مقامِ خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم اورحضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کی عارفانہ تحریرات

حضرت بانی ٔسلسلہ عالیہ احمدیہ جس شدّت، عقیدت اور معرفتِ تامّہ کے ساتھ خاتم الانبیاء و الاَصفیاء حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن یقین کرتے تھے اس کا اندازہ خود آپ ؑ کی تحریرات کے مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اِس ضمن میں آپؑ کی متعدد تحریرات سے بعض اقتباسات پیش ہیں۔آپؑ فرماتے ہیں:
’’مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اس کا لاکھواں حصہ بھی دُوسرے لوگ نہیں مانتے۔ اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وُہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے، مگر اُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا۔ بجزان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں‘‘۔
 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 227،228 جدید ایڈیشن)
’’ہماری کوئی کتاب بجُز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجُز محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجُز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا نبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکُتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجُز خادمِ اسلام ہونے کے اَور کوئی دعویٰ بالمقابل نہیں ہے اور جو شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے وہ ہم پر اِفتراء کرتا ہے۔ ہم اپنے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ فیضِ برکات پاتے ہیں اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں فیضِ معارف ملتا ہے۔ سو مناسب ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے خلاف کچھ بھی دِل میں نہ رکھے، ورنہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا جواب دِہ ہو گا۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں ہیں تو ہمارا سب کاروبار عبث اور مردود اور قابلِ مؤاخذہ ہے۔
                                                             خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان 7/اگست 1899ء‘‘
 (مکتوباتِ احمدیہ جلد دوم صفحہ 249جدید ایڈیشن)
إنِّی أرٰی فِی وَجْھِکَ الْمُتَھَلِّلٖ
شأنًا یَفُوقُ شَمَائِلَ الانسانٖ
وَجْہُ الْمُھَیْمِنِ ظاھرٌ فی وَجْھِہ
و شُؤُنُہ لَمَعتْ بِھٰذا الشَّانٖ
فاق الْوَرٰی بِکَمالِہٖ و جمالِہٖ
و جلالِہٖ و جَنَانِہ الریّانٖ
لَا شَکَّ أنَّ مُحَمَّدًا خیرُالْوَرٰی
رِیْقُ الکِرامِ و نُخْبَۃُ الاَعْیانٖ
تمّتْ عَلیہ صِفَاتُ کُلِّ مَزِیّۃٍ
خُتِمتْ بِہٖ نَعْماءُ کُلِّ زَمانٖ
ھُوَ خیر کُلِّ مُقَرّبٍ مُتَقدِّم
والفضلُ بِالْخَیْراتِ لا بِزَمانٖ
یا رَبِّ صَلِّ علٰی نَبِیِّکَ دائمًا
فی ھٰذِہِ الدُّنْیا و بَعْثٍ ثانٖ
 (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ591تا 593)
’’ سورۃ اٰل عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔‘‘
 (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 279،280 حاشیہ)
” ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہوگا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ”۔
 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 419)
”چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ، نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو”۔
(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2صفحہ 71حاشیہ)
’’ وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا ۔۔۔۔۔۔ وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مَرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔
اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحییٰ اور ذکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرب اور وجیہ اور خداتعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اُس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ‘‘۔
 (اتمام الحجّہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)
 ”مجھے سمجھا یا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُرحکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں”۔
 (اربعین نمبر 1روحانی خزائن جلد17 صفحہ 345)
 ” وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی اشد محتاج تھی اور جو جو تعلیم دی گئی۔ وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی۔ اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللّٰہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علتِ غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا”۔
 (براہین احمدیہ ہرچہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ112،113)
 ” اعظم اور اکبر حصہ روح القدس کی فطرت کا حضرت سیدنامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔دنیا میں معصوم کامل صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوا ہے”۔
 (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 324حاشیہ در حاشیہ)
 ”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی”۔
(سراجِ منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ82)
 ’’سبحان اﷲ ثم سبحان اﷲحضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے نبی ہیں۔ اللہ اللہ کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ اُمّت۔ جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ وَحَبِیْبِکَ سَیِّدِ الْاَنْبِیَآءِ وَاَفْضَلِ الرُّسُل وَخَیْرِالْمُرْسَلِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ‘‘۔
       (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 272حاشیہ نمبر11)
 ”مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لئے خدانے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذُرّیّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کُنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے نُور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں”۔
 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118، 119)
 ” اے نادانو!! اور آنکھوں کے اندھو! !!ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سیّدومولیٰ (اس پر ہزار ہاسلام) اپنے افاضہ کے رُو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں۔ کیونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہوگیا۔ اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مُردے ہیں۔ کوئی اُن میں زندگی نہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس اُمت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے۔ بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیح بناسکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا”۔
 (چشمہ مسیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 389)
”آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جمیع اَخلاق کے متمم ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ ؐ کے اخلاق کا قائم کیا ہے”۔
(الحکم 10/مارچ 1904ء صفحہ 8 کالم 2)
 ” صراط مستقیم فقط دین اسلام ہے اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اَتم واکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں”۔
 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1صفحہ 557 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)
 ” اللہ جلّ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی”۔
 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ100 حاشیہ)
”آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خاتَم النّبییّن ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اِس اُمّت میں بڑی بڑی استعدادیں رکھ دی ہیں یہاں تک کہ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ بھی حدیث میں آیا ہے۔ اگرچہ محدّثین کو اِس پر جرح ہو مگر ہمارا نُورِ قلب اِس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بلاچُون و چرا اس کو تسلیم کرتے ہیں اور بذریعہ کشف بھی کسی نے اِس حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اگر کی ہے تو تصدیق ہی کی ہے”۔
(الحکم 17/24/اگست 1904ء صفحہ3 کالم نمبر3)
” تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔ کمال کو پہنچ گئیں”۔
 (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد10 صفحہ 367)
 ” بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار وبر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تأخّر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہوگئے اور چونکہ آپ صفاتِ الٰہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفاتِ جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی ”۔
(لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207)
 ” وجودِ با جود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہریک نبی کے لئے متمم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا۔ وہ چمک اٹھا۔ اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کرکے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود باجودپر ختم ہوگئے۔ وھذا فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔
 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد1صفحہ 292 حاشیہ نمبر11)
 ”جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرت کی تجلّیات کا پورا اور کامل حصّہ اُس کو ملا۔ اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اُس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحبِ خاتم ہے بجُز اُس کی مُہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی اُمّت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجُزاُس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مُہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے اُمّتی ہونا لازمی ہے۔ اور اُس کی ہمّت اور ہمدردی نے اُمّت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا۔ اوراُن پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیضِ وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص اُمّتی نہ ہو اُس پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو سو خدا نے اِن معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔ لہٰذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا اُمّتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پا سکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہو سکتا ہے کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی ہے مگر ظلّی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیضِ محمدی سے وحی پاناوہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفتِ الٰہیہ جو مدارِ نجات ہے مفقود نہ ہو جائے‘‘۔
    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ29 ،30)
 ”مَیں بڑے یقین اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے۔ وہ شخص جھوٹا اور مُفتری ہے جو آپ ؐ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اورآپ ؐ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا اور چشمۂ  نبوت کو چھوڑتا ہے۔ مَیں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سوا آپ ؐ کے بعدکسی اَور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ ؐ کی ختمِ نبوت کو توڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس وہی مُہرِ نبوتِ محمدی نہ ہو‘‘۔
 (الحکم 10/جون1905ء صفحہ 2)
 ” خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرمادیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جلّ شانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مَردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے۔ سو اِس آیت کے پہلے حصّہ میں جو امر فوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لٰکن کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہِ راست فیوض نبوت منقطع ہوگئے۔ اور اب کمال نبوت صرف اُسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا ”۔
 (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 91 صفحہ 213،214)
 ” کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضر ت صلی١للہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہ، کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَلْ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَسَیِّدِنَا اِنِّیْ نَبِیٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰی وَجْہِ الْحَقِیْقَتِہ وَالْاِفْتِرَاءِ وَتَرَکَ الْقُرْآنَ وَاَحْکَامَ الشَّرِیْعَتِہ الْغَرَّاءِ فَھُوَ کَافِرٌ کَذَّابٌ۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیاکلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے”۔
 (انجامِ آتھم روحانی خزائن جلد 11صفحہ 27، 28 حاشیہ)
 ”ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول
”من نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب”
اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بِلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی”۔
(ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 210 211,)
” اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیّٖن ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تومعصیت ہے اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اور حدیث لَانَبِیَّ بَعْدِیْ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلّی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمدکی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اس کے معنی یہ ہیں کہ لَیْسَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِ الدُّنْیَا وَلٰـکِنْ ھُوَاَبٌ لِرِجَالِ الْاٰخِرَتہِ لِاَنَّہ، خَاَتَمُ النّبِیِّیْن وَلَا سَبِیْلَ اِلٰی فُیُوضِ اللّٰہ مِن غَیْرِتَوَسُّطِہٖ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا لہٰذا خاتم النبیّٖن کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسیٰ ؑکے اُترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنی لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کرغیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ اور نبی کارسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفّٰی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اوریہ آیت روکتی ہےلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ ط۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ اُمت مکالمات و مخاطبات الٰہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَمَنِ ادَّعٰی فَقَدْکَفَرَ۔ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبییّن کامفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبییّن پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبییّن میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلّی طورپر محمداور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمدؐ خاتم النبییّن ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اُسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسیٰ بغیر مُہر توڑنے کے آ نہیں سکتا ”۔
      (ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 تا 209)
 ”یاد رہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعداس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحبِ شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعتِ آنحضرت صلعم وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعتِ نبوی ؐ سے نعمتِ وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوتِ مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ وَلَاسَبِیْلَ اِلَیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَتِہ وَمَنْ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ مِنْ اُمَّتِہ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَادَّعٰی اَنَّہ، نَبِیٌّ صَاحِبُ الشَّرِیْعَتِہ اَوْمِنْ دُوْنِ الشَّرِیْعَتِہ وَلَیْسَ مِنَ الْاُمَّتِہ فَمَثَلُہ، کَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَّرَہُ السَّیْلُ الْمُنْھَمِرُ فَاَلْقَاہُ وَرَائَہ، وَلَمْ یُغَادِرْحَتّٰی مَاتَ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی رُوحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حُکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیلِ نفوس کی جاتی ہے اور وحیٔ الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جلّ شانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہے ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اﷲ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکِنْ کا لفظ زبانِ عرب میں اِستدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارکِ مافات کے لئے۔ سو اِس آیت کے پہلے حصّہ میں جو امر فوت شُدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور پر کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لٰکِنْ کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ ؐ کے بعد براہِ راست فیوضِ نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمالِ نبوت صرف اُس شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباعِ نبوی ؐ کی مُہر رکھتا ہوگا اور اِس طرح پر وہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کا بیٹا اور آپ ؐ کا وارث ہو گا۔ غرض اِس آیت میں ایک طَور سے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طَور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُمیں ہے دُور کیا جائے ماحصل اِس آیت کا یہ ہؤا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو، اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقامِ نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغِ نبوتِ محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحبِ کمال ایک جہت سے تو اُمّتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتسابِ انوارِ محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اِس طَور سے بھی تکمیل نفوسِ مستعدہ اُمّت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باﷲ، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دونوں طور سے اَبتر ٹھہرتے ہیں نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند نہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور مُعترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام اَبتر رکھتا ہے۔
اب جبکہ یہ بات طے ہو چکی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوتِ مُستقلہ جو براہِ راست ملتی ہے اس کا دروازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی اُمتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمدیّہ کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا”۔
        (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 213 تا 215)
 ”تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گذر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدؐیہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اِس کے سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اِس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدؐیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اِس میں فیض ہے اِس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے مکالمہ مخاطبہ کا اُس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اِس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدؐیہ کی اس میں ہتک ہے ہاں اُمّتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اُس پر صادق آ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدؐیہ کی ہتک نہیں بلکہ اُس نبوت کی چمک اِس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیّت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔ اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا   گیا کہکُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّتٍہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اُن کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ اُمّت محمدؐیہ ناقص اور ناتمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔ اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اُس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔ مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فرد اُمت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور اُمّتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے ایسے طور پر کہ اُن کا وجود اپنا وجود نہ رہا۔ بلکہ اُن کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہوگیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ نبیوں کی طرح اُن کو نصیب ہؤا”۔
 (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ311، 312)
”اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں ”۔
   (تجلیاتِ الٰہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411،412)

قرآن سے وفات مسیح کا واضح ثبوت

ترجمہ: جب اللہ نے کہا اے عیسٰی میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا۔ اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے پاک کروں گا ان لوگوں سے جنہو ں نے کفر کیا اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکرین پر غالب رکھوں گا۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے جس کے بعد میں تمہارے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ’’واضح ہو کہ قرآن شریف کی نصوص بیّنہ اسی بات پر بصراحت دلالت کررہی ہیں کہ مسیح اپنے اُسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہ، فرماتاہے یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَتِہاب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اِنّیْ مُتَوَفِّیْکَ پہلے لکھا ہے اور رَافِعُکَ بعد ا س کے بیان فرمایا ہےجس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد ازوفات ہؤا۔اورپھراَور ثبوت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں اللہ جلَّ شَانُہ، فرماتا ہے کہ میں تیری وفات کے بعد تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر جو یہودی ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔ اب ظاہر ہے اور تمام عیسائی اور مسلمان اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہورؔ تک بخوبی پوری ہو گئی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو اُن لوگوں کی رعیّت اورماتحت کردیا جو عیسائی یا مسلمان ہیں اورآج تک صدہا برسوں سے وہ ماتحت چلے آتے ہیں یہ تو نہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے بعد پھر ماتحت ہوں گے۔ ایسے معنے تو با لبداہت فاسد ہیں۔‘‘
            (ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد3صفحہ 330تا331)

مسیح ابن مریم اور ان کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے

ترجمہ : مسیح ابنِ مریم ایک رسول ہی تو ہے۔ اس سے پہلے جتنے رسول تھے سب کے سب گزر چکے ہیں۔ اور اس کی ماں صِدیقہ تھی۔ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ کس طرح ہم ان کی خاطر اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھ وہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہوچکے ہیں اور ماں اس کی صدیقہ ہے جب وہ دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے۔ یہ آیت بھی صریح نص حضرت مسیح کی موت پر ہے کیونکہ اس آیت میں بتصریح بیان کیا گیاہے کہ اب حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے ہاں کسی زمانہ میں کھایا کرتے تھے جیسا کہ کَانَا کالفظ اس پر دلالت کررہاہے جو حال کو چھوڑکر گذشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔ اب ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم طعام کھانے سے اسی وجہ سے روکی گئی کہ وہ فوت ہوگئی اور چونکہ کَانَا کے لفظ میں جو تثنیہ کا صیغہ ہے حضرت عیسیٰ بھی حضرت مریمؔ کے ساتھ شامل ہیں اور دونوں ایک ہی حکم کے نیچے داخل ہیں لہٰذا حضرت مریم کی موت کے ساتھ اُن کی موت بھی ماننی پڑی کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکے گئے لیکن حضرت ابن مریم کسی اَور وجہ سے۔ اور جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ وَمَا جَعَلْنَا ھُمْ جَسَدًا لَّایَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (الانبیاء:9)جس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ہم نے ایساجسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہو مگر کھانا نہ کھاتا ہو۔ تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقعہ حضرت مسیح فوت ہوگئے کیونکہ پہلی آیت سے ثابت ہوگیا کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ جب تک یہ جسم خاکی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لئے ضروری ہے۔ اس سے قطعی طورپر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 425تا426)

امام مہدی کی مخالفت صداقت کا ثبوت

خدا کی طرف سے آنے والے ماموروں کو ہمیشہ ہی ابنائے عالم کی طرف سے مخالفتوں ، اذیتوں اور دکھوں کا سامنا رہا ہے ۔ اسی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بڑے افسوس کے ساتھ فرمایا ۔ ’ وائے افسوس انکار کی طرف مائل بندوں پر کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے وہ حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتے ہیں اور تمسخر کرنے لگتے ہیں۔ ‘ (سورۃ یٰس آیت ۳۱)
امت محمدیہ کی تاریخ بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور امت محمدیہ کے بزرگوں نے زیادہ تکلیفیں اٹھائیں۔ ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ زندیق قرار دیا گیا اور پھر واجب القتل قرار دے کر انہیں ظالم اور سفاک جلادوں کے سپرد کردیا گیا۔
امت محمدیہ کو ایک ایسے موعود کی خبر دی گئی جس کو الٰہی نوشتوں میں ’امام مہدی‘ کا نام دیا گیا ہے اور امت کا ایک بڑا حصہ آج بھی نظریاتی طور پر اس کا انتظار کررہا ہے مگر اس کے ساتھ بھی وہی سلوک مقدر ہے جو پہلے خدا والوں کے ساتھ ہوچکا ہے اور امت کے بزرگوں نے خود اس کی خبر دی ہے اور بات سب میں مشترک ہے کہ اما م مہدی کے سب سے بڑے مخالف اس کے زمانہ کے علما ء ہوں گے۔ چند حوالے پیش ہیں۔

حضرت ابن عربی

سپین میں چھٹی صدی ہجری کے ممتاز مفسر اور پیشوائے طریقت حضرت محی الدین ابن عربی (۱۱۶۵ء ۔ ۱۲۴۰ء) فرماتے ہیں۔

’جب امام مہدی دینا میں ظاہر ہوگا تو علمائے ظاہر سے بڑھ کر ان کا کوئی کھلا دشمن نہیں ہوگا۔ کیونکہ مہدی کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ جاتا رہے گا۔ ‘ (فتوحات مکیہ جلد ۳ صفحہ ۳۳۶)

محمد قاسم نانوتوی

فرقہ دیوبند کے پیشوا مولانا محمد قاسم نانوتوی (۱۸۳۱ء ۔ ۱۸۷۹ء) نے یہ پیش گوئی فرمائی۔

’ امام مہدی علیہ السلام چونکہ سراپا کلام اللہ کے موافق ہوں گے اس لئے کروڑوں لوگ مہدی سے روگردانی کریں گے۔ ‘ (قاسم العلوم ، صفحہ ۱۱۵)

پھر لکھتے ہیں۔

’امام مہدی جو اتباع سنت محمدی ﷺ کے تبلیغی مشن پر آئیں گے وہی کچھ فرمائیں گے جو اہل سنت و الجماعت کے عقائد صحیحہ میں موجود ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ مسلمانوں کا کوئی خاص فرقہ ان کو اپنے ڈھب کا نہ پاکر یہودیوں کی طرح جو پیغمبر آخرالزماں کے انتظار میں تھے اور پھر ان سے برگشتہ ہوگئے تھے ، ایسے ہی وہ فرقہ امام مہدی سے برگشتہ ہوجائے۔‘ (انوار النجوم صفحہ ۱۰۰)

نواب صدیق حسن خاں

اہل حدیث کے مسلمہ بزرگ نواب صدیق حسن خاں (۱۸۳۲ء ۔ ۱۸۸۹ء) لکھتے ہیں ۔ ’چونکہ مہدی علیہ السلام سنت کے احیاء اور بدعت کے انسداد کیلئے جہاد کریں گے علماء وقت جو فقہا کی تقلید اور مشائخ اور اپنے باپ دادوں کی پیروی کے عادی ہوں گے کہیں گے کہ یہ شخص دین اور ملت کی بنیادوں کو برباد کرنے والا ہے اور اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی عادت کے مطابق اس کی تکفیر اور گمراہی کے فتوے جاری کریں گے۔ ‘             (حجج الکرامہ صفحہ ۳۶۳)

امدادللہ مہاجر مکی

عالم اسلام کے مشہور عالم اور دیوبند اکابر کے روحانی پیشوا حافظ شاہ محمد امداداللہ مہاجر مکی (۱۸۱۸ء ۔ ۱۸۹۹ء) نے فرمایا۔

’ ظہور امام مہدی آخر الزماں کے ہم سب لوگ شائق ہیں مگر وہ زمانہ امتحان کا ہے اور اوّل اوّل ان کی بیعت اہل باطن اور ابدال شام بقدر ۳۱۳ اشخاص کے کریں گے اور اکثر لوگ منکر ہوجائیں گے۔ ‘ (شمائم امدادیہ مع اردو ترجمہ نفحات مکیہ صفحہ ۱۰۲)

نورالحسن خان

نواب صدیق حسن خان کے بیٹے مولوی نورالحسن خان نے لکھا ۔

’ اگر امام مہدی آگئے تو سارے مقلدبھائی ان کے جانی دشمن بن جائیں گے ان کے قتل کی فکر میں ہوں گے ۔ کہیں گے یہ شخص تو ہمارے دین کو بگاڑتا ہے۔ ‘ (اقتراب الساعۃ صفحہ ۲۲۴ مطبوعہ ۱۳۲۲ھ)

مولوی عبدالغفور

’مہدی اپنے احکام و فیصلوں میں علماء زمانہ کے خیالات کی مخالفت کرے گا جس سے وہ ناراض ہوجائیں گے۔ ‘ (النجم الثاقب جلد اوّل صفحہ ۸۶)

سید محمد سطبین السرسوی

امامیہ مکتبہ فکر کے فاضل نے مہدی موعود کی نسبت بتایا کہ ۔

’ علماء اس کے قتل کے فتوے دیں گے اور بعض اہل دول اس کے قتل کے لئے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تمام نام کے مسلمان ہوں گے۔ ‘ (الصراط السوی فی احوال المہدی صفحہ ۵۰۷)

سید محمد عباس زیدی

شیعہ عالم سید محمد عباس زیدی الواسطی تحریر فرماتے ہیں کہ

’پہلے تو فقہائے عالم ہی برنبائے عدم معرف اس جناب کے (یعنی مہدی کے) قتل کا فتویٰ دیں گے۔ ‘ (آثار قیامت و ظہور حجت حصہ دوم صفحہ ۵۹)

شیعہ رسالہ ۔ ’البشر‘ لاہور

شیعہ لٹریچر میں دو تین ہزار علماء کا امام مہدی پر کفر کا فتویٰ لگانا ثابت ہے۔ شیعہ رسالہ ’البشر‘ لکھتا ہے ۔ ’امت میں سب سے پہلے علماء و امراء کے لئے گمراہی کی پیشگوئیاں مذہبی معلوم ریکارڈ میں موجود ہیں ۔ تین سو یادوسری روایت میں تین ہزار علماء کا حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کی تلوار سے قتل ہونا مسلمات میں سے ہے۔ جو حضور علیہ السلام پر نیا دین پیش کرنے اور گمراہی پھیلانے کا فتویٰ دیں گے۔ ‘ (’البشر‘ لاہور، اپریل مئی ۱۹۷۶ء صفحہ ۲۰)

صداقت کا ثبوت

پس مامورین الٰہی کی سنت کے مطابق امام مہدی کی غیر معمولی اور تمام علماء اور فرقوں کا اسکے خلاف اکھٹا ہوجانا اسکی صداقت کا ثبوت ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۲ء میں امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اور دیگر تمام علامتوں کے ساتھ آپ کے حق میں علماء وقت کی مخالفت کی علامت بھی پوری ہوگئی۔ اور اسکا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخالفت کے باوجود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام اور انکی جماعت کو معجزانہ ترقی دی۔ آج انکی جماعت ۱۹۳ سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے اور اسکی تعداد کروڑوں میں ہے اور لاکھوں لوگ ہر سال اس جماعت میں داخل ہورہے ہیں۔ مبارک وہ جو ان علامتوں کو پورا ہوتا دیکھ کر امام مہدی کو قبول کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

یہ اگر انسان کا ہوتا کاروبار اے ناقصاں!

ایسے کاذب کے لئے کافی تھا وہ پروردگار

کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نے تمہارے مکر کی

خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہر یار

اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے ایک کذاب کی

کیا تمہیں کچھ ڈر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار

اس دلیل کا علمی و تنقیدی جائزہ کہ پرانا نبی دوبارہ آجانے سے ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا

اِس اِستدلال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پہلے پیدا ہونے والا نبی آخری نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب ہم اِس استدلال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بھی انتہائی بودا اورلغو نظر آتا ہے۔    سوال یہ ہے کہ آج اگر کسی بیس سالہ نوجوان کے سامنے کوئی بچہ پیدا ہو اور دیکھتے دیکھتے چند دِن میں فوت ہو جائے پھر وہ نوجوان اسّی سال بعد سَو سال کی عمر میں وفات پائے تو مؤرّخ کِس کو آخری لکھے گا یعنی ہر صاحبِ فہم اور ذی ہوش و حواس مؤرّخ کِس کو آخری قرار دے گا؟
اس بچّے کو جو بعد میں پیدا ہؤا مگر چند دِن کی زندگی پاکر فوت ہو گیا یا اس پہلے پیدا ہونے والے انسان کو جو اس بچے کی وفات کے اسّی80 سال بعد سَو 100سال عمر پاکر فوت ہؤا؟
 افسوس کہ بعینہٖ یہی صورت ہمارے مخالف علمائے کرام پیش کر رہے ہیں اور انہیں اِس منطق کا بودا پَن نظر نہیں آرہا۔ وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کم و بیش چھ صد سال کی تھی جب سَیّد کَونین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ 63 سال کی عمر میں حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی میں ہی آپ ؐ کا وصال ہؤا اور اس کے بعد اَب تک چودہ سَو سال مزید ہونے کو آئے کہ عیسیٰ نبی اﷲ زندہ سلامت موجود ہیں۔ بتائیے کہ جب وہ نازل ہو کر اپنا مشن پورا کرنے کے بعد بالآخر فوت ہوں گے تو ایک غیر جانبدار مؤرّخ زمانی لحاظ سے کِس کو آخری قرار دے گا۔
 جب علماءِ ظاہر کے نزدیک آیت خاتم النّبییّن زمانی اعتبار سے آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی اَور کو آخری ہونے کا حق نہیں دیتی تو پھر زمانی اعتبار سے ہی علماءِ ظاہر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری نبی قرار دینے کا کیا حق ہے؟ صرف مُنہ سے اِس حقیقت کا انکار کوئی معنے نہیں رکھتا جب کہ وہ عملاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اِس دُنیا میں آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے سینکڑوں سال بعد آنے والا سب سے آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔

نبی جہاں فوت ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے ؟

ایک ضعیف حدیث پیش کی جاتی ہے کہ ” نبی جہاں فوت ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے“(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الجنائز ۔ باب ذکر وفاتہ ﷺ) اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات لاہور میں ہوئی اور تدفین قادیان میں۔
(i)آنحضرتﷺ نے اس حدیث کونبی کے معیار صداقت کے طور پر پیش نہیں کیا کہ جب تک نبی فوت ہو کر اسی جگہ دفن نہ ہوجائے اس کی صداقت ثابت نہیں ہوتی ۔
اگر اس حدیث کو تمام انبیاء کےمتعلق سمجھا جائے تو تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے کیونکہ
 رُوِیَ أَنَّ یَعْقُوبَ مَاتَ بِمِصْرَ فَحُمِلَ اِلَی اَرْضِ الشَّامِ مِنْ مِصْرَ “
(بحرالرائق شرح کنزالدقائق جلد2صفحہ195 کتاب الجنائز ۔ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
کہ روایت ہے حضرت یعقوب  مصر میں فوت ہوئے۔ بعد میں آ پ ارض شام کی طرف اٹھا کر لائے گئے۔ (تاکہ تدفین ارضِ شام میں کی جاسکے)
پس اس سے ثا بت ہو تا ہے کہ تمام انبیاء کے لئے یہ معیار صداقت نہیں کہ وہ جہاں فوت ہوں وہیں دفن ہوں۔
اس حدیث کو درست ماننے کی صرف یہی ایک صورت ہو سکتی ہے کہ یہ مانا جائے کہ حضور ﷺ صرف اپنے متعلق یہ بات بیان فرمارہے ہیں۔
اور یہ تشریح بعد ازقیاس بھی نہیں ہے ۔ایک حدیث ہے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا نَحْنُ مَعْشَرَ الْاَنْبِیَاءِ لَا نَرِثُ وَلَا نُوْرَثُ مَاتَرَکْنَاہُ صَدَقَةٌ 
                                                                                    (بخاری کتاب المغازی حدیث بنی نضیر)
یعنی ہم انبیاء کا گروہ ہیں نہ ہم وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔جبکہ قرآن کریم میں ہے کہ وَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاودَ “ (النمل:17) کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داود علیہ السلام کے وارث ہوئے۔بظاہر پیدا ہونے والے اس اختلاف کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا قول دور کرتا ہے  کہ یُرِیْدُ بِذَالِکَ نَفْسَہُ (بخاری کتاب المغازی حدیث بنی نضیر) کہ اس مذکورہ حدیث میں آنحضور ﷺ کی خاص ذات مراد ہے۔
(ii)معترضین حضور ﷺ کی ایک دوسری حدیث بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ ” یُدْفَنُ مَعِیْ فِیْ قَبْرِیْ “(مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول ِ عیسٰی علیہ السلام ) کہ مسیح موعود میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا۔
اگراس حدیث کے بھی صرف ظاہری معنی کئے جائیں تو کون غیرت مند مسلمان آنحضرت ﷺ کی قبر اکھیڑنے کی جرأت کرے گا؟ یہ نہیں کہہ سکتے کہ قبر کے قریب ہوں گے کیونکہ حدیث کے الفاظ ”فِیْ قَبْرِیْ “بتاتے ہیں کہ حضور ﷺ کی قبر میں ہی تدفین ضروری ہے ۔ اگر قریب فوت ہوئے اور پھر لاکر حضور ﷺ کی قبر میں دفن کیا گیا تو علماء ظواہر پھر چھاتی پیٹیں گے اور فتاوی کفر لگائیں گے کہ یہ سچا نہیں کیونکہ فوت اُس جگہ ہوا اور دفن اِس جگہ ہو رہا ہے۔

قرآن میں ہے کہ دین مکمل ہو چکا پھر کسی مسیح یا مہدی کی امت محمدیہ کو کیا ضرورت ہے ؟

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کرکے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے وقتوں میں دین استحکام پکڑے گا اور تزلزل اور تذبذب دور ہوگا۔ اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا پھر اگر تکمیل دین کے بعد کوئی بھی کارروائی درست نہیں تو بقول معترض کے جو تیس سال کی خلافت ہے وہ بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ جب دین کامل ہوچکا تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ لیکن افسوس کہ معترض بے خبر نے ناحق آیت{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ} (المائدة 4)کو پیش کردیا۔ ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گذرنے کے بعد جب پاک تعلیم پرخیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔ تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں نہ معلوم کہ بے چارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مجدد اور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین کی کچھ ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں۔ نہیں وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں اور معترض کا یہ خیال کہ ان کی ضرورت ہی کیا ہے صرف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ معترض کو اپنے دین کی پرواہ نہیں اور کبھی اس نے غور نہیں کی کہ اسلام کیا چیز ہے اور اسلام کی ترقی کس کو کہتے ہیں اور حقیقی ترقی کیونکر اور کن راہوں سے ہوسکتی ہے اور کس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر مسلمان ہے یہی وجہ ہے کہ معترض صاحب اس بات کو کافی سمجھتے ہیں کہ قرآن موجود ہے اور علماء موجود ہیں اور خود بخود اکثر لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف حرکت ہے پھر کسی مجدد کی کیا ضرورت ہے لیکن افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی مرسل تھے اور ان کی توریت بنی اسرائیل کی تعلیم کے لئے کامل تھی اور جس طرح قرآن کریم میں آیت{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ} (المائدة 4)ہے اسی طرح توریت میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دی گئی ہے جس کا نام توریت ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی توریت کی یہی تعریف ہے لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہو گئی ہو ان کو پھر زندہ ایمان بخشیں چنانچہ اللہ جلّ شانہٗ   خود قرآن کریم میں فرماتا ہے {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ} (البقرة 88)یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تعلیم کی تائید اور تصدیق کریں اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے {ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى } (المؤمنون 45) یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔ پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔
    اس کثرت ارسال رسل میں اصل بھید یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد موکد ہوچکا ہے کہ جو اس کی سچی کتاب کا انکار کرے تو اس کی سزا دائمی جہنم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے{وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ } (البقرة 40)یعنی جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اب جب کہ سزائے انکار کتاب الٰہی میں ایسی سخت تھی اور دوسری طرف یہ مسئلہ نبوت اور وحی الٰہی کا نہایت دقیق تھا بلکہ خود خدا تعالیٰ کا وجود بھی ایسا دقیق در دقیق تھا کہ جب تک انسان کی آنکھ خدا داد نور سے منور نہ ہو ہرگز ممکن نہ تھا کہ سچی اور پاک معرفت اس کی حاصل ہوسکے چہ جائیکہ اس کے رسولوں کی معرفت اور اسکی کتاب کی معرفت حاصل ہو۔ اس لئے رحمانیت الٰہی نے تقاضا کیا کہ اندھی اور نابینا مخلوق کی بہت ہی مدد کی جائے اور صرف اس پر اکتفا نہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ رسول اور کتاب بھیج کر پھر باوجود امتدادازمنہ طویلہ کے ان عقائد کے انکار کی وجہ سے جن کو بعد میں آنے والے زیادہ اس سے سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ایک پاک اور عمدہ منقولات ہیں ہمیشہ کی جہنم میں منکروں کو ڈال دیا جائے اور درحقیقت سوچنے والے کے لئے یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ وہ خدا جس کا نام رحمن اور رحیم ہے اتنی بڑی سزا دینے کے لئے کیونکر یہ قانون اختیار کرسکتا ہے کہ بغیر پورے طور پر اتمام حجت کے مختلف بلاد کے ایسے لوگوں کو جنہوں نے صدہا برسوں کے بعد قرآن اور رسول کا نام سنا اور پھر وہ عربی سمجھ نہیں سکتے۔ قرآن کی خوبیوں کو دیکھ نہیں سکتے دائمی جہنم میں ڈال دے اور کس انسان کی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم کا منجاب اللہ ہونا اس پر ثابت کیا جائے یوں ہی اس پر چھری پھیر دی جائے پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت پاکر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہریک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجدد وقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے سو ہمیشہ خدا تعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح کے دنیا میں باقی رہیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ۱۴۰۰ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزارہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے کہ جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہوکر توریت کی خدمت میں مصروف رہے۔ چنانچہ ان تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے اور جب بنی اسرائیل میں دہریت اور بے ایمانی اور بدچلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔ اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسیٰؑ کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کیلئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزارہا نبی اس شریعت کی تجدید کیلئے بھیجے اور بارہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ امت جو خیرالا مم کہلاتی ہے اور خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بدقسمت سمجھی جائے کہ خدا تعالیٰ نے صرف تیس برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اس سے منہ پھیر لیا اور پھر اس امت پر اپنے نبی کریم کی مفارقت میں صدہا برس گذرے اور ہزارہا طور کے فتنے پڑے اور بڑے بڑے زلزلے آئے اور انواع و اقسام کی دجالیت پھیلی اور ایک جہان نے دین متین پر حملے کئے اور تمام برکات اور معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کونا مقبول ٹھہرایا گیا لیکن خداتعالیٰ نے پھر کبھی نظر اٹھا کر اس امت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آبپاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں کیا اس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزارہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کرکے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا{وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا۔ رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا } (النساء۔ 165-166)یعنی خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور منذر تھے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔ اور فرمایا{وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ} (النساء 165)یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہوجاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہریک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گذشتہ معجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزارہا انبیاء کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بیدلی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بدقسمت پاکر بنی اسرائیل کو رشک کی نگہہ سے دیکھیں گے یا بدخیالات میں گرفتار ہوکر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات خیال کریں گے‘‘۔
            (شہادت القرآن ۔روحانی خزائن جلد6صفحہ 339تا344)

مسیح ابن مریم کے نزول سے مراد بجواب اصلی مسیح یا مثیلِ مسیح

سوال۔ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے ساتھ احادیث میں کہیں مثیل کا لفظ دیکھا نہیں جاتا۔ یعنی یہ کسی جگہ نہیں لکھا کہ مثیل مسیح ابن مریم آوے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم آوے گا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’اما الجواب۔ پس سوچنا چاہیئے کہ جب خدائے تعالیٰ نے آنے والے مثیل کا ابن مریم ہی نام رکھ دیا تو پھر وہ اس کو مثیل ابن مریم کر کے کیوں لکھتا۔ مثلاً تم سوچو کہ جو لوگ اپنی اولاد کے نام موسیٰ و داؤد وعیسیٰ وغیرہ رکھتے ہیں اگرچہ اُن کی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ وہ نیکی اور خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہو جائیں مگر پھر وہ اپنی اولاد کو اس طرح کر کے تو نہیں پکارتے کہ اے مثیل موسیٰ۔اے مثیل داؤد۔ اے مثیل عیسیٰ۔ بلکہ اصل نام ہی بطور تفاؤل پکارا جاتا ہے۔ پس کیا جو امر انسان محض تفاؤل کی راہ سے کر سکتا ہے وہ قادرمطلق نہیں کر سکتا ؟ کیا اس کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت کو ایک دوسرے آدمی کے مشابہ کرکے وہی نام اُس کا بھی رکھ دیوے؟ کیا اُس نے اسی روحانی حالت کی وجہ سے حضرت یحییٰ کا نام ایلیانہیں رکھ دیا تھا؟ کیا اسی روحانی مناسبت کی وجہ سے حضرت مسیح ابن مریم کا نام توریت پیدائش باب ٤٩ میں سیلا نہیں رکھا گیا اور سیلا یہودا بن یعقوب علیہ السلام کے پوتے کا نام تھا۔ یہود اکو اسی باب میں مسیح ابن مریم کے آنے کی ان لفظوں میں بشارت دی گئی کہ یہودا سے ریاست کا عصا جدا نہ ہو گا جبتک سیلا نہ آوے۔ یہ نہ کہا گیا کہ جب تک ابن مریم نہ آوے۔ چونکہ مسیح ابن مریم اُس خاندان سے پیداہونے کی وجہ سے یہوداکا پوتا ہی تھا اس وجہ سے اس کا نام سیلا ہی رکھ دیا گیا۔ اسی توریت پیدائش با ب ٤٨ آیت پندرہ ١٥ میں حضرت یعقوب کی یہ دعا ذکر کی ہے کہ اُس نے یوسف کے لئے برکت چاہی اور یوسف کے لڑکوں کے لئے دعاکرکے کہا کہ وہ خداجس نے ساری عمر آج کے دن تک میری پاسبانی کی اِن جوانوں کو برکت دےوے اور جو میرا اور میرے باپ دادوں ابراہام اور اسحاق کا نام ہے سو اُن کا رکھا جاوے۔پس اللہ جلّشانہُ کی اس عادت قدیمہ سے انکار نہیں ہو سکتاکہ وہ روحانی مناسبت کی وجہ سے جو ایک کا نام ہے وہ دوسرے کا رکھ دیتا ہے۔ ابراہیمی المشرب اس کے نزدیک ابراہیم ہے اور موسوی المشرب اس کے نزدیک موسیٰ ہے اور عیسوی المشرب اس کے نزدیک عیسیٰ ہے اور جو اِن تمام مشربوں سے حصہ رکھتا ہے وہ اِن تمام ناموں کا مصداق ہے۔ ہاں اگر کوئی امر بحث کے لائق ہے تو یہ ہے کہ ابن مریم کے لفظ کو اس کے ظاہری اور متبادر معنوں سے کیوں پھیراجائے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بوجہ قیام قرینہ قویہ کے کیونکہ قرآن کریم اورحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوضاحت ناطق ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ جاں بحق ہوا اور خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا اور اپنے بھائیوں میں جا ملا۔ اور رسول مقبول نبی آخر الزمان نے اپنی معراج کی رات میں یحییٰ نبی شہید کے ساتھ دوسرے آسمان میں اُس کو دیکھا یعنی گذشتہ اور وفات یافتہ لوگوں کی جماعت میں اُس کو پایا۔ قرآن کریم و احادیث صحیحہ یہ امید اور بشارت بتواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن مریم اور دوسرے مثیل بھی آئیں گے مگر کسی جگہ یہ نہیں لکھا کہ کوئی گذشتہ اور وفات یافتہ نبی بھی پھر دنیامیں آجائے گا۔ لہٰذا یہ بات ببداہت ثابت ہے کہ ابن مریم سے وہ ابن مریم رسول اللہ مراد نہیں ہے جو فوت ہو چکا اور فوت شدہ جماعت میں جاملا اور خدائے تعالیٰ کی اس حکمت عجیبہ پر بھی نظر ڈالو کہ اُس نے آج سے قریبًا دس برس پہلے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا اور بتوفیق و فضل خود براہین میں چھپواکر ایک عالم میں اس نام کو مشہور کر دیا۔
اب ایک مدّت دراز کے بعد اپنے خاص الہام سے ظاہرفرمایا کہ یہ وہی عیسیٰ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ برابر دس ١٠ برس تک لوگ اس نام کو کتاب براہین میں پڑھتے رہے اور خدائے تعالیٰ نے دس برس تک اس دوسرے الہام کو جو پہلے الہام کے لئے بطور تشریح تھا پوشیدہ رکھا تا اس کے پُرحکمت کام ایک غور کرنے والے کی نظر میں بناوٹ سے مصفّٰی ثابت ہوجائیں۔ کیونکہ بناوٹ کا سلسلہ اس قدر لمبا نہیں ہو سکتاجس کی بنیاد ایک طول طویل مدّت سے پہلے ہی رکھی گئی ہو۔ فتدبروا یا اولوالابصار۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 313تا315)

سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سخت کلامی، گالیاں دینے اور توہین انبیاء علیہم السلام کے الزامات کے جوابات

سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سخت کلامی، گالیاں دینے اور توہین انبیاء علیہم السلام کے الزامات کے جوابات

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہودونصاریٰ کے علماء کی تین خصلتیں بیان فرمائی ہیں:وہ حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود حقائق کو لوگوں  سے  چھپاتے ہیں، باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اُن کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سچ اور جھوٹ کو اس طرح ملا جلا کر پیش کرتے ہیں جس سے سچ مشتبہ ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ کے علماء یہودونصاریٰ کے بعینہہ مشابہ ہوجائیں گے۔ احمدیہ مسلم جماعت اور بانی جماعت احمدیہ سیّدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے ہمارے مخالفین غیر احمدی علماء انہی تین خصلتوں کی پوری پوری پیروی کرتے ہیں۔

اس سلسلہ میں میں ایک جھوٹاالزام ہے سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گالیاں نکالنے، سخت کلامی کرنے اور انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کا الزام۔

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہے کہ گالی کہتے کسے ہیں۔ کون سا لفظ گالی ہے اور کون سا نہیں۔ اپنی طرف سے اس کی تعریف کرنے کی بجائے میں ایک سنّی عالم کی تقریر کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو ایک کتاب ’’خطباتِ برطانیہ ‘‘ سے لیا گیا ہے۔سیّد محمد مدنی میاں صاحب، جنہیں  ’’شیخ الاسلام‘‘ کا لقب دیا گیا ہے اپنی اس تقریر میں فرماتے ہیں:

سنی علماء گالی دیتے ہیں

’’آج یہاں پر میں ایک پیاری بات سناؤں گا۔ آج علماءِ اہلسنت والجماعت کے اوپر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ گالی دیتے ہیں۔ کیا گالی دیتے ہیں؟ کسی کافر کو کافر کہہ دیا تو گالی ہے، کسی مشرک کو مشرک کہہ دیا تو گالی ہے۔ کسی منافق کو منافق کہہ دیا تو گالی ہے کسی رجیم کو رجیم کہہ دیا تو گالی ہے کسی خنّاس کو خنّاس کہہ دیا تو گالی ہے تو میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سب گالی ہے تو یہ سب قرآن میں ہے۔پہلے قرآن کی صفائی کرو جو اخلاق والی کتاب ہے، جو آسمانی کتاب ہے جو صحیفۂ مبارکہ ہے۔ یہ سب الفاظ اسی قرآن میں ہیں اور اگر تم اسی کو قرآن کریم مانتے ہو جس میں یہ سب الفاظ ہیں تو تمہیں ان الفاظ کو گالی کہتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ کیا خدا نے گالی دی ہے؟ حدیث شریف میں اگر منافقوں کو کلاب النّار (جہنم کا کتا) کہا تو کیا رسول نے گالی دی ہے اور پھر اس کے بعد کہتے کیا ہیں؟ کافر کو کافر مت کہو۔مزہ تو یہ ہے کہ کافر کو کافر مت کہو کہنے والے خود کافر کہتے ہیں غور کرو کہتے ہیں کافر کو کافر نہ کہو کس کو کافر نہ کہیں؟ کافر کو۔جناب نے تو کہہ دیا کافر کو کافر نہ کہو۔ ان سے کہو کہ پھر مسلمانوں کو مسلمان بھی نہ کہو۔پوچھا گیا کہ کافر کو کافر کیوں نہ کہیں؟ جواب دیا کہ تجھے کیا خبر کہ مرنے سے پہلے ایمان لے آئے تو ان سے کہو کہ مسلمان کو مسلمان بھی نہ کہنا، اس لئے کہ تجھے کیا خبر کہ مرنے سے پہلے کافر ہوجائے۔ یہ کتنا بڑا افتراء ہے شریعت پر۔ کیا رسول کا یہی پیغام تھا کہ کافر کو کافر نہ کہو۔اگر یہی پیغام تھا تو رسول نے خود کیوں کہا                    قُلْ یٰایُّھَا الْکٰفِرُوْنَ۔  اے کافرو! یہ کس کو کہا تھا۔کافر ہی کو تو کہا تھا۔ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجْسٌ مشرکین نجس ہیں۔یہ کس کو کہا؟ مشرکین ہی کو تو کہا گیا۔ خنّاس کہا کس کو کہا؟ رجیم کہا کس کو کہا؟ شیطان کہا کس کو کہا؟ خبیث و خبیثات کے الفاظ قرآن پاک میں کیوں آئے؟ اور میں نے جو آیت مبارکہ سنائی اس میں تو حرام زادہ تک کہہ دیا اس میں زنیم کا لفظ بھی آگیا۔ معلوم ہوگیا کہ تم ابھی سمجھ ہی نہ سکے کہ گالی کس کو کہتے ہیں۔کافر کو کافر کہنا گالی نہیں ہے۔شرابی کو شرابی کہنا گالی نہیں ہے۔چور کو چور کہنا گالی نہیں ہے۔بدکار کو بدکار کہنا گالی نہیں ہے جو صفت جس کی ہو اس صفت سے اس کو یاد کرنا گالی نہیں ہے کسی مسلمان کو کافر کہو تو گالی ہے۔کسی نیک کو بُرا کہو تو گالی ہے جو مصداق ہو اس مصداق والے کو وہی کہو تو گالی نہیں۔ مجھ سے تم یہ ضرور پوچھ سکتے ہو کہ جس کو مردود کہا ہے وہ واقعی مردود ہے کہ نہیں؟ جس کو خبیث کہا ہے وہ واقعی خبیث ہے کہ نہیں؟ یہ سوال تو معقول ہے مگر یہ کہنا تو غلط ہے کہ میں نے گالی دی ہے۔ جب میں ثابت کردوں گا کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے تو یہ چیز گالی نہیں بنتی اور جب تم گالی نہ سمجھ سکے تو قرآنِ کریم کیا سمجھوگے؟ جواب دو کہ قرآنِ کریم میں جو کچھ ولید بن مغیرہ کو کہا گیا ، یہ گالی ہے کہ نہیں۔ اگر اس کو گالی کہو گے تو قرآنِ کریم کو کیا کہوگے۔الغرض یہ گالی نہیں ہے اس لئے کہ جس کو ایسا کہا گیا تھا وہ واقعی ایسا ہی تھا۔ یاد رکھنا اس کو۔ ‘‘ (خطباتِ برطانیہ ۔ شیخ الاسلام سیّد محمد مدنی میاں۔ باہتمام ابوالعطاء حافظ نعمت علی چشتی ۔ مکتبۂ فریدیہ۔ ایم اے جناح روڈ، ساہیوال)

آپ نے ایک سنّی عالم کی زبانی یہ دیکھ لیا کہ گالی خلافِ واقعہ بات کو کہتے ہیں۔ کسی میں کوئی عیب موجود نہ ہو اور اس کے ساتھ وہ عیب منسوب کیا جائے تو اسے گالی کہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ عیب واقعی اس میں موجود ہو یا کوئی بد صفت اس میں پائی جاتی ہو تو اس کا بیان کرنا گالی نہیں کہلاتا۔
اب دیکھئے کہ گالی کی یہی تعریف اور وضاحت جو اس سنّی عالم نے بیان کی ہے، آج سے ایک صدی سے زائد پیشتر خدا کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی وہی بیان کی تھی۔ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

ہم اور ہمارے نکتہ چین

’’بعضے صاحبوں نے نکتہ چینی کے طور پر اس عاجز کی عیب شماری کی ہے۔اور اگرچہ انسان عیب سے خالی نہیں اور حضرت مسیح کا یہ کہنا سچ ہے کہ میں نیک نہیں ہوں، نیک ایک ہی ہے یعنی خدا۔لیکن چونکہ ایسی نکتہ چینیاں دینی کارروائیوں پر بداثر ڈالتی ہیں اور حق کے طالبوں کو رجوع لانے سے روکتی ہیں اس لئے برعایت اختصار بعض نکتہ چینیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے مشتعل ہوکر مخالفین نے اللہ جلّشانہ اور اس کے رسول کریم کی بے ادبی کی اور پُردشنام تالیفات شائع کردیں۔ قرآن شریف میں صریح حکم وارد ہے کہ مخالفین معبودوں کو سبّ اور شتم سے یاد مت کرو تا وہ بھی بے سمجھی اور کینہ سے خدائے تعالیٰ کی نسبت سبّ و شتم کے ساتھ زبان نہ کھولیں لیکن اس جگہ برخلاف طریق ماموریہ کے سبّ و شتم سے کام لیا گیا۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ اس نکتہ چینی میں معترض صاحب نے وہ الفاظ بیان نہیں فرمائے جو اس عاجز نے بزعم ان کے اپنی تالیفات میں استعمال کئے ہیں اور جو درحقیقت سبّ و شتم میں داخل ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں۔ اور ان دونوں مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کو کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام دہی تصور کرلیتے ہیں۔حالانکہ دشنام اور سبّ اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ اور اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کے کہ مرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کرسکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔ کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور انکے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں، بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی۔ کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کرکے یہ فرمانا کہ انکم وماتعبدون من دون اللّٰہ حصب جہنم۔ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی نہیں ہے کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شرالبریہ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوق سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کی رو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہوگا؟ کیا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں واغلظ علیہم نہیں فرمایا۔ کیا مومنوں کی علامات میں اشدّاء علی الکفار نہیں رکھا گیا۔‘‘ (ازالۂ اوہام۔حصہ اوّل، صفحہ ۔8,9 روحانی خزائن جلد۔ 3صفحہ108,109 )

اِس کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ مقدّس لوگ پرلے درجہ کے غیر مہذّب تھے کیا زمانہ حال کی موجودہ تہذیب کی ان کو بُو بھی نہیں پہنچی تھی؟ اس سوال کا جواب ہمارے سیّدومولیٰ مادروپدرم براوفداباد حضرت ختم المرسلین سیّدالاوّلین والآخرین پہلے سے دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شرّالبریہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریّت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقودالنار اور حصب جہنم ہیں تو ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بُلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قراردیا اور ان کے بزرگوں کو شرّالبریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقودالنار رکھا اور عام طور پر اُن سب کو رجس اور ذریّت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیرخواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت ﷺ نے جواب میں کہا کہ اے چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے۔ میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا۔۔۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے ابوطالب کے اعتراض کا خود اپنی زبان مبارک سے جواب دیا درحقیقت وہی جواب ہر ایک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شئ ہے۔ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچادیوے پھر اگر وہ سچ کو سُنکر برافروختہ ہو تو ہوا کرے۔۔۔آنحضرت ﷺ نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظ سخت ہی استعمال نہیں فرمائے بلکہ بُت پرستوں کے اُن بُتوں کو جو اُن کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے توڑا بھی ہے۔(ازالۂ اوہام۔حصہ اوّل، صفحہ ۔10-13 روحانی خزائن جلد۔ 3صفحہ110-113 )

’’قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کررہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلًا زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔لیکن قرآن شریف کفار کو سُنا سُنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اولئک علیھم لعنۃ اللّٰہ والملٰئکۃ والناس اجمعین خالدین فیھا۔الجزو ۲ سورۃ البقرۃ۔ اولٰئک یلعنھم اللّٰہ و یلعنھم اللّٰعنون۔ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہےان شرّالدوّاب عنداللّٰہ الذین کفروا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانۂ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر کہا اور ابوجہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فلا تطع المکذبین ودوا لو تدہن فیدھنون ولا تطع کل حلاف مھین ھمّازٍ مشاءٍ بنمیم مناع للخیر معتدٍ اثیم عتل بعد ذٰلک زنیم۔۔۔سنمہ علی الخرطوم دیکھو سورۃ القلم الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی تو ان مکذبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اسبات کے آرزومند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو برا مت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو۔ تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے انکی چرب زبانی کا خیال مت کر۔یہ شخس جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور ضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی روہوں سے روکنے والا۔زناکار اور بایں ہمہ نہایت درجہ کا بدخلق اور ان سب عیبوں کے بعد ولدالزنا بھی ہے۔عنقریب ہم اس کے ناک پر جو سور کی طرح بہت لمبا ہوگیا ہے داغ لگادیں گے۔یعنی ناک سے مراد رسوم اور ننگ و ناموس کی پابندی ہے جو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے (اے خدائے قادر مطلق ہماری قوم کے بعض لمبی ناکوں والوں کی ناک پر بھی اُسترہ رکھ)اب کیوں حضرت مولوی صاحب کیا آپ کے نزدیک ان جامع لفظوں سے کوئی گالی باہر رہ گئی ہے۔ اور اس جگہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے نرمی اختیار کرکے چاہا کہ ہم سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ اس کے جواب میں اس کے تمام پردے کھولے گئے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین سے مداہنہ کی امید مت رکھو۔‘‘(ازالۂ اوہام۔حصہ اوّل،حاشیہ۔روحانی خزائن جلد۔ -3صفحہ115-117 )

چنانچہ یہ ثابت ہوگیا کہ حسبِ حال بات کا بیان کرنا گالی نہیں ہوتا اور اگر یہ گالی ہے تو پھر یہ تمام الفاظ تو قرآن شریف اور احادیث میں بھی موجود ہیں بلکہ ایک دو احادیث میں تو نہایت شدید الفاظ بھی موجود ہیں ۔

صحیح بخاری

’’لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی (یعنی ہم آپؐ پر غالب ہوئے) تو میں  تو خدا کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں  یہ پنج میل لوگ یہی کریں گے، اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپؐ کو تنہا چھوڑدیں گے۔ اس پر ابوبکرؓ بولے امصِص ببَظْر اللَاتِ (ابے جا ! لات بُت کی شرمگاہ چوس لے) کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپؐ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔‘‘ (کتاب الشروط باب الشُروطِ فی الجہاد والمُصالَحَۃِ مَعَ أَھْلِ الْحُرْبِ وَ کِتَابَۃِ الشُّرُوْطِ، ترجمہ و تشریح محمد داؤد راز، ناشر مرکزی جمیعت اہلحدیث ہند۔ سن طباعت ۲۰۰۴)
مشکوٰۃ المصابیح

’’وَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ یَقُوْلَ ’’مَنْ تَعَزَّی بِعَزَاءِ الْجَاھِلِیَّۃِ فَاَّعِضُوْہُ بِھَنِ أَبِیْہِ وَلَا تَکْنُوْا ‘‘رَوَاہُ فِی ’’شَرْحِ السُّنَّۃِ‘‘
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا، جو شخص جاہلی نسب کی طرف نسبت کرتا ہے (اور فخر کرتا ہے) تو تم اسے کہو کہ اپنے باپ کی شرمگاہ اپنے منہ میں لے لے اور اس میں ہرگز کنایہ نہ کرو۔(شرح السنّہ)‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الآداب بابُ الْمُفَاخَرَۃِ وَالْعَصَبِیَّۃِ جلد چہارم ص۔۱۰۳، ترجمہ و تشریح مولانا محمد صادق خلیل تحقیق و نظر ثانی حافظ ناصر محمود انور فاضل اسلامک یونیورسٹی المدینۃ المنورۃ، ناشر مکتبہ محمدیہ ساہیوال۔ طبع اول جنوری ۲۰۰۵)

بندروں اور سؤروں کے بھائیو! (تفسیر مظہری)

’’محمد بن عمر کی روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا جب ہم بنی قریظہ پر پہنچے تو ہم نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کولڑائی کا یقین ہوچکا ہے۔ حضرت علی نے قلعہ کی جڑ میں جھنڈا گاڑ دیا۔ ان لوگوں نے اپنی گڑھیوں کے اندر سے ہی گالیوں سے ہمارا استقبال کیا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی بیویوں کو گالیاں دینے لگے مگر ہم خاموش رہے اور ہم نے کہہ دیا ہمارا تمہارا فیصلہ تلوار سے ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ بھی پہنچ گئے اور ان کے قلعہ کے قریب بنی قریظہ کے پتھریلے میدان کے نشیبی جانب چاہ اناپر نزول فرمایا۔ حضرت علی نے حضو ر ﷺ کودیکھا تو مجھے حکم دیا کہ میں جھنڈا پکڑ لوں۔میں نے جھنڈا پکڑ لیا۔حضرت علی کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے کان میں ان لوگوں کی گالیاں اور گندے الفاظ پہنچیں۔اس لئے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ ان خبیثوں کے قریب نہ پہنچیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم مجھے واپس جانے کا مشورہ دے رہے ہو۔میرا خیال ہے کہ تم نے ان سے کچھ گندے الفاظ سن لئے ہیں۔ حضرت علی نے کہ جی ہاں۔فرمایا اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کچھ بھی اس طرح کی بات نہ کہتے۔ غرض رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے۔آگے آگے اسید بن حضیر تھے۔ اسید نے کہا اے اللہ کے دشمنو جب تک تم بھوکے نہ مرجاؤ گے ہم تمہارے قلعوں سے نہیں ہٹیں گے۔ تم ایسے ہو جیسے بھٹ کے اندر لومڑی۔ بنی قریظہ نے کہا اے ابن حضیر خزرج کے مقابلہ میں ہم نے تم سے معاہدہ کیا تھا۔ حضرت اسید نے کہا اب میرے تمہارے درمیان نہ کوئی معاہدہ باقی ہے اور نہ رشتہ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ یہودیوں کی گڑھی کے قریب پہنچ گئے اور اتنی اونچی آواز سے یہودیوں کے کچھ سرداروں کوپکارا کہ انہوں نے آواز سن لی اور فرمایا اے بندروں اور سؤروں کے بھائیو اور اے بتوں (یا شیطان) کی پرستش کرنے والو جواب دو کیا اللہ نے تم کو رسوا کردیا اور تم پر اپنا عذاب نازل فرمادیا۔ کیا تم مجھے گالیاں دیتے ہو۔ (اندرون حصن سے) ان لوگوں نے قسمیں کھا کر کہا ابوالقاسم ہم نے ایسا نہیں کیا آپ تو جاہل نہیں ہیں۔ دوسری روایت میں جاہل کی جگہ فحش گوکا لفظ آیا ہے۔‘‘(تفسیر مظہری،زیر تفسیر سورۃ الاحزاب آیت۔۲۷)

یہاں تک تو میں نے آپ کو بتایا کہ گالی کی تعریف کیا ہے، کس لفظ کو گالی کہا جاتا ہے کسے نہیں، اور اس کے بعد میں نے بتایا کہ ایسے  سخت الفاظ جنہیں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریروں میں پاکر مخالفین انہیں گالیاں کہتے ہیں، وہ الفاظ خود قرآنِ کریم اور احادیث میں بھی موجود ہیں۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ ہمارے مخالفین کے مستند علماء بھی اپنی تحریرات میں ایسے الفاظ  و عبارات استعمال کرتے رہے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کا ایک فرقہ تو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم پر تبراء و لعنت کو اپنے دین و ایمان کا جزو اور ایسا کرنا عین عبادت سمجھتا ہے۔فروع کافی جلد ۲ ص ۲۱۶ پر لکھا ہے:

’’فمن احبنا کان نطفۃ العبد و من ابغضنا کان نطفۃ الشیطان‘‘ پس جو ہم سے محبت کرتا ہے وہ عبد یعنی انسان کا نطفہ ہے اور جو ہم سے بغض رکھتا ہے وہ شیطان کا نطفہ ہے

اسی طرح فروع کافی کتاب الروضۃ  میں جو کہ جلد۔۳ کا جزو ثانی ہے، لکھا ہے:

’’یا ابا حمزۃ ان الناس کلھم اولاد بغایا ما خلا شیعتنا‘‘ اے ابا حمزہ! تمام انسان اولادِ بغایا ہے سوائے ہمارے شیعوں کے۔

’’اولادِ بغایا ‘‘ کا ذکر آیا تو  یہ بتادوں کہ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر منجملہ دیگر الزامات کے یہ بھی الزام ہے کہ آپ نے اپنے مخالفین کو ’’ذریۃ البغایا‘‘ کہا ہے جس کا ترجمہ مخالفین ، نعوذ باللہ، کنجریوں کی یا رنڈیوں کی اولاد کرتے ہیں حالانکہ نہ تو حضور علیہ السلام نے ایسا مطلب لیا اور نہ ہی جماعت احمدیہ ایسا سمجھتی ہے۔ ایسا محض مخالفت اور تعصب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک حوالہ تو میں نے ابھی فروعِ کافی سے آپ کے سامنے رکھا اور حضرت امام  جعفر صادق علیہ السلام کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ اس معنی پر مشتمل الفاظ دیگر مسلمانوں کے لئے استعمال کریں۔اس کا صحیح مطلب ہدایت سے دور اور سرکش لوگ ہے جسا کہ عربی لغت سے ظاہر ہے۔ تاج العروس میں  ’’البغایا ‘‘ کا مطلب لکھا ہے ’’ہراول دستہ ‘‘ جو فوج سے پہلے سامنے آتا ہے۔جبکہ ’’ابن بغیہ‘‘ کا مطلب لکھا ہے جو رُشد یعنی ہدایت سے دور ہو۔یہی معنی دوسری مشہور لغت ’’لسان العرب ‘‘ میں لکھے ہیں۔

اس لفظ کی قرآنِ کریم میں ایک مثال ”ضال” کے استعمال کی ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک جگہ تو یہ فرمایا ’’مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی‘‘[53:3] تمہارا ساتھی نہ تو گمراہ ہوا اور نہ ہی نامراد رہا، جبکہ دوسری جگہ فرمایا’’وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی‘‘[93:8] اور تجھے تلاش میں سرگرداں (نہیں) پایا، پس ہدایت دی۔چنانچہ معلوم ہوا کہ الفاظ کے معانی ان کے سیاق و سباق اور اشخاص کی مناسبت سے کئے جاتے ہیں۔

شیعہ کتاب فروع کافی کے بعد سنئے  مولانا قاسم نانوتوی صاحب  کی ایک کتاب ’’ھدیۃ الشیعہ ‘‘ کا ایک اقتباس، اور یہ اقتباس سنانے سے پہلے میں یہ بھی بتادوں کہ اس کتاب سے میرے پاس مزید دو ایسے اقتباس ہیں جو نہایت سخت  الفاظ پر مشتمل ہیں اور جنہیں یہاں پڑھ کر سنانے کا میں متحمل نہیں ہوسکتا۔ مولانا قاسم نانوتوی صاحب کے یہ الفاظ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُن الفاظ سے کئی درجہ سخت ہیں جنہیں ہمارے مخالفین قابل اعتراض سمجھتے ہیں لیکن اپنے گھر میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ اُن کے علماء کیا کیا کچھ لکھتے رہے ہیں۔

اس اقتباس  میں  مولانا قاسم نانوتوی صاحب سخت الفاظ استعمال کرنے سے پہلے اپنی صفائی پیش کررہے ہیں اور ان کے استعمال کا سارا لزام فریق مخالف پر ڈال رہے ہیں کہ اُن کی وجہ سے نانوتوی صاحب کو ایسا کرنا پڑرہا ہے۔

ھدیۃ الشیعہ

’’اور اگر بہ نسبت انبیاء و مرسلین یا بزرگان اہل بیت و اصحاب سید المرسلین ﷺ اس رسالہ میں کوئی حرف نامناسب دیکھ کر الجھیں تو مجھے اس سے بری الذمہ سمجھیں ایسا مذکور کہیں کہیں ناچار ہی بغرض الزام شیعہ آگیا ہے اس کا بار انہی کی گردن پر ہے۔ یہ سب انہوں نے ہی کرایا ہے۔خدا شاہد ہے کہ ایسے عقائد سے میں بہزار جان و ہزار زبان بیزار ہوں۔ محبت بزرگان مذکور کو اپنی سعادت اور ان کے حسنِ اعتقاد کو ذریعہ نجات سمجھتا ہوں مگر مردمانِ فہمید سے یوں امید ہے کہ میرے عذر سے پیشتر ہی بشہادت مذہب مجھے معذور سمجھیں۔‘‘ (ص۔۱۱۔ مصنف مولانا محمد قاسم نانوتوی ۔ ناشر نعمانی کتب خانہ حق سڑیٹ اردو بازار لاہور)

اسی نوعیت کی وضاحت  ’’اظہار الحق‘‘ کے مصنف مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے بھی کی ہے۔ اس کتاب کے ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کی جلد اوّل ص۔۲۳۰ پر لکھا ہے:

’’اگر کسی جگہ میرے قلم سے کوئی ایسا لفظ نکل جائے جو عیسائیوں کی کسی مسلمہ کتاب کی نسبت یا اُن کے کسی پیغمبر کے متعلق بے ادبی اور گستاخی کا شبہ پیدا کرتا ہو تو ناظرین اس کو اُس کتاب کی اس نبیؑ کی نسبت میری بداعتقادی پر محمول نہ فرمائیں، کیونکہ میرے نزدیک خدا کی کسی کتاب یا اس کے کسی پیغمبر کی شان میں بے ادبی کرنا بدترین عیب ہے۔‘‘

اب مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب کی کتاب ھدیۃ الشیعہ کے دو مزید اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔

’’اس سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت امیر کا سکوت جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے افعال و حرکات پر تھا یہاں تک کہ غصب فدک دیکھا کئے۔ اپنی بٹی کا نکاح ان سے کردیا اور ان سے بیعت کرلی اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے یہ سب بوجہ حقانیت تھا نہ بوجہ تقیہ ورنہ اس زور اور قدرت اور اس کرامت کا آدمی اور کون تھا جو ان سے اندیشہ یا ہراس رکھتا اور اگر بالفرض یہ زور اور بل اور یہ قدرت خداد کسی میں ہوتی بھی تب غصب دخترطاہرہ مطہرہ تو ہرگز گوارا نہ ہوتا۔ اہل ہند جو تمام ولایتوں کے لوگوں کے نامردہ پن میں امام ہیں ان میں کا بھنگی اور چمار بھی اس سہولت سے بیٹی نہیں دیتا جس طرح حضرت امیر نے اپنی دختر مطہرہ کو حضرت عمر  کے حوالہ کردیا۔آپ بھی دیکھتے رہے اور صاحبزادی بھی، پھر صاحبزادوں میں بھی ایک وہ تھے کہ جنہوں نے تیس ہزار فوج جرار کا مقابلہ کیا ھالانکہ وہ زمانہ ضعیفی اور تحمل کا تھا اور بہن کے نکاح کے وقت عین شباب تھا اور تسپر تماشہ یہ ہے کہ ہنگامہ کربلا میں جو دشمنانِ سفاک نے حرم محترم اور زنانِ اہلبیت کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو کیا کچھ غضب اور جوش آیا۔ شیعوں کو تو شہادت نامہ کربلا ازبر ہی ہوگا لکھنے کی کیا حاجت۔‘‘ (ص۔164,165)

’’الحمد للہ کہ مولوی عمار علی صاحب کی تمام افتراپردازیوں کے جواب سے فراغت پائی مگر جو کچھ انہوں نے دربارہ فدک زبان درازیاں اور افتراپردازیاں کیں ہیں اس کی مکافات میں حسب مثل مشہور جیسے کو تیسا اور جواب ترکی بہ ترکی، مناسب تو یوں تھا کہ ہم بھی کچھ نظم و نثر سے پیش آتے اور مولوی صاحب کی مہملات کے جواب میں مولوی صاحب کو بے نقط سناتے۔ مگر چونکہ ایسی خرافات کا بکنا پاجیوں کا کام ہے، ہم کو کیا زیبا ہے کہ ایسی نازیبا باتوں میں مولوی صاحب کے ہمصفیر ہوں اور اپنی زبان کو گندہ کریں اور اہل عقل اور ارباب حیا سے شرمندہ ہوں؟معہذا اصحاب ثلٰثہ کی اہانت کے انتقام میں مولوی عمار علی صاحب سے دست و گریباں ہونا تو ایسا ہی ہے جیسا چاند سورج پر تھوکنے کی سزا میں کتے کو کوئی پتھر لگائے یا آسمان کی طرف تھوکنے کے عوض میں کسی کم عقل ناہنجار کے منھ میں کوئی پیشاب کی دھار لگائے۔ظاہر ہے کہ اول تو چاند سورج کو ان حرکات ناشائستہ سے کیا نقصان؟ بلکہ عقلا کے نزدیک اور دلیل رفعت مکان ہے۔ دوئم کجا شمس و قمر و کجا سگ و کم عقل سگ نزاد؟ مساوات ہو تو ایک بات بھی ہے ورنہ سگ اور سگ مزاجوں کی اتنے میں کچھ عزت نہیں جاتی ہاں البتہ اپنی اوقات فی الجملہ خراب جاتی ہے۔ سو ایسے ہی اصحاب ثلٰثہ کو اول تو مولوی عمار علی صاحب جیسوں کی اہانت یا برا کہنے سے کیا نقصان؟ بلکہ الٹا باعث رفعت شان ہے۔چاند سورج کی طرح وہ روشن ہوئے تو کتے ان پر بھونکے اور اوروں پر کیوں نہ بھونکے۔‘‘(ایضًا ۔ باب مباحث فدک صفحہ۔223)

اب آخر میں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام  اور ان کی جماعتوں پر گالیاں نکالنے اور پچھلے انبیاء کی توہین کرنے کا الزام ہمیشہ سے ان کے مخالفین عائد کرتے آئے ہیں ۔ سیّد الانبیاء حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ماننے والوں پر بھی یہی الزام لگایا گیا۔ یہ واقعات اگرچہ سیرت کی تمام کتابوں اور تفاسیر میں درج ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر میں نے چند حوالے منتخب کئے ہیں جو پیشِ خدمت ہیں۔

تفسیر ابن کثیر (زیر آیت 90-93، سورۃ بنی اسرائیل)

’’قریش کے امراء کی آخری کوشش : (آیت ۹۰۔۹۳) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان بن حرب اور بنی عبدالدار کے قبیلے کے دو شخص اور ابوالبختری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے یہ سب یا ان میں کچھ سورج کے غروب ہوجانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے’ بھئی کسی کو بھیج کر محمد (ﷺ) کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔چنانچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپؐ کی قوم کے اشراف  لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپؐ کو یاد کیا ہے۔چونکہ حضور ﷺ کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا، آپؐ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپؐ فورًا ہی تشریف لے آئے۔ قریشیوں نے آپؐ کو دیکھتے ہی کہا سنئے آج ہم آپ ؐپر حجت پوری کردیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لئے ہم نے آپؐ کو بلوایا ہے۔واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تو نے ہم پر کھڑی کررکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو، ہمارے دین کو برا کہتے ہو، ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بناتے ہو، ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو، تم نے ہم میں تفریق ڈال دی، لڑائیاں کھڑی کردیں۔واللہ آپؐ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔‘‘(زیر آیت ۹۰ تا ۹۳ سورۃ بنی اسرائیل)
سیرت النبی ﷺ ابن ہشام، گالیاں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام

’’قریش کا وفد: ابن اسحاق کہتے ہیں اور ان کے علاوہ اور بہت لوگ تھے یہ سب ابوطالب کے پاس آئے اور کہا اے ابوطالب یا تو تم اپنے بھتیجے یعنی حضورؐ کو منع کرو کہ وہ ہمارے بُتوں کو بُرا نہ کہے اور ہمارے باپ دادا کو جاہل اور گمراہ نہ بتائے ورنہ ہم کو اجازت دو کہ ہم خود اس سے سمجھ لیں۔‘‘ (جلد اول ص۔۱۷۰، ناشر ادارہ اسلامیات لاہور، کراچی، پاکستان، طباعت سوم مئی  ۱۹۹۸)

’’قریشی سفیروں کی ایک اور ترکیب: ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں عمرو بن عاص جب نجاشی کے پاس سے باہر نکلا تو اس نے کہا خدا کی قسم! میں کل ایسی ترکیب کروں گا جس سے ان لوگوں کا پورا استیصال ہوجائے گا۔ عبداللہ بن ربیعہ جو ایک رحم دل شخص تھا اُس نے کہا ایسا نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ پھر آخر یہ لوگ ہمارے رشتہ دار ہیں۔اگرچہ دین میں ہمارے مخالف ہوگئے ہیں تو ہو جائیں مگر ایسا نہ کرنا چاہئے۔ عمرو بن عاص نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ میں کل نجاشی سے ضرور کہوں گا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کی نسبت ایک سخت بات کہتے ہیں۔ چنانچہ دوسرے روز نجاشی سے اس نے یہ بات کہی۔ نجاشی نے صحابہؓ کو طلب کیا تاکہ ان سے دریافت کرے۔‘‘ (جلد اوّل۔ص ۲۱۷، ناشر ادارہ اسلامیات  لاہور، کراچی پاکستان طباعت  سوم مئی ۱۹۹۸)

سیرت حلبیہ ۔ گالیاں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام

’’اس کے بعد یہ لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے۔ ’’ابوطالب! تمہارے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے، ہمارے دین میں عیب نکالے ہیں اور ہمیں بے عقل ٹھہرایا ہے، وہ کہتا ہے ہم میں عقلیں نہیں ہیں۔ اس نے ہمارے باپ دادا تک کو گمراہ کہا ہے۔‘‘ (جلد اول نصف آخر ص۔۲۵۵، مرتب و مترجم مولانا محمد اسلم قاسمی فاضل دیوبند، زیرسرپرستی حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیّب صاحب۔ ناشر دارالاشاعت کراچی۔ مئی ۲۰۰۹ )

’’اس کے اگلے دن عمرو ابن عاص دوبارہ نجاشی کے پاس آئے اور اس سے بولے۔’’یہ لوگ عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک بہت بڑی بات کہتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں  اس کے بیٹے نہیں ہیں۔‘‘ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ عمرو نے نجاشی سے کہا۔’’جہاں پناہ! ان کی کتاب میں عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ مریم کو گالیاں دی گئی ہیں اس کے بارے میں ان سے پوچھئے۔‘‘ (جلد اول نصف آخر ص۔۴۰۶، مرتب و مترجم مولانا محمد اسلم قاسمی فاضل دیوبند، زیرسرپرستی حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیّب صاحب۔ ناشر دارالاشاعت کراچی۔ مئی ۲۰۰۹)

 دلچسپ بات یہ ہے جو ہم احمدیوں کے لئے ایمان افروز اور غیر احمدی مسلمان بھائیوں کے لئے نصیحت آموز بلکہ چشم کشا ہونی چاہئے کہ بعینہہ یہی الزامات سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی جماعت پر لگائے جاتے ہیں اور اس طرح ہمارے مخالفین خود کو مشرکین مکہ اور مخالفینِ نبی اکرم ﷺ کے مثیل اور سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی اکرم ﷺ کا مثیل اور ان کی جماعت کو صحابہ ؓ کی جماعت کا مثیل بناتے ہیں۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک!

سورۃ آل عمران کی آیت سے وفات مسیح کا ثبوت


ترجمہ : اور محمد نہیں ہیں مگر ایک رسول۔ یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائےگا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکےگا۔ اور اللہ یقینا شکرگزاروں کو جزا دے گا۔

یہ آیت صاف طور پر بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے گذرے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مسیح ناصری ؑ بھی ایک رسول تھے جو چھ سو سال نبی کریم ﷺ سے پہلے مبعوث کئے گئے تھے ۔ پس لامحالہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ بھی اس آیت کی رو سے فوت ہوچکے ہیں۔ 
                      اگر کوئی اعتراض کرے کہ لفظ قَدْ خَلَتْ کا   مطلب ہے ’’گزر گئے ‘‘  اور مراد یہ ہے  کہ جیسے کوئی لاہور سے گزر گیا کوئی آسمان پر گزر گیا ، نہ کہ ’’فوت ہو گئے ‘‘تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ لغت عربی کی مسند کتاب تاج العروس میں لکھاہے کہ خَلَا فُلَانٌ : اِذَا مَاتَ ۔ یعنی فلاں شخص گزر گیا کا معنی ہے وہ فوت ہو گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:۔
’’وَمَامُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلیٰ اَعْقَابِکُمْ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے ہیں۔اب کیا اگر وہ بھی فوت ہوجائیں یامارے جائیں تو ا ن کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھرجاؤ۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو ایسانبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے۔کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدائے تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔‘‘
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 427)