عبداللہ آتھم کی موت سے متعلق پیشنگوئی

پادری عبداللہ آتھم وہ بدبخت شخص ہے جس نے اسلام کو اور بانی اسلام ﷺ کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ساتھ مناظرہ کیا تھا، جو ’’ جنگِ مقدّس‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع شدہ ہے۔ اس مناظرے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام اور بانی اسلام کی حقّانیت کو عقلی ، نقلی ، تاریخی ،واقعاتی اور روحانی دلائل کے ساتھ کما حقّہٗ ثابت فرمایا۔اس طرح اسلام کو ایک کھلا کھلا غلبہ نصیب ہوا۔اسی شکست خوردہ پادری عبداللہ آتھم نے ،جس کی وکالت آج ڈاکٹر راشد علی ،اور اس کے ہمنواوغیرہ کرتے ہیں ، ایک کتاب ’’اندرونہ بائیبل‘‘ بھی لکھی تھی جس میں اس نے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کو ( معاذ اللہ) دجّال لکھا تھا۔ اس پر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اپنے آقا کی غیرت میں تڑپ کر خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایک پیشگوئی کا انکشاف فرمایا۔ آپ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے جنابِ الہٰی میں دعا کی کہ تُو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ سو اس نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلّت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اور جو شخص سچ پر ہے اور سچّے خدا کو مانتا ہے اس کی عزّت ظاہر ہو گی۔….‘‘ (جنگِ مقدّس۔ آخری پرچہ۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۲۹۱،۲۹۲)

الہامی الفاظ ’’ہاویہ میں گرایا جائے گا‘‘ کا مفہوم اجتہاد کی رو سے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے یہ سمجھا کہ عبداللہ آتھم بسزائے موت ہاویہ( دوزخ) میں گرایا جائے گا۔ چنانچہ اسی پیشگوئی کے آخر میں آپ فرماتے ہیں۔

’’ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پرہے وہ آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ میں بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسّہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ میں ہر سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘

یہ پیشگوئی ایسی پر ہیبت تھی کہ پادری عبد اللہ آتھم لرز کر رہ گیا۔یہ اس کی طرف سے رجوع الیٰ الحق کا آغاز تھا۔ اور اس کے بعد، مرتے دم تک اس نے ایک لفظ بھی اسلام یا آنحضرت ﷺ کے خلاف نہ لکھا۔اس نے اس حد تک رجوع الیٰ الحق کیا کہ وہ دلی طور پر عیسائیوں کے عقیدہ ’ الوہیّتِ مسیح ‘ سے بھی متفق نہ رہا۔ چنانچہ اس نے اخبار’’ نور افشاں‘‘ ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں یہ اعلان بھی شائع کر ایا کہ وہ عیسائیوں کے عقیدہ ابنیّت و الوہیّت کے ساتھ متّفق نہیں۔ اس کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کو بھی اطلاع دی۔ جس کا ذکر آپ ؑ نے اپنی کتاب ’’ انوار الاسلام صفحہ ۲،۳‘‘ پر تحریر فرمایا۔

پس عبداللہ آتھم نے پیشگوئی کے الہامی الفاظ ’’ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے‘‘ سے فائدہ اٹھایا اسلئے خدا تعالیٰ نے اسے مہلت دی اور وہ پندرہ ماہ کے اندر نہ مرا۔ اس عرصہ میں وہ انتہائی ہمّ و غم میں مبتلا رہا یہانتک کہ اس پر دیوانہ پن کی حالت طاری ہو گئی اور وہ مسلسل اسی اذیّت ناک حالت میں رہا۔ اس کی اس حالت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’الہامی پیشگوئی کے رعب نے اس کے دل کو ایک کچلا ہوا دل بنا دیا۔ یہانتک کہ وہ سخت بے تاب ہو ا اور شہر بشہر اور ہر ایک جگہ ہراساں اور ترساں پھرتا رہا اور اس مصنوعی خدا پر اس کا توکّل نہ رہا جس کو خیالات کی کجی اور ضلالت کی تاریکی نے الوہیّت کی جگہ دے رکھی ہے۔ وہ کتّوں سے ڈرا اور سانپوں کا اس کو اندیشہ ہوا اور اندر کے مکانوں سے بھی اس کو خوف آیا اور اس پر خوف اور وہم اور دلی سوزش کا غلبہ ہوا اور پیشگوئی کی پوری ہیبت اس پر طاری ہوئی اور وقوع سے پہلے ہی اس کا اثر اس کو محسوس ہوا اور بغیر اس کے کہ کوئی اس کو امرتسر سے نکالے آپ ہی ہراسان و ترسان و پریشان اور بے تاب ہو کر شہر بشہر بھاگتا پھرا۔ اور خدا نے اس کے دل کارام چھین لیا اور پیشگوئی سے سخت متاثر ہو کر سراسیموں اور خوفزدوں کی طرح جا بجا بھٹکتا پھرا اور الہامِ الہٰی کا رعب اور اثر اس کے دل پر ایسا مستولی ہوا کہ راتیں ہولناک اور دن بیقراری سے بھر گئے۔……. اس کے دل کے تصوّروں نے عظمتِ اسلامی کو ردّ نہ کیا بلکہ قبول کیا۔ اس لئے وہ خدا جو رحیم و کریم اور سزا دینے میں دھیما ہے اور انسان کے دل کے خیالات کو جانچتا اور اس کے تصوّرات کے موافق اس سے عمل کرتا ہے اس نے اس کو اس صورت پر بنایا جس صورت میں فی الفور کامل ہاویہ کی سزا یعنی موت بلا توقف اس پر نازل نہ ہوتی۔ اور ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب اس وقت تک تھما رہے جب تک کہ وہ بے باکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا نہ کرے اور الہامِ الہٰی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا کیونکہ الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذابِ موت کے آنے کا وعدہ تھا ۔نہ مطلق بلاشرط وعدہ۔‘‘ ( انوار الاسلام ۔روحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۴، ۵)

نیز تحریر فرمایا

’’یہ غیر ممکن ہے کہ خدا اپنے قراردادہ وعدہ کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے اور خدا اصدق الصادقین ہے۔ ہاں جس وقت مسٹر عبداللہ آتھم اس شرط کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور اپنے لئے شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو وہ دن نزدیک آ جائیں گے اور سزائے ہاویہ کامل طور پر نمودار ہوگی اور یہ پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر دکھائے گی۔‘‘( انوار الاسلام ۔روحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۵)

ان تحریروں سے یہ بات بالکل کھل جاتی ہے کہ عبداللہ آتھم نے پیشگوئی میں مذکور شرط ’’ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے‘‘ سے فائدہ اٹھایا اور ابتدائی طور پر خدا تعالیٰ کے رحم کے نیچے آگیا۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس کو اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے غیر مبہم الفاظ میں تنبیہہ کردی تھی کہ اب اس پیشگوئی کی معیّن اور آخری صورت یہ ہے کہ بے باکی اور شوخی کے ظہور پر یعنی رجوع الیٰ الحق کے ماننے سے انکار کرنے پر یا رجوع الیٰ الحق کی صورت کو کسی تدبیر سے مشتبہ بنانے کی صورت میں اس کی ہلاکت کے دن نزدیک آجائیں گے اور پھر موت کے ذریعہ سزائے ہاویہ کا وہ جلد شکار ہو جائے گا۔ اور پیشگوئی کا اثر غیر معمولی رنگ میں ظاہر ہو گا۔گویا اب یہ پیشگوئی پادری ڈپٹی عبداللہ آتھم کی بے باکی اور شوخی سے معلّق ہو گئی۔

ادھر حالات یہ پیدا ہوئے کہ جب عبداللہ آتھم رجوع الیٰ الحق کی شرط سے فائدہ اٹھا کر پندرہ ماہ کے اندر مرنے سے بچ گیا تو عیسائیوں نے اپنی جھوٹی فتح کا نقارہ بجایا، جلوس نکالے اور خوب شور وشرّ اور ہنگامہ آرائی کی اور مسیحِ موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ رویّہ اختیار کیا اور بعض سادہ لوح مسلمان بھی اور آپ ؑ سے بغض رکھنے والے راشد علی جیسے لوگ بھی ان کے ہمنوا بن گئے۔ ان حالات میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے عبداللہ آتھم کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور اس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی رکھا۔اس دعوتِ مباہلہ میں آپ ؑ نے اسے یہ بھی لکھا کہ اگر وہ

’’…… تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رعب ایک طرفۃ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام ؐکو نا حق سمجھتا رہا اور سمجھتاہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسٰی ؑ کی ابنیّت اور الوہیّت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتاہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروٹسٹنٹ عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلافِ واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے قادر! مجھ پر ایک برس میں عذابِ موت نازل کر۔ اس دعا پر ہم آمین کہیں گے اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان دیں گے۔‘‘ (انوارالاسلام ۔صفحہ ۶)

یہ ایک فیصلہ کن اور جامع پیشکش تھی جس سے نہ فرار کی کوئی راہ اس کے لئے باقی رہتی تھی اور نہ حق کو چھپانے کا کوئی حیلہ۔ اس پیشکش کے آخر میں آپؑ نے یہ بھی فرمایا

’’پس یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔‘‘

پادری عبداللہ آتھم نے اس سے گریز کی راہ اختیار کی تو آپ نے اسے دو ہزار روپیہ کا چیلنج دیا۔ اس کو بھی قبول کرنے کی ا س میں جرات نہ ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے رجوع الیٰ اللہ کو ظاہر کرنے کی بھی ہمّت نہ کر سکا۔ اس پر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس کو تیسرا چیلنج دیا جوتین ہزار روپیہ کا تھا۔اس میں آپ نے اس پر حجّت تمام کرنے کے لئے اسے مؤکّد بعذاب قسم کھانے کی بھی تحریض کی۔

پادری عبداللہ آتھم نے اس چیلنج پر اپنے دو عذر پیش کئے۔ اوّل یہ کہ قسم کھانا ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔ دوم یہ کہ پیشگوئی کے زمانہ میں وہ ڈرے تو ضرور ہیں مگر پیشگوئی کے اثر سے نہیں بلکہ اس لئے کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے۔

حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس کے دونوں عذرات اپنے ایک اور اشتہار میں جس میں چار ہزار انعام دینے کا وعدہ تھا ، توڑ دئیے۔ پادری عبداللہ آتھم اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ اس اشتہار میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں اپنا آخری الہام درج فرمایا کہ

’’خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کروں گا جب تک قوی ہاتھ نہ دکھلادوں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلّت ظاہر نہ کر دوں۔‘‘

آپ نے اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے یہ حتمی نوٹ لکھاکہ

’’اب اگرآتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔ اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔ جس نے حق کا اخفاء کرکے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔…..‘‘(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ۔مندرجہ انوار الاسلام )

اس اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ کے بعد عبداللہ آتھم قسم کھانے پر آمادہ نہ ہوا بلکہ اس کاقسم سے انکار کمال کو پہنچ گیا۔ اس کے بعد حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے تین اشتہار اور بھی دئیے جن میں سے آخری اشتہار ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ ء کو دیا گیا۔ اس میں آپ ؑ نے آخری اور فیصلہ کن الفاظ تحریر فرمائے کہ

’’اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے ان ( آتھم) کو ذبح بھی کر ڈالیں، تب بھی وہ میرے مقابل پر قسم کھانے کے لئے ہرگز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ میری سچائی کے لئے یہ نمایاں دلیل کافی ہے کہ آتھم صاحب میرے مقابل پر میرے مواجہہ میں ہرگز قسم نہیں اٹھائیں گے اگرچہ عیسائی لوگ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ اگر وہ قسم کھا لیں تو یہ پیشگوئی بلاشبہ دوسرے پہلو پر پوری ہو جائے گی۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔‘‘(اشتہار۔۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ۲۰۴)

حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے آتھم کو قسم کھانے کے علاوہ نالش کرنے کی بھی ترغیب دی تھی، لیکن آ تھم نے نہ قسم کھائی اور نہ نالش کی اور اس طریق سے بتادیا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا تھا اور چونکہ اس نے علانیہ طور پر زبان سے اس رجوع کا اظہار نہیں کیا اس لئے خدا نے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑا۔ اور اخفائے حق کی سزا میں آخری اشتہار سے جو ۳۰ دسمبر کو شائع ہوا، سات ماہ کے اندر گرفتِ الہٰی میں آ گیا اور ۲۶ جولائی ۱۸۹۶ ء کو حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کی سچائی اور عیسائیّت کی شکست کو ظاہر کر گیا۔

یہ پیشگوئی چونکہ رجوع الیٰ الحق کی شرط کے ساتھ مشروط تھی اس لئے اس نے جس حدّ تک اس شرط سے فائدہ اٹھایا، اس حدّ تک اسے بصورتِ موت ہاویہ میں گرنے سے مہلت مل گئی گو جب تک وہ زندہ رہا عملاًایک دوزخ میں ہی رہا۔ لیکن حق کو چھپانے کی وجہ سے بالآخر وہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہ سکا اور پیشگوئی کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہوا بسزائے موت ہاویہ میں گرایا گیاِ ۔

مرزا صاحب کے حج پر نہ جانے پر اعتراض

ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب حج کو کیوں نہیں جاتے؟
فرمایا:۔
یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔ وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو۔ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ248)

مرزا صاحب کے ریشمی ازار بند پہننے پر اعتراض کا جواب

معترضہ عبارت :
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادے ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ  فرماتے ہیں:۔
’’والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعودعموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا ، اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہواورگرہ بھی پڑجائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو ، سوتی ازار بند میں آپ سے بعض اوقات گرہ پڑجاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی ‘‘۔
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص :142روایت 64)
جواب:۔
واضح ہونا چاہیے کہ بیماری کی صورت میں ریشم پہننا حرام نہیں ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بیماری کی صورت میں ریشم استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ  رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمٰنِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ بِهِمَا
(بخاری کتاب اللباس )
ترجمہ :۔ حضرت انسؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم  ﷺ نے حضرت زبیر اورحضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنھما کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی۔
اورسیرت المہدی کی مندرجہ بالا روایت کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام  کو کثرت پیشاب کی شکایت تھی ۔آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔اسی لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہواور گرہ بھی پڑ جائے تو کھلنے میں دقت نہ ہو  ۔

مقربان الہی کی سرخروئی

مقربان الہی کی سرخروئی روح کافر گری کے ابتلاء میں از مولانا دوست محمد شاہد، مؤرخ احمدیت

https://www.scribd.com/embeds/236807899/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-1LjuBbqdbLd3CiwN0JCG&show_recommendations=false

عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح ہتھیار

’’ایک شخص عبد الحق نام جو اپنے آپ کو صوفی ابوالخیر صاحب کے مرید بتلاتے تھے، چند طالب علموں کے ساتھ آئے۔ اَور بھی دہلی والے آموجود ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا کہ کیا تم سب دہلی کے ہو؟ انہوں نے کہا۔ ہاں۔ پھر میاں عبد الحق صاحب نے سوال کیا کہ مَیں تشفّی کے واسطے ایک بات پوچھتا ہوں۔ حضرت نے اجازت دی۔
عبد الحق: کیا آپ اُس مسیح اور مہدی کو یا ددلانے والے ہیں جو کہ آنے والا ہے یا کہ آپ خود مسیح اور مہدی ہیں؟
حضرت اقدس: مَیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ قرآن اور حدیث کے مطابق اور اس الہام کے مطابق کہتا ہوں جو خد اتعالیٰ نے مجھے کہا۔ جو آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں۔ جس کے کان ہوں وہ سنے اور جس کی آنکھ ہو وہ دیکھے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے اور پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رؤیت کی گواہی دی۔ دونوں باتیں ہوتی ہیں قول اور فعل۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا قول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے۔ شبِ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو دیگر گزشتہ انبیاء کے درمیان دیکھا۔ ان دو شہادتوں کے بعد تم اور کیا چاہتے ہو؟ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے صدہا نشانات سے تائید کی۔ جو طالبِ حق ہو اور خوف خدا رکھتا ہو اس کے سمجھنے کے واسطے کافی سامان جمع ہو گیا ہے۔ ایک شخص پہلی پیشگوئی کے مطابق، قال اللہ اور قال الرسول کے مطابق عین ضرورت کے وقت دعویٰ کرتا ہے۔یہ وہ وقت ہے کہ عیسائیت اسلام کو کھا رہی ہے۔ خدا تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے واسطے جو بات پیش کی ہے اس سے بڑھ کر کوئی اَور بات نہیں ہو سکتی۔ انیس سو سال سے عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ خدا ہے اور معبود ہے اور چالیس کروڑ عیسائی اس وقت موجود ہے۔ اس پر پھر مسلمانوں کی طرف سے اُن کی تائید کی جاتی ہے کہ بیشک عیسیٰ اب تک زندہ ہے، نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج ۔ سب نبی مر گئے پر وہ زندہ آسمان پر بیٹھا ہے۔ اب آپ ہی بتلائیں کہ اس سے عیسائیوں پر کیا اثر ہوگا۔
عبد الحق: عیسائیوں پر تو کوئی اثر ہو نہیں سکتا جب تک کہ شمشیر نہ ہو۔
حضرت اقدس: یہ بات غلط ہے۔ تلوار کی اب ضرورت نہیں ہے اور نہ تلوار کا اب زمانہ ہے۔ابتدا میں بھی تلوار ظالموں کے حملہ کے روکنے کے واسطے اٹھائی گئی تھی ورنہ اسلام کے مذہب میں جبر نہیں۔ تلوار کا زخم تو مل جاتا ہے پر حجت کا زخم نہیں ملتا۔ دلائل اور براہین کے ساتھ اس وقت مخالفین کو قائل کرنا چاہیے۔ مَیں آپ لوگوں کی خیر خواہی کی ایک بات کہتا ہوں۔ ذرا غور سے سنو۔ ہر دو پہلوئوں پر توجہ کرو۔ اگر عیسائیوں کے سامنے اقرار کیا جائے کہ وہ شخص جس کو تم خدا اور معبود مانتے ہو بیشک وہ اب تک آسمان پر موجود ہے۔ ہمارے نبی تو فوت ہو گئے پر وہ اب تک زندہ ہے اور قیامت تک رہے گا۔ نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج۔ اگر ہم ایسا کہیں تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ اور اگر ہم عیسائیوں کے سامنے یہ ثابت کر دیں کہ جس شخص کو تم اپنا معبود اور خدا مانتے ہو وہ مر گیا۔ مثل دوسرے انبیاء کے فوت ہو کر زمین میں دفن ہے اور اس کی قبر موجود ہے، اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ بحثوں کو جانے دو اورمیری مخالفت کے خیال کو چھوڑو۔ میں پروا نہیں کرتا کہ مجھے کوئی کافر کہے، دجّال کہے یا کچھ اور کہے۔ تم یہ کہو کہ ان ہر دو باتوں میں سے کونسی بات ہے جس سے عیسائی مذہب بیخ و بنیاد سے اُکھڑ جاتا ہے۔
اس تقریر کا میاں عبد الحق صاحب پر بہت اثر ہوا؛ چنانچہ فوراً کھڑا ہو کر حضرت اقدس علیہ السلام کے ہاتھ چومے اور کہا: میں سمجھ گیا۔ آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ترقی دے۔ انشاء اللہ ضرور آپ کی ترقی ہو گی۔ یہ بات صحیح ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 492-494۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

تبلیغ کی راہ میں مشکلات اور ان کا حل

عام طور پر اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ہم لوگ تبلیغ کرنے سے جھجکتے ہیں اور اس ذمّہ داری کو اٹھانے سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ انہیں یا تودینی علم کی کمی کا احساس ہوتا ہے یا پھر دوستوں سے تعلقات کی خرابی کا ڈر ہوتا ہے۔ تبلیغ کے متعلق اِن غلط فہمیوں کو دور کرنے کی یہاں کوشش کی جارہی ہے۔

کیا تبلیغ کے لئے عالمِ دین ہونا ضروری ہے؟

جب بھی کسی کو تبلیغ کرنے کے لئے کہا جائے تو فوری طور پر اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کام کس طرح کیا جائے کیونکہ مجھ میں تو تبلیغ کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اپنے اندر دینی علم کی کمی کا احساس ہوتا ہے اور انہیں اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ مخاطب کوئی ایسی بات پوچھ لے جس کا جواب انہیں نہ آتا ہو ۔یہ محض ایک غلط فہمی ہے کہ تبلیغ صرف علماءِ دین کا کام ہے۔ لفظ ’تبلیغ ‘ کا مادہ ’ بَلَغَ ‘ ہے جس کا مطلب ہے پہنچانا۔ اگر حکمت اور احسن رنگ میں صرف یہ پیغام پہنچادیا جائے کہ مسیح و مہدی علیہ السلام تشریف لا چکے ہیں اور اب دنیا کی نجات اسلام کو ماننے میں ہی ہے تو تبلیغ کا فرض پورا ہوجاتا ہے۔ اس پیغام کی حقانیت کو اپنے کردار و عمل سے تقویت پہنچانی چاہئے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پھل اپنے درخت سے پہچانا جاتا ہے (متی 7:20)۔ ہمارا مسکراتا ہوا چہرہ، اعلیٰ کردار اور ہر ایک سے دوستانہ برتاؤ دوسروں میں ہمارے متعلق دلچسپی پیدا کرسکتا ہے اور اس طرح وہ ہمارے قریب آسکتے ہیں۔

کیا تبلیغ کرنا باعثِ شرمندگی ہے؟

بعض لوگ تبلیغ کو باعثِ شرمندگی سمجھتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی سے دین کے موضوع پر گفتگو کرنی چاہی اور وہ شخص منہ پھیر کر چل دیا تو ہماری بے عزّتی ہوجائے گی۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کے دین کی ترویج و ترقی کی خاطر اپنی جان، مال اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی آبرو کی قربانی کا بھی عہد کیا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر اس راہ میں ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑے تو ہمیں اس کے لئے بھی ہر دم تیار رہنا چاہئے۔ اگر کم علمی کے باعث گفتگو میں شرمندگی کا خوف ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ جتنی بات آپ کرسکتے ہیں وہ ضرور پہنچائیں اور اس کے بعد اپنے زیرِ تبلیغ دوست کاکسی مربی صاحب یا کسی اور عالم سے رابطہ کروادیں۔

کیا تبلیغ کرنے سے ہمارے دوستوں سے تعلقات بگڑ سکتے ہیں؟

اگر کوئی دوست باہمی تعلقات بگڑنے کے اندیشے سے دینی گفتگو سے پرہیز کرے تو اسے سمجھائیں کہ آپ اس وقت جس مذہب پر ہیں اگر اس کے بانی محض اس بناءپر تبلیغ کا کام ترک کردیتے کہ کہیں ان کے لوگوں سے تعلقات بگڑ نہ جائیں تو آج اس دین کا نشان بھی نہ ملتا۔ انہیں بتائیں کہ ہمارا کام محبت اور برادارانہ جذبے کے ساتھ محض پیغام پہنچانا ہے۔ جس کے بعد ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ اب آپ اسے اختیار کرنے یا رد کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ جس دوست کو آپ تبلیغ کررہے ہوں ان کے عقیدے پر تنقیدنہ کریں بلکہ ان کے اور اپنے مذہب میں مشترک باتیں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

دعا کا نشان

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ کو دعا کا ایک خاص نشان عطا فرمایا ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ اتنے اخلاص و وفا سے پیش آئیں کہ وہ آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ کو اپنی ذاتی پریشانیوں اور تکالیف کے رازدار بنائیں اور پھر آپ نہ صرف خود ان کے لئے دردِ دل سے دعا کریں بلکہ سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح کو بھی ان کے متعلق دعا کے لئے لکھیں اور اُن دوست کو یہ بتائیں کہ آپ ان کے لئے دعا کررہے ہیں ۔ یقینًا اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور فرمائے گا اور جماعت کے حق میں ایک نشان ظاہر فرمائے گا۔

کیا تبلیغ یکطرفہ ٹریفک ہے؟

ایک عام غلط فہمی جو ہمارے اندر پائی جاتی ہے یہ ہے کہ ہم اپنا پیغام تو لوگوں کو سنانا چاہتے ہیں لیکن اُن کی باتیں سننا نہیں چاہتے۔آج کے دور میں جبکہ لوگ مذہب کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے، ایک بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں سے اُن کے مذہب کے متعلق استفسار کیا جائے اور پھر گفتگو کے دوران حکمت کے ساتھ اور احسن رنگ میں اسلامی عقائد کو پیش کیا جائے۔

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین مفتی محمد شفیع دیوبندی کی کتاب "ختم نبوت کامل” پر تبصرہ ، قاضی محمد نذیر لائلپوری

https://www.scribd.com/embeds/250734811/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-rPrIa6hKUkBUxx8SNF2V&show_recommendations=false

مولانا ابوالکلام آزاد اور وفاتِ مسیح

مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، اکثر لوگ مولانا  ابوالکلام آزاد کو ایک بڑا عالم جانتے ہیں اور ہمارے مخالف بھی انہیں بہت بڑا بزرگ تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ مولانا صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور واپس آنا نہیں مانتے اور اسے عیسائی عقیدہ تصور کرتے ہیں ۔ اپنے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں ۔

” یہ عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک مسیحی عقیدہ ہے اور اسلامی شکل و لباس میں ظاہر ہوا ہے ۔  ”
(نقش آزاد ، صفحہ ۱۰۲)
یہی خط مالک رام کی مرتب کردہ کتاب خطوط ابو الکلام آزاد میں بھی ملتا ہے ، جو آپ اس حوالہ میں دیکھ سکتے ہیں ۔

نزول یا رجوع ؟ کیا حضرت عیسیٰ ؑ واپس آئیں گے ؟

دنیا کی تمام زبانوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والے کے لئے جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ اس لفظ سے مختلف ہوتا ہے جو اُس دوسری جگہ جاکر دوبارہ پہلی جگہ آنے والے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اگر ایک شخص نقطہ الف سے نقطہ ب تک سفر کرے تواُردو زبان میں اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے والا کہتے ہیں۔لیکن اگر وہی شخص نقطہ الف سے نقطہ ب تک پہنچ کر دوبارہ نقطہ الف تک آئے تو اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے والا نہیں بلکہ واپس آنے والا کہتے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کو ’’نزول ‘‘ جبکہ دوسرے مقام سے لوٹ کر پہلے مقام تک آنے کو ’’رجوع ‘‘ کہتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ وہ زمین سے آسمان پر تشریف لے گئے ہیں اور اب قُربِ قیامت میں آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے۔ زبان و بیان کے مذکورہ بالا قواعد کی رُو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان سے زمین پر آمد کو اُردو زبان میں ’’واپسی‘‘ اور عربی زبان میں ’’رجوع ‘‘ کے لفظ سے ظاہر کیا جانا چاہئےتھا۔ لیکن اس کے برعکس احادیثِ نبوی میں جس جگہ بھی مسیؑح ابن مریم ؑ کی قربِ قیامت میں آمد کی خبر دی گئی ہے وہاں ’’رجوع ‘‘ کی بجائے ’’نزول ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر محض آ نہیں رہے بلکہ واپس آرہے ہیں کیونکہ وہ آسمان پر زمین سے ہی گئے تھے۔
ایک مقام سے دوسرے مقام پر جاکر پھر اُسی مقام پر آنے کو رجوع یعنی واپسی کہنے کے قاعدہ کا ثبوت یوں تو عربی، اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں کی لاتعداد مثالوں سے دیا جاسکتا ہے لیکن اسی نوعیت کی ایک مثال سے یہ بات نہ صرف زبان و بیان کے قواعد اور اُن کے استعمال بلکہ دینی پہلو سے بھی پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے،جیسا کہ حضرت عمرؓ کے مندرجہ ذیل بیان سے ظاہر ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی وفات پر یہ نہیں کہہ رہے کہ رسول اللہ ﷺ موسیٰ علیہ السلام کی طرح اپنے رب سے ملنے گئے ہیں اور پھر نازل ہوں گے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اُسی طرح واپس آئیں گے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تھے:
’’ان رجالا من المنافقین یزعمون أن رسول اللّٰہ ﷺ قد توفي، و ان رسول اللّٰہ ما مات، ولکنہ ذھب الی ربہ کما ذھب موسی بن عمران، فقد غاب عن قومہ أربعین لیلۃ، ثم رجع الیھم بعد أن قیل مات، وواللّٰہ لیرجعن رسول اللّٰہ ﷺ کما رجع موسی، فلیقطعن أیدي رجال و أرجلھم زعموا أن رسول اللّٰہ ﷺ مات۔‘‘(السیرۃ النبویۃ لأبن أسحٰق جلد 1-2، ص۔713، السیرۃ النبویہ لأبن ہشّام جلد۔ 4، ص۔306)
منافقوں میں سے کچھ لوگ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے ہیں۔حالانکہ وہ مرے نہیں بلکہ وہ اپنے رب کی طرف گئے ہیں جیسا کہ موسیٰ بن عمران گئے تھے۔پس وہ اپنی قوم سے چالیس راتیں غائب رہے تھے پھر ان کی طرف واپس آگئے تھے پھر اس کے بعد مرے تھے۔ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ بھی ضرور واپس آئیں گے جس طرح موسیٰ واپس آئے تھے۔اور ضرور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ مرگئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے (اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَفْقَھُوْنَ ) (دیکھ ہم کس طرح نشانات کو پھیر پھیر کربیان کرتے ہیں تاکہ وہ کسی طرح سمجھ جائیں۔الانعام۔6:66)۔ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی وفاتِ مسیؑح کا مسئلہ مختلف پہلوؤں سے کھول کھول کر بیان فرمایا تاکہ کسی طرح لوگ اسے سمجھ جائیں۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، انسانی بول چال میں کسی جگہ جانے اور پھر وہاں سے واپس آنے کے لئے جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، اُن کی روشنی میں حضور ؑ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو اس طرح ثابت فرمایا ہے:
’’حضرت مسیؑح کی آمد کے واسطے جو لفظ آیا ہے وہ نزول ہے اور رجُوع نہیں ہے۔ اوّل تو واپس آنے والے کی نسبت جو لفظ آتا ہے وہ رجُوع ہے اور رجُوع کا لفظ حضرت عیسٰیؑ کی نسبت کہیں نہیں بولا گیا۔دوم نزول کے معنے آسمان سے آنے کے نہیں ہیں۔ نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد اول ص:۵۔ تاریخ اشاعت 20 اگست1960 ؁ء)
ایک اور مقام پر سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں:
’’أتظنون أنَّ المسیح ابن مریم سیرجع الی الأرض مِن السّماء؟ ولا تجدون لفظ الرجوع فی کَلِمِ سیّد الرسل و أفضل الأنبیاء۔ أَ أُلْھِمْتم بھذا أو تنحِتون لفظ الرجوع مِن عند أنفسِکم کَالخَائینین؟ وَمِنَ الْمَعلُوم أن ھٰذا ھُو اللفظ الخَاص الذی یُستعمل لرَجُل یأتی بَعْد الذَّھاب۔ و یتوجّہ السَّفر الی الایاب، فھذا أبعدُ مِن أبلَغِ الْخَلقِ و امام الأنبیاء أن یترک ھٰھنا لفظ الرجوع و یَسْتَعْمل لفظ النزول ولا یتکلم کالفصحاء والبلغاء‘‘(مکتوب احمد، روحانی خزائن جلد۔11، ص۔150, 151)
کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ المسیؑح ابن مریم آسمان سے زمین پر واپس آئیں گے؟ حالانکہ سیّدالرسل ؐ اور افضل الانبیاء ؐ کے کلام میں رجوع کا لفظ پایا ہی نہیں جاتا۔ کیا تمہیں یہ الہام ہوا ہے یا خیانت کرنے والوں کی طرح تم نے اس لفظ رجوع کو اپنے نفس سے گھڑ لیا ہے؟ اور معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لفظ خاص طور پر اُس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو سفر کے بعد واپس آئے۔ پس یہ تمام مخلوقات میں سب سے فصیح و بلیغ شخص اور امام الانبیاء ؐ سے بعید ترین ہے کہ وہ رجوع کا لفظ ترک کرکے نزول کا لفظ استعمال کریں اور فصیح و بلیغ لوگوں کی طرح کلام نہ کریں۔
قرآن و حدیث اور علمائے سلف و خلف کے بہت سے حوالہ جات کے ساتھ زبان و بیان کے اس پہلو سے بھی یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس زمین پر دوبارہ تشریف نہیں لائیں گے کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو ان کے لئے ’’نزول ‘‘ کی بجائے ’’رجوع ‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا۔

کیا تمام اہل کتاب حضرت عیسیؑ پر ایمان لے آئیں گے ؟

غیر احمدی علماءکی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل آیت سے یہ قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں کیونکہ اس آیت کی رو سے تمام اہل کتاب اُن کی موت سے پہلے اُن پر ایمان لے آئیں گے۔ چونکہ تمام اہل کتاب ابھی تک اُن پر ابھی تک ایمان نہیں لائے اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں۔

وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ‌ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَکُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا‌ۚ‏

اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے یقینًا اُس پر ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ اُن پر گواہ ہوگا۔ (سورۃ النساء۔4:160)

اس آیت میں لفظ ”اِنْ“ استعمال کیا گیا ہے جو کلمہ حصر کہلاتا ہے جس کی رو سے تمام اہل کتاب اس میں شامل ہیں۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں اہل کتاب کا کون سا گروہ مراد ہے۔ وہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے، یا وہ جو اس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے یا وہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے وقت موجود ہوں گے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ لفظ ”اِنْ“ کے باعث حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کے تمام اہل کتاب مخاطب ہیں۔ کسی ایک گروہ کو بھی اس میں سے نہیں نکالا جاسکتا۔ مزید یہ کہ تمام لوگوں کا کسی نبی پر ایمان لے آنا سنّت اللہ کے خلاف ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ اوّل کے وقت تمام بنی اسرائیل اُن پر ایمان نہیں لائے تھے تو آمدِ ثانی کے وقت یہ سنّت کیسے بدل جائے گی؟

پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کردیا۔ (سورۃ الصّف۔ 61:15)

مذکورہ بالا غیر احمدی علماءکی تشریح ماننے سے تین متضاد صورتیں ہمارے سامنے آتی ہیں جنہیں کسی بھی طرح ایک دوسرے کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔

(1) سب اہل کتاب ایمان لے آئیں گے

پہلی صورت یہ ہے کہ جیسا کہ غیر احمدی مسلمان علماءکا ماننا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے وقت تمام اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ اُن پر ایمان لے آئیں گے۔

( 2) یہود و نصاریٰ قیامت تک رہیں گے

مندرجہ ذیل آیات میں یہودونصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت تک رہیں گے

پس ہم نے اُن کے درمیان قیامت کے دن تک باہمی دشمنی اور بغض مقدر کردئیے ہیں۔ (سورۃ المائدہ۔ 5:15)

اور ہم نے اُن کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دئیے ہیں۔ (سورۃ المائدہ۔ 5:65)

اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نےانکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالادست کرنے والا ہوں۔ (سورۃ آلِ عمران۔ 3:56)

( 3) یہودی قتل کئے جائیں گے

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں کی یہودیوں سے لڑائی نہ ہوجائے۔مسلمان یہود کو قتل کریں گے۔ یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کی آڑ میں چھپیں گے مگر وہ درخت یا پتھر کہے گا، اے مسلمان اے اللہ کے بندے میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے آکر قتل کردے سوائے غرقد درخت کے کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن والشراط الساعۃ)

یہ بات نہایت واضح ہے کہ قرآنِ کریم میں تضاد نہیں ہوسکتا ۔ چونکہ غیر احمدی مسلمان علماءکی آیت (4:160) کی تشریح سے نہ صرف قرآن و حدیث کے درمیان بلکہ خود قرآن کے اندر تضاد پیدا ہورہا ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ ان کی یہ تشریح غلط ہے اور اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت نہیں ہوتی۔