ماننے کے اثرات اور اِس دعویٰ کے مسلمانوں پر اثرات اور ان کا ردعمل‘‘۔ اس موضوع پر معروضات پیش کرنے سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مجھے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ (صفحہ۳۰۵)
حضرت امام جماعت احمدیہ کے بارے میں اٹارنی جنرل نے کہا:۔
’’ مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیرالدین محمود احمدکی جگہ بطور خلیفہ سوئم جماعت احمدیہ،۱۹۶۵ء میں عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی(ربوہ)گروپ کے سربراہ ہیں۔ وہ ۱۹۰۹ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مؤثر شخصیت کے مالک ہیں۔ ایم۔اے۔(آکسفورڈ) عربی، فارسی اور اُردو کے بہت بڑے عالم ہیں۔دینی معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔‘‘ (صفحہ۳۰۶)
آگے چل کر اسی تسلسل میں کہا:۔
’’جناب والا! جب یہ مقدس ہستی کمیٹی کے رُوبرو پیش ہوئی تو سوال پیدا ہوا، بہرحال میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گاکہ جو مرزا صاحب کی نبوت کو نہیں مانتے، ان کے بارے میں انہوں نے کیاکہا ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے لوگ کافرہیں۔ اس کامطلب کیا ہے؟اس (مرزاناصر احمد) نے جواب دیا’’کافر‘‘ سے مراد ایسا شخص نہیں جسے منحرف یامرتد قراردیاجائے یاایسا تارک الدین شخص جسے اسلام کے دائرے سے خارج کرناپڑے،بلکہ ایسے کافر سے مراد ایک قسم کاگنہگار ہے یا ثانوی درجے کا کافر ۔وہ پیغمبر اسلامﷺپرتو ایمان رکھتاہے اس لئے مرزا ناصراحمد کے بقول ایسا شخص(جومرزاغلام احمد کی نبوت کا انکارکرتاہے)ملت محمدّیہ کے اندر تو رہے گا مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔ میں نے یہ بات سمجھنے کی انتہائی کوشش کی، جب ایک شخص کافرہوجاتاہے تووہ کیسے ’’دائرہ اسلام سے خارج ہے مگرملت محمدّیہ سے باہرنہیں‘‘ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کئی روز تک ہم اس مشکل میں مبتلا رہے۔‘‘(صفحہ۳۰۶۔۳۰۷)
فاضل اٹارنی جنرل کوجس دشواری کا سامنا تھا اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ اسمبلی کی کارروائی کی، جو صورت بھی شائع کی گئی ہے، کو پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ اٹارنی جنرل صاحب دو تین دن تک بار بار گھما پھراکر ہر پہلو سے ،ہر انداز سے
امام جماعت احمدیہ سے یہ کہلوانے کی کوشش کرتے رہے کہ جملہ مسلمان مطلقاً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اٹارنی جنرل کی اس کوشش کو ہرلحاظ سے ناکام کیا ۔یہ وہ مشکل ہے جس کا سامنا اٹارنی جنرل کو کرنا پڑا۔ ملاحظہ ہو:۔
’’ اٹارنی جنرل: قرآن وحدیث کی رُو سے کافر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
مرزاناصر: قرآن وحدیث میں دائرہ اسلام کا محاورہ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل: مسلمان رہتا ہے یا نہیں۔اگر مسلمان نہیں رہتا تو وہ اسلام کے دائرہ میں نہ رہا۔ایک حدیث میں ہے اور اگر حدیث کونہیں مانتے تو آپ کے والد نے کہا ہے اسے تو مان لیں۔یہ میرے ہاتھ میں ان کی کتاب ہے آپ کے والد کی، وہ کہتے ہیں کہ جو مرزا کونہیں مانتے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں؟
مرزاناصر: کفر کفر میں فرق ہے۔ایک کفر وہ ہے جو ملّت سے خارج کردیتا ہے ۔ایک وہ کفرہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جو کلمہ کاانکار کرے وہ ملت سے خارج ہوتاہے۔
اٹارنی جنرل: اورجو مرزا کی نبوت کاانکار کرتا ہے، وہ ملّت سے خارج نہیں ہوتا۔
مرزاناصر: نہیں ہوتا۔
اٹارنی جنرل: ایک آپ کی یہ شہادت ہے، ایک آپ کے والد کی منیر کمیشن میں شہادت تھی۔دونوں میں فرق ہے تو کون صحیح ہوگا؟
مرزاناصر: منیر کمیشن میں میرے والد نے کہا مگر اورجگہ بھی توکہا، سب کو دیکھناہے۔
اٹارنی جنرل: ایک عدالت کے سامنے جو ریکارڈ، شہادتیں اور دلائل ہوتے ہیں؟
مرزاناصر: مجھے نہیں معلوم کہ میرے باپ نے کیا کہا، مگر میں ملت سے خارج نہیں مانتا۔
اٹارنی جنرل: اور جو مرزا کو نہیں مانتا ؟
مرزاناصر: وہ قابل مؤاخذہ ۔
اٹارنی جنرل: ملت اسلامیہ سے نکل گیا؟
مرزاناصر: سیاسی معنوں میں نہیں نکلا۔
اٹارنی جنرل: حقیقی معنوں میں نکل گیا؟
مرزاناصر: جی۔
اٹارنی جنرل: صرف جی نہیں، بلکہ صاف فرمائیں کہ نکل گیا؟
مرزاناصر: کہہ تو دیاہے کہ ایک معنی میں کافر ہے،دوسرے میں مسلمان‘‘۔ (صفحہ۵۶۔۵۷)
’’اٹارنی جنرل: آپ کے باپ کی کتاب ہے’’آئینہ صداقت‘‘ صفحہ۳۵ہے۔
مسڑ چیئرمین: کیا کہا اس کتاب میں۔
اٹارنی جنرل: کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے
مسیح موعود کا نام نہ سُنا ہو، وہ بھی کافراوردائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
مرزاناصر: کفر کے دو قسم بتائے ہیں، ایک یہ بھی ہے۔یہی بات انہوں نے منیر کمیشن میں کہی تھی کہ وہ سیاسی کافر ہوں گے‘‘۔ )صفحہ۵۸)
آگے چل کر اٹارنی جنرل پھر اسی موضوع کی طرف لوٹتے ہیں:
’’اٹارنی جنرل: جو شخص ملت اسلامیہ میں ہے آپ کے اعتقاد کے مطابق وہ دائرہ اسلام میں بھی ہے ۔لیکن جو دائرہ اسلام میں ہے، وہ ہرشخص ملت اسلامیہ میں نہیں،گویا ایک شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر اس کے باوجود وہ مسلمان ہے؟
مرزاناصر : اس کے باوجود مسلمان ہے۔
اٹارنی جنرل: گویا کافر بھی ہے اور مسلمان بھی؟
مرزاناصر:بعض جہت سے کافر اور بعض سے مسلمان ‘‘۔(صفحہ۶۹)
پھر اسی مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے اٹارنی جنرل کہتے ہیں۔
’’اٹارنی جنرل: رابطہ عالم اسلامی میں دُنیا بھر کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے آپ کو کافر کہا۔
مرزاناصر: وہ تو نامزد لوگ ہوں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اقوام متحدہ یا کوئی دُنیا کامنتخب ادارہ بھی ہمارے کُفر پر متفق ہوجائے توپھر بھی میں سمجھوں گاکہ اس معاملہ کو خدا پر چھوڑتے ہیں۔
اٹارنی جنرل: دیکھئے اقوام متحدہ یا کسی اور کے فیصلہ پر تو صاد کرکے صرف خدا کی عدالت میں اپیل کا کہتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا ادارہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی یا رابطہ، فیصلہ کریں تو آپ اسے صاد نہیں کرتے؟
مرزاناصر: میں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے فیصلہ پر بھی معاملہ خداپر چھوڑوں گا، یہ کہ اسے بھی صحیح نہیں سمجھتا۔
اٹارنی جنرل: پھر اگر آپ پوری دُنیا کے فیصلہ کو بھی نہیں مانتے تو ان کے فیصلہ کرنے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ آپ پوری دُنیا کے کسی بھی متفقہ فیصلہ کو، جو آپ کے خلاف ہو، نہیں مانتے۔ پھر تو بات ہی ختم ہو گئی۔ آپ صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری دُنیا سے الگ ہیں ان معنوں میں ؟
مرزاناصر: میرا دل نہیں مانتا تو وہ میں کیسے کروں گا‘‘۔(صفحہ۷۶)
یہ اقتباسات جو جناب اﷲ وسایا کی شائع شدہ کارروائی سے نقل کئے گئے ہیں ان کے بارے میں ہم ہرگز تسلیم نہیں کر رہے کہ یہ مکالمہ اس طرح سے ہوا۔ اس کارروائی میں خود ایسے اشارے موجود ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ضروری تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے، مثلاً منیر انکوائری کمیشن میں اِسی مسئلہ پر دیئے گئے جواب کا ذکر ہے مگر وہ جواب کارروائی میں نہیں۔ امام جماعت کے جواب ایک ایک فقرے میں ظاہر کئے گئے ہیں،کارروائی کے کئی حصّے ایسے بھی ہیں جہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ کارروائی میں سے جواب کا اصل اور مؤثر حصہ حذف کردیا گیا ہے۔ مگر ایک بات بالکل واضح ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب سارا زور اِس بات پر لگا رہے ہیں اور اپنی ساری صلاحیتیں امام جماعت سے یہ کہلوانے کی خاطر بروئے کار لارہے ہیں کہ سارے مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور امام جماعت احمدیہ کسی صورت بھی یہ نہیں کہہ رہے۔
اٹارنی جنرل بار بار اسی مضمون کو چھیڑتے ہیں اور اس بات پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کوئی شخص گویا کافر بھی ہے مسلمان بھی ہے اور مرزا ناصراحمد پھر یہی فرماتے ہیں کہ بعض جہات سے کافر اور بعض سے مسلمان۔اور مرزا ناصر احمد صاحب بار بار دائرہ اسلام اور ملتِ اسلامیہ میں سے خارج ہونے کے فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔
منیر انکوائری کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں آئینۂ صداقت صفحہ ۳۵کے حوالہ سے کوئی سوال پوچھا گیا، مگر اس سوال اور جواب کی تفصیل پر اﷲوسایا صاحب نے ’’اجمال‘‘ کا پردہ ڈال دیا ہے۔ ہم وہ تفصیل منیر انکوائری کمیشن کے حوالہ سے پیش کر رہے ہیں۔ منیر انکوائری میں جماعت احمدیہ کے خلیفۂِ ثانی حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب سے پوچھا گیا ۔

’’سوال:۔ کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب ’’آئینہ صداقت‘‘ کے پہلے باب میں صفحہ ۳۵پر ظاہر کیا تھا۔ یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کانام بھی نہ سُنا ہو وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج؟

جواب:۔ یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتاہوں۔ پس جب میں ’’کافر‘‘ کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ ۲۴۰پرکیا گیا ہے۔ جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک دُوْنَ الْاِیمان اور دوسرے فَوقَ الْاِیمان۔ دُوْنَ الْاِیمانمیں وہ مسلمان شامل ہیں‘جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔ فَوقَ الْاِیمان میں ایسے مسلمانوں کاذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو دُوْنَ الْاِیمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔ مشکٰوۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتااور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔(تحقیقاتی عدالت میں جماعت احمدیہ کا بیان)

امام راغب کے جس قول کا حوالہ دیاجارہا ہے وہ یہ ہے۔
وَالاِْسلامُ فی الشَرعِ علیٰ ضَرْبَیْنِ:۔ احَدُھُما دُونَِ الایمانِ وَھُوَ الاعِتَرافُ باللسانِ و بہٖ یُحقَنُ الدّمُ حَصَلَ معہ الاِعتِقَادُ اَولم یُحصل وایَّاہُ قُصِدَ بقولہٖ قالتِ الاعرابُ آمَنَّاقُلْ لَم تُوْمِنُوا وَلٰکِنْ قُولوا اَسْلَمْنَا ۔ والثانی فَوقَ الا یمانِ وَھو اَنْ یَکُون مَعَ الاِعتَرَافِ اعتِقَاد بِالقَلب ووفائ’‘ بالفعل۔ واستِسْلاَم ﷲِ فِیْ جَمیعِ ما قَضَیٰ وَقدّرَ کَمَاذُکِرَ عَنْ ابراھیمَ علیہ السلامُ فی قولِہٖ اذ قَالَ لَہ‘رَبُّہ‘ اَسلِمْ قَالَ اَسْلمتُ لرَبِّ الْعَالَمِین ۔(المفردات فی غریب القرآن از علامہ راغب اصفہانی، مطبوعہ 1961 اصح المطابع، آرام باغ فریئر روڈ ، کراچی۔ صفحہ ۲۴۰)
یعنی ایک زبانی اقرار کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اصطلاحاً دائرہ اسلام میں آجاتا ہے اور اس کے بارے میں امام راغب یہ کہتے ہیں’’ کہ اس اقرارِزبانی کے ساتھ اعتقاد شامل ہو یا نہ ہو ایسا اقرار زبانی کرنے والا’’دُوْنَ الْاِیمان‘‘ دائرہ اسلام میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے ‘‘۔اور اس بات کی تائید میں امام راغب سورۃالحجرات کی قرآنی آیت لائے ہیں اپنی طرف سے بات نہیں کی۔سورۃالحجرات کی آیت کا ترجمہ یوں ہے۔’’بدُو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو لیکن یہ کہوکہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔‘‘ اس کو ’’دُوْنَ الْاِیمان ‘‘ اسلام کہا گیا۔ یعنی دائرہ اسلام میں تو ہے مگر اسلام کی حقیقی معرفت کو نہیں پہنچا۔اور جسے امام راغب ’’فَوقَ الْاِیمَان ‘‘ کہتے ہیں۔جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اقرارِزبانی کے علاوہ قلبی اعتقاد اور فعلی وفامکمل طور پر خداکے قضاوقدر میں خود سپردگی کا نام ہے۔یہ اصل اسلام ہے جس کو ’’فَوقَ الْاِیمَان ‘‘ کہااور یہ بات بھی امام راغب نے خود نہیں کہہ دی اس کے لئے بھی حضرت ابراھیم ؑ کے قول کی مثال قرآن شریف سے دی اور پھر متعدد آیات قرآن شریف کی اس تائید میں لائے کہ ’’فَوقَ الْاِیمان ‘‘ والے مسلمان تو وہ ہیں جو شیطان کے چنگل سے آزادہوں،مکمل طور پر راضی بہ رضا ہوں اور یہ ایک ایسی واضح اور بدیہی بات ہے کہ اس کو اصطلاحات کی باریکیوں سے الگ کر کے بھی باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ہر مسلمان اپنے ادّعااور خواہش کے باوجود حقیقی اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتا۔قدم لڑکھڑاتے بھی ہیں اور سنبھل بھی جاتے ہیں۔گناہ سرزد بھی ہوجاتے ہیں۔عرقِ انفعال اور ندامت بھی دامنگیر ہوتی ہے۔اسلام کے حقیقی تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا ہوتا لیکن یہ تو نہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ۔ہر چند کہ شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے۔ ایسے افعال کر بیٹھتا ہے جو کفر کے مترادف ہوتے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔ یہ دائرہ اسلام دُوْنَ الْاِیمان ہے۔ ایسا شخص مسلمان ہے ،امت کافرد ہے۔گناہگار ہے، ایسے افعال کر بیٹھتا ہے جن سے شرک یا کفر لازم آجاتا ہے، غیر اﷲکے آگے حقیقی یا معنوی رنگ میں سجدہ ریز بھی ہوجاتا ہے، قبروں پر ماتھا جاٹیکتاہے مگر خود کو مسلمان کہتا ہے ۔دائرہ اسلام میں تو ہے مگر دُونَ الْاِیمان ہے، حقیقی اسلام تو نہیں۔فَوقَ الْاِیمان کی کیفیات کا تو کیا کہنا۔ یہ ایسی بات تو نہیں جو سمجھ میں نہ آتی ہو۔ ہر مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ وہ مسلمان تو ہے لیکن اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پارہا۔ مگر ایسا شخص دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں۔ فقہاء کی اصطلاح میں دُونَ الْاِیمان اسلام ہے۔
لہٰذا احمدیہ لڑیچر میں جہاں بھی مسلمانوں کو کافر کہا گیا وہ اس’’ کفر کم تر ازکفر ‘‘کے معنوں میں کہاگیا اور اس بات کو امام جماعت احمدیہ نے تفصیل سے بیان کیا اور جناب اﷲوسایا ان تفصیلات کو حذف کرکے’’ اجمال‘‘ کی نقاب اوڑھے ہوئے یہ اشتعال انگیزی کرنا چاہتے ہیں کہ احمدی تمام مسلمانوں کومطلقاً کافر سمجھتے ہیں۔ مگر اہل انصاف کیلئے یہ نقطۂ نظر سمجھنے میں کوئی دقّت نہیں کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہو اور پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان کا زبانی اقرار کرتا ہو وہ مسلمان ہی رہتا ہے ،اُمت مسلمہ سے خارج نہیں ہوتا۔ جو شخص بھی دیانتداری سے اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں، گناہوں، نافرمانیوں پر نظر ڈالے گا وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ خدا کے رسولؐ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا کہ ان تمام کوتاہیوں کے باوجود اس کے مسلمان ہونے کو ایسا تسلیم کیا کہ خدا اور اس کے رسولؐ کا ذمّہ قرار دے دیا۔
یہی بات جب منیر انکوائری میں امام راغبؔ کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے کہی یا قومی اسمبلی میں جماعت کے خلیفۂ ثالث نے کہی تو اُن لوگوں کی سمجھ میں نہ آئی ہو جو سیاست کے نام پر ووٹ لے کر آئے تھے، جنہیں ایمانیات پر رائے دینے کا بھی حق نہ تھامگر ان چند حضرات کی سمجھ میں تو ضرورآجانی چاہیے تھی جن کے مدارس میں انہی حوالوں سے ایمان اور اسلام کی بحثیں پڑھائی جاتی ہیں۔ جماعت احمدیہ کا نقطۂ نظر چونکہ ان وضاحتوں کے ساتھ عوام کو باآسانی سمجھ آسکتا تھا۔ ان حضرات پر یہی دُھن سوار تھی کہ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہ‘‘ میں جواب دو ۔وضاحت نہ کرو۔ مضمون کو کھول کر نہ بیان کرو۔آخر کیا مقصد تھا ؟کہ کہیں عوام اصل بات کو سمجھ نہ لیں۔ اور جب امام جماعت احمدیہ، اس مردِ خدانے اس شور وغوغا کے باوجود مسئلہ کھول کر بیان کر دیا تو اٹارنی جنرل صاحب کہتے ہیں کہ:۔

’’ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔ میں نے یہ سمجھنے کی انتہائی کوشش کی کہ جب ایک شخص کافر ہوجاتا ہے تو وہ شخص کیسے دائرۂ اسلام سے خارج ہے مگر ملتِ محمدیہ سے نہیں۔‘‘(صفحہ۳۰۷)

مگر جب ان فتاویٰ ٔ کفر کا سامنا کرنا پڑا جو سب فرقے ایک دوسرے پر لگا چکے ہیں تواٹارنی جنرل خود علامہ اقبال کا یہ اقتباس نقل کرتے ہیں:۔

’’فقہ کا طالبِ علم جانتا ہے کہ ائمہ فقہ اس قسم کے کفر کو کفرکم تر از کفر سے موسو م کرتے ہیں یعنی اس طرح کا کفر مجرم کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا‘‘۔(صفحہ۲۸۳)

اتنی بات تو اٹارنی جنرل صاحب کی سمجھ میں بھی آ گئی کہ ثانوی درجہ کا کفربھی ہوتا ہے۔ وہی بات جو امام راغب نے کہی، جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے کہی، اب وہی بات مرزا ناصر احمدصاحب کہہ رہے ہیں، وہی بات خود اٹارنی جنرل صاحب علّامہ اقبال کے حوالہ سے دہرا بھی رہے ہیں، مگر پھر بھی اصرار ہے کہ آپ ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے۔

(۸) کہ دانم مشکلاتِ لَااِلٰہ

بات واضح ہو چکی ہے مگر اٹارنی جنر ل ’’کلمۃالفصل ‘‘کے حوالہ سے پھر اسی مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے کہتے ہیں:۔
’’ اس موقع پر میں نے مرزا ناصر احمد سے پوچھاکہ ’’حقیقی مسلمان‘‘سے کیامراد ہے؟اس نے اپنے محضر نامے سے بھی سچے مسلمان کی تعریف میں کافی زیادہ تفصیلات بیان کی ہیں۔مرزا ناصر احمد نے کہا کہ’’حقیقی مسلمان‘‘کئی ایک ہیں۔میں نے پوچھا:کیا آج بھی ایسے (حقیقی مسلمان)موجود ہیں کیونکہ یہ ایک بہت ہی مشکل تعریف ہے۔مسلمان کی تعریف میں مرزاغلام احمد کو نبی ماننے یانہ ماننے کاکوئی ذکر نہیں۔اس لئے یہ خاصی مشکل تعریف ہے‘‘ ۔
مرزا ناصر احمد اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:۔
مرزا ناصر احمد:محضرنامے میں اس کا جواب صفحہ ۲۳ پر ہے۔
اٹارنی جنرل : ایک پٹھان ایک مولوی کے پاس گیا۔ میں بھی پٹھان ہوں۔ اس نے مولوی سے پوچھا کہ جنت میں جانے کا کیا طریقہ ہے۔ اس نے پہلے تو اسے کہا کہ جنت میں جانے کے لئے نمازیں پڑھیں،روزے رکھیں،اﷲاور اس کے رسول پر ایمان لائیں ۔ تو اس نے کہا کہ یہ سب کچھ کیا تو جنت میں جا سکوں گا،تو مولوی نے کہا کہ پل صراط ہوگا، جو تلوارسے تیز ، بال سے باریک ہے۔ پٹھان نے کہا آپ صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ جنت میں جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ میں نے مولوی ا ورپٹھان کی بات کی ہے،آپ نے حقیقی مسلمان کی Definitionدی ہے، آپ کو دنیامیں کتنے مسلمان نظر آتے ہیں ۔‘‘
جس مشکل تعریف کا ذکر اٹارنی جنرل کر رہے ہیں وہ محضر نامہ سمیت اﷲ وسایا صاحب نے کارروائی سے غائب کردی ہے۔وہ تعریف اٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں بانی جماعت احمدیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کی۔ اس کاایک حصہ ہم پیش کرتے ہیں۔

’’ اس تقریر سے معلوم ہواکہ اِسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے اور کوئی اِنسان کبھی اِس شریف لقب اہلِ اسلام سے حقیقی طور پر ملقّب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوّتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخُدا نہ کر دیوے اور اپنی انانیت سے معہ اُس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اُٹھا کر اُسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔

پس حقیقی طور پر اُسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا جب اُس کی غافلانہ زندگی پرایک سخت اِنقلاب وارد ہو کر اُسکے نفسِ ا مّارہ کا نقش ہستی مع اُس کے تمام جذبات کے یک دفعہ مٹ جائے اور پھر اِس موت کے بعد مُحسن للہ ہونے کے نئی زندگی اُس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اُس میں بجز طاعتِ خالق اور ہمدردیٔ مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔

خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اُس کی عزت وجلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزتی اور ذلت قبول کرنے کے لئے مُستعد ہواور اُس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں مَوتوں کو قبول کرنے کے لئے طیارہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اُس کے احکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلاوے کہ گویا وہ کھاجانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا بھَسم کر دینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوّتوں کے ساتھ بھاگناچاہے۔ غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیّات چھوڑ دے اور اس کے پیوَند کے لئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کیلئے سب نفسانی تعلّقات توڑ دے۔اور خلق کی خدمت اِس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اورطُرق کی راہ سے قسّامِ اَزل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے اِن تمام امور میں محض للہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہو سکتی ہے ان کو نفع پہنچا وے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خداداد قوّت سے مدد دے اور اُن کی دنیاوآخرت دونوں کی اِصلاح کے لئے زور لگاوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سو یہ عظیم الشّان لِلّہی طاعت وخدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حنفیّتِ تامّہ سے بھری ہوئی ہے یہی اِسلام اور اِسلام کی حقیقت اور اِسلام کا لُبّ لُباب ہے جو نفس اور خلق اور ہَوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتاہے‘‘۔(آئینہ کمالاتِ اِسلام،روحانی خزائن، جلد ۵، مطبوعہ نظارت اصلاح و ارشاد ، ربوہ صفحہ۶۰۔۶۲)

اب اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بہت مشکل تعریف نظر آتی ہے۔یحیےٰ بختیار، خود کو علامہ اقبال کا شیدائی کہتے تھے ،اُردو ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور عدالتی کارروائی میں انگریزی بحث کے دوران بھی بسا اوقات علامہ کے شعر پڑھتے سنا گیا ہے۔ انکو علّامہ کی زبان میں ہی سنادوں ۔ ؂

اگر گوئم مسلمانم بلرزم

کہ دانم مشکلاتِ لااِلٰہ

اصل بات تو یہی ہے کہ کوئی اسلام کی حقیقت کو سمجھے اور خود پر غور کرے تو لرزہ ہی طاری ہو جاتا ہے ۔ علّامہ نے یہ بھی تو کہا۔ ؂

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اٹارنی جنرل صاحب بلاوجہ خشک مُلّاؤں کی راہ پر چل نکلے ورنہ علامہ اقبال موصوف تو مُلّاں کے مذہب کے بارے میں یہ فرما چکے ہیں ؂

یا رفعت افلاک میں تکبیر مسلسل

یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات

وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست

یہ مذہب مُلّا و نباتات و جمادات

اور اقبال تو حقیقی مسلمان کے بارے میں کہتے ہیں :’’ہمسایہ جبریل امیں بندۂِ مومن‘‘۔
یہ ہمسایہ جبریل امین ہونا آسان بات تو نہیں مگر حقیقی اسلام تو یہی ہے ۔ حقیقی اسلام کے بارے میں امام
جماعت احمدیہ کے بیان پر جناب اٹارنی جنرل کی طنزیہ حیرت خود باعث حیرت ہے۔
جناب اٹارنی جنرل صاحب کو تو نہ مسلمان کی آسان اور عام فہم تعریف پسند آئی ہے جس کی رُو سے ہر وہ شخص جو زبانی اقرار کرکے خود کو مسلمان کہے اسے قبول کر لیا جائے اور جس کی تعریف آنحضرتﷺ نے خود بیان کردی۔ یہ آسان تعریف ایک معاشرتی اور سیاسی تعریف ہے اس میں حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا، ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلے کو قبلہ بنایا یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ظاہر پہ بنا کرکے معاشرتی شناخت کے لئے یہ مسلمان کی تعریف کی جارہی ہے اور حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ یہی وہ مسلمان ہے جس کے لئے اﷲاور اسکے رسول کا ذمّہ ہے،پس تم اﷲ کے دیئے ہوئے ذمہ میں اسکے ساتھ دغابازی نہ کرو۔مگر اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ایک آدمی حقیقی معنوں میں مسلمان نہ ہونے کے باوجود کیسے مسلمان کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ موصوف کو علامہ اقبال کے الفاظ میں ’’کفر کم تر از کفر‘‘ کی اصطلاح دستیاب ہوگئی۔ یہی بات امام جماعت احمدیہ فرما رہے تھے کہ بعض معنوں میں کفریہ اعتقاد یا اعمال سرزدہو جانے پر اسلام کی حقیقت سے دور جا پڑتا ہے مگرچونکہ وہ زبان سے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے اس لئے اسے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
جماعت احمدیہ نے اپنے تحریری بیان میںیہ مؤقف بیان کیا ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے جوحضرت خاتم الانبیا محمد مصطفیﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی اور جو اسلامی مملکت کے لئے ایک شاندار چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے ۔
جماعت احمدیہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا :

’’ہمارے مقدس آقا ﷺ کایہ احسانِ عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضورؐ نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالمِ اِسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اِس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ اُمتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔

قرونِ اُولیٰ کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں میں مختلف زمانوں میں مختلف علماء نے اپنی من گھڑت تعریفوں کی رُو سے جو فتاویٰ صادر فرمائے ہیں ان سے ایسی بھیانک صُورتِ حال پَیدا ہوئی ہے کہ کسی صدی کے بزرگان دین ، علمائے کرام ، صوفیاء اور اولیاء اﷲ کا اسلام بھی ا ن تعریفوں کی رُو سے بچ نہیں سکا اور کوئی ایک فرقہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا جس کا کفر بعض دیگر فرقوں کے نزدیک مسلّمہ نہ ہو۔‘‘

( اس سلسلہ میں مزید تفصیلات جاننے کے لئے محضر نامہ کامتعلقہ حصہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گا۔)
اٹارنی جنرل کی اصل مشکل یہ تھی کہ وہ مولوی حضرات کے نرغے میں تھے ،سوالات پر سوالات ان کو دیئے جا رہے تھے اور وہ بے چارے وہی سوالات پوچھتے چلے جا رہے تھے۔ ان کویہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملی کہ اصل مسئلہ زیرِ بحث کیا تھا ۔ اور مولوی حضرات مسلمان کی تعریف قرآن و سنت کی رو سے متعین کرنے سے فرار اختیار کر رہے تھے اور محض اشتعال انگیزی اور ارکانِ اسمبلی کو متنفر کرنے کے لئے یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ احمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ حضرت امام جماعت احمدیہ بڑے وقار سے بغیر کسی مداہنت کے کفر و اسلام کا مسئلہ بیان کر رہے تھے کہ:۔
’’جماعت احمدیہ کے نزدیک فتاویٔ کفر کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عنداﷲکافر قرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حشرنشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہوگا۔ اس لحاظ سے ان فتاوی کو اس دُنیا میں محض ایک انتباہ کی حیثیت حاصل ہے۔جہاں تک دُنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو اُمّت مسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا مجاز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے‘‘۔
لہٰذا کسی فرقہ کے فتویٰ کے باوجود کوئی دوسرا فرقہ حقیقت اسلام سے کتنا بھی دور سمجھا جائے ، ملّتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔
امام جماعت احمدیہ نے تو آنحضرت ﷺ کے اقوال کی روشنی میں ایک روشن اور درخشندہ شاہراہِ اتحادِملّت کی نشاندہی کر دی تھی جس پر چل کر ساری اُمّت وحدت کی لڑی میں پروئی جائے مگر یہ مذہب کے اجارہ دار اپنے فتووں کی شدّت میں کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں اور یہ تسلیم کرنے پر راضی نہیں کہ ان کے جاری کردہ فتویٰ کے باوجود بھی کوئی مسلمان رہ سکتا ہے۔

( ۹) غیرتِ ناموسِ محمد ﷺ

حضرت بانی ٔجماعت احمدیہ زندگی بھر آریوں اور عیسائیوں سے چو مکھی لڑائی لڑتے رہے ۔ عیسائی پادریوں نے ایک اودھم مچا رکھا تھا اور آنحضرت ﷺ کی شان میں بے لگام گستاخیوں کے مرتکب ہو رہے تھے، اور بے جا اور دل آزار اعتراضات کر رہے تھے اور باوجود بار بار کی فہمائش کے باز نہ آئے تو حضور ﷺ سے محبت اور غیرت کا تقاضہ یہ تھا کہ پادریوں کو منہ توڑ جواب دیاجاتا۔ اور حضرت مرزا صاحب نے نامِ محمد ﷺ کی غیرت میں پادریوں کو ان کے اپنے اعتقادات کا آئینہ دکھایا۔
حیرت در حیرت اس امر پر ہے کہ ریفرنس تو یہ تھا کہ ’’جو لوگ حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اسلام میں اُن کی حیثیت کیا ہے‘‘۔ جو ریفرنس خصوصی کمیٹی کے سامنے تھایا جو قرارداد حزب اختلاف نے پیش کی اس میں سے کسی میں بھی یہ سوال شامل نہیں تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی کتب میں حضرت عیسٰی ؑ کی توہین کی ہے۔ لیکن محض معاملے کو طول دینے، الجھانے اور عوام کے ذہنوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے یہ سوال بھی اُٹھایا گیا اور طویل جرح کی گئی۔
اﷲوسایا نے اپنی مرتب کردہ کتاب کے صفحہ ۸۵،۸۶پراس مضمون پر کئے گئے سوالات اور جوابات نقل کئے ہیں اور جوابات بالبداہت مکمل نقل نہیں کئے ،ان میں قطع و برید کی گئی ہے۔ اصل جواب جو دیا گیاوہ تو اسمبلی کی کارروائی شائع ہونے پر ہی سامنے آئے گا مگریہ اعتراض جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی علماء حضرات سے اصل صورتِ حال پوشیدہ تھی۔اس قسم کی باتیں دہرا کر، گویا اراکینِ اسمبلی کو متأثر کیا جا رہا تھااور جناب مفتی محمود صاحب کی اُس پریشانی کا، جس کا اوپرذکر آ چکا ہے ،یہ حل نکا لا گیا تھا کہ ممبران کو مشتعل کرکے مرزا ناصر احمد صاحب کے بیان کا اثر زائل کیا جائے۔چونکہ اﷲ وسایا نے اپنی کتاب میں گمراہ کُن سوال شائع کیا ہے اس لئے مناسب ہے کہ اصل صورتِ حال جماعت کے لٹریچر اور اس دور کے پس منظر میں پیش کر دی جائے۔
حضرت مرزا صاحب پر حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام نہ صرف غلط بلکہ خلافِ عقل ہے کیونکہ مرزا صاحب خود مثیل مسیح ہونے کے مدعی تھے۔حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔

’’جس حالت میں مجھے دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ ؑ کو برا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتاتا‘‘۔(اشتہار ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۷ء حاشیہ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحہ ۷۰)

چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے بار بار اس الزام کی تردید کی اور فرمایا:۔

’’ہم اس بات کے لئے بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شانِ بزرگ کے برخلاف ہو۔ اور اگر کوئی ایساخیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے‘‘۔ (ایام الصّلح۔ ٹائٹل پیج صفحہ ۲، روحانی خزائن جلد نمبر۱۴صفحہ ۲۲۸)

حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصورات جدا جدا ہیں ۔ عیسٰی ابن مریم اور یسوع تاریخی طور پر ایک ہی وجودہیں ۔ ناصرہ کے مقام پر حضرت مریمؑ کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ جس کوقرآن کریم عیسٰی ابن مریم کہتاہے وہ اﷲکے ایک برگزیدہ رسول تھے۔ انکی عظمت قرآن شریف میں بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے کبھی خدائی یا خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ مؤحّد تھے، کبھی تثلیث کی تعلیم نہیں دی ۔ یہ عیسٰی ابن مریم کے بارے میں مسلمانوں کا تصور ہے۔ قرآن حکیم نے ابن مریم ہونے کے علاو ہ حضرت عیسیٰؑ کا شجرۂ نسب بیان نہیں کیا۔ مگر عیسائیوں کے ہاںیسوع کا شجرۂ نسب ملتاہے اور جوکچھ رطب و یابس عیسائیوں کی بائبل میں درج ہے اسکے مطابق یسوع کی دو نانیاں نعوذباﷲ کسبیاں تھیں۔ یہ آیا ت آج تک کسی نے بائبل سے حذف نہیں کیں۔ یسوع کی جو شخصیت بائبل سے ظاہر ہوتی ہے اسکے مطابق یسوع شراب بھی پیا کرتے تھے اور بھی بہت سی لغویات یسوع کے بارے میں بائبل میں ملتی ہیں۔اس فرضی مسیح کے بارے میں خود مولانا مودودی لکھتے ہیں۔

’’ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ( یعنی عیسائی) اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالمِ واقع میں ظاہر ہوا تھا، بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کرکے اس کو خدا بنا لیا ہے۔‘‘ (’’تفہیم القرآن‘‘ جلد ۱ صفحہ ۴۹۱ سورۃ النساء)

حضرت مرزا صاحب نے پادریوں کو انہی کے اعتقادات دکھائے۔ مگر ساتھ ساتھ ہمیشہ اس امر کی وضاحت فرماتے رہے کہ ان کا روئے سخن اس فرضی یسوع کی طرف ہے جو عیسائیوں کے مُسلّمہ صحیفوں سے نظر آتا ہے۔اور اس فرضی مسیح کا نقشہ جو بائبل سے ابھرتا ہے وہ عیسائیوں کو بطور آئینہ کے دکھایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:۔

’’ بالٓا خر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے نا حق ہمارے نبی ﷺ کوگالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ اُن کے یسوع کا تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔۔۔۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا ۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ (ضمیمہ’’انجَام آتھم‘‘ صفحہ ۱۸۔۱۹، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۱ صفحہ ۲۹۲۔۲۹۳)

اور اس طرزِ خطاب کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔

’’ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سیدو مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ۔۔۔۔۔۔تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سبّ و شتم استعمال کئے۔ اس لئے قرینِ مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کردیا جاوے۔ لہٰذا یہ رسالہ لکھا گیا۔ امید ہے کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تا ہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شانِ مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اوروہ بھی سخت مجبوری سے۔ کیونکہ اس نادان (فتح مسیح ۔ناقل) نے بہت ہی شّدت سے گالیاں آنحضرت ﷺ کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے‘‘۔ (نور القرآن‘‘ نمبر ۲ صفحہ ۱،روحانی خزائن جلد نمبر۹ صفحہ ۳۷۶)

یہ وضاحت مرزا صاحب کی تحریرات میں جگہ جگہ موجود ہے کہ:۔

’’ پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اُس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں نا م ونشان نہیں‘‘۔(’’ تبلیغِ رسالت ‘‘ جلد ۵ صفحہ۸۰)

پھر فرماتے ہیں:۔

’ سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔ اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔ ……ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آ کر دیکھ لیوے‘‘۔ (اشتہار ’’ناظرین کے لئے ضروری اطلاع ‘‘،۲۰ ؍دسمبر۱۸۹۵ء نورالقرآن نمبر۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر۹ صفحہ ۳۷۵)

پھر فرماتے ہیں:۔

’’ ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا ہے جس نے بجائے مہذّبانہ کلام کے ہمارے سید و مولیٰ نبی ﷺ کی نسبت گالیوں سے کام لیاہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیبین و سیّد المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے لہٰذا محض ایسے یا وہ گو لوگو ں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔

ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر دل جان سے ایمان لائے تھے، اور حضرت موسیٰ کی شریعت کے صد ہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور بجزُ اپنے نفس کے تمام اوّلین آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سزا لعنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الٰہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ بن مریم جو نبی تھا اور جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے ‘‘۔ ( نور القرآن نمبر۲ بعنوان ناظرین کیلئے ضروری اطلاع، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحہ ۳۷۴ ۔۳۷۵)

ان تحریرات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر عیسٰی ؑ کی توہین قرار دینا کسی مسلمان کیلئے اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے والی بات ہے۔ جب آنحضرتﷺ پر گندے الزام لگائے گئے تو غیرت کا تقاضہ یہ تھاکہ عیسائیوں کو یسوع کے بارے میں آئینہ دکھایاجاتا۔ طرز تحریر اور زور بیان سمجھنے کی چیزیں ہیں ۔ دراصل اہلِ علم اور اہلِ کلام میں یہ ایک معرو ف طریق ہے کہ بعض اوقات فریقِ مخالف کو اس کے اپنے معتقدات یا بیانات کا آئینہ دکھا کر اسے لا جواب کیا جاتاہے۔اس طریق کو الزامی جواب بھی کہتے ہیں۔ الزامی جواب کے بھی کئی طریق ہوتے ہیں ۔ خود مرزاصاحب کے اپنے زمانے میں بعض دیگر علما ء نے یہ طریق اختیار کیا۔ یہ طرز استدلال اُس زمانے کے اہل علم کے دستور کے مطابق تھا۔
بریلوی فرقہ کے لوگ مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی کو چودہویں صدی کا مجدّد مانتے ہیں اور پاکستانی عوام کی اکثریت بریلوی ہے ۔وہ لکھتے ہیں:۔

’’نصاریٰ ایسے کو خدا مانتے ہیں جو مسیح کا باپ ہے۔۔۔۔۔۔ایسے کو جو یقیناًدغا باز ہے ، پچھتاتا بھی ہے تھک بھی جاتا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘۔(’’العطایا النبویہ فی الرضویہ‘‘صفحہ ۷۴۰،۷۴۱ )

اور یہ اندازدیگر علماء نے بھی اختیارکیا ہے۔ اہل حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب ایک واقعہ یو ں لکھتے ہیں:۔

’’ایک بار ایک ایلچی روم پاس بادشاہ انگلستان کے گیا تھا۔ اس مجلس میں ایک عیسائی نے اس کو مسلمان دیکھ کر یہ طعن کیا کہ تم کو کچھ خبر ہے کہ تمہارے پیغمبر کی بی بی کو لوگوں نے کیا کہا تھا۔ اس نے جواب دیا ہاں مجھ کو یہ خبر ہے کہ اس طرح کی دو بیبیاں تھیں جن پر تہمت زنا کی لگائی گئی تھی مگر اتنا فرق ہوا کہ ایک بی بی پر فقط اتہّام ہوا، دوسری بی بی ایک بچہ جن لائیں۔ وہ نصرانی مبہوت ہوکر رہ گیا‘‘۔ (’’ترجمان القرآن ‘‘جلد اول صفحہ۴۳۰،نواب صدیق حسن خان صاحب سورۃ آل عمران زیر آیت (اذ قالت الملئکۃ یٰمریم ان اﷲیبشرک بکلمۃ منہ)، مطبوعہ مطبع احمدی لاہور)

مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب ’’استفسار‘‘میں جو ’’ازالۃ الاوہام‘‘ مؤلفہ مولوی رحمت اللہ صاحب کرانوی مہاجر مکّی کے حاشیہ پر چھپی ہے، تحریر فرماتے ہیں:۔

’’ارے ذرے گریبان میں سر ڈال کر دیکھو کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰؑ کے نسب نامہ مادری میں دو جگہ تم آپ ہی زنا ثابت کرتے ہو‘‘۔ (صفحہ ۳۷)

’’ان ( پادری صاحبان) کا اصل دین و ایمان آکر یہ ٹھہر ا ہے کہ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کئی مہینے تک کھاتا رہا اور علقہ سے مضغہ بنا اور مضغہ سے گوشت اور اس میں ہڈیاں بنیں اور اس کے مخرج معلوم سے نکلا اور ہگتا مُوتتا رہا۔ یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے یحيٰ کا مرید ہوا اور آخرکو ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا‘‘۔ (صفحہ۳۵۰،۳۵۱ )

’’پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کا سب بیان معاذاللہ جھوٹ ہے اور کرامتیں اگر بالفرض ہوئی بھی ہیں تو ویسی ہی ہو نگی جیسی مسیح دجّال کی ہو نے والی ہیں ‘‘۔ (صفحہ ۳۷۱)

جس دور کا ذکر ہے اُس دور میں پادریوں نے ہندوستان میں طوفان اٹھا رکھا تھا۔ مسلمان مسجدوں کے علماء عیسائیت قبول کر کے پادری بن رہے تھے۔ آگرہ کی جامع مسجد کے خطیب مولانا عماد الدین، پادری عمادالدین بن گئے۔اس ماحول میں جو اسلام کا درد رکھتے تھے اور جنہیں آنحضرتﷺ کی غیرت تھی انہوں نے پادریوں کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر بے جا حملوں کے جواب کے لئے وہی انداز اختیار کیا ۔یہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی غیرت کا سوال تھا۔

’’انجیل کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مسیح نے اجنبی عورتوں سے اپنے سر پر عطر ڈلوایا‘‘۔(متی ۶:۲۶، مرقس۳:۱۴، یوحنا ۶:۱۲، اہل حدیث امرتسر ۳۱؍مارچ۱۹۳۹ء)

الزامی جواب کی یہ چند مثالیں دیگر بزرگوں کی کتب سے پیش کی گئی ہیں جن میں وہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ جو مبیّنہ سخت الفاظ حضرت مسیح کے بارے میں بیان کئے جاتے ہیں وہ دراصل اُس فرضی یسوع کے بارے میں ہیں جس کو عیسائی بطور خدا پیش کرتے تھے۔ظلم و تعدّی کرنے والے بدزبان معترضین کے لئے الزامی جواب کا یہ اندازجو مرزا صاحب نے اختیارکیاوہ قرآن حکیم کی اس تعلیم کے عین مطابق تھا۔(وَلَاتُجَادِلُوْا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَن اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْامِنْھُم
اسمبلی میں موجود علماء حضرات یہ سب باتیں جانتے تھے، حضرت مرزا صاحب کی کتب ان کے پاس موجود تھیں،حوالوں اور اقتباسات کے پس منظر سے بھی واقف تھے، علمِ کلام اور مناظرہ کے معروف طریقوں سے بھی وہ واقف تھے اور مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دیگر بزرگان کی طرف سے اسی انداز میں بائبل کے انہیں حوالوں سے اسی انداز میں دیئے گئے الزامی جوابات بھی علماء حضرات سے پوشیدہ نہیں تھے۔ اس کے باوجود یہ اعتراض کہ حضرت مرزا صاحب نے نعوذباﷲ حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کی، ناقابلِ فہم ہے اور تضیع اوقات اور اشتعال انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔ بالخصوص جب کہ یہ امر نہ وزیرِ قانون کی تحریک میں مذکور تھا، نہ حزبِ اختلاف کی قرارداد میں ۔ اصل مقصد یہی تھا کہ بنیادی سوال سے گریز کیا جائے اورعوام کو الجھا دیا جائے۔

(۱۰) باؤنڈری کمیشن

اﷲوسایا کی کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے یہ اعتراض بھی اُٹھایا کہ:۔
’’ بوقتِ آزادی اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر (ایوارڈ) فیصلے میں گورداسپورہندوستان کو دے دیا گیا تا کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے ‘‘۔ (صفحہ ۸۳)
اور پھر جماعت احمدیہ کے امام جب ایک دوسرے سوال کی وضاحت میں جواب ریکارڈ کروا رہے تھے تو انہوں نے خلیفۂ ثانی کے۱۳؍ نومبر ۱۹۴۶ء کے خطبہ کی وضاحت کرنا چاہی تو اٹارنی جنرل نے طنزاً کہا:۔
اٹارنی جنرل: ’’ ہندوؤں نے کہا کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں ۔ آپ نے واقعہ میں مسلم لیگ سے علیحدہ میمورینڈم پیش کر دیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد ۵۱ سے ۴۹ رہ گئی۔ آپ کا خیال ہے کہ آپ اس سے مسلم لیگ کو مضبوط کررہے تھے۔ ٹھیک ہے فائل کرا دیں اور آگے چلیں۔‘‘ (صفحہ۱۴۷)
جناب اٹارنی جنرل نے جس انداز سے اس سوال سے جان چھڑائی اس سے اٹارنی جنرل کی یا تو دیانت مشتبہ ہو جاتی ہے یا ان کی ذہانت پر زد پڑتی ہے۔ مجلسِ احرار اور کانگریسی علماء بلکہ بعض مسلم لیگی علماء بھی اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ مسلم لیگ میں جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ احمدی مسلم لیگ کے ممبر نہ بنائے جائیں تو قائد اعظم نے سختی سے اس بات کو دبا دیا۔ لیکن مجلسِ احرار اور کانگریس کے ڈھنڈھورچی بدستور شور مچا رہے تھے اور اس صورتِ حال سے کانگریس بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتی تھی، اور یہ بات سمجھنے کے لئے بہت باریک بینی اور غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں، اس وجہ سے مسلم لیگ ہائی کمان نے بٹالہ مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کو علیحدہ میمورنڈم داخل کرنے کی اجازت دی۔ گوردا سپور کے ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی اور کانگریس احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کئے جانے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ معمولی اکثریت بھی ختم ہو جاتی۔ اس لئے اس بات کا ہر طرح سے یقینی بنایا جانا ضروری تھا تا کہ کوئی دور کا شائبہ بھی اس بات کانہ رہ جائے کہ احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کیا جائے۔ چنانچہ احمدیوں نے قادیان کے لئے اپنا کلیم اس بنیاد پر داخل کیا کہ احمدی مسلمان ہیں اور قادیان مسلمانوں کی ایک فعال جماعت کا روحانی مرکز ہے اور دنیا بھر سے آنے والوں کا مرجعِ خلائق ہے۔
اس کے علاوہ سکھوں کی طرف سے ننکانہ صاحب کی وجہ سے شیخوپورہ کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ بٹالہ مسلم لیگ کی طرف سے جو میمورنڈم داخل کیا گیا اس میں بٹالہ کی تاریخی اہمیت‘ بٹالہ کی مسلمان آبادی‘بٹالہ کی مسلمان انڈسٹری اور بٹالہ تحصیل میں واقع قادیان کے ذکر میں لکھا۔
’’اگر مذہبی مقامات اور زیارتوں کو زیر غور لانا ہے تو بٹالہ صدر پولیس سٹیشن میں واقع قادیان کا قصبہ خاص توجہ کا مستحق ہے ۔ مسلمانوں میں سے احمدی مرزا غلام احمد کو نبی تصور کرتے ہیں۔۔۔‘‘۔
احمدیوں نے اپنے میمورنڈم کے شروع ہی میں آٹھ اہم نکات قادیان کو پاکستان میں شامل کئے جانے کی بنیاد کے طور پر درج کئے۔ جس میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ قادیان اسلام میں عالمگیر جماعت احمدیہ کا فعال مرکز ہے۔ اور ساتواں نکتہ یہ تھا کہ قادیان جس ضلع میں واقع ہے اس میں واضح مسلمان اکثریت ہے۔
جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اہم نکات بیان کرنے کے بعد پہلے ہی پیرے میں لکھاکہ جماعت احمدیہ جو مسلمانوں کا اہم مذ ہبی حصہ ہے اور جس کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں اس کا مرکز ضلع گوردا سپور میں ہے۔مغربی اور مشرقی پنجاب کی عبوری تقسیم میں یہ ضلع دونوں حصوں کی سرحد پر واقع ہے اور باؤنڈری پر فریقین کے تنازع میں اس ضلع پر دونوں فریق نے دعویٰ کیاہے۔ لہٰذاجماعت احمدیہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتی ہے کہ اپنا نقطۂ نظر باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کرے ۔ چنانچہ میمورنڈم کے آغاز ہی میں میمورینڈم کے پیش کئے جانے کی اغراض بیان کرتے ہوئے تین مرتبہ اس بات کا اظہارموجود ہے کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس لئے ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔
(Partition Of Punjab Vol. I; P:428-429)
جب اس میمورینڈم پر بحث کا وقت آیا تو بحث کے پہلے فقرہ ہی میں کہا گیا کہ قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہئے۔ اور دورانِ بحث اس بات پر زور دیا گیا کہ ’’قادیان جو تحصیل بٹالہ میں ہے‘ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔‘‘
جماعت احمدیہ کے میمورینڈم اور بحث کے علاوہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی میں یہ بات بار بار سامنے آئی کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔بحث کے دوران احراری اور کانگریسی علماء کے پھیلائے ہوئے زہر کا اثر جسٹس تیجہ سنگھ کے ایک سوال سے بھی ظاہر ہوا۔
’’مسٹرجسٹس تیجہ سنگھ: احمدیہ جماعت کی اسلام کے حوالہ سے کیا پوزیشن ہے؟
شیخ بشیر احمد: وہ اول و آخر مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ وہ اسلام کا حصہ ہیں‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:213)
اس طرح سے خود کانگریس کے وکیل نے اپنی بحث میں ضلع گوردا سپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت صرف اس وجہ سے ہے کہ تین چھوٹے چھوٹے حصوں یعنی قادیان، فتح گڑھ چوڑیاں اور بٹالہ میں ان کی اکثریت بہت زیادہ ہے۔ اور ان تین علاقوں کے مسلمانوں کی تعداد نکال دی جائے تو ضلع غیر مسلم اکثریت کا نظر آتا ہے۔گویا سیتل واڈ نے بھی قادیان کو مسلم اکثریت کے علاقہ کے طور پر شمار کیا اور اپنی بحث کو ایک نیا موڑ دے دیا۔
سیتل واڈ کی بحث کے دوران جسٹس منیر نے کہا :۔
’’مسٹر جسٹس منیر احمد:میں سمجھ گیا ہوں بٹالہ کے یہ چھوٹے چھوٹے دو نقطے دیکھیں ۔ آپ ان کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔
مسٹر سیتل واڈ: تیسرا قادیان کا قصبہ ہے۔
مسٹر جسٹس منیر: اس کی آبادی کیا ہے؟
مسٹر سیتل واڈ: اعداد وشمار ابھی آپ کو دیتا ہوں۔
مسٹر جسٹس منیر: کیا میں سمجھوں کہ اس پوری تحصیل میں قادیان کے علاوہ کوئی مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں۔
مسٹر سیتل واڈ: نہیں جہاں تک میں نقشہ کو دیکھتا ہوں ایسا ہی ہے۔ ہم نے مسلم اکثریت کے بڑے بڑے علاقے چنے ہیں اور ہمیں اس سائز کے اور علاقے نہیں ملتے۔لہٰذا ہم نے ان کو نقشے پر علیحدہ ظاہر نہیں کیا‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:214)
اسی طرح اپنی جوابی بحث میں مسٹر سیتل واڈ نے کہا:
’’ اب اگلے نقطے پر آئیے جو بٹالہ ہے اس میں آپ تین سفید حصے دیکھیں گے۔ میں آپ کو اس تحصیل کے اعداد وشمار دیتا ہوں۔
مسلمان : 209277
غیر مسلم : 177776
31501 کا فرق ہے اور یہاں میں نے تینوں pockets کو اکٹھا لے لیا ہے۔ پہلا فتح گڑھ چوڑیاں ہے جہاں مسلمان18055 اور غیر مسلم 4641 ۔ دوسرا بٹالہ کا شہر اور مضافاتی گاؤں ہیں جہاں مسلمان 45181 اور غیر مسلم 4664۔ تیسرا حصہ قادیان ہے جہاں مسلمان 10226 اور غیر مسلمان 1135 ہیں۔ اگر ہم تینوں کو اکٹھا لے لیں تو مسلمانوں کی مجموعی تعداد 73462 اور غیر مسلموں کی 22227 ہے‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:528)
گویا ساری کارروائی کے دوران قادیان اور احمدیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کیا جاتا رہا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ احمدی الگ ہو گئے اور مسلمانوں کی اکثریت گھٹ گئی، ایک بیہودہ، نامعقول اورشرمناک جھوٹ ہے اور سرکاری ریکارڈ اس جھوٹ کی تردید کررہا ہے۔
شیخ بشیر احمد کی بحث کے دوران جب احمدیوں کی تعداد 5,00,000 بتائی گئی تو جسٹس تیجہ سنگھ نے پوچھا:
’’مسٹر جسٹس تیجہ سنگھ: کیا انہیں گزشتہ مردم شماری کے دوران علیحدہ شمار کیا گیا تھا۔
شیخ بشیر احمد: گزشتہ مردم شماری میں احمدیوں کا کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ۔ جو فرق تسلیم کیا گیا و ہ یہ تھا کہ اگر کوئی خود کو شیعہ ظاہر کرے تو اس کو شیعہ درج کیا جائے اوراگر کوئی شخص کوئی اور تفصیل بتائے تو اس کوسُنّی درج کیا جائے‘‘۔
مگر اٹارنی جنرل بااصراراس بات کو پیش کرتے رہے کہ احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں الگ میمورینڈم پیش کرکے خود کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا جس سے مسلمانوں کی تعداد گھٹ گئی اور گورداسپور،ہندوستان کو چلاگیا۔ اٹارنی جنرل صاحب مسلم لیگی تھے اور سیاسی کارکن رہے ہیں۔اگر پہلے احراری لیڈروں کے مسلسل جھوٹ کے زیر اثر وہ کوئی غلط تأثر قائم کر بھی چکے تھے تو باؤنڈری کمیشن کی پوری کارروائی شائع ہوچکی ہے، اس سے استفادہ کر سکتے تھے۔ یقیناًجناب یحيٰ بختیار پڑھنے لکھنے کا ذوق رکھتے ہوں گے اور ان تاریخی دستاویزات کا مطالعہ تو انکا محبوب مشغلہ رہاہوگا۔ ان کے علم میں ہونا چاہئے تھا کہ یہ اعتراض مجلسِ احرار کی طرف سے اٹھایا گیا، کبھی مسلم لیگ کی ہائی کمان کی طرف سے یہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
مذہبی امور میں مولوی حضرات کے مہیّا کردہ سوالات کے بارہ میں اٹارنی جنرل صاحب کی مجبوری سمجھ میں آ سکتی ہے مگر اس سیاسی سوال پر اٹارنی جنرل صاحب کی لا علمی نا قابلِ فہم ہے۔ اﷲ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمدیہ کے میمورینڈم کامطالعہ کر چکے تھے، کیونکہ احمدیوں کی تعداد کے بارے میں اُسی میمورینڈم کے حوالہ سے دوسری جگہ سوال و جواب موجود ہے۔
یہ اب تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ریڈ کلف کا ایوارڈ غیرمنصفانہ تھا۔ ایوارڈ کا اعلان کرنے میں تاخیر ہورہی تھی۔ طرح طرح کی خبریں سننے میں آرہی تھیں ۔ جنکی وجہ سے چوہدری محمد علی صاحب جو مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے وہ قائداعظم کے ارشاد پر قائداعظم کی تشویش کا اظہار کرنے کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور یہ تشویش ضلع گورداسپور کے بارے میں تھی۔ اس بارے میں چوہدری محمد علی کا بیان یہ ہے:۔
When I reached Delhi, I went straight from the airport to the Viceroy’s house where Lord Ismay was working. I was told that Lord Ismay was closeted with Sir Cyril Radcliffe. I decided to wait until he was free. When, after about an hour, I saw him, I conveyed to him the Quaid-e-Azam’s message. In reply Ismay professed complete ignorance of Radcliffe’s ideas about the boundry and stated categorically that neither Mountbatten nor he himself had ever discussed the question with him. It was entirely for Radcliffe to decide and no suggestion of any kind had been or would ever be made to him. When I plied Ismay with details of what had been reported to us, he said he could not follow me. There was a map hanging in the room and I beckoned him to the map so that I could explain the position to him with its help. There was a pencil line drawn across the map of the Punjab. The line followed the boundary that had been reported to the Quaid-e-Azam. I said that it was unneccessary for me to explain further since the line, already drawn on the map, indicated the boundary I had been talking about. Ismay turned pale and asked in confusion who has been fooling with his map. This line differed from the final boundary in only one respect that the Muslim majoraty Tehseels of Ferozupr and Zera in the Ferozpur district were still on the side of Pakistan

as in the sketch-map.

(Ch. Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 218)

ترجمہ:۔
’’جب میں دہلی پہنچا تو میں ائرپورٹ سے سیدھا وائسرائے ہاؤس گیا جہاں لارڈایزمے کام کیا کرتے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ لارڈ ایزمے سر سیرل ریڈکلف کے ساتھ بند کمرے میں مصروف ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے فارغ ہونے تک میں انتظار کروں گا۔تقریبًا ایک گھنٹے بعد جب میں ان سے ملا تو میں نے انہیں قائد اعظم کا پیغام دیا۔ جوابًا لارڈ ایزمے نے باؤنڈری کمیشن سے متعلق ریڈکلف کے خیالات کے بارہ میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نہ تو انہوں نے خود اور نہ ماؤنٹ بیٹن نے اس مسئلہ پر ان سے کوئی گفتگو کی ہے۔ فیصلہ کرنا کلیۃً ریڈکلف کا کام ہے اور کسی قسم کی کوئی تجویز نہ انہیں دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی۔ جب میں نے ایزمے کو ان اطلاعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جو ہمیں مل رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ وہ میری بات سمجھ نہیں سکے۔ کمرے میں ایک نقشہ لٹکا ہوا تھا میں نے انہیں اس نقشہ کی طرف بلایا تا کہ نقشہ کی مدد سے صورتحال واضح کر سکوں۔پنجاب کے نقشہ کے بیچوں بیچ پنسل سے ایک لائن کھینچی ہوئی تھی اور یہ لائن اس باؤنڈری کے مطابق تھی جس کی اطلاعات قائداعظم کو مل رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ اب مزید وضاحت ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ نقشہ پر موجود لائن اس باؤنڈری کو ظاہر کر رہی ہے جس کے بارہ میں میں بات کر رہا ہوں۔ ایزمے کا رنگ پیلا پڑ گیا اور گھبراہٹ میں کہنے لگے ان کے نقشہ کو کون چھیڑتا رہا ہے۔ یہ لائن حتمی باؤنڈری سے صرف ایک لحاظ سے مختلف تھی یعنی فیروز پور اور زیرہ کی مسلمان اکثریت والی تحصیلیں اس وقت تک بھی اس نقشہ میں پاکستان کی طرف تھیں‘‘۔
جسٹس منیر اپنی کتاب From Jinah to Zia میں لکھتے ہیں۔
Another occasion for us to resign arose when after an interview with Sir Cyril at Simla Mr. Justice Din Muhammad came out with the impression that practically the whole of Gurdaspur with a link to Kashmir was going to India, but we were again

asked to proceed with our work. (From Jinah to Zia;2nd Edition, Page 12)

ترجمہ:۔
’’ہمارے استعفیٰ دینے کا ایک اور موقعہ اس وقت پیدا ہوا جب شملہ میں سر سیرل سے ایک انٹرویو کے بعد جسٹس دین محمد یہ تاثر لے کر باہر آئے کہ گورداسپور کا سارا ضلع کشمیر کو ایک رابطہ کے ساتھ ہندوستان کو جا رہا ہے۔ لیکن ہمیں پھر یہ کہا گیا کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔‘‘
پھر آگے چل کر گورداسپور کے بارہ میں لکھتے:۔
One of the moot points was Gurdaspur, a Muslim majority district and it became predominantly Muslim area if Pathankot was adjoined to the adjacent Hindu areas to the east. But Pathankot being not exclusively Hindu, the adhopur Headworks, which would mostly irrigate Muslim majority areas, with the area to the west of it, should be awarded to Pakistan, But the argument had no effect on him and he gave both Gurdapur and Batala, which had a Muslim majority, to India. Ajnala Tehsil in Ameritsar

also, which was Muslim area (59.04) he refused to join with the district of Lahore and

gave it to India. (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 13)

ترجمہ:۔’’زیر بحث سوالات میں سے ایک گورداسپور تھا جو مسلم اکثریت کا ضلع تھا اور اگر اس میں سے پٹھان کوٹ مشرقی جانب ہندو اکثریت کے حصہ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا تو گورداسپور میں غالب اکثریت مسلم اکثریت ہو جاتی۔ لیکن پٹھان کوٹ چونکہ کلیۃً ہندو علاقہ میں تھا اور مادھو اور ہیڈورک سے زیادہ تر مسلم اکثریت کے علاقوں کی آب پاشی ہوئی تھی اس لئے یہ اس کی مغربی جانب کا حصہ پاکستان کو جانا چاہئے۔ لیکن اس دلیل کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے گورداسپور اور بٹالہ دونوں مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کو دے دیئے۔ امرتسر کی تحصیل اجنالہ جو مسلمان علاقہ تھا (59.04) کو اس نے لاہور کے ساتھ شامل کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھی ہندوستان کو دے دیا۔‘‘
جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں :۔
There is conclusive proof, oral as well as documentary, that the award was altered in respect of the Ferozepure Tehsils and the areas that lie between the angle of the

Beas and the Satluj. (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 14)

ترجمہ:۔’’ اس بات کے زبانی اور تحریری طور پر قطعی ثبوت موجود ہیں کہ فیروز پور کی تحصیل اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقوں کے بارے میں ایوارڈ میں ردوبدل کیا گیا۔‘‘
قائداعظم جو ایسے معاملوں میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے خود انہوں نے فرمایا:۔
The division of India has now been finally and irrevocably effected. No doubts, we feel the carving out of this great independent sovereign Muslim state has suffered injustices. We have been squeezed in as uch as it was possible in the latest blow that we have received was the Award of the boundary commmission. It is an unjust, incomprehensible and even perverse Award. It may be wrong unjust and perverse and it may not be a judicial but political Award, but we had agreed to abide by it and it is binding upon us. As honorable people, wemust abide by it. (Speeches and Statementsof Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinah(Lahore: Research Society of Pakistan;1976)Page; 432)
ترجمہ:۔
’’ ہندوستان کی تقسیم اب حتمی اور ناقابل تنسیخ طور پر عمل میں آ چکی ہے۔ اس میں بلاشبہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس عظیم خود مختار مسلم ریاست کے قیام میں ناانصافیاں ہوئی ہیں اور باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ جو ہمیں آخری ضرب پہنچی ہے اس کے ذریعہ ہمیں جہاں تک ہو سکا ہے سکیڑ دیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ ناقابل فہم بلکہ غلط ایوارڈ ہے۔ گو یہ غیر منصفانہ اور غلط ایوارڈ ہے اور یہ انصاف کی بجائے سیاست پر مبنی ایوارڈ ہے لیکن ہم نے اسے تسلیم کرنے کا اقرار کیا تھا اور اب ہم اس کے پابند ہیں۔ ایک باوقار قوم کی حیثیت سے ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا۔‘‘
دنیا بھر کے محققین ریڈ کلف کی شرمناک بددیانتی پر متفق ہیں ۔ مگر مجلس احرار، کانگریسی علماء اور مجلس ختم نبوت کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ریڈ کلف بیچارہ کیا کرتا، احمدیوں نے اعدادوشمار ہی ایسے دے دیئے۔گویا ریڈکلف تونہایت صاف ستھرا، دیانتداراور منصف مزاج آدمی تھا، ایوارڈ بالکل درست ہورہاتھا، احمدیوں نے الگ میمورینڈم داخل کرکے یا اعداد وشمار داخل کرکے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کرنے کا راستہ صاف کردیا۔ یہ ریڈکلف کے گماشتے اتنا بھی نہیں جانتے کہ گورداسپور اور زیرہ وغیرہ اعداد وشمار کی بنا پر ہندوستان کو نہیں دیئے گئے، Other Factors کی بنیاد پر دئیے گئے ۔اس بارے میں بددیانت اور ظالم ریڈکلف کوخود بھی شرم آئی اور وہ جو کسی بات کی توجیہ پیش کرنے کا پابند نہیں تھا اسے توجیہ پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کھلی کھلی بددیانتی کا مرتکب ہورہا تھا، اس لئے اس نے ایک لولا لنگڑا عذرپیش کر دیا۔
The Partition of Punjabکے شروع میں پیش لفظ کے بعد شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون ریڈ کلف ایوارڈ کے بارہ میں شامل کیا گیا ہے ۔اس مضمون میں شریف الدین پیر زادہ جسٹس منیر کے مضمون Days to Remember کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گورداسپور کے بارہ میں ریڈ کلف سے گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس منیر نے لکھا ہے :
It was a Muslim majority area and , therefore if a district was to be taken as a unit , the whole of it had to go to Pakistan. But if …..the district had to be partitioned , the Pathankot Tehsil could… be separated from it and joined with the contiguous non-Muslim area. Shakargarh was not only a Muslim majority area but also a physical entity, with the Ravi as its eastern boundary,and could not conceivably be split up .

(27e)

ترجمہ:۔
’’ یہ مسلمان اکثریت کا علاقہ تھا لہٰذا اگر ضلع کو اکائی سمجھا جاتا تو یہ سارا ضلع پاکستان کو جانا چاہئے تھا لیکن اگر۔۔۔ضلع کو تقسیم کرنا تھا توپھر پٹھانکوٹ کو اس سے الگ کیا جاسکتا تھا ۔ شکر گڑھ نہ صرف مسلم اکثریتی علاقہ تھا بلکہ طبعی طور پر اکائی تھا کیونکہ راوی اس کی مشرقی سرحد بنتا تھا اور یوں اسے توڑنے کا کوئی تصور نہیں تھا‘‘۔
یہ اسی مضمون کا حوالہ ہے جس کا ذکر اٹارنی جنرل کررہے ہیں۔ گویا جسٹس منیر واضح طور پر لکھ رہے ہیں کہ گورداسپور مسلمان اکثریتی علاقہ ہی تھا۔ کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اس کی مسلم اکثریت احمدیوں کی وجہ سے گھٹ گئی تھی۔
جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں:۔
Further, there is intrinsic evidence in the award itself to show that this part of the award was not the result of an honest endevour to arrive at a just decision. I have already said that Sir Cyril gave no reasons for the award but for these two Tehsil’s remaining in India he did give a reason and that reason is nothing but convincing. The reason is as follwos: I have hesitated long over those not inconsiderable areas east of the Satluj river and in the angle of the Beas and Satluj River in which Muslim majorities are found but on the whole I have come to the conclusion that it would be in the interest of neither state to extend the territories of the west Punjab to a strip on the far side of the Satluj and that there are factors such as the disruption of railway communication and water systems that ought in this instance to displace the priary claims of contiguous majorities. But I must call attention to the fact that the Depalpur canal, which serves areas in the west Punjab, takes off from the Ferozpure headworks and I find it difficult to envisage a satisfactory demarcation of boundary at this point that is not accompanied by some arrangement for joint control of the intake of

thedifferent canals dependent on these headworks.”

(Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol I; — National Documentation Center, 1983, Page xxxvi)

ترجمہ:
’’مزید برآں ایوارڈ میں اس بات کے اندرونی شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایوارڈ کسی منصفانہ نتیجہ پر پہنچنے کیلئے کسی دیانتدارانہ کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ سر سیرل ؔ نے اس ایوارڈ کی کوئی وجوہات یا دلائل بیان نہیں کئے۔ لیکن بایں ہمہ ان دو تحصیلوں کے ہندوستان میں شامل کرنے کی دلیل ضرور دی گئی ہے۔ اور وہ دلیل معقول (قائل کرنے والی) نہیں ہے۔ وہ دلیل یوں ہے، دریائے ستلج کے مشرق کی جانب معتدبہ علاقے جو تھوڑے بھی نہیں ہیں اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقہ کے بارہ میں جو مسلم اکثریت کے علاقے ہیں۔میں طویل تذبذب کا شکار رہا ہوں لیکن بحیثیت مجموعی میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ دونوں ریاستوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا کہ مغربی پنجاب کی حدود کو ستلج دریا کے بیرونی طرف تک بڑھا دیا جائے اور ریلوے کے رسل و رسائل اور آبپاشی کا نظام ایسے عوامل ہیں جو اس موقعہ پر ملحقہ اکثریتی آبادیوں کی دلیل پر حاوی ہیں۔ مجھے اس جانب توجہ دلانی ہے کہ دیپال پور نہر جو کہ مغربی پنجاب کے علاقوں کو سیراب کرتی ہے وہ فیروز پور ہیڈ ورکس سے نکلتی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نقطہ پر باؤنڈری کی ایسی نشاندہی بہت مشکل ہے جس میں اس ہیڈورکس سے نکلنے والی مختلف نہروں کے مشترکہ کنٹرول کا نظام شامل نہ ہو۔‘‘
شریف الدین پیرزادہ نے اپنے مضمون میں Aloys A. Michelکی کتاب The Indus Riverکا حوالہ بھی درج کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:۔
But in Gurdaspur "other factors” came into consideration as they had in Ferozpur, and irrigation was one of them.Thus the argument form the irrigation standpoint would appear to have reinforced that from the population standpoint: if the principal of "contiguous majority” applied to districts as a whole, then it would have been quite logical and quite consistent to award Ferozpure, Amritsur, and Jullundur to India and Gurdaspur to Pakistan; if irrigation considerations were to take precedence, why not give Madhopur headworks to Pakistan, since the area served was mainly in the Lahore District, since Pakistan could not supply Lahore without supplying Amritsur on the way, and since – if Pakistan were to interfere with the supplies on two southern branches- India could retaliate by cutting of supplies from Ferozpure headworks to the Depalpur Canal?… Yet straight forward logic of irrigation consideration in Gurdaspur was apparently vitiated by still further "other factors” Gurdaspur included the only road linking the Eastern Punjab, and hence India, with Jammu and Kashmir, and the only bridge (on the Madhopur Barrage) over the Ravi above Lahore. The railways from Amritsur and Jullundur met at Pathankot, with a branch to Madhopur, although there was no rail connection across the river here (one was under construction in1965).

Had Radcliffe awarded Gurdaspur to Pakistan, there would have been no land commmunication between India

and Jammu-Kashmir

(Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol I; — National Documentation Center, 1983, Page xxxix)

ترجمہ:۔
’’لیکن گورداسپور کے معاملہ میں”Other Factors” زیرِغور آگئے ، جیسا کہ فیروز پور کے بارہ میں آئے تھے اور آبپاشی کا نظام ان میں سے ایک تھا۔یوں نظام آبپاشی کی دلیل آبادی کی دلیل کو تقویت پہنچاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔ اگر’’ ملحقہ اکثریتی آبادی ‘‘ کا اصول ضلعوں پر مجموعی طور پر لاگو کیا جاتا تو منطقی طور پر فیروز پور ،ا مرتسر اور جالندھرہندوستان کو دئے جاتے اور گورداسپور پاکستان کو۔اور اگر نظامِ آبپاشی کی دلیل کو فوقیت دی جاتی تو پھر مادھوپور ہیڈورکس ، جس سے لاہور کا ضلع سیراب ہوتا تھا اور پاکستان کو پانی دئے بغیر لاہور کو پانی مہیا نہیں کر سکتا تھا، پاکستان کو کیوں نہ دیا جاتا۔ پاکستان دو جنوبی لہروں کا پانی روک لیتا تو ہندوستان فیروز پور ہیڈ ورکس سے دیپالپور کی نہر کا پانی روک سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر آبپاشی کی سیدھی سادی منطق گورداسپور کے معاملہ میں بظاہر مزید”Other Factors”کی زد میں آگئی۔ مشرقی پنجاب ، اور یوں ہندوستان کو جموں اور کشمیر سے ملانے والی واحد سڑک گورداسپور میں واقع تھی اور راوی پر مادھوپو ر ہیڈورکس کا پل لاہور کے بالائی علاقہ میں واحد پل تھا۔ امرتسر اور جالندھر سے ریل پٹھانکوٹ پر ملتی تھی، جس کی ایک شاخ مادھو پور کو جاتی تھی ۔ اگر چہ دریا کے اس پار ، اس وقت ریل کا کوئی راستہ نہیں تھا
(جو۱۹۶۵ء میں زیر تعمیرتھا) ۔اگر ریڈ کلف گورداسپور پاکستان کو دے دیتا تو ہندوستان اور جموں کشمیر کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہ رہتا‘‘۔
الغرض باؤنڈری کمیشن کے رکن جسٹس محمد منیر، قومی اور بین الاقوامی محققین سب اس بات پر متفق ہیں کہ گورداسپور بددیانتی سے ہندوستان کو دے دیا گیا اور اس بارہ میں اکثریت کے اصول کو نظر انداز کردیا گیا۔
یہ ساری تفصیلات پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی بیدار مغز علم دوست اور سیاسی وقائع سے دلچسپی رکھنے والے شہری کو معلوم ہونی چاہئیں ۔کم از کم مسلم لیگی کارکنان اور سب سے بڑھ کر مسٹر یحییٰ بختیاراٹارنی جنرل کے علم میں ہونی چاہئے تھیں۔مگر اٹارنی جنرل تومولویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ سچائی سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا اور جھوٹ کو اچھا ل رہے تھے۔
اٹارنی جنرل نے آگے چل کر پھر جسٹس منیر کے ایک اخباری مضمون کے حوالہ سے غلط اور نامکمل معلومات کی بنا پر یہ سوال کیا۔
’’اٹارنی جنرل : آزادی کی جدو جہد میں باؤنڈری کمیشن کا مرحلہ آتا ہے ۔ جسٹس منیر صاحب کے حوالے سے ظفراللہ خان کی بڑی خدمات ہیں ۔ وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے ۔ مسلم لیگ کے وکیل تھے ۔ لیکن جسٹس منیر صاحب جو باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے ‘انہوں نے ’’پاکستان ٹائمز۔ میں ۲۴ جون ۱۹۶۴ء آرٹیکل لکھے۔ ان میںیہ بھی تھا۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ ۲۱ جون۱۹۶۴ ’’ میرے یادگار دن‘‘۔ معاملہ کے اس حصے کے متعلق میں ایک نہائت ہی ناخوشگوار واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے علیحدہ عرضداشت کیوں دی تھی ‘ اس قسم کی عرضداشت کی ضرورتبھی ہو سکتی تھی جب احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر سے متّفق نہ ہوتے ، جو کہ بذاتِ خود ایک افسوسناک صورتِ حال ہوتی ۔ہو سکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعدادوشمار دیئے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بسنتر دریا کے مابین کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور یہ بات اس تنازعہ کی دلیل بنتی تھی کہ اگر اچ دریا اور بین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کو مل جائے تو بین دریا اور بسنتر دریا کا درمیانی علاقہ خود بخودہندوستان کو چلا جاتا ہے ، جیسا کہ ہوا۔ احمدیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا ،وہ ہمارے لئے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔
مسلمان ۵۱ فیصد تھے ‘ہندو ۴۹ فیصد ‘ احمدی ۲ فیصد ۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۵۱ کی بجائے ۴۹ فیصد ہو گئے ۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیا مگر یہ قضیہ تو عجیب سا لگتا ہے۔
مرزاناصراحمد: جسٹس منیر صاحب نے اپنی رپورٹ میں ظفراللہ خان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اب اس کے ۱۷ سال بعد جب بوڑ ھے ہو گئے تویہ بیا ن د ے دیا ۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، باؤنڈری کمیشن کے یہ جج تھے۔ پہلے خراجِ تحسین اور اب یہ شکوک ۔ ۱۷ سال کی خاموشی کے بعد جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے ، شاید ممکن ہے بڑھاپے کی وجہ سے جو بات جوانی سے سمجھ آئی ہو ،وہ بڑھاپے میں نہ سمجھ آئی ہو۔
اٹارنی جنرل: یہ اچھا جواب ہے ۔ خیر میں صرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا تھامگر علیحدہ یادداشت کیوں پیش کی‘‘۔
’’میرے یادگاردن‘‘ کے عنوان سے جسٹس محمد منیر کے جس مضمون کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس منیر کی عبارت نقل کرنے کے بعد جو نتیجہ اٹارنی جنرل کے سوال میں نکالا گیا ہے وہ اس بیان سے ہر گز نہیں نکلتا۔ یہ بات کہ’’مسلمان۵۱فیصد تھے ہندو۴۹فیصد اور احمدی ۲فیصد۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تومسلمان ۵۱فیصد کی بجائے ۴۹فیصد ہوگئے اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیامگر یہ قضیہ تو عجیب سالگتاہے‘‘۔
یہ ساری بات جسٹس منیر کے مضمون میں نہیں۔
(۱)۔۔۔یہ بات بھی موجود نہیں کہ مسلمان ۵۱فیصد اورہندو۴۹فیصد تھے۔
(۲)۔۔۔یہ بھی نہیں کہ احمدی ۲فیصد تھے۔
(۳)۔۔۔یہ بات بھی جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تو مسلمان ۴۹فیصد رہ گئے۔ یہ سارا اعداد وشمار کا افسانہ جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں،از خود تراش لیا گیاہے۔
جسٹس منیر نے اپنے بیان میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ گورداسپور اس وجہ سے جاتارہا کہ ’’احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے‘‘۔یہ سارا قصہ ہی ایک شرانگیز افسانہ ہے ۔ البتہ جسٹس منیر نے اپنے مضمون میں یہ لکھا:۔
’’انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصّوں کے بارے میں اعداد وشمار دیئے‘‘۔
اعداد وشمار کیا تھے؟ ان کا ذکر نہیں ۔ اس بیان کے بارے میں جو جواب حضرت مرزاناصر احمد صاحب کی طرف منسوب اللہ وسایا کی کتاب میں شائع کیا گیا ہے اس کو اٹارنی جنرل صاحب نظر انداز کرکے آگے چل پڑے ۔ اس سوال جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تفصیلات ضرورحذف کر دی گئی ہیں اور قارئین سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔مگر اس سوال کے اندرایسے شواہد موجود ہیں اور جسٹس منیر کے پورے مضمون کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب جیسا بھی درج کیا گیا ہے وہ درست تھا۔ جسٹس منیر نے جب یہ مضمون لکھا تو ضعیف العمری کی وجہ سے انکی یادداشت ماند پڑچکی تھی اور ان کے حافظہ نے ساتھ نہیں دیا ۔اس بات کی اندرونی شہادت اس مضمون کے اندر موجود ہے اور بیرونی شہادت ریکارڈ پر موجود ہے۔

اندرونی شہادت

جسٹس منیر نے اپنے مضمون کے آغاز میں ہی خودلکھا :۔
’’حافظے کی مثال ایک ایسے باکس کی ہے جس کی گنجائش محدود ہو جو بچپن سے اس ترتیب سے بھرنا شروع ہوجاتا ہے جس ترتیب سے واقعات رونماہوتے ہیں تا وقتیکہ میری عمر میں پہنچ کر اوپر تک بھر جاتا ہے۔ فزیالوجی کے اسی اصول کے تحت پہلے رونما ہونے والے تازہ واقعات کی نسبت بہتر محفوظ رہتے ہیں۔چونکہ باکس بھر چکاہوتا ہے اور واقعات رونما ہونے کے جلد بعد ہی دوسرے رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے چھلک جاتے ہیں لیکن بعض تازہ واقعات اپنی اثر پذیری کی وجہ سے اتنے ٹھوس ہوتے ہیں کہ وہ کبھی نہیں بھولتے اور یاد داشت تازہ کرنے کی معمولی کوشش سے باآسانی اپنی شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔ جومیں کہنے والا ہوں وہ مؤخرالذکر سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔
(۱)۔۔۔ پہلی بات تو واضح ہے جسٹس منیر کو خود اپنے حافظہ پر اسوقت پورا بھروسہ نہیں اور یاد داشت تازہ کرنے کی جس کوشش کا ذکر کیا ہے وہ کوشش جگہ جگہ دھوکہ دے گئی ہے۔ لہذا بعض باتیں جن کی دوسرے ذرائع سے تصد یق ہو سکتی ہو، یقیناًاہم ہیں ۔
(۲)۔۔۔ مضمون کی پہلی قسط کے کالم نمبر ۳ میں انہوں نے لکھا:۔
’’مسٹر شیتل وارڈ کانگرس کی طرف سے پیش ہوئے ۔ مسٹر ہرنام سنگھ سکھوں کی طرف سے اور سرمحمدظفر اللہ خان مسلم لیگ اور احمدیو ں کی طرف سے ‘‘۔
یہاں ان کے حافظہ نے واضح طور پر ٹھوکر کھائی ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ ظفر اللہ خان مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوئے تھے، احمدیوں کی طرف سے نہیں ۔جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب پیش ہوئے تھے ۔ حافظے نے جو یہاں ٹھوکر کھائی ہے اسکی اہمیت صرف یہ نہیں کہ انہوں نے احمدیو ں کی طرف سے سر ظفر اللہ کے پیش ہونے کا کہا بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ شیخ بشیر احمد، جسٹس منیر کے ذہن سے بالکل غائب ہیں۔ لہذا انکی طرف سے پیش کردہ دلائل بھی انکے ذہن سے محو ہو چکے ہیں اور موجو د نہیں ۔
(۳)۔۔۔ اپنے مضمون کی تیسر ی قسط میں جہاں سے اٹارنی جنرل کا متصلہ سوال لیا گیا ہے جسٹس منیر نے یہ لکھا:۔
’’ احمدیوں نے گڑھ شنکر کے ایک حصے کے بارے میں ایسے اعدادوشمار دیئے جس سے یہ بات نمایاں ہو گئی کہ دریائے بین اور دریائے بنستر کا درمیانی علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے‘‘۔
اول تو گڑھ شنکر کے نام کی کوئی تحصیل گورداسپور میں تھی ہی نہیں ۔ گڑھ شکر ضلع ہوشیارپور کی تحصیل تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ تحصیل شکر گڑھ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔یہا ں پر بھی ان کے حافظہ نے واضح ٹھوکر کھائی ہے ۔
(۴)۔۔۔ دریائے بین دریائے بسنترکا ذکر جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ یہ بحث کانگرس کے وکیل مسٹر سیتل وارڈ نے اٹھائی تھی کہ تقسیم تحصیل اور ضلعوں کی بجائے دریاؤں کے درمیان دوآبوں کی بنیاد پر کی جائے اور دریاؤں اور نہروں کو سرحد بنایا جائے۔ تحصیل شکر گڑھ راوی کے اس پار واقع تھی اور واضح مسلم اکثریت کی تحصیل تھی لہذا کانگرس اسے دریاؤں کے درمیانی علاقوں کی بنیاد پر مشرقی پنجاب میں شامل کروانا چاہتی تھی ۔ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں یا بحث میں کہیں بھی دریائے بین یا دریائے بسنتر کا ذکر موجود نہیں ۔ جماعت احمدیہ کا میمورنڈم پارٹیشن آف پنجاب کے صفحہ ۴۲۸تا صفحہ۴۴۹پرسرکاری طور پر شائع شدہ موجود ہے جو دیکھا جاسکتا ہے۔ جماعت احمدیہ نے دریاؤں کو سرحد بنانے کے اصول کی مخالفت کی تھی اور ایک دلیل یہ دی تھی کہ دریا اپنے رخ بدلتے رہتے ہیں ۔ بہر حال اس بارے میں جسٹس منیر کے حافظہ نے ٹھوکر کھائی ہے۔اس سے پہلے جسٹس منیر اپنے ایک عدالتی فیصلے میں واضح طور پر لکھ چکے تھے۔
’’ احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس نے ہندوستان میں شامل کردیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیارکیا۔‘‘
جوالزامات ۱۹۶۴ء کی تحریر کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں انہیں ۱۹۵۴ء میں جسٹس منیر معاندانہ اور بے بنیاد قراردے چکے ہیں ۔ یہ ایک عدالتی فیصلے کا حصّہ ہے ۔عدالتی فیصلے حقائق و واقعات سامنے رکھ کر احتیاط کے ساتھ لکھے جاتے ہیں ۔ ۱۹۶۴ء کا بیا ن یادداشتوں پر مبنی ہے اور اس میں اندرونی تضاد موجود ہیں ۔
گورداسپور ایک سازش کے ماتحت ہند وستان میں شامل کیا گیااور اس بارے میں ناقابل تردید تاریخی شہادت موجو د ہے جو اوپر پیش کی جا چکی ہے۔
رہی یہ بات کہ تقسیم کے وقت جماعت احمدیہ نے ایک علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا ؟ اٹارنی جنرل کو معلوم ہونا چاہئے تھا اور اگر نہیں معلوم تھا تو انہیں متعلقہ محکمہ یا ریکارڈ سے اس بات کی تسلی کرلینی چاہئے تھی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ تقسیم پنجاب کے بارے میں سرکاری طور پرشائع کردہ ریکارڈ کے مطابق ۱۸؍جولائی ۱۹۴۷ء تک ۴۹میمورینڈم مختلف تنظیموں کی طرف سے داخل کئے گئے تھے جن کی فہرست ریکارڈ میں دستاویز ۲۴۳کے طور پر مذکورہ کتاب کے صفحہ ۴۷۴پر درج ہے۔ جن میں :۔
(۱)۔۔۔پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ۔
(۲)۔۔۔ سٹی مسلم لیگ‘ منٹگمری ۔
(۳)۔۔۔ بٹالہ مسلم لیگ ،بٹالہ۔
(۴)۔۔۔ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ، لدھیانہ ۔
(۵)۔۔۔ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن‘سٹی اینڈ ڈسڑکٹ مسلم لیگ،جالندھر۔
(۶)۔۔۔ انجمن مغلیاں لوہاراں، ترکھاناں پنجاب۔
(۷)۔۔۔انجمن بھٹی راجپوتاں پنجاب۔
(۸)۔۔۔ انجمن راٹیاں جالندھر، تحصیل جالندھر۔
(۹)۔۔۔ مسلم راجپوت ایسوسی ایشن۔
(۱۰)۔۔۔ مسلم راجپوت کمیٹی تحصیل گڑھ شنکر اینڈ نواں شہر۔
(۱۱)۔۔۔مسلم لیدر مرچنٹ ایسوسی ایشن۔
(۱۲)۔۔۔ انجمن مدرسۃالبنات جالندھر۔
(۱۳)۔۔۔ مزنگ منڈی سرکل۔
کی طرف سے میمورینڈم داخل کئے گئے تھے اور یہ سارے میمورینڈم مسلم لیگ کی تائید میں تھے۔ اسی طرح بہت سی ہندو ‘ سکھ تنظیموں نے کانگریس کی تائید میں اپنے میمورینڈم داخل کئے ۔ عیسائیوں اور اینگلو انڈینز کی طرف سے مسلم لیگ کی تائید میں، پاکستان کے حق میں اور کچھ کانگریس کی تائید میں ، ہندوستان کی تائید میں داخل کئے گئے۔ اصل بات جو نمایاں طور پر واضح تھی وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا میمورینڈم دوسری بہت سی مسلم تنظیموں کے ساتھ مسلم لیگ کی تائید میں داخل کیا گیا تھااور اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم پنجاب کے وقت پارٹیشن پلان کے ساتھ ایک فہرست اور ایک جدول بھی شامل کئے گئے تھے جس میں ۱۹۴۱ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں مسلم اکثریت کے ضلعوں کی تفصیل دی گئی تھی ۔ گورداسپور کا ضلع جو کہ مسلم اکثریت کا ضلع تھا اسے عارضی اور عبوری طور پر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔مگروائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں ضلع گورداسپور کے بارہ میں یہ اظہار کیا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف ۸ء۰ فیصد ہے اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماً غیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔چوہدری محمد علی اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں :
”at his press confrence of June 4 1947 Mount Batten was asked why he had, in the broad cast of previous evening on the June 3 Partition Plan, catagorcally stated that,” the ultimate boundries will be settled by a boundary commission and will almost certainly not be identical with those which have been provisionally adopted.” Mount Batten immidiately replied,” I put that in for the simple reason that in the district of Gurdaspur in the Punjab the population is 50.4 % Muslim, I think and 49.6 % non muslims. With a differance of 0.8 % You will see at once that it is unlikely that the boundary commission will throw the whole of the district into the Muslim

majority areas.”

(Ch. Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 215)

ترجمہ:۔۴ جون ۴۷ ۱۹ء کی پریس کانفرنس میں ماؤنٹ بیٹن سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے ۳؍ جون کے منصوبہ کے بارہ میں گزشتہ شب اپنی نشری تقریر میں دو ٹوک انداز میں یہ کیوں کہا کہ ’’ حتمی باؤنڈری کا تصفیہ باؤنڈری کمشن کرے گا اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ حتمی باؤنڈری ،عبوری باؤنڈری کے ہوبہو مطابق نہیں ہو گی‘‘ ماؤنٹ بیٹن نے جواب دیا ،
’’میرے ایسا کرنے کی سیدھی سی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کے ضلع گورداسپور میں مسلمان آبادی میرے خیال میں ۴ء۵۰ فیصدہے اور غیر مسلم آبادی ۶ء۴۹فیصد ہے ۔ آپ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات غیر اغلب ہے کہ صرف ۸ء۰ فیصد کے فرق کی وجہ سے باؤنڈری کمشن پورا ضلع ہی مسلم اکثریت کے حصہ میں ڈال دے۔
چونکہ گورداسپور جالندھر اور فیروزپور کے بعض علاقے اس عارضی اور عبوری سرحد (Notional Boundary) کے قریب تھے ۔ اس لئے اس عبوری سرحد کے قریب قریب واقع دونوں طرف کے علاقے گویا فریقین کے درمیان زیر بحث تھے ۔ کانگریس لاہور اور منٹگمری کے ضلعوں میں سے بھی کچھ علاقوں کا مطالبہ کررہی تھی اور مسلم لیگ امرتسراور فیروز پور کے علاقوں کا مطالبہ کررہی تھی۔ لہٰذا ان علاقوں کے لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے مطالبات کے قطع نظر یہ سوال کہ ان علاقوں کے لوگ کسی طرف شامل ہونے کے خواہش مند ہیں بھی اہمیت اختیار کرگیاتھا۔چنانچہ اس علاقے کی بعض عیسائی تنظیموں نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بارے میں میمورنڈم داخل کئے۔
باؤنڈری کمیشن کےTerms Of Reference یہ تھے:۔
"For the Punjab:The boundary commission is instructed to demarcate the boundaries of the two parts of the Punjab on the basis of ascertaining the contiguous majorities areas of Muslims and Non-muslims. In doing so it will also

take into account other factors.”

دونوں فریق Terms Of Referenceمیں Other Factorsکی شق کی وجہ سے اپنے اپنے حق میں استدلال کرناچاہتے تھے۔ جماعت احمدیہ کامیمورینڈم کوئی علیحدہ یا انوکھی چیز نہیں تھی ۔ اس دستاویز میں سارا زور اس بات پرہے کہ تقسیم پنجاب کے لئے خواہ کوئی طریقہ اپنایا جائے ‘ قادیان کو پاکستان کا حصّہ ہونا چاہئے ۔ اس کی تائید میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ
بشیر احمدایڈووکیٹ نے بحث کی جو جلد دوم کے صفحہ ۲۴۰ سے شروع ہوتی ہے اور بحث کا آغاز ہی اس فقرے سے ہوتاہے۔
’’میں اپنی معروضات کو ایک محدود سوال تک محدود رکھنا چاہتا ہوں یعنی مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کے لئے قادیان کا کلیم کیا ہے‘‘۔
صفحہ ۲۵۱پر ان کا یہ بیان درج ہے کہ ’’قادیان کے تقسیم کے Referenceمیں مسلمانوں کو یکجا رکھنا مقصود ہے اور آپس میں ملحقہ مسلم علاقوں کو یکجا رکھنا مقصد ہے ۔‘‘
انہوں نے کہا:۔
’’تقسیم کی بنیا د مذہب ہے ، قادیان اسلامی دنیا کا ایک بین الاقوامی زندہ مرکز بن چکا ہے‘‘۔لہذا ا س اکائی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہندوستان میں شامل ہوں یا پاکستان میں اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ہم پاکستان میں داخل ہوں گے۔
میمورنڈم میں صفحہ ۴۳۷پر جو نکات پیش کئے گئے ہیں ان میں سے نمبرایک پر یوں درج ہے:۔
’’قادیان ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے تھانہ بٹالہ میں واقع ہے ۔ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ گورداسپور ضلع کو مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کا کلیم اتنا واضح اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہے کہ عملاً اس بارے میں کوئی بحث بھی باؤنڈری کمیشن کے دائرہ سے باہر ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف زیرو پوائنٹ آٹھ فی صدہے۔ اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماًغیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اس بارے میں وائسرائے کی معلومات درست نہیں تھیں۔ ۱۹۴۱ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ضلع گورداسپور کی مسلمان آبادی کُل آبادی کا ۱۴ء۴۹فی صد ہے۔ اس طرح سے مسلمانوں کی آبادی دوسروں کی نسبت ۸ء۲فی صدزیادہ ہے۔۸ء۰فی صد نہیں ‘‘۔
اس میمورنڈم میں مزید وضاحت یہ کی گئی کہ اگر اچھوت اقوام اور ہندوستانی عیسائی ہندوؤں اور سکھوں کا ساتھ دیں تب بھی مسلمان آبادی ۸ء۲ فیصد زائد ہے۔ مگر عیسائی راہنما ایس پی سنگھا، جو بٹالہ ضلع گورداسپور سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا …….کہ وہ پاکستان میں رہنا پسند کریں گے۔عیسائیوں کی آبادی ضلع گورداسپورمیں ۴۶ء۴فیصدہے ۔ اگر اس کو مسلمان آبادی کے ساتھ شامل کر لیا جائے تو پھر ضلع گورداسپور میں پاکستان میں شمولیت اختیا ر کرنے والوں کا تناسب۶۰ء۵۵فیصد ہو جاتا ہے۔ اور یہ معتدبہ تفاوت ہے ۔
میمورنڈم میں دوسری تحصیلوں کے بارے میں یہ اعداد وشمار دئیے گئے۔
(۱)۔۔۔تحصیل بٹالہ۰۷ء۵۵
(۲)۔۔۔تحصیل گورداسپور۱۵ء۵۲
(۳)۔۔۔تحصیل شکرگڑھ۱۴ء۵۳
(۴)۔۔۔تحصیل پٹھانکوٹ۸۸ء۳۸
اور اس میمورنڈم میں یہ واضح کیا گیا کہ تحصیل بٹالہ میں مسلمانوں کی آبادی ۱۴ء۱۰فی صد زیادہ ہے ۔تحصیل گورداسپور میں ۳۰ء۴شکرگڑھ میں ۲۸ء۶فی صد۔ اور اگر اُن عیسائیوں کو شامل کر لیا جائے جو پاکستان میں شمولیت کے خواہاں ہیں تو پھر تحصیل بٹالہ میں اکثریت ۵۳ء۶۰فی صد اور تحصیل شکرگڑھ میں۸۸ء۵۴فی صد ہو جاتی ہے۔
تحصیل پٹھانکوٹ کے بارے میں جماعت احمدیہ نے یہ کہا کہ اس کو بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہئے ۔کیونکہ اس میں ’’OTHER FACTORS‘‘ کی شق کے تحت پاکستان میں شامل کئے جانے کے قوی دلائل موجود ہیں۔جو یہ ہیں کہ دریائے راوی اس تحصیل میں سے گزرتا ہے اور پھر مغربی پنجاب میں داخل ہوتا ہے اس میں سے جو نہریں نکالی گئی ہیں ان کا ھیڈورکس مادھوپور ہے۔ اور یہ نہریں مغربی پاکستان کے علاقے کو سیراب کرتی ہیں اور اس کو مشرقی پنجاب میں شامل کئے جانے کے نتائج بڑے بھیانک ہو سکتے ہیں ۔
جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اگر تحصیل بہ تحصیل آبادی کا جائزہ لیا جائے توبھی ضلع گورداسپور اور اسکی تمام تحصیلوں کو پاکستان میں آنا چاہئے اور اگر ذیل کو اکائی قرار دیا جائے یا تھانہ کو اکائی قرار دیا جائے توبھی قادیان کو پاکستان میں آنا چاہئے ۔ کیونکہ دِ ذیل جو کہ پچاس ساٹھ دیہات پر مشتمل اکائی ہوتی ہے اگر اس کو بنیا د بنایا جائے تو قادیان جو کہ دلّہ کی ذیل میں آتا ہے اس میں مسلمان اکثریت۱۰ء۶۱فی صد ہے اور قادیان سے مشرق کی جانب دریائے بیاس تک اورمغرب کی جانب بٹالہ تک سارے کے سارے ذیل مسلم اکثریت کے ذیل ہیں اس لئے قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔یہ میمورینڈم کتاب کی جلد اوّل کے صفحہ ۴۲۸سے لے کر ۴۵۹تک لفظ لفظ ریکارڈ پر موجود ہے ۔اس میمورینڈم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت مدّلل اور قوی دستاویز ہے جس کا مطالعہ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔
غرضیکہ حقائق اتنے واضح روشن اور واشگاف ہیں کہ اس بارہ میں اٹارنی جنرل کی طرف سے سوال اٹھایا جانانا قابلِ فہم ہے۔
تاریخ میں جن لوگوں کی وابستگیاں کانگریس کے ساتھ رہی ہوں اور جوسستی شہرت حاصل کرنے کے لئے پبلک سٹیج پر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے من گھڑت ‘غیر مستند بے سروپا الزامات دہرانے کے عادی ہوں ان کی بات اور ہے مگر قومی اسمبلی ہر شہری کے نزدیک متانت، وقاراور ثقہ بحث کی آئینہ دارہونی چاہئے تھی۔ خصوصی کمیٹی میں یہ سوال اٹھا کر کمیٹی کی پوری کارروائی کو مسندِاعتبار سے گرا کر مشتبہ بنا دیا گیا۔
کمیٹی کے سامنے جو بات زیرِ غور تھی وہ عقیدۂ ختمِ نبوت سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر اس سوال کا مقصد تحریکِ پاکستان سے سیاسی وابستگی یا عدم وابستگی ظاہر کرنا تھا تو ترمیم ان الفاظ میں ہونی چاہئے تھی:۔

’’جو شخص تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کے مفاد کے خلاف کام کر چکا ہو وہ آئین اور قانون کی اغراض سے غیر مسلم ہو گا اور پاکستانی شہریت کا حقدار نہ ہو گا۔‘‘

اگر یہ مقصد ہوتا تو جماعت احمدیہ تو اپنے علیحدہ میمورینڈم کے باوجود اس تعریف میں نہ آتی مگر یہ ختمِ نبوت والے احراری اور کانگریسی علماء ضرور اس تعریف میں آ جاتے۔ عقل دنگ ہے کہ اٹارنی جنرل ان مولویوں کے ہاتھوں ایسے بے بس ہو گئے کہ ان کو اپنا بنیادی ریفرینس ہی بھول گیا ۔مگر کیا کیجئے اﷲوسایا کی کتاب سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے ۔

(۱۱) اٹارنی جنرل کی آخر ی بحث(دلچسپ انکشاف)

اﷲوسایا کی مذکورہ کتاب کے مطالعہ سے بعض ایسے انکشافات بھی ہوئے ہیں جو سنجیدہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہونگے۔اﷲوسایاکی مرتبہ کتاب کے صفحہ۲۵۶سے لے کر ۳۱۷ تک اٹارنی جنرل کا وہ مفصل بیان درج ہے جو گویا انہوں نے تمام کارروائی کے اختتام پر بحث کو سمیٹتے ہوئے دیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ اٹارنی جنرل کے اِس بیان میں اﷲوسایا موصوف نے کوئی ’’اختصار‘‘ یا’’ اجمال‘‘ کی کارروائی نہیں کی ہوگی اور بالخصوص کوئی ایسی ٹھوس اور مؤثر بات جو جماعت احمدیہ کے موقف کا توڑ اور نفی کرتی ہو اٹارنی جنرل کے بیان میں سے یقیناً حذف نہیں کی ہوگی۔ حکومتی پارٹی کی طرف سے جو ریفرنس یعنی مسئلہ خصوصی کمیٹی کے سپردہوا تھا اس کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر چکے ہیں۔ یہ بات حیرت اور دلچسپی کا موجب ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی آخری بحث میں یوں تو وزیرِ قانون کی تحریک اور حزبِ اختلاف کی قرار د اد دونوں ہی پرتنقید کی، مگر وزیرِ قانون کی تحریک کو تو ایک ہی فقرے میں نمٹا دیا ۔ اٹارنی جنرل نے کہا:۔
’’آغاز میں پہلے وہ تحریک جو کہ عزت ماب وزیرِ قانون نے پیش کی تھی، جناب والا! تحریک کے الفاظ یہ ہیں :۔
’’دینِ اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو‘‘۔
آئیے پہلے اس جملہ کی ترکیب کو لیں۔

’’ اسلام کے اندر حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا‘‘۔

’’ اگر ایوان کی یہ رائے ہو کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺکی ختمِ نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ مسلمان نہیں ہیں ، تو پھر ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ تحریک بذاتِ خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے ۔ اگریہ کہا جاتا کہ ’’اسلام میں یا اسلام کے حوالہ سے بحث کرنا‘‘ تو پھر بات سمجھ میں آسکتی تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ ’’اسلام میں حیثیت یا مقام‘‘ اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم نہ بھی ہو لیکن یہ تضاد ایوان کے نوٹس میں لانا میرا فرض تھا۔ یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے ان کی حیثیت کیا ہے‘‘۔
گویا اٹارنی جنرل خود ہی مفتی بھی بن گئے،عالمِ دین بھی بن گئے اور یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ تحریک اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ جب کوئی ختمِ نبوت کے ایک مخصوص مفہوم کا انکاری ہو گیا تو اس کی حیثیت اسلام میں متعین کرنے کا کیا سوال ہے؟ وہ اس بحث میں نہیں پڑے کہ آخرکوئی تصفیہ طلب اختلاف تھا تو معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا۔ اور وہ اختلاف ایسا تھا کہ اس وقت کے سیاسی اقتدار کی سوچ کے مطابق اس مسئلہ پر قومی اسمبلی کا غور کرنا ضروری تھا ورنہ وہ مسئلہ قومی اسمبلی میں نہ اٹھایا جاتا۔ جماعت احمدیہ کے امام اور وفد کو قومی اسمبلی میں طلب کرنے کا مبینہ مقصد ہی یہ تھا کہ اس مسئلہ پر ان کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقعہ دیا جائے اور پھر یہ غور ہو کہ ختمِ نبوت کے بارہ میں ایسا مؤقف رکھنے والوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔بات اسلام کے حوالہ سے ہی ہونی تھی اور اسی حوالہ سے غور بھی ہونا تھا۔
یہ بات کہ’’ اسلام میں‘‘ ان کی حیثیت کیا ہے اور ’’اسلام کے حوالہ سے ‘‘ ان کی حیثیت کیا ہے نفسِ مضمون کے لحاظ سے ایک ہی بات تھی مگر اٹارنی جنرل نے اسلام کے حوالہ سے بھی اس سوال پر بحث کرنا ضروری نہ سمجھا اور سمجھ لیا کہ اس بات پر امتِ مسلمہ مبینہ طور پر متفق ہے۔ اور اس بات پر کوئی بحث نہیں کی کہ امت کا اتفاق موجود تھا بھی یا نہیں۔امام جماعت احمدیہ اپنے تفصیلی بیان میں کہہ چکے تھے کہ امت کے آئمہ سلف کا اتفاق اس مفہوم پر تھا جو جماعت احمدیہ کے عقیدہ سے مطابقت رکھتا ہے۔
جناب اٹارنی جنرل گیارہ دن تک حضرت امام جماعت احمدیہ پر جرح کرتے رہے۔ اﷲ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملہ پر علمائِ دین نے، جو اسمبلی میں موجود تھے، کوئی مواد اٹارنی جنرل کو مہیا نہیں کیا جو اٹارنی جنرل بیان کریں کہ ایسے شخص کی اسلام میں کیا حیثیت ہے ۔ اس مسئلہ پر مکمل خاموشی رہی ۔کوئی قرآن و سنت کا حوالہ، کوئی آئمۂ سلف کے اقوال پیش نہیں کئے گئے اور کوئی ایک سوال بھی اس بارے میں نہیں کیا گیا کہ ’’ دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت کیا ہے جو حضرت محمد ﷺکے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتاہو‘‘ ۔اور نہ ہی اﷲوسایاکی مرتبہ کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے اپنی آخری بحث میں قرآن و حدیث کے حوالے سے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ جماعت احمدیہ اپنے محضرنامے میں اس بارے میں مفصل بیان داخل کر چکی تھی جس میں قرآن و حدیث کے علاوہ تیرہ صدیوں کے بزرگانِ سلف کی تحریرات و تفاسیر اس سوال کے جواب میں پیش کی تھیں ۔ علمائِ دین میں سے کوئی بھی اٹارنی جنرل کی مدد کو نہ پہنچے اور یوں ؂

رہروی میں پردۂِ رہبر کھلا

اٹارنی جنرل صاحب خود تو عالمِ دین( روایتی مفہوم میں )تھے نہیں، نہ ان کو اس بارہ میں کوئی دعویٰ تھا۔بلکہ وہ خود اقراری ہیں کہ ان کے لئے زبان کا مسئلہ ہے۔ مراد ان کی غالباً عربی زبان سے تھی، ورنہ اردو اور انگریزی پر تو انہیں عبور حاصل تھا۔ علمائِ دین نے ان کو جماعتِ احمدیہ کے اٹھائے گئے سوالات اور حوالوں کا جواب مہیا نہیں کیااور بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو علامہ اقبال پر انحصار کرنا پڑا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے متعدد حوالے دئے ۔
علامہ اقبال نے عصرِ جدید میں پڑھے لکھے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے ۔ علامہ کے فکر میں جدت پسندی ، کسی حد تک روایت سے بغاوت ، خانقاہوں اور تصوف اور ملائیت کی مخالفت اور فلسفہ اور منطقی مباحث شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے اسلام کا مطالعہ بھی فلسفہ کی نظر سے کیا ہے اور کہاجا سکتا ہے کہ اقبال نے اسلامی فکر کو ایک نئی زبان عطا کی ہے ۔ گو اس بارہ میں اختلاف ہو سکتا ہے، اور موجود ہے کہ ایسا کرنے میں اقبال کا فلسفیانہ نقطۂ نظر کہاں تک اسلامی فکرسے ہم آہنگ ہے۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرما چکے ہیں:۔
’’میری مذ ہبی معلومات کا دائرہ نہائت محدود ہے ۔ میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور نقطہ ٔخیال ایک حد تک طبیعتِ ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یا نا دانستہ میں اسی نقطہ ٔ خیال سے حقائقِ اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں‘‘۔ (اقبال نامہ‘ حصہ اول صفحہ ۴۶۔۴۷‘ ناشر شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور)
مگر اٹارنی جنرل نے اپنے استدلال کی بنیاد اقبال کے خیالات پر ر کھی اور کہا:۔
’’علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔
فتحیت کے نظریہ سے یہ مطلب نہ اخذکیا جائے کہ زندگی کے نوشتہ تقدیر کا انجام استدلال کے ہاتھوں جذباتیت کا مکمل انخلاء ہے۔ ایسا وقوع پذیر ہونانہ توممکن ہی ہے اور نہ پسندیدہ ہے۔ کسی بھی نظریہ کی دینی قدرو منزلت اس میں ہے کہ کہاں تک وہ نظریہ عارفانہ واردات کے لئے ایک خود مختارانہ اور نافذانہ نوعیت کے تحقیقی نقطۂ نگاہ کو جنم دینے میں معاون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر اس اعتقاد کی تخلیق بھی کرے کہ اگر کوئی مقتدر شخص ان واردات کی وجوہ پراپنے اندر کوئی مافوق الفطرت بنیاد کا داعیہ پاتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس نوعیت کا داعیہ تاریخ انسانی کے لئے اب ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح پر یہ اعتقاد ایک نفسیاتی طاقت بن جاتا ہے جو مقتدر شخص کے اختیاری دعویٰ کو نشوونما پانے سے روکتا ہے۔ ساتھ ہی اس تصور کا فعل یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کے واردات قلبیہ کے میدان میں اس کے لئے علم کے نئے مناظر کھول دے۔‘‘
پھرحضرت مرزا غلام احمد کے حوالے سے علامہ اقبال فرماتے ہیں:۔
’’ اختتامیہ جملے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ولی اور اولیاء حضرات نفسیاتی طریقے سے دنیا میں ہمیشہ ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔ اب اس زمرہ میں مرزا صاحب شامل ہیں یا نہیں، یہ علیحدہ سوال ہے۔ مگر بات اصل یہی ہے کہ بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کرکے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے رو گردانی کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آدمی کو فی زمانہ یہ حق ہے کہ ان حضرات کے واردات قلبیہ کا ناقدانہ طورپر تجزیہ کرے ۔ ختمیتانبیاء کا مطلب یہ ہے جہاں اور بھی کئی باتیں ہیں کہ دینی زندگی میں جس کا انکار عذاب اخروی کا ابتلاء ہے ،اس زندگی میں ذاتی نوعیت کا تحکم و اقتدار اب معدوم ہو چکا ہے۔‘‘
اقبال کے مندرجہ بالا اقتباس کا نتیجہ اٹارنی جنرل نے یہ نکالاکہ:۔
’’اس لئے جناب والا! آئندہ کوئی فردیہ نہیں کہے گا کہ مجھے وحی الٰہی ہوتی ہے اور یہ اﷲ کا پیغام ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔لازم صرف وہی ہے جو قرآن پاک میں پہلے سے آچکاہے۔‘‘
اقبال کی اس عبارت پر ذرا غور کریں تو اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو اٹارنی جنرل نے اخذ کیا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے ختمِ نبوت کا جو یہ اجتماعی مفہوم گویا بیان کر دیا کہ بس اب وحی بند ہے ۔ اس پر علّامہ اقبال کا مؤقف وہی ہے جو حضرت محی الدین ابنِ عربی(۵۶۰ھجری۔۶۳۸ھجری) کا ہے، صرف زبان اور اصطلاحات کا فرق ہے ۔اقبال فلسفہ کی زبان میں وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو حضرت محی الدین ابنِ عربی الٰہیات اورتصوف کی زبان میں فرما رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:۔
فَالنّبُوّۃ سَارِیَۃٌ اِلَی یَومِ الْقِیَامَۃِ فِی الْخَلْق واِنْ کَانَ التَّشْرِیعُ قَدْ اِنْقَطَعَ فَالتَّشْرِیْع جُزْئٌ مِن اَجْزَائِ النّبُّوَّۃ فَاِنّہ‘ یَسْتَحِیْلُ أنْ یَنْقَطِعَ خَبَرُاﷲ وأخبَارہ مِنَ الْعَالم،اِذ لَو انْقَطَع وَلَمْ ےَبْقَ لِلْعَالم غذَاء ےَتَغذی بِہ فِی بقَاء وُجودہ۔ (الفتوحات المکیۃ الجزء الثالث ۔ صفحہ ۱۵۹ ، سوال نمبر ۸۲ ۔ دارالفکر للطباعۃ والنشر والتوزیع الطبعۃ ۱۹۹۴ء)
ترجمہ: نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے گو تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے۔ پس شریعت، نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔اور یہ محال ہے کہ اﷲ کی طرف سے خبریں آنی منقطع ہو جائیں اور دنیا کے لئے غذا باقی نہ رہے، جس سے اس کے وجود کو بقا حاصل ہو۔
گویا محی الدین ابنِ عربی’’ نبوت ‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اقبال اسے ’’عارفانہ واردات‘‘ کہتے ہیں ۔ محی الدین ابنِ عربی، اخبار الٰہی کا منقطع ہونا محال قرار دیتے ہیں تو اقبال یہ کہتے ہیں،’’ مگر بات اصل یہی ہے بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کرکے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے رو گردانی کی۔‘‘
ان بشری وقوعات کو اقبال اولیاء کی نفسیاتی وارداتِ قلب کے طور پر بیان کرتے ہیں اور محی الدین ابنِ عربی اخبارِ الٰہی کے طور پر۔
جناب اٹارنی جنرل نے تو اقبال کی فلسفیانہ توجیہات پرانحصار کر لیا جبکہ اقبال خود کہتے ہیں کہ مغربی فلسفہ کا نقطۂ خیال ایک حد تک ان کی طبیعتِ ثانیہ بن گیا ہے اور وہ دانستہ یا نا دانستہ اسی نقطۂ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔اور علماء حضرات نے اٹارنی جنرل کی کوئی راہنمائی نہ کی کہ جماعت احمدیہ نے محی الدین ابنِ عربی کا جو حوالہ پیش کیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔ غیر مشروط آخری نبی کا تصور جس پر کوئی جرح اور بحث نہیں ہوئی اور جسے متفق علیہ مان کر برآمد کر لیا گیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اسے نہ دیوبندی حضرات کے مسلمہ بزرگوں کی تائید حاصل ہے، نہ بریلوی حضرات کے بزرگوں کی، نہ آئمہ سلف کی۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی کہتے ہیں :

’’عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپؐ کا زمانہ انبیائِ سابق کے زمانہ کے بعداور آپ سب میں آخری نبی ہیں ۔ مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔ پھر مقام مدح میں (ولٰکِنْ رَّسُوْلَ اﷲِوَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ) فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مدح قرارنہ دیجئے تو البتہ خاتمیت با اعتبارِ تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہو گی۔(تحذیر الناس صفحہ ۳)

دیوبندی حضرات میں سے کسی نے نہ جرح میں کوئی سوال اٹھایا،نہ ہی اٹارنی جنرل کو توجہ دلائی کہ بانی ٔ دیو بندتو آنحضرت ﷺکو غیرمشروط طورپرآخری نبی نہیں مانتے ۔ان کے نزدیک تو خاتمیت باعتبارِ زمانہ نہیں ۔
بریلوی بزرگوں میں سے مولوی ابوالحسنات محمد عبدالحئی صاحب لکھنوی فرنگی محلی اپنی کتاب ’’دافع الوسواس‘‘ کے صفحہ ۱۶ پر اپنا مذہب ختم نبوت کے بارہ میں یوں پیش کرتے ہیں:۔
’’بعد آنحضرت ﷺکے زمانے کے یا زمانے میں آنحضرت ﷺ کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔‘‘
پھر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ میرا عقیدہ ہی نہیں بلکہ علمائے اہلِ سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے چلے آئے ہیں ۔چنانچہ فرماتے ہیں :
’’ علمائے اہلِ سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے عصر میں کوئی نبی صاحبِ شرعِ جدید نہیں ہو سکتا ۔ اور نبوت آپؐ 5 کی عام ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہو گا وہ متبع شریعتِ محمدیہ کا ہو گا۔‘‘ (مجموعہ فتاویٰ مولوی عبدالحئی صاحب جلد ۱صفحہ۱۴۴)
گویامولوی ابوالحسنات محمد عبدالحئی صاحب لکھنوی فرنگی محلی بھی آنحضرتﷺکو غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک آخری نبی سے مراد یہ ہے کہ آپ آخری شرعی نبی ہیں اور آپ کے بعد صاحبِ شرعِ جدیدکوئی نہ ہو گا۔مگر اسمبلی میں موجود کسی بریلوی عالم نے جرح میں سوال نہیں اٹھایا ،نہ ہی اٹارنی جنرل کو توجہ دلائی۔
یہ تو گویا ماضی قریب کے بزرگان کا ذکر تھا۔ پرانے بزرگوں میں سے حضرت امام عبدالوہاب شعرانی کا ایک قول سنئے۔ یہ معروف مشہور صوفی بزرگ جن کی کتاب ’’الیواقیت والجواہر ‘‘ کو ایک خاص سند حاصل ہے اس میں آپ فرماتے ہیں:۔
’’ اِعْلَمْ اَنَّ النبوۃ لم ترتفعً مطلقاً بَعد مُحَمَّدٍ ﷺوانّما ارتفع نبوۃُ التشریع فقط‘‘ (الیواقیت و الجواھر فی بیان عقائد الاکابر ۔ الامام عبع الوہاب الشعرانی۔ الجزء الثانی۔ صفحہ ۳۵ ۔ دارالمعرفۃ للطباعۃ و النشر بیروت لبنان ۔ الطبعۃ الثانیہ ۔۱۹۰۰ )
ترجمہ: جان لو مطلق نبوت نہیں اٹھی ۔ صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے۔
انکشاف یہ ہوا کہ جو ترمیم پیش ہو کر منظور ہوئی وہ کبھی زیرِ غور ہی نہیںآئی ا ور جس صورت میں منظور ہوئی اس پر کسی کا اتفاق نہیں۔ ’’ غیر مشروط آخری نبی‘‘ کا تصور امت میں موجود ہی نہیں۔ سب
کے سب حضور کے آخری نبی ہونے کو کسی نہ کسی رنگ میں مشروط مانتے ہیں۔ کچھ بزرگ شرعی اور غیر شرعی کی بنیاد پر مشروط قرار دیتے ہیں، کچھ زمانے اور مرتبہ کی بنیاد پر اور کچھ پرانے اور نئے کی بنیاد پر۔
جو ترمیم کی گئی ہے اس کے مطابق مندرجہ ذیل حضرات اور بزرگان غیر مسلم ٹھہرا دئے
گئے ہیں اور ان کو کان و کان خبر نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ سب بزرگان آخری نبی ہونے کو کسی نہ کسی رنگ میں مشروط مانتے ہیں۔ شرط کی نوعیت میں اختلاف ہے مشروط ہونے میں اختلاف نہیں ۔
۱۔ مولانا سید محمد قاسم نانوتوی۔
یہ آنحضرت ﷺکو شرعی نبی ہونے کے لحاظ سے آخری نبی مانتے ہیں اور آخری نبی ہونا تشریع سے مشروط ہے۔ ان کے نزدیک حضورؐ زمانے کے لحاظ سے آخری نہیں،مقام و مرتبہ کے لحاظ سے آخری ہیں۔ غیر مشروط بہر حال نہیں۔
۲۔ مولانا مفتی محمود۔ کیونکہ وہ بانی دیو بند سید قاسم نانوتوی کے ہم مسلک ہیں۔
۳۔ مولانا سید عبدالحئی فرنگی محلی۔
۴۔ مولانا شاہ احمد نورانی، کیونکہ وہ بھی غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتے۔ملاحظہ ہو اﷲ وسایا کی کتاب میں مولانا شاہ احمد نورانی کہتے ہیں ۔
’’جناب خاتم النبیین کا معانی ای لاینبأ احد بعدہ واما عیسیٰ علیہ السلام ممن نبیٌ قبلہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا اور مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ نبی ہیں جو حضور علیہ السلام سے پہلے نبی بنائے جا چکے ۔‘‘ (صفحہ ۱۲۹)
گویا مولانا شاہ احمد نورانی اس شرط کے ساتھ حضو ر ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں کہ جسے آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی وہ آپﷺ کے بعد آ سکتا ہے۔ یعنی آپ کی خاتمیت زمانے سے مشروط نہیں، بعثت سے مشروط ہے۔
جو ترمیم منظور کی گئی اس کی رو سے جو شخص کسی مصلح کا ظہور بھی تسلیم کرے، غیر مسلم ٹھہرا دیا گیا ہے جبکہ علامہ اقبال اس بات کے قائل ہیں کہ :۔
’’بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کرکے لوگوں کی رہنمائی کے لیئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے رو گردانی کی۔‘‘
تو گویا علامہ اقبال بھی غیر مسلم ٹھہرے۔ اٹارنی جنرل کا سارا استدلال اقبال کے حوالہ سے تھا وہ تو باطل ہو گیا اور قرآن و حدیث اور آئمہئِ سلف کے اقوال علماء نے پیش نہ کئے ۔ جماعت احمدیہ نے پیش کئے تو ان پر جرح نہ کی گئی ۔ یہ خصوصی کمیٹی کی کارروائی کی تصویر ہے جو اﷲ وسایا کی کتاب سے ابھرتی ہے۔ علماء حضرات کی موجودگی میں کھلی آنکھوں اور سنتے کانوں ان کی رہبری میں یہ ترمیم منظورہوئی اور یوں ؂

رہروی میں پردۂِ رہبر کھلا

(۱۲) اے اہلِ وطن!

پاکستان کی قومی اسمبلی نے مسلمان کی تعریف تو متعین نہ کی مگر آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعہ احمدیوں کو آئین و قانون کی اغراض سے غیر مسلم قرار دے دیا۔احمدیوں کے لئے یہ صورت کتنی بھی ناگوار کیوں نہ ہو، مگر قانونی پوزیشن یہی ہے ،کہ پاکستان کے آئین کی رو سے احمدی غیر مسلم ٹھہرا دیئے گئے ہیں۔ احمدی حضرات اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور وہ اس بات پر راضی ہیں کہ وہ خدا کے حضور مسلمان ٹھہریں اور روزِ حشر آنحضرت ﷺ کی امّت میں ان کا شمار ہو، آنحضرت ﷺ کی شفاعت ان کو حاصل ہو اور حضور ﷺ کا دامن انہیں میسر رہے۔ ان کی اس خواہش کو ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔
اپوزیشن کا ریزولیوشن اور وزیرِ قانون کی تحریک، جو ہماری اس کتاب کے پہلے باب میں پس منظر کے عنوان کے تحت درج کر دی گئی ہے، ان کا جائزہ لیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے اپنی بحث کے دوران یہ کہا کہ:۔
’’ لیکن میرا فرض ہے کہ میں معزز اراکین کی توجہ اس امر کی طرف دلاؤں کہ اگر آپ شہری آبادی کے کسی حصہ کو ایک الگ مذہبی جماعت قرار دیتے ہیں،تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا مذہب تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔ ان کو اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کا حق دیں۔‘‘(صفحہ۲۶۱)
پھر اپنی بحث کے آخری حصہ میں اس بات کا اعادہ کیا اور کہا:۔
’’اب میں دستور کے مطابق احمدیوں کی حیثیت کے بارہ میں گزارشات کروں گا، فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو، اراکین جو بھی راستہ اختیار کریں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ وہ پاکستانی ہیں اور شہریت کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ ’’ذمی‘‘ یا دوسرے درجہ کے شہری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یاد رکھئے کہ پاکستان لڑ کر حاصل نہیں کیا گیا بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ایک معاہدہ تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ ہندوستان میں ایک مسلمان قوم تھی اور دوسری ہندو قوم، اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ مسلمان قوم بھی تقسیم ہو گئی اور اس کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ ہم ان کوبے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ چنانچہ یہ قرار پایا کہ ان کے شہری اور سیاسی حقوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔ اسی طرح ہم پاکستان میں ہندؤوں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔ اس بات کا ذکر آپ کو چوہدری محمدعلی کی لکھی ہوئی کتاب، Emergence of Pakistan(ایمرجینس آف پاکستان) میں ملے گا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہوا تھا جسے قائدِاعظم نے خطاب کیا تھا۔ وہ ایک نہائت مشکل دور تھا۔ بے شمار مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ قربانیا ں دی گئی تھیں ۔ اس معاہدہ کے باوجود ہندو مسلمانوں کو ذبح کر رہے تھے جس کا قدرتی طور پر پاکستان میں ردِ عمل ہوا۔ قائدِاعظم نے مسلمانوں سے پر امن رہنے کی پر سوز اپیل کی۔ وہ ہمیں اپنے وعدے کا احساس دلا رہے تھے ۔ وہ حکومتِ پاکستان کو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی یاددہانی کرا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا:۔

’’آپ اپنے مندروں میں جانے کو آزاد ہیں، اپنی مسجدوں میں جانے کو آزاد ہیں۔‘‘

اورمزید فرمایا:۔
’’ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان،مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ سب کے لئے سیاسی آزادی برابرہو گی‘‘۔(صفحہ۳۱۶۔۳۱۷)
اس طرح آئینی ترمیم سے قبل عوام اور عالمی رائے عامہ کو اطمینان دلانے کے لئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ احمدیوں کے شہری حقوق محفوظ ہوں گے اور ان تحفظات کے ساتھ آئینی ترمیم منظور کی جا رہی ہے۔ آئین کی ترمیم کے ذریعہ مذہب میں دخل اندازی کو سنجیدہ طبقہ نے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا مگر پھر بھی یہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی کہ شائد روز روز کے جھگڑوں ، تشدد پسند مولویوں اور ان کے نت نئے مطالبوں سے نجات مل جائے گی۔ لیکن احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ احمدیوں کے حقوق سلب کر لینے کے مطالبات شروع ہو گئے اور بالآخر ۱۹۸۴ء میں ایک فوجی آمر نے اپنے ناجائز اقتدار کو سہارا دینے کے لئے ایک ایسا قانون نافذ کر دیا جس سے مذہبی اذیت پسندوں کی مراد بر آئی اور احمدیوں کے لئے اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کے نام سے پکارنا اور نماز کے لئے اذان دینا، قابلِ تعزیر جرم ٹھہرا اور تین سال قید با مشقت اور غیر معین جرمانہ کی سزا مقرر کر دی گئی۔ان کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی گئی اور قانون کی دفعات میں ایسی راہیں کھول دی گئیں کہ احمدیوں کے لئے اپنے مذہبی اعتقاداور ضمیرکے مطابق نہ صرف خدا کے حضور عبادات بجا لانا محال کر دیا گیا بلکہ ان کی روز مرہ زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔ السلا م علیکم کہنے پر،ماہِ رمضان میں اپنے ہی گھر میں اعتکاف بیٹھنے پر، عزیزوں دوستوں کو افطار کے لیے مدعو کرنے پر، دعوتی کارڈ پر بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم لکھنے پر مقدمات قائم ہوئے اور سزائیں دی گئیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ یہ مطالبے شروع ہو گئے کہ تین سال کی سزا نا کافی ہے۔ نت نئی صورتیں احمدیوں کو اذیت پہنچانے کی پیدا کی جانے لگیں ۔اور تو اور’ ربوہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کے مطالبے ہونے لگے اور بالآخر نام تبدیل کر دیا گیا۔تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں مگر امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہر ممکن حملہ احمدیوں کی مذہبی آزادی پر کیا گیا ۔ان کی تبلیغ پر پابندی لگا کر یکطرفہ زہریلا پراپیگینڈا ان کے خلاف کیا جا رہا ہے ۔ احمدیوں کے سالانہ جلسہ اور معمول کے اجتماعات پر سرکاری احکام کے تحت پابندیاں عائد کی گئیں ۔ان کے جرائد و رسائل پر لاتعداد مقدمات قائم کئے گئے۔ غرضیکہ احمدیوں کے لئے نہ مذہبی آزادی میسر رہی، نہ آزادیٔ اظہار، نہ آزادیٔ اجتماع۔
اس ارضِ پاک میں کلمہ ٔ طیّبہ مٹانے کی مہم بھی چلائی گئی اور اس غرض کے لئے انتظامیہ اور پولیس کو استعمال کیا گیا ۔ اہلِ وطن اپنے احمدی ہم وطنوں کی مذہبی آزادی سلب ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہے۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ احساس بالکل ہی اٹھ گیا ہوتا۔ایسا بھی ہوا کہ ایک موقعہ پر’’ایک مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ آئی ہوئی پولیس فورس کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ (احمدی) بغیریونیفارم کے تو کسی کو کلمہ نہیں مٹانے دیں گے‘ یہ تو سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھے ہیں ‘ لیکن اگر حکومت مٹائے تو احمدی کہتے ہیں کہ ہم مزاحمت نہیں کریں گے ۔ اس صورت میں اﷲ جانے اور حکومت۔ جب وہ مجسٹریٹ اتنی بات کہہ رہا تھا ‘ تو ایس ایچ او نے کہا کہ جناب یہ باتیں تو بعد میں طے ہونگی پہلے یہ بتائیں کہ مٹائے گا کون؟ اس نے کہا کہ لازماً تم ہی مٹاؤ گے، تمہیں اسی لئے ساتھ لایا ہوں ۔ اس پر ایس ایچ او نے کہا یہ میری پیٹی ہے اور یہ میرا STAR ہے جہاں مرضی لے جائیں مگر خدا کی قسم میں کلمہ نہیں مٹاؤں گااور نہ ہی میری فورس کا کوئی آدمی کلمہ مٹائے گا۔ اس لئے جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ کلمہ کون مٹائے گا اس وقت تک یہ ساری باتیں فضول ہیں کہ کس طرح مٹایا جائے۔اس قسم کا ایک واقعہ نہیں ہوا، پاکستان کے طو ل و عرض میں ایسے کئی واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ پولیس جو پاکستان میں سب سے بدنام انتظامیہ مشہور ہے اور جسے ظالم‘ سفاک‘ بے دین اور بے غیرت کہا جاتا ہے اور ہر قسم کے گندے نام دیئے جاتے ہیں کلمہ کی محبت ایسی عظیم ہے، کلمہ کی طاقت اتنی عجیب ہے کہ ایک جگہ نہیں متعدد جگہوں سے بارہا یہ اطلاعات ملی ہیں کہ پولیس نے کلمہ مٹانے سے صاف انکار کر دیاہے اور یہ کہا کہ کوئی اور آدمی پکڑو جو کلمہ مٹائے،ہم اس کے لئے تیار نہیں۔
اسی طرح بعض مجسٹریٹس کے متعلق اطلاعیں مل رہی ہیں کہ وہ بڑے ہی مغموم حال میں سر جھکا ئے ہوئے آئے ، معذرتیں کیں اور عرض کیا کہ ہم تو مجبور ہیں ، ہم حکومت کے کارندے ہیں ، ہماری خاطر کلمہ مٹا دو ۔ احمدیوں نے کہا کہ ہم تو دنیا کی کسی حکومت کی خاطر کلمہ مٹانے کو تیار نہیں ہیں، اگر تم جبراً مٹانا چاہتے ہو تو مٹاؤ ۔ پھر مجسٹریٹ نے کہا اچھا سیڑھی لاؤ تو جواب میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ سیڑھی بھی لے کر نہیںآئیں گے ۔پھر انہوں نے کسی اور سے سیڑھی منگوائی اور ایک آدمی کلمہ مٹانے کے لئے اوپر چڑھایا۔ اس وقت احمدیہ ’’ مسجد‘‘ سے ایسی درد ناک چیخیں بلند ہوئیں کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کا سب کچھ برباد ہو چکا ہے اور کوئی بھی زندہ نہیں رہا۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ خود مجسٹریٹ کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں اور ابھی کلمہ پر ایک ہی ہتھوڑی پڑی تھی کہ مجسٹریٹ نے آواز دی کہ واپس آ جاؤ ہم یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے ۔حکومت جو چاہتی ہے ہم سے سلوک کرے، ہم اس کے لئے تیار ہیں ‘‘۔ (زھق البا طل صفحہ۱۷۸تا ۱۷۹)
’’ایک اور انتہائی دردناک واقعہ جو ہمارے علم میں آیا وہ اس سے بھی زیادہ ظالمانہ ہے کہ ایک موقعہ پر جب پولیس نے بھی کلمہ مٹانے سے انکار کر دیا اور گاؤں کے سب مسلمانوں نے بھی صاف انکار کر دیا کہ ہم ہر گز یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے تو اس بدبخت مجسٹریٹ نے سوچا کہ میں ایک عیسائی کو پکڑتا ہوں کہ وہ کلمہ مٹائے۔ چنانچہ اس نے ایک عیسائی کو کہا کہ وہ کلمہ مٹائے ۔ اس نے کہا کہ میں اپنے پادری صاحب سے پوچھ لوں۔ پادری نے یہ فتویٰ دیا کہ دیکھو !اﷲسے توہمیں کوئی دشمنی نہیں ہے خدا کی وحدانیت کا تو ہم بھی اقرارکرتے ہیں اور وہ بھی۔ اس لئے کسی عیسائی کا ہاتھ لَااِلٰہ اِلَّااﷲ کو نہیں مٹائے گا ہاں جاؤ اور (نعوذباﷲ من ذٰلک ) محمدرسول اﷲصلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کے نام کو مٹا دو۔ اس بدبخت اور لعنتی نے یہ گوارہ کر لیا کہ ہمارے آقاومولیٰ محمد مصطفی کا نام ایک عیسائی کے ہاتھ سے مٹوا دے ‘‘۔(زھق الباطل صفحہ ۱۸۰۔۱۸۱)
امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد نے متنبہ کیا:۔

’’ مگر میں ان کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہمارے خدا کو جس طرح اپنے نام کی غیرت ہے اسی طرح ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفی کے نام کی بھی غیرت ہے۔ محمد مصطفیٰ ﷺ خود مٹنے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر خدا کے نام کو مٹنے نہیں دیتے تھے۔ہمارا خدا نہ خود مٹ سکتا ہے اور نہ محمد ؐ کے پاک نام کو کبھی مٹنے دے گا۔ اس لئے اے اہلِ پاکستان!میں تمہیں خبردار اور متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تم میں کوئی غیرت اور حیا باقی ہے تو آؤ اور اس پاک تحریک میں ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔ کلمہ، اس کی عزت اور اس کی حرمت کو قائم کرو‘‘۔

اور فرمایا:۔

’’پس اے اہلِ پاکستان! اگر تم اپنی بقا چاہتے ہوتو اپنی جان ، اپنی روح ، اپنے کلمہ کی حفاظت کرو۔ مَیں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اس کلمہ میں جس طرح بنانے کی طاقت ہے اس طرح مٹانے کی بھی طاقت موجود ہے۔ یہ جوڑنے والا کلمہ بھی ہے اور توڑنے والا بھی مگر ان ہاتھوں کو توڑنے والا ہے جو اس کی طرف توڑنے کے لئے اٹھیں۔ اللہ تمہیں عقل دے اور تمہیں ہدایت نصیب ہو‘‘۔(زھق الباطل صفحہ ۱۸۱ ،خطبہ جمعہ فرمودہ یکم مارچ۱۹۸۵ مسجد فضل لندن)

آخر میں ہم ا ہل وطنِ اور دانشورانِ قوم سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ایک کھلی کھلی نا انصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے اورتشدد، منافرت اورعدم رواداری کے دہکتے ہوئے الاؤ سے قوم کو نجات دلائی جائے۔
(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل ۲۹؍مارچ ۲۰۰۲ء تا ۱۶؍مئی ۲۰۰۲ء)

مزید معلومات کیلئےویڈیو دیکھئے: سلسلہ ء انٹرویو رکن وفد قومی اسمبلی دوست محمد شاہد

کبھی کبھی زنا کرنے کا الزام اور اس کی حقیقت

معاندین احمدیت الفضل کی ادھوری عبارت پیش کر کے حضرت مسیح موعود ؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی ذات پر (نعوذ باللہ) زنا کا الزام لگاتے ہیں ۔ معترضہ عبارت مندرجہ ذیل ہے :۔
حضرت مسیح موعودؑ ولی اللہ تھے۔اور ولی االلہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔اگر انھوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا ۔تو اس میں حرج کیا ہوا۔پھر لکھا ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعودپر اعتراض نہیں ۔کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کرتے تھے۔ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مؤ رخہ31اگست1938ء)

یہ بالکل غلط اور جھوٹا اعتراض ہے ۔  مخالفین احمدیت مخالفت کی آگ میں اسقدر اندھے ہوگئے ہیں کہ  خدا تعالیٰ کے پیاروں سے رقابت اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔تحریف میں تو یہودیوں سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔یہ ایسی ہی طرز کا اعتراض ہے کہ جس طرح کوئی قرآن کریم کی آیت ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ‘‘(النساء :44) کا حوالہ دیکر کہدے کہ نماز نہ پڑھنے کا حکم ہے، جبکہ اس کے بعد ’’وَاَنْتُمْ سُکٰرٰ ی ‘‘(جب تم پر مدہوشی کی کیفیت ہو)کے الفاظنہ پڑھے۔

الفضل کا نا مکمل حوالہ دے کر  یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ  نعوذ باللہ جماعت احمدیہ خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔حالانکہ یہ تحریف اور افتراء کی وہ صورت ہے کہ جس سے نہ صرف حضر ت اقدس مسیح موعودؑ اورحضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ بلکہ خدا کے اولیاء اور نبیوں کی بھی ہتک کی جارہی ہےکہ وہ کبھی کبھار زنا کیا کرتے تھے۔یہ وہی روش ہے جو آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرنے والے غیر مسلم اپناتے ہیں۔
حقیقت حال یہ ہے کہ معترضہ عبارت دراصل ایک منافق کی ہے جس نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کو بہت سے گمنام خطوط لکھے جن میں اپنی منافقت کا اظہار کرتے ہوئے اعتراضات کیے۔اسی کے ایک خط کو حضرت صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں پیش کیا ۔آپؓ نے فرما یا کہ ایک طرف یہ شخص اپنے اخلاص کا اظہار کرتا ہے تو دوسری طرف سلسلہ سے دشمنی کا اظہار حضرت مسیح موعودؑ اور آپؓ پر اس قسم کے بے ہودہ الزام لگا کر کرتا ہے۔خطبہ کے اصل الفاظ یہ ہیں:۔

 اس کی سلسلہ سے محبت کا اندازہ اسی سے ہوسکتا ہے کہ ایک خط میں جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے۔اس پر یہ تحریر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعودولی اللہ تھے۔اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔اگر انھوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا ۔تو اس میں حرج کیا ہوا۔پھر لکھا ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعودپر اعتراض نہیں ۔کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کرتے تھے۔ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے۔کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے۔اس لئے کہ ہما را حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے ۔مگر پیغامی اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔تو جب کو ئی شخص ایک سچائی پر اعترا ض کرتا ہے اسے لازماً دوسری سچا ئیوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے۔
(الفضل قادیان دارالامان مؤ رخہ31اگست1938ءص6)

اب جو حوالہ مولوی پیش کرتے ہیں اسی سے اس الزام کا جھوٹا ہونا بھی خودی ثابت ہوتا ہے ، اس لیے متین خالد کذاب نے کتاب ثبوت حاضر ہیں میں اس حوالہ کے کچھ حصہ کو کالی سیاہی سے چھپا دیا ہے ۔

اس اعتراض کو دہرانے مین صرف یہ دیوبندی ، وہابی اور بریلوی ہی نہیں بلکہ کالم نگار بھی شرم نہیں کرتے ، یہ جھوٹ کی لعنت ایک کالم نگار اسرار بخاری نے بھی 8 جولائی 2010 کے نوائے وقت میں اپنے سر لی ہے ۔

( نوٹ : سکین کو فل سائز میں دیکھنے کے لیے دیے گئے سکین پیج کے اوپر کلک کریں )

31اگست1938 کے الفضل کا سکین صفحہ نمبر 6 :

متین خالد کی کتاب ثبوت حاضر ہیں کے صفحہ 701 پر دیا گیا سکین :

31اگست1938 کے الفضل کا رنگین سکین :

محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی پر ایک نظر

مکرم معظم جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاٖحب کی پر معارف و حقائق تقریر جو سالانہ جلسہ 1936 پر ہوئی ۔

https://www.scribd.com/embeds/269139074/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-TIBUbejQ2R8Tj8XWuccR&show_recommendations=false

ہمارا مذہب بجواب قادیانی مذہب

یہ کتاب پروفیسر الیاس برنی کی کتاب قادیانی مذہب کے جواب میں مولانا علی محمد اجمیری صاحب نے لکھی تھی ۔۔

https://www.scribd.com/embeds/269467657/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-xwbyrqiTVl3MRDdnUhLn&show_recommendations=false

کیا مرزا صاحب نے رمضان کا احترام نہ کیا ؟

اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ مرزا صا حب رمضان کا احترام نہ کیا کرتے تھے ایک بار امرتسر میں رمضان کے ایام میں تقریر کرتے ہوئے چائے پی اور ایک مرتبہ ایک مہمان روزہ کی حالت میں آپ کے پاس آیا جبکہ دن کا بیشتر حصہ گزر چکا تھا۔آپ نے اس شخص کا روزہ کھلوا دیا۔ان واقعات سے مرزا صاحب کی روزہ سے دشمنی اور ارکان اسلام کی بے حرمتی کا الزام لگایا جاتا ہے ۔
پہلا واقعہ جس کا معترض نے ذکر کیا ہے اس وقت آپؑ امرتسر میں مسافر تھے اور خدا تعالیٰ نے مسافر پر روزہ فرض نہیں کیا اسی طر ح دوسرا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ آنے والا مہمان مسافر تھا اور مسافر کو خدا تعالیٰ نے روزہ رکھنے سے منع فرما یا ہے۔
چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ مسافر کو رخصت دیتے ہو ئے فرما تا ہے:۔

مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ

(البقرة 185)

ترجمہ :۔ جو بھى تم مىں سے مرىض ہو ىا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنى مدت کے روزے دوسرے اىام مىں پورے کرے
حدیث :۔ حدیث شریف میں ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَةِ ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ أَوِ الْمُرْضِعِ الصَّوْمَ

 یعنی اللہ تعالیٰ مسافر پر روزے اور نصف نماز کا حکم اٹھا دیا ہے ۔
(مسند أحمد بن حنبل – (ج 4 / ص 347)
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : صَائِمٌ. فَقَالَ : لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ
(صحيح البخاري کتاب الصوم باب قول النبي صلى الله عليه و سلم لمن ظلل عليه واشتد الحر  ليس من البر الصوم في السفر ) 
ترجمہ :۔ یعنی آنحضرت ﷺ ایک سفر پر تھے ۔ اس دوران آپؐ نے لوگوں کا ہجوم دیکھا اور ایک شخص دیکھا جس پر سایہ کیا گیا تھا ۔ آپؐ نے دریافت فرمایا اسے کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ روزہ دار ہے ۔ تو آپؐ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔

خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ
(صحيح البخاري کتاب الصوم باب من أفطر في السفر ليراه الناس )
ترجمہ :۔ یعنی آنحضرت ﷺ مدینہ سے روزہ رکھ کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے مقام عسفان پر پہنچ کر حضورﷺ نے پانی منگوایا۔اور پھر پانی کو دونوں ہاتھوں سے اس غرض سے اونچااٹھایا کہ سب لوگ آ پ کو پانی پیتے ہوئے دیکھ لیں پھر آپ نے روزہ کھول  دیا اور یہ واقعہ رمضان کے مہینہ میں ہوا۔
ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس سنت سے قطعی طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی مسافر رمضان میں عام لوگو ں کے سامنے کھائے پیئے تو اس میں کوئی قابل ِ اعتراض بات نہیں اور اس پر عدم احترام رمضان کا خود ساختہ نعرہ لگانا جا ئز نہیں۔
 حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی امر تسر میں اپنے آقا کی اس سنت پر عمل فرمایا اور لوگوں کے سامنے سفر کی حا لت میں چائے پی لی ۔

جماعت احمدیہ کے چندہ لینے پر اعتراض کا جواب

اللہ تعالیٰ جب کسی الٰہی جماعت کی بنیاد رکھتا ہے تو اس جماعت کے ماننے والوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے ان سے کچھ قربانیوں کا تقاضا فرماتا ہے ، یا یوں سمجھ لیجئے کہ خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کو پانے کے لئے قربانی ایک لازمی شرط ہے ، اور یہ قربانی کیا ہے ؟ یہ اپنے اپنے وقت اور زمانے کےحالات پر منحصر ہوا کرتی ہے ۔ مثلاً آنحضرتﷺ کے زمانے میں مال کی قربانی بھی تھی لیکن جان کی قربانی زیادہ اہمیت رکھتی تھی کیونکہ کفار کی طرف سے  مسلمانوں پر مظالم کا ایک سلسلہ جاری تھا اور انہی مظالم کے تحت مسلمانوں کو جنگ کے میدان میں بھی کھینچا گیا تھا۔
            لیکن اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں مسیح محمدی کے دور کےلئے آنحضرتﷺ نے ’’یَضَعُ الْحَرْب‘‘کی نوید سنا کر قرونِ اولیٰ کی مانند جنگوں اور تلوار کے جہاد کو موقوف فرما دیا اور مسیح محمدی کے فرائض میں قلمی جہاد کو شامل فرما کر مالی قربانی کو جاری رکھا کیونکہ قلمی جہاد کے لئے مال کا ہونا لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مالی قربانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔
  لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ                                         
 (آل عمران :93)
تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے (خدا کے لئے )خرچ نہ کرو۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ  کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کرہی دیا کرے گا۔ اپنے روپوں کی تھیلی کا منہ (بخل کی راہ سے )بند کر کے نہ بیٹھ جانا ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔جتنی طاقت ہے دل کھول کر خرچ کیا کرو۔
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’کیسا یہ زمانہ برکت کا ہے ۔ کہ کسی سے جانیں مانگی نہیں جاتیں۔ اور یہ زمانہ جانوں کے دینے کا نہیں بلکہ مالوں کے بشرط استطاعت خرچ کرنے کا ہے ۔ ‘‘
                                                          (الحکم قادیان ، 10جولائی 1903ء)
            پس جماعت احمدیہ میں موجود چندوں کا نظام قرآن و حدیث میں موجود مالی قربانی کے احکام کو مدنظر رکھ کر ہی قائم کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اسکا قرب حاصل کرنے کے لئے اپنے مال میں سے کچھ حصہ اس کی راہ میں قربان کرنا نہایت اہمیت ہے اور ہمیشہ سے انبیاء اس کی تلقین اپنے ماننے والوں کو کرتے آئے ہیں۔

امت محمدیہ میں آنے والے مہدی و مسیح کی علامات

آخری زمانہ میں جہاں فرقہ بندی، فتنہ و فساد، دجالوں و کذابوں کے ظہور اور ان کے ذریعہ ہونے والی تباہی و بربادی کی خبر دی گئی ہے وہاں اس امت مرحومہ کو ہلاکت سے بچانے کے لئے عیسیٰ بن مریم جیسے عظیم الشان وجود کے نجات دہندہ بن کر ظاہر ہونے کی بھی بشارت دی گئی ہے جسے امام مہدی کے لقب سے بھی نوازا گیا ہے جیسے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :۔

لا المھدی الا عیسی بن مریم (ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدة الزمان)

یعنی عیسیٰ ہی مہدی ہوں گے۔ اس آنے والے موعود کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر اس کی علامات و نشانات، ظہور کا مقام اور ملک تک بیان کر دئیے گئے ہیں جن کا اجمالی تذکرہ پیش ہے۔

مسیح موعود و مہدی معہود کی ذاتی علامات

خاندان

احادیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا موعود فارسی الاصل ہو گا۔ چنانچہ جب آیت و اخرین منھم لما یلحقوا بھم (الجمعہ:62:4) نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ سے یہ سوال کیا گیا کہ آخرین کون لوگ ہیں۔ اس پر آپ نے مجلس میں موجود حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:۔

”اگر ایمان ثریا پر بھی چلا جائے گا تو ضرور اہل فارس میں سے کچھ اشخاص یا ایک شخص اسے واپس لے آئے گا“(بخاری کتاب التفسیر زیر آیت و آخرین منھم)

حضرت بانی جماعت احمدیہ کا خاندان اس پیشگوئی کے عین مطابق فارسی الاصل ہے اور آپ کے شدید مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی آپ کا فارسی الاصل ہونا تسلیم کیا ۔(اشاعۃ السنہ نمبر۷ صفحہ۱۹۳)

آنے والے موعود کا نام

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔

”اللہ تعالیٰ اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جس کا نام میرا نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا“ (ابو داؤد کتاب المہدی)

اس حدیث میں آنے والے موعود کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ کامل موافقت کا ذکر کیا گیا ہے اور مراد یہ ہے کہ مہدی کی صفات آنحضرت ﷺ جیسی ہوں گی اور وہ آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مطابق لوگوں کو ہدایت دے گا۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن جلد۹ حدیث ۵۴۵۲)
علاوہ ازیں اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مہدی کی ظاہری نام کے لحاظ سے بھی آنحضرت ﷺ سے موافقت ہوگی۔ چنانچہ احادیث میں مہدی کا نام ”احمد“ بھی لکھا ہے۔
(کتاب الفتن باب فی سیرۃ المہدی صفحہ ۹۸ از حافظ ابو عبداللہ نعیم بن حماد)
قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک نام احمد بھی تھا۔ چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اصل نام احمد ہی ہے جیسا کہ الہامات میں بھی بار بار اللہ تعالیٰ نے آپ کو احمد کے نام سے خطاب فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا یَا اَحمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیکَ(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر۵ صفحہ۵۵۰)

آنے والے موعود کا حلیہ

آنحضرت ﷺ نے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے مسیح کا حلیہ یہ بیان فرمایا کہ:۔

”وہ سرخ رنگ کے گھنگریالے بال اور چوڑے سینے والے تھے“(بخاری کتاب الانبیاءباب واذکر فی الکتاب مریم)

لیکن آپ نے امت محمدیہ میں دجال کے بالمقابل ظاہر ہونے والے مسیح کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔

”اس کے بال لمبے اور رنگ گندمی ہوگا“ (بخاری کتاب اللباس باب الجعد)

دونوں مسیحوں کے الگ الگ حلیے بیان کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والا مسیح اور مسیح ناصری علیہ السلام جدا جدا وجود ہیں۔ آنے والے موعود کے حلیہ کے متعلق یہ بھی ذکر ہے کہ :۔

”مہدی کی پیشانی کشادہ اور ناک اونچی ہوگی“(ابو داؤد کتاب المہدی حدیث نمبر۷)

حضرت بانی جماعت احمدیہ کا حلیہ بعینہ اس کے مطابق ہے۔

شادی اور اولاد

مسیح موعود کی ایک علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ :۔

”وہ شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی“(مشکوٰة کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ)

جہاں تک حضرت مسیح موعود کی اس علامت کا تعلق ہے کہ وہ شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہو گی اس سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود مجرد نہیں رہیں گے بلکہ شادی کریں گے اور مبشر اولاد پائیں گے جو ان کا مشن اور کام جاری رکھنے والی ہوگی۔ چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود کی شادی بھی ہوئی اور آپ کو خدا نے دین کی عظیم الشان خدمات بجا لانے والی اولاد بھی عطا فرمائی۔

آنیوالے موعود کی عمر

زیادہ تر ثقہ روایات میں مسیح موعود کی مدت قیام چالیس سال بیان کی گئی ہے اور حضرت مرزا صاحب نے قمری لحاظ سے 76 سال عمر پائی ہے۔ 40 سال کی عمر میں آپ پر الہام کا آغاز ہوا اور الہام کے بعد بھی اسی کے لگ بھگ آپ نے زمانہ پایا۔

مقام ظہور

آنحضرت ﷺ نے مسیح موعود کا مقام ظہور دمشق سے مشرقی جانب بیان فرمایا ہے۔ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)
اسی طرح مہدی کی راہ ہموار کرنے والی جماعت کا تعلق بھی مشرق ہی سے بیان کیا گےا ہے۔ (ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی)
مندرجہ بالا احادیث میں آنے والے موعود کا مقام ظہور دمشق سے مشرق (یعنی ہندوستان) بتایا گیا ہے اور حضرت بانی جماعت احمدیہ مدعی مسیحیت و مہدویت کا مقام ظہور قادیان ہندوستان دمشق سے مشرق کی جانب واقع ہے۔

مسیح موعود کے زمانہ کی علامات

(۱) دابۃ الارض

امام مہدی کے زمانہ کی ایک علامت دابۃ الارض بیان کی گئی ہے۔(مسلم کتاب الفتن باب فی الاٰیات التی تکون قبل الساعۃ)
دابۃ کے معنی جانور یا کیڑا کے ہوتے ہیں علامہ توربشتی متوفی ۶۳۰ھ نے اس سے طاعون کا کیڑا مراد لیا ہے۔(عقائد مجددیہ الصراط السوی ترجمہ عقائد توربشتی از علامہ شہاب الدین توربشتی منزل نقشبندیہ کشمیری بازار لاہور)
اس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب نے اللہ سے علم پاکر طاعون کی پیشگوئی فرمائی جس کے مطابق طاعون سے ایک ایک ہفتہ میں تیس تیس ہزار آدمی لقمہء اجل بن گئے اور لاکھوں افراد طاعون کا شکار ہوئے۔

(۲)۔ یاجوج ماجوج کا خروج

مسیح موعود کے زمانہ کی ایک علامت یاجوج ماجوج کا خروج ہے۔ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)
یاجوج ماجوج دجال کا سیاسی بہروپ ہے جس کے معنی آگ سے کام لینے والی طاقتوں کے ہیں۔ آج کی طاقت ور اور ترقی یافتہ مغربی اقوام ہی یاجوج ماجوج ہیں۔ چنانچہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے لکھا۔
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حدب ینسلون

(۳) غیر معمولی زلازل کا آنا

اسی طرح حدیث میں آخری زمانہ کی علامت میں مشرق اور مغرب اور عرب میں خسف ہونا بیان کیا گیا ہے۔ (مسلم کتاب الفتن باب فی الایات التی تکون قبل الساعۃ)
یہاں خسف سے مراد خوفناک زلزوں کا آناہے اور حضرت بانی جماعت احمدیہ کے زمانہ میں یہ علامت بھی پوری ہوئی اور آپ کی بیان کردہ پیشگوئیوں کے عین مطابق ایسے ایسے خوفناک زلزلے آئے کہ زمین تہہ و بالا ہو گئی اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

(۴) جدید سواریوں کی ایجاد

قرآن کریم میں آخری زمانہ کی ایک علامت اونٹنیوں کا متروک ہونا بھی بیان کی گئی ہے۔ (التکویر:81:5)
اسی طرح حدیث میں مسیح موعود کے زمانہ کی ایک علامت یہ بیان کی کہ اونٹوں کا استعمال (تیز رفتاری کے لئے) متروک ہو جائے گا۔(مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسیٰ بن مریم)
مسیح موعود کے زمانہ میں یہ علامت بھی پوری ہو چکی ہے اور گزشتہ ایک صدی سے جدید سواریاں‘ موٹریں ریل اور جہاز وغیرہ ایجاد ہوئے۔ اور مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونے والے دجال کے گدھے سے بھی یہی سواریاں مراد ہیں جیسا کہ احادیث میں بیان فرمودہ تفصیلی علامات سے ظاہر ہے۔

مسیح موعود اور مہدی معہود کے کام

احادیث میں مسیح اور مہدی کے کام بھی ایک جیسے بتائے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخص کے دو لقب ہیں۔

(۱) حکم عدل

بخاری کتاب الانبیاءباب نزول عیسیٰ میں روایت ہے کہ :مسیح موعود حکم اور عدل بن کر آئے گا۔ مراد یہ ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ امت کے مذہبی اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے امت مسلمہ میں موجود اختلافات کا حل پیش فرمایا اور ایسی جماعت تیار کر دی جس نے تمام اختلافات ختم کر کے اتحاد و یگانگت کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔

(۲) کسر صلیب

وہ کسر صلیب کرے گا۔ یعنی عیسائی مذہب کا جھوٹ ظاہر کر دے گا۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ الٰہی تقدیر میں مسیح موعود کی آمد عیسائیت کے غلبہ کے زمانہ میں مقدر تھی اسلام کو مسیح موعود نے دلائل و براہین سے عیسائیت پر غالب کر دکھانا تھا۔ چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود نے عیسائیت کے خلاف ایسی عظیم الشان خدمات سر انجام دیں جن کا اعتراف کرتے ہوئے مولوی نور محمد صاحب نقشبندی نے یہاں تک لکھا کہ حضرت مرزا صاحب نے عیسائیت کے خلاف ایسے عظیم الشان دلائل پیش کئے کہ ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دی۔(دیباچہ از مولوی نور محمد نقشبندی قرآن شریف مترجم۔ نور محمد آرام باغ کراچی)

(۳) قتلِ خنزیر

خنزیر کو قتل کرے گا۔ یعنی دشمنانِ اسلام کو علمی میدان میں شکست دے کر غلبہ حاصل کرے گا۔ کیونکہ حدیث میں آخری زمانہ کے علماءسوءکو بھی ان کے بد خصائل‘ نقالی‘ بد عملی اور جھوٹ کے باعث بندر اور سؤر کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔(کنز العمال جلد نمبر۷ صفحہ۲۸۰ حدیث۳۸۷۳۷ حلب)
یہ کارنامہ بھی حضرت بانی جماعت احمدیہ نے سر انجام دیا اور تمام مذاہب کے بڑے بڑے لیڈروں کو علمی اور روحانی میدان میں اسلام کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی اور اسلام کی فوقیت کو ظاہر کیا۔

(۴) التواءقتال

مسیح موعود کا ایک کام یضع الحرب لکھا ہے۔(بخاری کتاب الانبیاءباب نزول عیسیٰ)
یعنی وہ جنگ کو موقوف کردے گا جس سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود مذہب کی خاطر جنگ نہیں کرے گا۔ حضرت بانی جماعت احمدیہ کے زمانہ میں چونکہ اسلام کے خلاف تلوار کی بجائے قلم اور دلائل سے حملے کئے جارہے تھے اس لئے آپ نے اسلام کے دفاع اور اس کی برتری کے لئے بالمقابل قلمی جہاد کیا اور جہاد بالسیف کی شرائط مفقود ہونے کی وجہ سے حدیث کے عین مطابق اس کے التواءکا اعلان فرمایا۔

(۵) تقسیم اموال

وہ مال تقسیم کرے گا مگر کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔(بخاری کتاب الانبیاءباب نزول عیسیٰ)
مراد یہ ہے کہ وہ قرآنی معارف اور دین کے حقائق کو بیان کرے گا مگر دنیا انہیں قبول نہیں کرے گی۔ چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے قرآنی معارف اور حقائق پر مشتمل 84 سے زائد کتب لکھ کر روحانی خزائن دنیا میں تقسیم کئے لیکن دنیا کے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں۔

(۶) قتلِ دجال

مسیح موعود کا ایک کام دجال کا مقابلہ کر کے اسے ہلاک کرنا تھا۔ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)
دجال سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے کو کہتے ہیں اور اپنی کثرت سے ساری زمین پر پھیل جانے والے اور سامانِ تجارت سے روئے زمین کو ڈھانک دینے والے گروہ کو بھی دجال کہا گیا ہے۔ (لسان العرب)
یہ صفات عیسائی قوم کے دینی علماءمیں بدرجہ اتم موجود ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا بنا کر سب سے بڑے جھوٹ کا ارتکاب کیا اور اپنے دجل کا جال ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اس دجال کا خوب مقابلہ کیا اور اسے شکستِ فاش دی۔

(۷) مسیح موعود کا حج

حدیث میں مسیح موعود کے حج کرنے کی پیشگوئی بھی موجود ہے ۔(بخاری کتاب الانبیاءباب واذکر فی الکتاب مریم)
جس سے مراد کعبہ کی عظمت کا قیام اور اسلام کی حفاظت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے رویاءمیں مسیح کو دجال کے ساتھ طوافِ کعبہ کرتے دیکھا جس کی تعبیر یہ کی گئی کہ مسیح موعود کی بعثت کی غرض کعبہ کی عظمت اور اسلام کی حفاظت ہوگی۔(مظاہر الحق شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد۵ کتاب الفتن باب علامات القیامۃ)
چنانچہ مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام کی خدمت کی یہ توفیق بھی خوب عطا ہوئی۔

مہدی کی سچائی کے دو نشانات

حدیث میں مہدی کی سچائی کے دو نشانات رمضان کے مہینہ میں خاص تاریخوں پر چاند اور سورج کو گرہن لگنا تھا۔(دار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ الخسوف والکسوف)
چنانچہ مشہور اہل حدیث عالم حافظ محمد لکھو کے والے ان نشانات کی تاریخوں کا یوں ذکر کرتے ہیں۔

”تیرھویں چن ستیویں سورج گرہن ہوسی اس سالے“ (احوال الاخرت منظوم پنجابی مصنفہ ۱۳۰۵ھ صفحہ۲۳ زیر عنوان علامات قیامت کبریٰ)

چنانچہ یہ نشان اس حدیث کے عین مطابق رمضان ۱۳۱۱ھ بمطابق ۱۸۹۴ءمیں معینہ تاریخوں پر ظاہر ہوا اور حضرت مرزا صاحب نے بڑی شان اور تحدی سے اسے اپنے حق میں پیش کرتے ہوئے لکھا:۔

”ان تیرہ سو برسوں میں بہتیرے لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر کسی کے لئے یہ آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا …. مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میری تصدیق کے لئے آسمان پر یہ نشان ظاہر کیا ہے“۔ (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ۱۴۲۔۱۴۳)

اللہ تعالیٰ ہمیں موعود مسیح اور مہدی کو قبول کرنے اور اس کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بخشے۔ آمین