حدیث لا نبی بعدی اور بزرگانِ امت

معترضین یہ ثابت کرنے کے لئے کہ آنحضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا حدیث’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ پیش کرتے ہیں۔ اور مطلب یہ کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔
ان کے اس دعویٰ کی غلطی ثابت کرنے کے لئے ہم ذیل میں ان چند بزرگان کے حوالے درج کرتے ہیں جنہوں نے اس حدیث کی تشریح فرمائی ہے ۔ اور حدیث کا مطلب بہت احسن رنگ میں واضح کر دیا ہے ۔

زوجہ رسول ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

لوگو ! آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تو کہو مگر ہر گز یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔
(تفسیر الدرالمنثور جلد 5 صفحہ 204)

عالم بے بدل حضرت ابن قتیبہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول آنحضرت ﷺ کے فرمان ’لانبی بعدی‘ کے مخالف نہیں کیونکہ حضور ﷺ کا مقصد اس فرمان سے یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کو منسوخ کرنے والا ہو ۔
(تاویل مختلف الاحادیث صفحہ 236)

محدث امت امام محمد طاہر گجراتی

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا یہ قول ’لانبی بعدی‘ کے منافی نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کی مراد یہ ہے کہ ایسا نبی نہیں ہوگا جو آپ ﷺ کی شریعت کو منسوخ کرے ۔
 (تکملہ مجمع البحار صفحہ85)

حضرت امام عبدالوہاب شعرانی

مطلق نبوت نہیں اٹھائی گئی ۔ محض تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے ۔۔۔ اور آنحضرت ﷺ کے قول مبارک ’لا نبی بعدی و لا رسول‘ سے مراد صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو نئی شریعت لے کر آئے ۔
(الیواقیت والجواہر جلد 2صفحہ 24)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

آنحضرت ﷺ کے اس قول ’لا نبی بعدی‘ سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ جو نبوت اور رسالت ختم ہوگئی ہے وہ حضور ﷺ کے نزدیک نئی شریعت والی نبوت ہے ۔
(قرۃ العینین صفحہ 319)

حضرت حافظ برخوردار صاحب

اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی ایسانبی نہیں جو نئی شریعت لے کر آئے ، ہاں اللہ چاہے انبیاء ، اولیا میں سے ۔
(نبراس صفحہ 445 حاشیہ)

حضرت محی الدین ابن عربی

قول رسول کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی ہے ۔ میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی ، سے مراد یہ ہے کہ اب ایسا نبی نہیں ہوگا جو میری شریعت کے مخالف شریعت پر ہو ۔ بلکہ جب کبھی کوئی نبی ہوگا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہوگا۔
(فتوحات مکیہ جلد2 صفحہ3)

نواب نورالحسن خان

حدیث ’لاوحی بعدی‘ بے اصل ہے۔البتہ ’لانبی بعدی‘ آیا ہے ۔ جس کے معنی نزدیک اہل علم کہ یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لاوے گا ۔
(اقتراب الساعہ صفحہ 162)

مولوی محمد زمان خان آف دکن

حدیث ’لاوحی بعدی‘ باطل و بے اصل ہے ۔ ہاں ’لانبی بعدی‘ صحیح ہے ۔ لیکن معنی اس کے علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ کوئی نبی صاحب شرع کہ شرع محمدی کو منسوخ کرے بعد حضرت ﷺ کے حادث نہ ہو ۔
(ہدیہ مہدویہ صفحہ 301)

امام اہل سنت حضرت ملا علی قاری

خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ ﷺ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔
(الموضاعات الکبریٰ صفحہ 292)

شیخ عبدالقادر کردستانی

آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نئی شریعت لے کر مبعوث نہ ہوگا۔
(تقریب المرام جلد 2صفحہ233)

فرقہ مہدویہ کے بزرگ سید شاہ محمد

ہمارے محمد ﷺ خاتم نبوت تشریعی ہیں فقط ۔
(ختم المہدیٰ سبل السویٰ صفحہ 24)

خلیفہ الصوفیاء شیخ العصر حضر ت ا لشیخ بالی آفندی

خاتم الرسل وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت جدیدہ پیدا نہ ہوگا ۔
(شرح فصوص الحکم صفحہ 56) (مقامات مظہری صفحہ 88)

مولانا ابوالحسنات عبدالحئی فرنگی محل

’بعد آنحضرت ﷺ کے یا زمانے میں آنحضرت کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہوناالبتہ ممتنع ہے ۔ ‘
(دافع الوسواس صفحہ 16)
ان مندرجہ بالا ارشادات سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے غیر مشروط آخری نبی ہونے کا جو تصور چودھویں صدی میں پیدا ہو ا اس کا گزشتہ تیرہ صدیوں کی اسلامی تاریخ میں کوئی نشان نہیں ملتا ۔ بلکہ علمائے سلف محض زمانی لحاظ سے آخری نبی ہونے کے خیال کو ردّ کرتے رہے ہیں ۔

نامور صوفی حکیم ترمذی

’خاتم النبیین کی یہ تاویل کہ آپ ﷺ مبعوث ہونے کے اعتبار سے آخری نبی ہیں بھلا اس میں آپ کی کیافضیلت و شان ہے اور اس میں کون سی علمی بات ہے ۔ یہ تو محض احمقوں اور جاہلوں کی تاویل ہے ۔‘
 (کتاب ختم الاولیاء صفحہ 341)

بانی دیوبند مولوی محمد قاسم نانوتوی

’عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ ﷺ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی ۔۔۔ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدیہ میں کچھ فرق نہ آئے گا ۔ ‘
(تحذیر الناس صفحہ 3، 28)

 حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلاماور جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے ۔ حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں :۔

’’تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے ۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں ۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اس کا ظل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے اور اسی سے فیض یاب ہے ۔ ‘‘
  (چشمہ معرفت ۔روحانی خزائن جلد 23صفحہ340)

محضرنامہ – جماعت احمدیہ کا بنیادی تعرف

محضرنامہ وہ اہم تاریخی دستاویز ہے جو جماعت احمدیہ نے 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنے مسلمان ہونے ، اپنے بنیادی عقائد کی وضاحت اور جماعت احمدیہ پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید میں پیش کیا ۔

https://www.scribd.com/embeds/252744976/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-760FTJSqn9t2hHQPkl1d&show_recommendations=false

ختم نبوت کا اصل منکر کون بجواب قادیانی اور ختم نبوت

حیاتِ عیسیٰؑ کے قائلین ’’ختم نبوت‘‘کے انکار کے مرتکب ہوتے ہیں

ہم لفظی اور حقیقی ہر معنی میں آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن تسلیم کرتے ہیں اور بادب اس تلخ حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروانے کی جرأت کرتے ہیں کہ مُنکرینِ حدیث کے سوا ہمارے تمام مخالف فرقوں کے علماء آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان معنوں میں خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ کہنے کے باوجود کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم سب نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں یہ متضاد ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نعوذ باﷲ حضرت عیسیٰ ؑ بن مریم ؑ کو نہ تو جسمانی لحاظ سے ختم فرما سکے نہ ہی رُوحانی لحاظ سے۔ آپ ؐ کے ظہور کے وقت ایک ہی دوسرا نبی جسمانی لحاظ سے زندہ تھا مگر افسوس وہ آپ ؐ کی زندگی میں ختم نہ ہو سکا آپؐ وفات پاگئے لیکن وہ زندہ رہا اور اَب تو وصالِ نبوی ؐ پر بھی چودہ سَو برس گزرنے کو آئے لیکن ہنوز وہ اسرائیلی نبی زندہ چلا آرہا ہے۔ ذرا انصاف فرمائیے کہ خاتَم کے جسمانی معنوں کے لحاظ سے حیاتِ مسیح ؑ کا عقیدہ رکھنے والوں کے نزدیک دونوں میں سے کون خاتَم ٹھہرا۔

پھر یہی علماء رُوحانی لحاظ سے بھی عملاً مسیح ناصری ؑ ہی کو خاتَم تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم فیض رسانی کے لحاظ سے بھی مسیح ناصری ؑ کی فیض رسانی کو ختم نہ فرما سکے۔ دیگر نبیوں کے فیض تو پہلے ہی ختم ہو چکے تھے اور نجات کی دوسری تمام راہیں بند تھیں۔ ایک مسیح ناصری ؑ زندہ تھے مگر افسوس کہ ان کے فیض کی راہ بندنہ ہو سکی۔ یہی نہیں ان کی فیض رسانی کی قوت تو پہلے سے بھی بہت بڑھ گئی اور اُس وقت جبکہ اُمّتِ محمدیہ آنحضور صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی عظیم الشان قوتِ قدسیہ کے باوجود خطرناک رُوحانی بیماریوں میں مُبتلا ہو گئی اور طرح طرح کے رُوحانی عوارض نے اُسے گھیر لیا تو براہِ راست آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوتِ قُدسیہ تو اِس اُمّتِ مرحومہ کو نہ بچا سکی ہاں بنی اسرائیل کے ایک رسُول کے مسیحی دَموں نے اُسے موت کے چنگل سے نجات دلائی اور ایک نئی رُوحانی زندگی عطا کی۔ اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ کیا صریحاً اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حیاتِ مسیح ؑ کا عقیدہ رکھنے والے آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو افاضۂ فیض کے لحاظ سے بھی سب نبیوں کا ختم کرنے والا نہیں سمجھتے بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک ہی نبی جو اُس وقت زندہ تھا اُس کی فیض رسانی کی قوت کو بھی آپ ؐ ختم نہ فرما سکے بلکہ نعوذ باﷲ وہ اِسرائیلی نبی اِس حال میں فوت ہؤا کہ اُمّتِ محمدیہ کا آخری رُوحانی مُحسن بن چُکا تھا۔

غور فرمائیے! کہ کیا جسمانی اور رُوحانی دونوں معنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خاتم النّبییّن تسلیم نہیں کیا جارہا؟ کیا یہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی صریح گُستاخی نہیں؟ کیا یہ آیت خاتم النّبییّن کی رُوح کو سبوتاژ کرنے کے مترادف نہیں؟ اور پھر بھی یہ دعویٰ ہے کہ احمدی خاتم النّبییّن کے مُنکر اور ہم خاتم النّبییّن کے قائل بلکہ محافظ ہیں۔ کیا دُنیا سے اِنصاف بالکل اُٹھ چکا ہے؟ کیا عقل کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے گا؟ کیا اِس قضئے کو عَدل کے ترازو پر نہیں تولا جائے گا بلکہ محض عددی اکثریت کے زور پر حق و باطل اور اُخروی نجات کے فیصلے ہوں گے؟ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ خدا ہر گز نہ کرے کہ ایسا ہو۔ لیکن ایسا اگر ہو تو پھر تقویٰ اﷲ کا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے۔ کیوں نہیں اسے جنگل کا قانون کہا جاتا اور کیوں اِس نااِنصافی کے لئے اﷲ اور رسول ؐ کے مقدّس نام استعمال کئے جاتے ہیں۔ ویرانے کا نام کوئی اچھا سا بھی رکھ لیں ویرانہ ویرانہ ہی رہے گا۔

ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ تم مطلق طور پر آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اور تاویلیں کر کے ایک اُمّتی اور ظِلّی نبی کے آنے کی راہ نکال لیتے ہو اور اِس طرح ختمِ نبوت کو توڑنے کے مُرتکب ہو جاتے ہو۔

ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ایسے اُمّتی نبی کا اُمّتِ محمدیہ ہی میں پیدا ہونا جو آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا کامل غلام ہو اور اپنے ہر رُوحانی مرتبے میں سَرتا پا آپؐ ہی کے فیض کا مرہونِ منّت ہو ہر گز آیت خاتم النّبییّن کے مفہوم کے منافی نہیں کیونکہ فانی اور کامل غلام کواپنے آقا سے جُدا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اِس بات کے مکلّف ہیں کہ اپنے اس مؤقف کو قرآنِ حکیم سے، ارشاداتِ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم سے، اقوالِ بزرگانِ اُمّت سے اور محاورہئ عرب سے ثابت کریں اور اِس سلسلہ میں ایک سیر حاصل بحث آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے مگر اس سے پہلے ہمیں رخصت دیجئے کہ ہم اُن لوگوں کا کچھ محاسبہ کریں جو ہم پر مُہرِنبوت کو توڑنے کا اِلزام لگاتے ہیں کہ خود ان کے عقیدہ کی حیثیت کیا ہے۔ وہ بظاہر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آنحضور صلی اﷲعلیہ وسلم کو مطلقاً بلا شرط و بِلا اِستثناء ہر معنٰی میں آخری نبی مانتے ہیں اور آپ ؐ کے بعد کسی قسم کے نبی کی بھی آمد کے قائل نہیں لیکن ساتھ ہی اگر پوچھا جائے تو یہ اقرار کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ ”سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو ضرور ایک دن اِس اُمّت میں نازل ہوں گے”۔

جب آپ ان پر یہ جرح کریں کہ ابھی تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ آنحضورؐ مطلقاً، بِلااستثناء ان معنوں میں آخری نبی ہیں کہ آپ ؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا تو پھر اَب آپ کو یہ اِستثناء قائم کرنے کا حق کیسے مِل گیا؟ تو اس کے جواب میں اِنتہائی بے معنی اور بے جان تاویل پیش کرتے ہیں کہ وہ چونکہ پہلے نبی تھے اِس لئے ان کا دوبارہ آنا ختمِ نبوت کی مُہر کو توڑنے کا موجب نہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا وہ موسوی شریعت ساتھ لے کر آئیں گے؟ تو جواب مِلتا ہے نہیں بلکہ وہ بغیر شریعت کے آئیں گے۔ پھر جب پوچھا جائے کہ اس صورت میں اوامرونواہی کا کیا بنے گا؟ کس بات کی نصیحت فرمائیں گے اور کِس سے روکیں گے تو ارشاد ہوتا ہے کہ پہلے وہ اُمّتِ محمدیہ کے ممبر بنیں گے پھر اس شریعت کے تابع ہو کر نبوت کریں گے۔ مزید سوالات کے جوابات ان کے اختیار میں نہیں کہ آیا مسیح ناصری ؑ کو شریعتِ محمدیہ کی تعلیم علماء دیں گے یا براہِ راست اﷲ تعالیٰ سے وحی کے ذریعہ ان کو قرآن، حدیث اور سُنّت کا عِلم دیا جائے گا لیکن یہ امر تو اس جِرح سے قطعاً ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بھی آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو مطلقاً آخری نبی نہیں مانتے بلکہ یہ استثناء رکھتے ہیں کہ ایسا نبی جو پُرانا ہو صاحبِ شریعت نہ ہو اُمّتی ہو اور لفظاً لفظاً شریعتِ محمدیہ کا تابع ہو اور اسی کی تعلیم و تدریس کرے مُہرِ نبوت کو توڑے بغیر بعد ظہورِ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم بھی آسکتا ہے۔

ہم اہلِ عقل و دانش اور اہلِ انصاف سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا ایسا اعتقاد رکھنے والے کے لئے کسی بھی منطق یا انصاف کی رُو سے یہ کہنا جائز ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا بھی کوئی نبی نہیں آسکتا۔ (محضرنامہ ۔ صفحہ29تا32)

اس دلیل کا علمی و تنقیدی جائزہ کہ پرانا نبی دوبارہ آجانے سے ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا

اِس اِستدلال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پہلے پیدا ہونے والا نبی آخری نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب ہم اِس استدلال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بھی انتہائی بودا اورلغو نظر آتا ہے۔    سوال یہ ہے کہ آج اگر کسی بیس سالہ نوجوان کے سامنے کوئی بچہ پیدا ہو اور دیکھتے دیکھتے چند دِن میں فوت ہو جائے پھر وہ نوجوان اسّی سال بعد سَو سال کی عمر میں وفات پائے تو مؤرّخ کِس کو آخری لکھے گا یعنی ہر صاحبِ فہم اور ذی ہوش و حواس مؤرّخ کِس کو آخری قرار دے گا؟
اس بچّے کو جو بعد میں پیدا ہؤا مگر چند دِن کی زندگی پاکر فوت ہو گیا یا اس پہلے پیدا ہونے والے انسان کو جو اس بچے کی وفات کے اسّی80 سال بعد سَو 100سال عمر پاکر فوت ہؤا؟
 افسوس کہ بعینہٖ یہی صورت ہمارے مخالف علمائے کرام پیش کر رہے ہیں اور انہیں اِس منطق کا بودا پَن نظر نہیں آرہا۔ وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کم و بیش چھ صد سال کی تھی جب سَیّد کَونین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ 63 سال کی عمر میں حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی میں ہی آپ ؐ کا وصال ہؤا اور اس کے بعد اَب تک چودہ سَو سال مزید ہونے کو آئے کہ عیسیٰ نبی اﷲ زندہ سلامت موجود ہیں۔ بتائیے کہ جب وہ نازل ہو کر اپنا مشن پورا کرنے کے بعد بالآخر فوت ہوں گے تو ایک غیر جانبدار مؤرّخ زمانی لحاظ سے کِس کو آخری قرار دے گا۔
 جب علماءِ ظاہر کے نزدیک آیت خاتم النّبییّن زمانی اعتبار سے آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی اَور کو آخری ہونے کا حق نہیں دیتی تو پھر زمانی اعتبار سے ہی علماءِ ظاہر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری نبی قرار دینے کا کیا حق ہے؟ صرف مُنہ سے اِس حقیقت کا انکار کوئی معنے نہیں رکھتا جب کہ وہ عملاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اِس دُنیا میں آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے سینکڑوں سال بعد آنے والا سب سے آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔

نبی جہاں فوت ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے ؟

ایک ضعیف حدیث پیش کی جاتی ہے کہ ” نبی جہاں فوت ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے“(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الجنائز ۔ باب ذکر وفاتہ ﷺ) اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات لاہور میں ہوئی اور تدفین قادیان میں۔
(i)آنحضرتﷺ نے اس حدیث کونبی کے معیار صداقت کے طور پر پیش نہیں کیا کہ جب تک نبی فوت ہو کر اسی جگہ دفن نہ ہوجائے اس کی صداقت ثابت نہیں ہوتی ۔
اگر اس حدیث کو تمام انبیاء کےمتعلق سمجھا جائے تو تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے کیونکہ
 رُوِیَ أَنَّ یَعْقُوبَ مَاتَ بِمِصْرَ فَحُمِلَ اِلَی اَرْضِ الشَّامِ مِنْ مِصْرَ “
(بحرالرائق شرح کنزالدقائق جلد2صفحہ195 کتاب الجنائز ۔ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
کہ روایت ہے حضرت یعقوب  مصر میں فوت ہوئے۔ بعد میں آ پ ارض شام کی طرف اٹھا کر لائے گئے۔ (تاکہ تدفین ارضِ شام میں کی جاسکے)
پس اس سے ثا بت ہو تا ہے کہ تمام انبیاء کے لئے یہ معیار صداقت نہیں کہ وہ جہاں فوت ہوں وہیں دفن ہوں۔
اس حدیث کو درست ماننے کی صرف یہی ایک صورت ہو سکتی ہے کہ یہ مانا جائے کہ حضور ﷺ صرف اپنے متعلق یہ بات بیان فرمارہے ہیں۔
اور یہ تشریح بعد ازقیاس بھی نہیں ہے ۔ایک حدیث ہے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا نَحْنُ مَعْشَرَ الْاَنْبِیَاءِ لَا نَرِثُ وَلَا نُوْرَثُ مَاتَرَکْنَاہُ صَدَقَةٌ 
                                                                                    (بخاری کتاب المغازی حدیث بنی نضیر)
یعنی ہم انبیاء کا گروہ ہیں نہ ہم وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔جبکہ قرآن کریم میں ہے کہ وَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاودَ “ (النمل:17) کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داود علیہ السلام کے وارث ہوئے۔بظاہر پیدا ہونے والے اس اختلاف کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا قول دور کرتا ہے  کہ یُرِیْدُ بِذَالِکَ نَفْسَہُ (بخاری کتاب المغازی حدیث بنی نضیر) کہ اس مذکورہ حدیث میں آنحضور ﷺ کی خاص ذات مراد ہے۔
(ii)معترضین حضور ﷺ کی ایک دوسری حدیث بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ ” یُدْفَنُ مَعِیْ فِیْ قَبْرِیْ “(مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول ِ عیسٰی علیہ السلام ) کہ مسیح موعود میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا۔
اگراس حدیث کے بھی صرف ظاہری معنی کئے جائیں تو کون غیرت مند مسلمان آنحضرت ﷺ کی قبر اکھیڑنے کی جرأت کرے گا؟ یہ نہیں کہہ سکتے کہ قبر کے قریب ہوں گے کیونکہ حدیث کے الفاظ ”فِیْ قَبْرِیْ “بتاتے ہیں کہ حضور ﷺ کی قبر میں ہی تدفین ضروری ہے ۔ اگر قریب فوت ہوئے اور پھر لاکر حضور ﷺ کی قبر میں دفن کیا گیا تو علماء ظواہر پھر چھاتی پیٹیں گے اور فتاوی کفر لگائیں گے کہ یہ سچا نہیں کیونکہ فوت اُس جگہ ہوا اور دفن اِس جگہ ہو رہا ہے۔

قرآن میں ہے کہ دین مکمل ہو چکا پھر کسی مسیح یا مہدی کی امت محمدیہ کو کیا ضرورت ہے ؟

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کرکے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے وقتوں میں دین استحکام پکڑے گا اور تزلزل اور تذبذب دور ہوگا۔ اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا پھر اگر تکمیل دین کے بعد کوئی بھی کارروائی درست نہیں تو بقول معترض کے جو تیس سال کی خلافت ہے وہ بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ جب دین کامل ہوچکا تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ لیکن افسوس کہ معترض بے خبر نے ناحق آیت{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ} (المائدة 4)کو پیش کردیا۔ ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گذرنے کے بعد جب پاک تعلیم پرخیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔ تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں نہ معلوم کہ بے چارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مجدد اور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین کی کچھ ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں۔ نہیں وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں اور معترض کا یہ خیال کہ ان کی ضرورت ہی کیا ہے صرف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ معترض کو اپنے دین کی پرواہ نہیں اور کبھی اس نے غور نہیں کی کہ اسلام کیا چیز ہے اور اسلام کی ترقی کس کو کہتے ہیں اور حقیقی ترقی کیونکر اور کن راہوں سے ہوسکتی ہے اور کس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر مسلمان ہے یہی وجہ ہے کہ معترض صاحب اس بات کو کافی سمجھتے ہیں کہ قرآن موجود ہے اور علماء موجود ہیں اور خود بخود اکثر لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف حرکت ہے پھر کسی مجدد کی کیا ضرورت ہے لیکن افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی مرسل تھے اور ان کی توریت بنی اسرائیل کی تعلیم کے لئے کامل تھی اور جس طرح قرآن کریم میں آیت{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ} (المائدة 4)ہے اسی طرح توریت میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دی گئی ہے جس کا نام توریت ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی توریت کی یہی تعریف ہے لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہو گئی ہو ان کو پھر زندہ ایمان بخشیں چنانچہ اللہ جلّ شانہٗ   خود قرآن کریم میں فرماتا ہے {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ} (البقرة 88)یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تعلیم کی تائید اور تصدیق کریں اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے {ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى } (المؤمنون 45) یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔ پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔
    اس کثرت ارسال رسل میں اصل بھید یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد موکد ہوچکا ہے کہ جو اس کی سچی کتاب کا انکار کرے تو اس کی سزا دائمی جہنم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے{وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ } (البقرة 40)یعنی جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اب جب کہ سزائے انکار کتاب الٰہی میں ایسی سخت تھی اور دوسری طرف یہ مسئلہ نبوت اور وحی الٰہی کا نہایت دقیق تھا بلکہ خود خدا تعالیٰ کا وجود بھی ایسا دقیق در دقیق تھا کہ جب تک انسان کی آنکھ خدا داد نور سے منور نہ ہو ہرگز ممکن نہ تھا کہ سچی اور پاک معرفت اس کی حاصل ہوسکے چہ جائیکہ اس کے رسولوں کی معرفت اور اسکی کتاب کی معرفت حاصل ہو۔ اس لئے رحمانیت الٰہی نے تقاضا کیا کہ اندھی اور نابینا مخلوق کی بہت ہی مدد کی جائے اور صرف اس پر اکتفا نہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ رسول اور کتاب بھیج کر پھر باوجود امتدادازمنہ طویلہ کے ان عقائد کے انکار کی وجہ سے جن کو بعد میں آنے والے زیادہ اس سے سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ایک پاک اور عمدہ منقولات ہیں ہمیشہ کی جہنم میں منکروں کو ڈال دیا جائے اور درحقیقت سوچنے والے کے لئے یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ وہ خدا جس کا نام رحمن اور رحیم ہے اتنی بڑی سزا دینے کے لئے کیونکر یہ قانون اختیار کرسکتا ہے کہ بغیر پورے طور پر اتمام حجت کے مختلف بلاد کے ایسے لوگوں کو جنہوں نے صدہا برسوں کے بعد قرآن اور رسول کا نام سنا اور پھر وہ عربی سمجھ نہیں سکتے۔ قرآن کی خوبیوں کو دیکھ نہیں سکتے دائمی جہنم میں ڈال دے اور کس انسان کی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم کا منجاب اللہ ہونا اس پر ثابت کیا جائے یوں ہی اس پر چھری پھیر دی جائے پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت پاکر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہریک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجدد وقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے سو ہمیشہ خدا تعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح کے دنیا میں باقی رہیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ۱۴۰۰ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزارہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے کہ جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہوکر توریت کی خدمت میں مصروف رہے۔ چنانچہ ان تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے اور جب بنی اسرائیل میں دہریت اور بے ایمانی اور بدچلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔ اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسیٰؑ کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کیلئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزارہا نبی اس شریعت کی تجدید کیلئے بھیجے اور بارہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ امت جو خیرالا مم کہلاتی ہے اور خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بدقسمت سمجھی جائے کہ خدا تعالیٰ نے صرف تیس برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اس سے منہ پھیر لیا اور پھر اس امت پر اپنے نبی کریم کی مفارقت میں صدہا برس گذرے اور ہزارہا طور کے فتنے پڑے اور بڑے بڑے زلزلے آئے اور انواع و اقسام کی دجالیت پھیلی اور ایک جہان نے دین متین پر حملے کئے اور تمام برکات اور معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کونا مقبول ٹھہرایا گیا لیکن خداتعالیٰ نے پھر کبھی نظر اٹھا کر اس امت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آبپاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں کیا اس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزارہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کرکے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا{وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا۔ رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا } (النساء۔ 165-166)یعنی خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور منذر تھے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔ اور فرمایا{وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ} (النساء 165)یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہوجاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہریک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گذشتہ معجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزارہا انبیاء کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بیدلی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بدقسمت پاکر بنی اسرائیل کو رشک کی نگہہ سے دیکھیں گے یا بدخیالات میں گرفتار ہوکر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات خیال کریں گے‘‘۔
            (شہادت القرآن ۔روحانی خزائن جلد6صفحہ 339تا344)

مسیح ابن مریم کے نزول سے مراد بجواب اصلی مسیح یا مثیلِ مسیح

سوال۔ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے ساتھ احادیث میں کہیں مثیل کا لفظ دیکھا نہیں جاتا۔ یعنی یہ کسی جگہ نہیں لکھا کہ مثیل مسیح ابن مریم آوے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم آوے گا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’اما الجواب۔ پس سوچنا چاہیئے کہ جب خدائے تعالیٰ نے آنے والے مثیل کا ابن مریم ہی نام رکھ دیا تو پھر وہ اس کو مثیل ابن مریم کر کے کیوں لکھتا۔ مثلاً تم سوچو کہ جو لوگ اپنی اولاد کے نام موسیٰ و داؤد وعیسیٰ وغیرہ رکھتے ہیں اگرچہ اُن کی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ وہ نیکی اور خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہو جائیں مگر پھر وہ اپنی اولاد کو اس طرح کر کے تو نہیں پکارتے کہ اے مثیل موسیٰ۔اے مثیل داؤد۔ اے مثیل عیسیٰ۔ بلکہ اصل نام ہی بطور تفاؤل پکارا جاتا ہے۔ پس کیا جو امر انسان محض تفاؤل کی راہ سے کر سکتا ہے وہ قادرمطلق نہیں کر سکتا ؟ کیا اس کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت کو ایک دوسرے آدمی کے مشابہ کرکے وہی نام اُس کا بھی رکھ دیوے؟ کیا اُس نے اسی روحانی حالت کی وجہ سے حضرت یحییٰ کا نام ایلیانہیں رکھ دیا تھا؟ کیا اسی روحانی مناسبت کی وجہ سے حضرت مسیح ابن مریم کا نام توریت پیدائش باب ٤٩ میں سیلا نہیں رکھا گیا اور سیلا یہودا بن یعقوب علیہ السلام کے پوتے کا نام تھا۔ یہود اکو اسی باب میں مسیح ابن مریم کے آنے کی ان لفظوں میں بشارت دی گئی کہ یہودا سے ریاست کا عصا جدا نہ ہو گا جبتک سیلا نہ آوے۔ یہ نہ کہا گیا کہ جب تک ابن مریم نہ آوے۔ چونکہ مسیح ابن مریم اُس خاندان سے پیداہونے کی وجہ سے یہوداکا پوتا ہی تھا اس وجہ سے اس کا نام سیلا ہی رکھ دیا گیا۔ اسی توریت پیدائش با ب ٤٨ آیت پندرہ ١٥ میں حضرت یعقوب کی یہ دعا ذکر کی ہے کہ اُس نے یوسف کے لئے برکت چاہی اور یوسف کے لڑکوں کے لئے دعاکرکے کہا کہ وہ خداجس نے ساری عمر آج کے دن تک میری پاسبانی کی اِن جوانوں کو برکت دےوے اور جو میرا اور میرے باپ دادوں ابراہام اور اسحاق کا نام ہے سو اُن کا رکھا جاوے۔پس اللہ جلّشانہُ کی اس عادت قدیمہ سے انکار نہیں ہو سکتاکہ وہ روحانی مناسبت کی وجہ سے جو ایک کا نام ہے وہ دوسرے کا رکھ دیتا ہے۔ ابراہیمی المشرب اس کے نزدیک ابراہیم ہے اور موسوی المشرب اس کے نزدیک موسیٰ ہے اور عیسوی المشرب اس کے نزدیک عیسیٰ ہے اور جو اِن تمام مشربوں سے حصہ رکھتا ہے وہ اِن تمام ناموں کا مصداق ہے۔ ہاں اگر کوئی امر بحث کے لائق ہے تو یہ ہے کہ ابن مریم کے لفظ کو اس کے ظاہری اور متبادر معنوں سے کیوں پھیراجائے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بوجہ قیام قرینہ قویہ کے کیونکہ قرآن کریم اورحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوضاحت ناطق ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ جاں بحق ہوا اور خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا اور اپنے بھائیوں میں جا ملا۔ اور رسول مقبول نبی آخر الزمان نے اپنی معراج کی رات میں یحییٰ نبی شہید کے ساتھ دوسرے آسمان میں اُس کو دیکھا یعنی گذشتہ اور وفات یافتہ لوگوں کی جماعت میں اُس کو پایا۔ قرآن کریم و احادیث صحیحہ یہ امید اور بشارت بتواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن مریم اور دوسرے مثیل بھی آئیں گے مگر کسی جگہ یہ نہیں لکھا کہ کوئی گذشتہ اور وفات یافتہ نبی بھی پھر دنیامیں آجائے گا۔ لہٰذا یہ بات ببداہت ثابت ہے کہ ابن مریم سے وہ ابن مریم رسول اللہ مراد نہیں ہے جو فوت ہو چکا اور فوت شدہ جماعت میں جاملا اور خدائے تعالیٰ کی اس حکمت عجیبہ پر بھی نظر ڈالو کہ اُس نے آج سے قریبًا دس برس پہلے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا اور بتوفیق و فضل خود براہین میں چھپواکر ایک عالم میں اس نام کو مشہور کر دیا۔
اب ایک مدّت دراز کے بعد اپنے خاص الہام سے ظاہرفرمایا کہ یہ وہی عیسیٰ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ برابر دس ١٠ برس تک لوگ اس نام کو کتاب براہین میں پڑھتے رہے اور خدائے تعالیٰ نے دس برس تک اس دوسرے الہام کو جو پہلے الہام کے لئے بطور تشریح تھا پوشیدہ رکھا تا اس کے پُرحکمت کام ایک غور کرنے والے کی نظر میں بناوٹ سے مصفّٰی ثابت ہوجائیں۔ کیونکہ بناوٹ کا سلسلہ اس قدر لمبا نہیں ہو سکتاجس کی بنیاد ایک طول طویل مدّت سے پہلے ہی رکھی گئی ہو۔ فتدبروا یا اولوالابصار۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 313تا315)

سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سخت کلامی، گالیاں دینے اور توہین انبیاء علیہم السلام کے الزامات کے جوابات

سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سخت کلامی، گالیاں دینے اور توہین انبیاء علیہم السلام کے الزامات کے جوابات

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہودونصاریٰ کے علماء کی تین خصلتیں بیان فرمائی ہیں:وہ حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود حقائق کو لوگوں  سے  چھپاتے ہیں، باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اُن کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سچ اور جھوٹ کو اس طرح ملا جلا کر پیش کرتے ہیں جس سے سچ مشتبہ ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ کے علماء یہودونصاریٰ کے بعینہہ مشابہ ہوجائیں گے۔ احمدیہ مسلم جماعت اور بانی جماعت احمدیہ سیّدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے ہمارے مخالفین غیر احمدی علماء انہی تین خصلتوں کی پوری پوری پیروی کرتے ہیں۔

اس سلسلہ میں میں ایک جھوٹاالزام ہے سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گالیاں نکالنے، سخت کلامی کرنے اور انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کا الزام۔

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہے کہ گالی کہتے کسے ہیں۔ کون سا لفظ گالی ہے اور کون سا نہیں۔ اپنی طرف سے اس کی تعریف کرنے کی بجائے میں ایک سنّی عالم کی تقریر کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو ایک کتاب ’’خطباتِ برطانیہ ‘‘ سے لیا گیا ہے۔سیّد محمد مدنی میاں صاحب، جنہیں  ’’شیخ الاسلام‘‘ کا لقب دیا گیا ہے اپنی اس تقریر میں فرماتے ہیں:

سنی علماء گالی دیتے ہیں

’’آج یہاں پر میں ایک پیاری بات سناؤں گا۔ آج علماءِ اہلسنت والجماعت کے اوپر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ گالی دیتے ہیں۔ کیا گالی دیتے ہیں؟ کسی کافر کو کافر کہہ دیا تو گالی ہے، کسی مشرک کو مشرک کہہ دیا تو گالی ہے۔ کسی منافق کو منافق کہہ دیا تو گالی ہے کسی رجیم کو رجیم کہہ دیا تو گالی ہے کسی خنّاس کو خنّاس کہہ دیا تو گالی ہے تو میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سب گالی ہے تو یہ سب قرآن میں ہے۔پہلے قرآن کی صفائی کرو جو اخلاق والی کتاب ہے، جو آسمانی کتاب ہے جو صحیفۂ مبارکہ ہے۔ یہ سب الفاظ اسی قرآن میں ہیں اور اگر تم اسی کو قرآن کریم مانتے ہو جس میں یہ سب الفاظ ہیں تو تمہیں ان الفاظ کو گالی کہتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ کیا خدا نے گالی دی ہے؟ حدیث شریف میں اگر منافقوں کو کلاب النّار (جہنم کا کتا) کہا تو کیا رسول نے گالی دی ہے اور پھر اس کے بعد کہتے کیا ہیں؟ کافر کو کافر مت کہو۔مزہ تو یہ ہے کہ کافر کو کافر مت کہو کہنے والے خود کافر کہتے ہیں غور کرو کہتے ہیں کافر کو کافر نہ کہو کس کو کافر نہ کہیں؟ کافر کو۔جناب نے تو کہہ دیا کافر کو کافر نہ کہو۔ ان سے کہو کہ پھر مسلمانوں کو مسلمان بھی نہ کہو۔پوچھا گیا کہ کافر کو کافر کیوں نہ کہیں؟ جواب دیا کہ تجھے کیا خبر کہ مرنے سے پہلے ایمان لے آئے تو ان سے کہو کہ مسلمان کو مسلمان بھی نہ کہنا، اس لئے کہ تجھے کیا خبر کہ مرنے سے پہلے کافر ہوجائے۔ یہ کتنا بڑا افتراء ہے شریعت پر۔ کیا رسول کا یہی پیغام تھا کہ کافر کو کافر نہ کہو۔اگر یہی پیغام تھا تو رسول نے خود کیوں کہا                    قُلْ یٰایُّھَا الْکٰفِرُوْنَ۔  اے کافرو! یہ کس کو کہا تھا۔کافر ہی کو تو کہا تھا۔ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجْسٌ مشرکین نجس ہیں۔یہ کس کو کہا؟ مشرکین ہی کو تو کہا گیا۔ خنّاس کہا کس کو کہا؟ رجیم کہا کس کو کہا؟ شیطان کہا کس کو کہا؟ خبیث و خبیثات کے الفاظ قرآن پاک میں کیوں آئے؟ اور میں نے جو آیت مبارکہ سنائی اس میں تو حرام زادہ تک کہہ دیا اس میں زنیم کا لفظ بھی آگیا۔ معلوم ہوگیا کہ تم ابھی سمجھ ہی نہ سکے کہ گالی کس کو کہتے ہیں۔کافر کو کافر کہنا گالی نہیں ہے۔شرابی کو شرابی کہنا گالی نہیں ہے۔چور کو چور کہنا گالی نہیں ہے۔بدکار کو بدکار کہنا گالی نہیں ہے جو صفت جس کی ہو اس صفت سے اس کو یاد کرنا گالی نہیں ہے کسی مسلمان کو کافر کہو تو گالی ہے۔کسی نیک کو بُرا کہو تو گالی ہے جو مصداق ہو اس مصداق والے کو وہی کہو تو گالی نہیں۔ مجھ سے تم یہ ضرور پوچھ سکتے ہو کہ جس کو مردود کہا ہے وہ واقعی مردود ہے کہ نہیں؟ جس کو خبیث کہا ہے وہ واقعی خبیث ہے کہ نہیں؟ یہ سوال تو معقول ہے مگر یہ کہنا تو غلط ہے کہ میں نے گالی دی ہے۔ جب میں ثابت کردوں گا کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے تو یہ چیز گالی نہیں بنتی اور جب تم گالی نہ سمجھ سکے تو قرآنِ کریم کیا سمجھوگے؟ جواب دو کہ قرآنِ کریم میں جو کچھ ولید بن مغیرہ کو کہا گیا ، یہ گالی ہے کہ نہیں۔ اگر اس کو گالی کہو گے تو قرآنِ کریم کو کیا کہوگے۔الغرض یہ گالی نہیں ہے اس لئے کہ جس کو ایسا کہا گیا تھا وہ واقعی ایسا ہی تھا۔ یاد رکھنا اس کو۔ ‘‘ (خطباتِ برطانیہ ۔ شیخ الاسلام سیّد محمد مدنی میاں۔ باہتمام ابوالعطاء حافظ نعمت علی چشتی ۔ مکتبۂ فریدیہ۔ ایم اے جناح روڈ، ساہیوال)

آپ نے ایک سنّی عالم کی زبانی یہ دیکھ لیا کہ گالی خلافِ واقعہ بات کو کہتے ہیں۔ کسی میں کوئی عیب موجود نہ ہو اور اس کے ساتھ وہ عیب منسوب کیا جائے تو اسے گالی کہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ عیب واقعی اس میں موجود ہو یا کوئی بد صفت اس میں پائی جاتی ہو تو اس کا بیان کرنا گالی نہیں کہلاتا۔
اب دیکھئے کہ گالی کی یہی تعریف اور وضاحت جو اس سنّی عالم نے بیان کی ہے، آج سے ایک صدی سے زائد پیشتر خدا کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی وہی بیان کی تھی۔ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

ہم اور ہمارے نکتہ چین

’’بعضے صاحبوں نے نکتہ چینی کے طور پر اس عاجز کی عیب شماری کی ہے۔اور اگرچہ انسان عیب سے خالی نہیں اور حضرت مسیح کا یہ کہنا سچ ہے کہ میں نیک نہیں ہوں، نیک ایک ہی ہے یعنی خدا۔لیکن چونکہ ایسی نکتہ چینیاں دینی کارروائیوں پر بداثر ڈالتی ہیں اور حق کے طالبوں کو رجوع لانے سے روکتی ہیں اس لئے برعایت اختصار بعض نکتہ چینیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے مشتعل ہوکر مخالفین نے اللہ جلّشانہ اور اس کے رسول کریم کی بے ادبی کی اور پُردشنام تالیفات شائع کردیں۔ قرآن شریف میں صریح حکم وارد ہے کہ مخالفین معبودوں کو سبّ اور شتم سے یاد مت کرو تا وہ بھی بے سمجھی اور کینہ سے خدائے تعالیٰ کی نسبت سبّ و شتم کے ساتھ زبان نہ کھولیں لیکن اس جگہ برخلاف طریق ماموریہ کے سبّ و شتم سے کام لیا گیا۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ اس نکتہ چینی میں معترض صاحب نے وہ الفاظ بیان نہیں فرمائے جو اس عاجز نے بزعم ان کے اپنی تالیفات میں استعمال کئے ہیں اور جو درحقیقت سبّ و شتم میں داخل ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں۔ اور ان دونوں مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کو کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام دہی تصور کرلیتے ہیں۔حالانکہ دشنام اور سبّ اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ اور اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کے کہ مرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کرسکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔ کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور انکے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں، بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی۔ کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کرکے یہ فرمانا کہ انکم وماتعبدون من دون اللّٰہ حصب جہنم۔ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی نہیں ہے کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شرالبریہ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوق سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کی رو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہوگا؟ کیا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں واغلظ علیہم نہیں فرمایا۔ کیا مومنوں کی علامات میں اشدّاء علی الکفار نہیں رکھا گیا۔‘‘ (ازالۂ اوہام۔حصہ اوّل، صفحہ ۔8,9 روحانی خزائن جلد۔ 3صفحہ108,109 )

اِس کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ مقدّس لوگ پرلے درجہ کے غیر مہذّب تھے کیا زمانہ حال کی موجودہ تہذیب کی ان کو بُو بھی نہیں پہنچی تھی؟ اس سوال کا جواب ہمارے سیّدومولیٰ مادروپدرم براوفداباد حضرت ختم المرسلین سیّدالاوّلین والآخرین پہلے سے دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شرّالبریہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریّت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقودالنار اور حصب جہنم ہیں تو ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بُلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قراردیا اور ان کے بزرگوں کو شرّالبریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقودالنار رکھا اور عام طور پر اُن سب کو رجس اور ذریّت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیرخواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت ﷺ نے جواب میں کہا کہ اے چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے۔ میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا۔۔۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے ابوطالب کے اعتراض کا خود اپنی زبان مبارک سے جواب دیا درحقیقت وہی جواب ہر ایک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شئ ہے۔ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچادیوے پھر اگر وہ سچ کو سُنکر برافروختہ ہو تو ہوا کرے۔۔۔آنحضرت ﷺ نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظ سخت ہی استعمال نہیں فرمائے بلکہ بُت پرستوں کے اُن بُتوں کو جو اُن کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے توڑا بھی ہے۔(ازالۂ اوہام۔حصہ اوّل، صفحہ ۔10-13 روحانی خزائن جلد۔ 3صفحہ110-113 )

’’قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کررہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلًا زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔لیکن قرآن شریف کفار کو سُنا سُنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اولئک علیھم لعنۃ اللّٰہ والملٰئکۃ والناس اجمعین خالدین فیھا۔الجزو ۲ سورۃ البقرۃ۔ اولٰئک یلعنھم اللّٰہ و یلعنھم اللّٰعنون۔ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہےان شرّالدوّاب عنداللّٰہ الذین کفروا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانۂ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر کہا اور ابوجہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فلا تطع المکذبین ودوا لو تدہن فیدھنون ولا تطع کل حلاف مھین ھمّازٍ مشاءٍ بنمیم مناع للخیر معتدٍ اثیم عتل بعد ذٰلک زنیم۔۔۔سنمہ علی الخرطوم دیکھو سورۃ القلم الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی تو ان مکذبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اسبات کے آرزومند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو برا مت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو۔ تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے انکی چرب زبانی کا خیال مت کر۔یہ شخس جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور ضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی روہوں سے روکنے والا۔زناکار اور بایں ہمہ نہایت درجہ کا بدخلق اور ان سب عیبوں کے بعد ولدالزنا بھی ہے۔عنقریب ہم اس کے ناک پر جو سور کی طرح بہت لمبا ہوگیا ہے داغ لگادیں گے۔یعنی ناک سے مراد رسوم اور ننگ و ناموس کی پابندی ہے جو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے (اے خدائے قادر مطلق ہماری قوم کے بعض لمبی ناکوں والوں کی ناک پر بھی اُسترہ رکھ)اب کیوں حضرت مولوی صاحب کیا آپ کے نزدیک ان جامع لفظوں سے کوئی گالی باہر رہ گئی ہے۔ اور اس جگہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے نرمی اختیار کرکے چاہا کہ ہم سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ اس کے جواب میں اس کے تمام پردے کھولے گئے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین سے مداہنہ کی امید مت رکھو۔‘‘(ازالۂ اوہام۔حصہ اوّل،حاشیہ۔روحانی خزائن جلد۔ -3صفحہ115-117 )

چنانچہ یہ ثابت ہوگیا کہ حسبِ حال بات کا بیان کرنا گالی نہیں ہوتا اور اگر یہ گالی ہے تو پھر یہ تمام الفاظ تو قرآن شریف اور احادیث میں بھی موجود ہیں بلکہ ایک دو احادیث میں تو نہایت شدید الفاظ بھی موجود ہیں ۔

صحیح بخاری

’’لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی (یعنی ہم آپؐ پر غالب ہوئے) تو میں  تو خدا کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں  یہ پنج میل لوگ یہی کریں گے، اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپؐ کو تنہا چھوڑدیں گے۔ اس پر ابوبکرؓ بولے امصِص ببَظْر اللَاتِ (ابے جا ! لات بُت کی شرمگاہ چوس لے) کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپؐ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔‘‘ (کتاب الشروط باب الشُروطِ فی الجہاد والمُصالَحَۃِ مَعَ أَھْلِ الْحُرْبِ وَ کِتَابَۃِ الشُّرُوْطِ، ترجمہ و تشریح محمد داؤد راز، ناشر مرکزی جمیعت اہلحدیث ہند۔ سن طباعت ۲۰۰۴)
مشکوٰۃ المصابیح

’’وَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ یَقُوْلَ ’’مَنْ تَعَزَّی بِعَزَاءِ الْجَاھِلِیَّۃِ فَاَّعِضُوْہُ بِھَنِ أَبِیْہِ وَلَا تَکْنُوْا ‘‘رَوَاہُ فِی ’’شَرْحِ السُّنَّۃِ‘‘
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا، جو شخص جاہلی نسب کی طرف نسبت کرتا ہے (اور فخر کرتا ہے) تو تم اسے کہو کہ اپنے باپ کی شرمگاہ اپنے منہ میں لے لے اور اس میں ہرگز کنایہ نہ کرو۔(شرح السنّہ)‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الآداب بابُ الْمُفَاخَرَۃِ وَالْعَصَبِیَّۃِ جلد چہارم ص۔۱۰۳، ترجمہ و تشریح مولانا محمد صادق خلیل تحقیق و نظر ثانی حافظ ناصر محمود انور فاضل اسلامک یونیورسٹی المدینۃ المنورۃ، ناشر مکتبہ محمدیہ ساہیوال۔ طبع اول جنوری ۲۰۰۵)

بندروں اور سؤروں کے بھائیو! (تفسیر مظہری)

’’محمد بن عمر کی روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا جب ہم بنی قریظہ پر پہنچے تو ہم نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کولڑائی کا یقین ہوچکا ہے۔ حضرت علی نے قلعہ کی جڑ میں جھنڈا گاڑ دیا۔ ان لوگوں نے اپنی گڑھیوں کے اندر سے ہی گالیوں سے ہمارا استقبال کیا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی بیویوں کو گالیاں دینے لگے مگر ہم خاموش رہے اور ہم نے کہہ دیا ہمارا تمہارا فیصلہ تلوار سے ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ بھی پہنچ گئے اور ان کے قلعہ کے قریب بنی قریظہ کے پتھریلے میدان کے نشیبی جانب چاہ اناپر نزول فرمایا۔ حضرت علی نے حضو ر ﷺ کودیکھا تو مجھے حکم دیا کہ میں جھنڈا پکڑ لوں۔میں نے جھنڈا پکڑ لیا۔حضرت علی کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے کان میں ان لوگوں کی گالیاں اور گندے الفاظ پہنچیں۔اس لئے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ ان خبیثوں کے قریب نہ پہنچیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم مجھے واپس جانے کا مشورہ دے رہے ہو۔میرا خیال ہے کہ تم نے ان سے کچھ گندے الفاظ سن لئے ہیں۔ حضرت علی نے کہ جی ہاں۔فرمایا اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کچھ بھی اس طرح کی بات نہ کہتے۔ غرض رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے۔آگے آگے اسید بن حضیر تھے۔ اسید نے کہا اے اللہ کے دشمنو جب تک تم بھوکے نہ مرجاؤ گے ہم تمہارے قلعوں سے نہیں ہٹیں گے۔ تم ایسے ہو جیسے بھٹ کے اندر لومڑی۔ بنی قریظہ نے کہا اے ابن حضیر خزرج کے مقابلہ میں ہم نے تم سے معاہدہ کیا تھا۔ حضرت اسید نے کہا اب میرے تمہارے درمیان نہ کوئی معاہدہ باقی ہے اور نہ رشتہ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ یہودیوں کی گڑھی کے قریب پہنچ گئے اور اتنی اونچی آواز سے یہودیوں کے کچھ سرداروں کوپکارا کہ انہوں نے آواز سن لی اور فرمایا اے بندروں اور سؤروں کے بھائیو اور اے بتوں (یا شیطان) کی پرستش کرنے والو جواب دو کیا اللہ نے تم کو رسوا کردیا اور تم پر اپنا عذاب نازل فرمادیا۔ کیا تم مجھے گالیاں دیتے ہو۔ (اندرون حصن سے) ان لوگوں نے قسمیں کھا کر کہا ابوالقاسم ہم نے ایسا نہیں کیا آپ تو جاہل نہیں ہیں۔ دوسری روایت میں جاہل کی جگہ فحش گوکا لفظ آیا ہے۔‘‘(تفسیر مظہری،زیر تفسیر سورۃ الاحزاب آیت۔۲۷)

یہاں تک تو میں نے آپ کو بتایا کہ گالی کی تعریف کیا ہے، کس لفظ کو گالی کہا جاتا ہے کسے نہیں، اور اس کے بعد میں نے بتایا کہ ایسے  سخت الفاظ جنہیں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریروں میں پاکر مخالفین انہیں گالیاں کہتے ہیں، وہ الفاظ خود قرآنِ کریم اور احادیث میں بھی موجود ہیں۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ ہمارے مخالفین کے مستند علماء بھی اپنی تحریرات میں ایسے الفاظ  و عبارات استعمال کرتے رہے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کا ایک فرقہ تو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم پر تبراء و لعنت کو اپنے دین و ایمان کا جزو اور ایسا کرنا عین عبادت سمجھتا ہے۔فروع کافی جلد ۲ ص ۲۱۶ پر لکھا ہے:

’’فمن احبنا کان نطفۃ العبد و من ابغضنا کان نطفۃ الشیطان‘‘ پس جو ہم سے محبت کرتا ہے وہ عبد یعنی انسان کا نطفہ ہے اور جو ہم سے بغض رکھتا ہے وہ شیطان کا نطفہ ہے

اسی طرح فروع کافی کتاب الروضۃ  میں جو کہ جلد۔۳ کا جزو ثانی ہے، لکھا ہے:

’’یا ابا حمزۃ ان الناس کلھم اولاد بغایا ما خلا شیعتنا‘‘ اے ابا حمزہ! تمام انسان اولادِ بغایا ہے سوائے ہمارے شیعوں کے۔

’’اولادِ بغایا ‘‘ کا ذکر آیا تو  یہ بتادوں کہ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر منجملہ دیگر الزامات کے یہ بھی الزام ہے کہ آپ نے اپنے مخالفین کو ’’ذریۃ البغایا‘‘ کہا ہے جس کا ترجمہ مخالفین ، نعوذ باللہ، کنجریوں کی یا رنڈیوں کی اولاد کرتے ہیں حالانکہ نہ تو حضور علیہ السلام نے ایسا مطلب لیا اور نہ ہی جماعت احمدیہ ایسا سمجھتی ہے۔ ایسا محض مخالفت اور تعصب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک حوالہ تو میں نے ابھی فروعِ کافی سے آپ کے سامنے رکھا اور حضرت امام  جعفر صادق علیہ السلام کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ اس معنی پر مشتمل الفاظ دیگر مسلمانوں کے لئے استعمال کریں۔اس کا صحیح مطلب ہدایت سے دور اور سرکش لوگ ہے جسا کہ عربی لغت سے ظاہر ہے۔ تاج العروس میں  ’’البغایا ‘‘ کا مطلب لکھا ہے ’’ہراول دستہ ‘‘ جو فوج سے پہلے سامنے آتا ہے۔جبکہ ’’ابن بغیہ‘‘ کا مطلب لکھا ہے جو رُشد یعنی ہدایت سے دور ہو۔یہی معنی دوسری مشہور لغت ’’لسان العرب ‘‘ میں لکھے ہیں۔

اس لفظ کی قرآنِ کریم میں ایک مثال ”ضال” کے استعمال کی ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک جگہ تو یہ فرمایا ’’مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی‘‘[53:3] تمہارا ساتھی نہ تو گمراہ ہوا اور نہ ہی نامراد رہا، جبکہ دوسری جگہ فرمایا’’وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی‘‘[93:8] اور تجھے تلاش میں سرگرداں (نہیں) پایا، پس ہدایت دی۔چنانچہ معلوم ہوا کہ الفاظ کے معانی ان کے سیاق و سباق اور اشخاص کی مناسبت سے کئے جاتے ہیں۔

شیعہ کتاب فروع کافی کے بعد سنئے  مولانا قاسم نانوتوی صاحب  کی ایک کتاب ’’ھدیۃ الشیعہ ‘‘ کا ایک اقتباس، اور یہ اقتباس سنانے سے پہلے میں یہ بھی بتادوں کہ اس کتاب سے میرے پاس مزید دو ایسے اقتباس ہیں جو نہایت سخت  الفاظ پر مشتمل ہیں اور جنہیں یہاں پڑھ کر سنانے کا میں متحمل نہیں ہوسکتا۔ مولانا قاسم نانوتوی صاحب کے یہ الفاظ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُن الفاظ سے کئی درجہ سخت ہیں جنہیں ہمارے مخالفین قابل اعتراض سمجھتے ہیں لیکن اپنے گھر میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ اُن کے علماء کیا کیا کچھ لکھتے رہے ہیں۔

اس اقتباس  میں  مولانا قاسم نانوتوی صاحب سخت الفاظ استعمال کرنے سے پہلے اپنی صفائی پیش کررہے ہیں اور ان کے استعمال کا سارا لزام فریق مخالف پر ڈال رہے ہیں کہ اُن کی وجہ سے نانوتوی صاحب کو ایسا کرنا پڑرہا ہے۔

ھدیۃ الشیعہ

’’اور اگر بہ نسبت انبیاء و مرسلین یا بزرگان اہل بیت و اصحاب سید المرسلین ﷺ اس رسالہ میں کوئی حرف نامناسب دیکھ کر الجھیں تو مجھے اس سے بری الذمہ سمجھیں ایسا مذکور کہیں کہیں ناچار ہی بغرض الزام شیعہ آگیا ہے اس کا بار انہی کی گردن پر ہے۔ یہ سب انہوں نے ہی کرایا ہے۔خدا شاہد ہے کہ ایسے عقائد سے میں بہزار جان و ہزار زبان بیزار ہوں۔ محبت بزرگان مذکور کو اپنی سعادت اور ان کے حسنِ اعتقاد کو ذریعہ نجات سمجھتا ہوں مگر مردمانِ فہمید سے یوں امید ہے کہ میرے عذر سے پیشتر ہی بشہادت مذہب مجھے معذور سمجھیں۔‘‘ (ص۔۱۱۔ مصنف مولانا محمد قاسم نانوتوی ۔ ناشر نعمانی کتب خانہ حق سڑیٹ اردو بازار لاہور)

اسی نوعیت کی وضاحت  ’’اظہار الحق‘‘ کے مصنف مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے بھی کی ہے۔ اس کتاب کے ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کی جلد اوّل ص۔۲۳۰ پر لکھا ہے:

’’اگر کسی جگہ میرے قلم سے کوئی ایسا لفظ نکل جائے جو عیسائیوں کی کسی مسلمہ کتاب کی نسبت یا اُن کے کسی پیغمبر کے متعلق بے ادبی اور گستاخی کا شبہ پیدا کرتا ہو تو ناظرین اس کو اُس کتاب کی اس نبیؑ کی نسبت میری بداعتقادی پر محمول نہ فرمائیں، کیونکہ میرے نزدیک خدا کی کسی کتاب یا اس کے کسی پیغمبر کی شان میں بے ادبی کرنا بدترین عیب ہے۔‘‘

اب مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب کی کتاب ھدیۃ الشیعہ کے دو مزید اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔

’’اس سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت امیر کا سکوت جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے افعال و حرکات پر تھا یہاں تک کہ غصب فدک دیکھا کئے۔ اپنی بٹی کا نکاح ان سے کردیا اور ان سے بیعت کرلی اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے یہ سب بوجہ حقانیت تھا نہ بوجہ تقیہ ورنہ اس زور اور قدرت اور اس کرامت کا آدمی اور کون تھا جو ان سے اندیشہ یا ہراس رکھتا اور اگر بالفرض یہ زور اور بل اور یہ قدرت خداد کسی میں ہوتی بھی تب غصب دخترطاہرہ مطہرہ تو ہرگز گوارا نہ ہوتا۔ اہل ہند جو تمام ولایتوں کے لوگوں کے نامردہ پن میں امام ہیں ان میں کا بھنگی اور چمار بھی اس سہولت سے بیٹی نہیں دیتا جس طرح حضرت امیر نے اپنی دختر مطہرہ کو حضرت عمر  کے حوالہ کردیا۔آپ بھی دیکھتے رہے اور صاحبزادی بھی، پھر صاحبزادوں میں بھی ایک وہ تھے کہ جنہوں نے تیس ہزار فوج جرار کا مقابلہ کیا ھالانکہ وہ زمانہ ضعیفی اور تحمل کا تھا اور بہن کے نکاح کے وقت عین شباب تھا اور تسپر تماشہ یہ ہے کہ ہنگامہ کربلا میں جو دشمنانِ سفاک نے حرم محترم اور زنانِ اہلبیت کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو کیا کچھ غضب اور جوش آیا۔ شیعوں کو تو شہادت نامہ کربلا ازبر ہی ہوگا لکھنے کی کیا حاجت۔‘‘ (ص۔164,165)

’’الحمد للہ کہ مولوی عمار علی صاحب کی تمام افتراپردازیوں کے جواب سے فراغت پائی مگر جو کچھ انہوں نے دربارہ فدک زبان درازیاں اور افتراپردازیاں کیں ہیں اس کی مکافات میں حسب مثل مشہور جیسے کو تیسا اور جواب ترکی بہ ترکی، مناسب تو یوں تھا کہ ہم بھی کچھ نظم و نثر سے پیش آتے اور مولوی صاحب کی مہملات کے جواب میں مولوی صاحب کو بے نقط سناتے۔ مگر چونکہ ایسی خرافات کا بکنا پاجیوں کا کام ہے، ہم کو کیا زیبا ہے کہ ایسی نازیبا باتوں میں مولوی صاحب کے ہمصفیر ہوں اور اپنی زبان کو گندہ کریں اور اہل عقل اور ارباب حیا سے شرمندہ ہوں؟معہذا اصحاب ثلٰثہ کی اہانت کے انتقام میں مولوی عمار علی صاحب سے دست و گریباں ہونا تو ایسا ہی ہے جیسا چاند سورج پر تھوکنے کی سزا میں کتے کو کوئی پتھر لگائے یا آسمان کی طرف تھوکنے کے عوض میں کسی کم عقل ناہنجار کے منھ میں کوئی پیشاب کی دھار لگائے۔ظاہر ہے کہ اول تو چاند سورج کو ان حرکات ناشائستہ سے کیا نقصان؟ بلکہ عقلا کے نزدیک اور دلیل رفعت مکان ہے۔ دوئم کجا شمس و قمر و کجا سگ و کم عقل سگ نزاد؟ مساوات ہو تو ایک بات بھی ہے ورنہ سگ اور سگ مزاجوں کی اتنے میں کچھ عزت نہیں جاتی ہاں البتہ اپنی اوقات فی الجملہ خراب جاتی ہے۔ سو ایسے ہی اصحاب ثلٰثہ کو اول تو مولوی عمار علی صاحب جیسوں کی اہانت یا برا کہنے سے کیا نقصان؟ بلکہ الٹا باعث رفعت شان ہے۔چاند سورج کی طرح وہ روشن ہوئے تو کتے ان پر بھونکے اور اوروں پر کیوں نہ بھونکے۔‘‘(ایضًا ۔ باب مباحث فدک صفحہ۔223)

اب آخر میں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام  اور ان کی جماعتوں پر گالیاں نکالنے اور پچھلے انبیاء کی توہین کرنے کا الزام ہمیشہ سے ان کے مخالفین عائد کرتے آئے ہیں ۔ سیّد الانبیاء حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ماننے والوں پر بھی یہی الزام لگایا گیا۔ یہ واقعات اگرچہ سیرت کی تمام کتابوں اور تفاسیر میں درج ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر میں نے چند حوالے منتخب کئے ہیں جو پیشِ خدمت ہیں۔

تفسیر ابن کثیر (زیر آیت 90-93، سورۃ بنی اسرائیل)

’’قریش کے امراء کی آخری کوشش : (آیت ۹۰۔۹۳) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان بن حرب اور بنی عبدالدار کے قبیلے کے دو شخص اور ابوالبختری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے یہ سب یا ان میں کچھ سورج کے غروب ہوجانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے’ بھئی کسی کو بھیج کر محمد (ﷺ) کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔چنانچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپؐ کی قوم کے اشراف  لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپؐ کو یاد کیا ہے۔چونکہ حضور ﷺ کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا، آپؐ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپؐ فورًا ہی تشریف لے آئے۔ قریشیوں نے آپؐ کو دیکھتے ہی کہا سنئے آج ہم آپ ؐپر حجت پوری کردیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لئے ہم نے آپؐ کو بلوایا ہے۔واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تو نے ہم پر کھڑی کررکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو، ہمارے دین کو برا کہتے ہو، ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بناتے ہو، ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو، تم نے ہم میں تفریق ڈال دی، لڑائیاں کھڑی کردیں۔واللہ آپؐ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔‘‘(زیر آیت ۹۰ تا ۹۳ سورۃ بنی اسرائیل)
سیرت النبی ﷺ ابن ہشام، گالیاں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام

’’قریش کا وفد: ابن اسحاق کہتے ہیں اور ان کے علاوہ اور بہت لوگ تھے یہ سب ابوطالب کے پاس آئے اور کہا اے ابوطالب یا تو تم اپنے بھتیجے یعنی حضورؐ کو منع کرو کہ وہ ہمارے بُتوں کو بُرا نہ کہے اور ہمارے باپ دادا کو جاہل اور گمراہ نہ بتائے ورنہ ہم کو اجازت دو کہ ہم خود اس سے سمجھ لیں۔‘‘ (جلد اول ص۔۱۷۰، ناشر ادارہ اسلامیات لاہور، کراچی، پاکستان، طباعت سوم مئی  ۱۹۹۸)

’’قریشی سفیروں کی ایک اور ترکیب: ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں عمرو بن عاص جب نجاشی کے پاس سے باہر نکلا تو اس نے کہا خدا کی قسم! میں کل ایسی ترکیب کروں گا جس سے ان لوگوں کا پورا استیصال ہوجائے گا۔ عبداللہ بن ربیعہ جو ایک رحم دل شخص تھا اُس نے کہا ایسا نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ پھر آخر یہ لوگ ہمارے رشتہ دار ہیں۔اگرچہ دین میں ہمارے مخالف ہوگئے ہیں تو ہو جائیں مگر ایسا نہ کرنا چاہئے۔ عمرو بن عاص نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ میں کل نجاشی سے ضرور کہوں گا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کی نسبت ایک سخت بات کہتے ہیں۔ چنانچہ دوسرے روز نجاشی سے اس نے یہ بات کہی۔ نجاشی نے صحابہؓ کو طلب کیا تاکہ ان سے دریافت کرے۔‘‘ (جلد اوّل۔ص ۲۱۷، ناشر ادارہ اسلامیات  لاہور، کراچی پاکستان طباعت  سوم مئی ۱۹۹۸)

سیرت حلبیہ ۔ گالیاں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام

’’اس کے بعد یہ لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے۔ ’’ابوطالب! تمہارے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے، ہمارے دین میں عیب نکالے ہیں اور ہمیں بے عقل ٹھہرایا ہے، وہ کہتا ہے ہم میں عقلیں نہیں ہیں۔ اس نے ہمارے باپ دادا تک کو گمراہ کہا ہے۔‘‘ (جلد اول نصف آخر ص۔۲۵۵، مرتب و مترجم مولانا محمد اسلم قاسمی فاضل دیوبند، زیرسرپرستی حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیّب صاحب۔ ناشر دارالاشاعت کراچی۔ مئی ۲۰۰۹ )

’’اس کے اگلے دن عمرو ابن عاص دوبارہ نجاشی کے پاس آئے اور اس سے بولے۔’’یہ لوگ عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک بہت بڑی بات کہتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں  اس کے بیٹے نہیں ہیں۔‘‘ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ عمرو نے نجاشی سے کہا۔’’جہاں پناہ! ان کی کتاب میں عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ مریم کو گالیاں دی گئی ہیں اس کے بارے میں ان سے پوچھئے۔‘‘ (جلد اول نصف آخر ص۔۴۰۶، مرتب و مترجم مولانا محمد اسلم قاسمی فاضل دیوبند، زیرسرپرستی حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیّب صاحب۔ ناشر دارالاشاعت کراچی۔ مئی ۲۰۰۹)

 دلچسپ بات یہ ہے جو ہم احمدیوں کے لئے ایمان افروز اور غیر احمدی مسلمان بھائیوں کے لئے نصیحت آموز بلکہ چشم کشا ہونی چاہئے کہ بعینہہ یہی الزامات سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی جماعت پر لگائے جاتے ہیں اور اس طرح ہمارے مخالفین خود کو مشرکین مکہ اور مخالفینِ نبی اکرم ﷺ کے مثیل اور سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی اکرم ﷺ کا مثیل اور ان کی جماعت کو صحابہ ؓ کی جماعت کا مثیل بناتے ہیں۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک!

کیا حیاتِ مسیؑح پرامّتِ مسلمہ کا اجماع ہے؟

کیا حیاتِ مسیؑح پرامّتِ مسلمہ کا اجماع ہے؟

انصر رضا ۔ مربی و مبلغ احمدیہ مسلم جماعت وان، کینیڈا

غیراحمدی علماء کی طرف سے عوام الناس کو یہ تأثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پچھلی چودہ صدیوں میں تمام امت مسلمہ متفقہ طور پر یہ مانتی آئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم سمیت زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے، ابھی تک اسی جسم سمیت وہاں زندہ موجود ہیں ، اور قرب قیامت میں اسی جسم اور زندگی کے ساتھ زمین پر اتریں گے اور یہ کہ احمدیہ مسلم جماعت نے وفاتِ مسیؑح کا عقیدہ پیش کرکے اس متفقہ عقیدہ کی مخالفت کی ہے اور گویا ایک نیا عقیدہ پیش کیا ہے۔احمدیہ مسلم جماعت کی طرف سے قرآن و سنّت سے حیاتِ مسیؑح کی تردید میں دلائل کے ساتھ ساتھ بزرگانِ امّت کے بھی ایسے حوالہ جات پیش کئے جاتے رہے ہیں جن میں وفاتِ مسیؑح کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں قدیم و جدید علماء کے ایسے چند مزید حوالہ جات پیش کئے جارہے ہیں جن میں صراحتًا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فوت شدہ ہونا بیان کیا گیا ہے۔

اگر موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ زندہ ہوتے:
’’لو کان عیسیٰ حیا ما وسعہ الاتباعی‘‘ (الفقہ الاکبر از امام ابو حنیفہ ۔ صفحہ۔۱۰۱۔ناشر دار الکتب العربیۃ الکبریٰ(
اگر عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔

’’محمد ﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین۔فرسالتہ عامۃ للجن والانس فی کل زمان۔ولو کان موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام حیین لکانا من اتباعہ۔‘‘(مدارج السالکین از علامہ ابن قیم الجوزی۔الجزء الثانی۔ صفحہ 492(
محمد ﷺ تمام عالم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔پس ان کی رسالت ہر زمانے کے جن و انس کے لئے عام ہے۔ اور اگر موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو وہ دونوں لازمًا ان کے پیروکاروں میں شامل ہوتے۔ 

’’لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین ما وسعھما الاتباعی‘‘ (الیواقیت والجواہر از علامہ عبدالوہاب الشعرانی۔الجزء الثانی صفحہ 174)
اگر موسیٰ اور عیسیٰ دونوں زندہ ہوتے تو ان دونوں کو میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔

’’ولو کان موسی و عیسی حیین لکانا من اتباعہ۔۔۔‘‘ (شرح العقیدۃ الطّحاویۃ ۔ صفحہ:511(
اور اگر موسیٰ اور عیسیٰ دونوں زندہ ہوتے تو وہ دونوں ضرور ان کے (یعنی نبی اکرم ﷺ کے) پیروکاروں میں شامل ہوتے۔

’’فاما حکایتہ لحالہ بعد ان رفع فھو مثلھا فی التوراۃ ذکر وفاۃ موسیٰ علیہ السلام۔ و معلوم ان ھذا الذی فی التوراۃ و الانجیل من الخبر عن موسیٰ و عیسیٰ بعد توفیھما۔لیس ھو مما انزلہ اللّٰہ و مما تلقوہ عن موسیٰ و عیسیٰ بل ھو مما کتبوہ مع ذلک للتعریف بحال توفیھما و ھذا خبر محض من الموجودین بعدھما عن حالھما لیس ھو مما انزلہ اللّٰہ علیھما ولا ھو مما امرا بہ فی حیاتھما ولا مما اخبرا بہ الناس‘‘ (مجموعہ الفتاویٰ از امام ابن تیمیہ ۔الجزء الثالث عشر۔کتاب مقدمۃ التفسیر۔ صفحہ:58(
پس جو ان کے رفع کے بعد کے حال کی باتیں ہیں تو وہ توراۃ میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے ذکر کی طرح ہیں۔ چنانچہ یہ معلوم بات ہے کہ موسیٰ اور عیسیٰ کے متعلق تورات اور انجیل میں جو خبریں ہیں وہ ان دونوں کی وفات کے بعد کی ہیں۔ان میں سے کچھ بھی نہ اللہ نے نازل کی ہیں اور نہ ہی انہیں موسیٰ و عیسیٰ سے حاصل کیا گیا ہے بلکہ وہ ان دونوں کی وفات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ اور یہ خبریں وہاں موجود لوگوں سے ان کے احوال کے متعلق ان کے بعد لی گئی ہیں۔ نہ تو انہیں اللہ نے ان دونوں پر نازل کیا ، نہ ہی ان دونوں نے اپنی حیات میں اس کا حکم دیا اور نہ ہی ان دونوں نے لوگوں کو اس کی خبر دی۔

مذکورہ بالا حوالوں میں دو باتیں وضاحت طلب ہیں۔ سب سے پہلا حوالہ جو فقہ اکبر سے لیا گیا ہے وہ کتاب جب مصر میں طبع ہوئی تو اس میں یہی الفاظ تھے ’’لو کان عیسیٰ حیا۔۔۔‘‘ لیکن جب وہی کتاب ہندوستان سے شائع ہوئی تو اس میں تحریف کرکے اسے ’’لو موسیٰ حیا۔۔۔‘‘ بنادیا گیا حالانکہ اس عبارت کے سیاق و سباق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہورہا ہے۔خاکسار کے پاس یہ دونوں نسخے موجود ہیں۔اسی طرح مندرجہ بالا حوالوں میں سب سے آخری حوالہ امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب سے لیا گیا ہے ۔ اس حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام دونوں کے لئے لفظ ’’توفیھما‘‘ ، یعنی ان دونوں کی وفات، استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابن تیمیہ ؒ توفی کا معنی وفات بمعنی موت ہی لے رہے ہیں ۔

بعثت النبی ﷺ کے وقت تمام انبیاء ؑ زمرۂ اموات میں داخل ہوچکے تھے:

آیت میثاق النبیین کی تشریح کرتے ہوئے علامہ القسطلانیؒ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے وقت تمام انبیاء علیہم السلام زمرۂ اموات میں داخل ہوچکے تھے،( اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان میں شامل تھے)۔

’’و قیل معناہ: أن الأنبیاء۔ علیھم الصلاۃ والسلام ۔ کانوا یأخذون المیثاق من أممھم بأنہ اذا بعث محمد ﷺ أن یؤمنوا بہ و أن ینصروہ، و احتج لہ بان الذین أخذاللّٰہ المیثاق منہم یجب علیھم الایمان بمحمد ﷺ عند مبعثہ، و کان الأنبیاء عند مبعث محمد ﷺ من جملۃ الأموات، والمیت لا یکون مکلفًا، فتعین أن یکون المیثاق مأخوذًا علی الأمم۔‘‘ (المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ۔ تالیف العلامۃ احمد بن محمد القسطلانی(851-923ھجری)۔ الجزء الثالث۔ صفحہ 148.(
اور کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امتوں سے یہ میثاق لیا تھا کہ جب محمد ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔ اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ جن لوگوں سے اللہ نے یہ میثاق لیا ان پر واجب تھا کہ وہ محمد ﷺ پر ان کی بعثت کے وقت ایمان لائیں جبکہ تمام انبیاء پر محمد ﷺ کی بعثت کے وقت موت وارد ہوچکی تھی اور مردہ تو مکلّف نہیں ہوتا۔ لہذا یہ بات معین ہوگئی کہ یہ میثاق امتوں سے ہی لیا گیا تھا۔

عیسیٰ کہاں ہیں:

’’این آدم ابوالاولین والآخرین این نوح شیخ المرسلین این ادریس رفیع رب العالمین این ابراہیم خلیل الرحمٰن الرحیم این موسیٰ الکلیم من بین سائر النبیین والمرسلین این عیسیٰ روح اللّٰہ وکلمتہ راس الزاھدین و امام السائحین این محمد خاتم النبیین این اصحابہ الابرار المنتخبون۔۔۔‘‘ (کتاب سراج الملوک از ابی بکر الطرطوشی۔الباب الاول فی مواعظ الملوک۔صفحہ:14(

اولین و آخرین کے باپ آدم کہاں ہیں، شیخ المرسلین نوح کہاں ہیں، رفیع رب العالمین ادریس کہاں ہیں، خلیل الرحمان الرحیم ابراہیم کہاں ہیں، تمام انبیاء و مرسلین میں سے کلیم موسیٰ کہاں ہیں، روح اللہ، کلمۃ اللہ، زاہدین کے سربراہ اور سیاحوں کے امام عیسیٰ کہاں ہیں، خاتم النبیین محمد ﷺ کہاں ہیں اور ان کے منتخب ابرار صحابہ کہاں ہیں۔۔۔

عیسیٰ ؑ نے مقررہ وقت پر وفات پائی:
"The same homogeneity of ideas obtains on that considerably lower plane on which an unnamed spokesman for the Byzantines and the Muslim jurist, al-Qaffal (d. 976), exchanged their invectives in support of their sovereigns\’ campaigns in 966-67.The Christian announces that he will conquer the East and spread the religion of the Cross by way of force:And Jesus, His throne is high above the heavens. Who is allied with Him reaches his goal (i.e., salvation) on the day of Strife (i.e., Judgment Day).But your companion (i.e., Mohammad), the moisture (of the grave) annihilated him below the ground, and he has turned (a heap of) splinters among those decayed bones.The Muslim shaik retorts in the same vein:Whoever desires the conquest of East and West propagandizing for the belief in a cross is the meanest of all who nourish desires.Who serves the crosses and wishes to obtain right guidance through them is an ass with a brand mark on his nose.And if the Prophet Mohammad has had to die, he (only) followed the precedent set by every exalted prophet. And Jesus, too, met death at a fixed term, when he passed away as do the prophets of Adam’s seed.” 
’’خیالات کی یہی یکسانیت ایک بہت ہی نچلی سطح پر بھی نظر آتی ہے جب بازنطین کے ایک گمنام عیسائی ترجمان اور مسلمان قانون دان القفّال نے 966-967 میں اپنی اپنی حکومتوں کی تائید کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف تنقیدی حملے کئے۔عیسائی نے اعلان کیا کہ وہ مشرق کو فتح کرلے گا اور صلیبی مذہب کو بزورِ طاقت پھیلادے گا : اور یسوع (کو دیکھو)، کہ اس کا تخت آسمانوں سے بلند ہے۔ جو اُس (یسوع) کے ساتھ وابستہ ہوگا وہ عدالت کے روز اپنی مراد کو پہنچے گا۔ لیکن تمہارا صاحب (یعنی محمد وہ ہے جس) کو قبر کی نمی نے زیرِ زمین فنا کردیا اور وہ بوسیدہ ہڈیوں کے درمیان ہڈیوں کا ڈھیر بن گیا۔ اس پر مسلمان شیخ نے اُسی لب و لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا: جو بھی مشرق اور مغرب کو فتح کرنا چاہتا ہے اور صلیبی مذہب کا پرچار کرنا چاہتا ہے وہ ان تمام لوگوں سے زیادہ کمینہ ہے جو اپنی خواہشات کی پرورش کرتے رہتے ہیں۔ جو بھی صلیب کی خدمت کرتا ہے اور اُن کے ذریعے ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ایسے گدھے کی مانند ہے جس کی ناک داغی گئی ہو۔ اور اگر محمد ﷺ پر موت آئی تو انہوں نے اس نمونہ کی پیروی کی جو عظیم الشان انبیاء نے قائم کیا تھا۔ اور یسوع نے بھی وقت مقررہ پر وفات پائی اور اسی طرح گزر گئے جس طرح اولادِ آدم میں سے دوسرے انبیاء گزر گئے۔‘‘( Dr. Gustave E. von Grunebaum \”Medieval Islam \” ۔ صفحہ 18, 19۔بحوالہ: ’’ہزار سال پہلے کا تاریخ اسلام کا ایک ورق ۔ حضرت مسیؑح کی وفات کا اعلان ‘‘ از شیخ عبدالقادر صاحب محقّق۔ ’’الفرقان ‘‘ اپریل 1977 ؁ء(

عیسیٰ ؑ موت سے مجبور: 

مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب بانی دارالعلوم دیوبند عیسائیوں کے ساتھ ایک مناظرہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور شری کرشن و شری رام چندر کی الوہیت کی تردید میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان سب کو موت آچکی ہے لہٰذا یہ سب معبود نہیں کہلائے جاسکتے۔

’’پھر اس اجمال کی تفصیل کرتے ہوئے بھری مجلس میں آپ بار بار اس کا اعادہ فرماتے رہے، کہ’’خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سری رام چندر اور سری کرشن کو معبود کہنا یوں بھی عقل میں نہیں آسکتا، کہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔ پاخانہ، پیشاب، مرض اور موت سے مجبور تھے۔‘‘ صفحہ 14میلہ خدا شناسی‘‘ (سوانح قاسمی حصہ دوم۔ صفحہ436,437(

حیات و وفاتِ مسیؑح کا اقرار یا انکار کفر تو کیا گمراہی بھی نہیں!

احمد رضا خان بریلوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حیات و وفاتِ مسیؑح کا اقرار یا انکار کفر تو درکنار گمراہی بھی نہیں۔

’’قادیانی صدہا وجہ سے منکر ضروریاتِ دین تھا اور اس کے پس ماندے حیات و وفات سیدنا عیسیٰ رسول اللہ علی نبینا الکریم و علیہ صلوات اللہ و تسلیمات اللہ کی بحث چھیڑتے ہیں، جو خود ایک فرعی سہل خود مسلمانوں میں ایک نوع کا اختلافی مسئلہ ہے جس کا اقرار یا انکار کفر تو درکنار ضلال بھی نہیں۔‘‘ (الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی ۔ مصنف احمد رضا خان بریلوی ص5 (

بڑے بڑے علماء کا وفاتِ مسیؑح کے قائل ہونے کا اقرار:
ا
یک مشہور دیوبندی عالم محمد یوسف بنوری صاحب کے صاحبزادے سلیمان یوسف بنوری صاحب اپنے والد صاحب کی کتاب کا مقدمہ لکھتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ بڑے بڑے علماء، جن کی عظمت کے یہ خود قائل ہیں، وفاتِ مسیؑح کے قائل تھے۔

’’آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ بڑا ہی پُرفتن دور ہے، نسل انسانیت عمومًا اور مسلمان خصوصًا قسم قسم کے فتنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ مسلمان بحیثیت مسلمان آج جتنے خطرناک حالات سے دوچار ہیں شاید ماضی کی تاریخ ایسی مثالوں سے خالی ہو، ہر سمت سے قصر اسلام پر فتنوں کی ا یسی یلغار ہے کہ الامان و الحفیظ! طرح طرح کے فتنے ظاہر ہورہے ہیں، اعتقادی، عملی ظاہری اور باطنی، ہر ایک دوسرے سے بڑھتا جارہا ہے، مگر سب سے خطرناک فتنے وہ ہیں جن کا تعلق اعتقاد سے ہو، ان اعتقادی فتنوں میں سے ایک فتنہ عقیدۂ نزولِ مسیح علیہ السلام سے یکسر انکار کرنا یا کم از کم اس کی اساسی حیثیت تسلیم کرنے سے اعراض کرنا اور اس کو غیر ضروری ماننا بھی ہے حتیٰ کہ بعض ایسے اہل علم و قلم بھی جن کی رفعت شان کی طرف اگر ہم نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو ان کے علم و عمل، فضل و کمال اور ان کی عظمت کو اپنی بے پناہ بلندی کی وجہ سے ہماری نگاہیں سر نہیں کرسکتیں وہ بھی اس رو میں بہہ گئے ہیں۔۔۔مولوی ابوالکلام آزاد صاحب، مولوی جاراللہ صاحب، مولانا عبیداللہ صاحب سندھی وغیرہ کی تحریرات میں یہ چیز آئی اور مولانا آزاد نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ: ’’اگر یہ عقیدہ نجات کے لیے ضروری ہوتا تو قرآن میں کم از کم (واقیموا الصلاۃ) جیسی تصریح ضروری تھی اور ہمارا اعتقاد ہے کہ کوئی مسیح اب آنے والا نہیں‘‘۔ (مقدمہ از سلیمان یوسف بنوری ۔عقیدہ نزولِ مسیح علیہ السلام قرآن، حدیث اور اجماع امت کی روشنی میں۔ مصنف یوسف بنوری(

وفاتِ مسیؑح اسلامی عقیدہ:

مشہور مصری عالم محمد الغزالی اپنی کتاب ’’عقیدۃ المسلم‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’لانہ فی حیاتہ عبد ضعیف، و بعد مماتہ رفات مواری فی حفرۃ من التراب‘‘ (صفحہ۔50(
کیونکہ وہ زندگی میں ایک بندۂ ناتواں تھے اور مرنے کے بعد ہڈیوں اور گوشت کا ایک ڈھیر جو مٹی کے ایک گڑھے میں چھپادیا گیا تھا۔

ختم نبوت اور حیاتِ مسیؑح متضاد عقائد:

مشہور دیوبندی عالم ظفر احمد عثمانی صاحب کے صاحبزادے قمر احمد عثمانی صاحب اپنی کتاب ’’عقیدہ ختم نبوت اور نزولِ مسیؑح‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ دونوں عقیدے یعنی ختم نبوت اور حیاتِ مسیؑح ایک دوسرے سے متضاد ہیں اور یہ کہ بہت سے نامور علماء وفاتِ مسیؑح کے قائل تھے ۔

’’حضرت عبداللہ ابن عباسؓ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے، اور علمائے متقدمین میں امام ابن حزم اور امام ابن تیمیہ نے نزولِ مسیؑح کے مسئلہ کو اختلافی مسئلہ قرار دیا ہے (دیکھئے ’’مراتب الاجماع، لابن حزم اور نقد مراتب الاجماع، لامام ابن تیمیہؒ ) ہمارے زمانے میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ تمنا عمادی پھلواریؒ ، علامہ مولانا موسیٰ جاراللہؒ ، شیخ نور محمد مرشد المکیؒ ، علامہ شاہ محمد جعفر ندوی، علامہ اقبالؒ ، شیخ محمود شلتوت مصری، علامہ سید رشید رضا مصری، اور مولانا امین احسن اصلاحی جیسے نامور علمائے دین اور ارباب علم و دانش نزولِ مسیؑح اور ظہورِ مہدی کے عقیدوں کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ (صفحہ۔6,7(

’’عقیدۂ ختم نبوت کی موجودگی میں حیاتِ مسیؑح اور نزولِ مسیؑح کا تصور قلب و ذہن میں ہمیشہ ہی کھٹکتا رہا کہ یہ دونوں تصورات ایک جگہ نہیں ٹھہر سکتے۔اگر عقیدہ ختم نبوت برحق ہے تو کسی نبی کے آنے اور دین اسلام کو حقیقی غلبہ دلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا‘‘ (صفحہ:8,9(

ان تمام مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ابھر کر سامنے آجاتی ہے کہ نہ تو حیاتِ مسیؑح کے عقیدہ پر امتِ مسلمہ کا کبھی اجماع رہا ہے اور نہ ہی اس سے اختلاف کرنے والوں پر کفر کا فتویٰ عائد کیا گیا ہے۔ لیکن موجودہ دور کے احمدیت مخالف چند علماء نے ایک نیا دین گھڑ لیا ہے جس میں نہ صرف قرآن و حدیث بلکہ اسلاف کے عقائدسے بھی متضاد عقائد شامل کئے گئے ہیں۔

اصل حوالہ جات دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں  ۔Click Here

استخارہ کرنا اسلام میں جائز ہے بجواب قادیانی اور استخارہ

ایک اعتراض بعض جاہل کرتے ہیں کہ یہ جو قادیانی / احمدی ہیں کہتے ہیں کہ استخارہ کرکے اللہ سے دریافت کرو  کہ مرزا صاحب امام مہدی اور وہی مسیح ہیں کہ نہیں جن کا حدیث میں وعدہ ہے  ، تو ان کی ایسی باتوں میں نہیں آنا یہ سب جھوٹ ہوتا ہے ۔۔

جواب میں یاد رہے کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو خدا پر بھی یقین نہیں! یا انہیں یہ گمان ہے کہ خدا ان سے سچ بولتا ہی نہیں؟ جانتا بھی ہے کہ ایک شخص نے جھوٹا دعویٰ کردیا پھر اس کی سچائی کے بارے میں لوگوں کوخوابوں میں جھوٹ بتاتا ہے۔؟

دوسرا یہ کہ استخارہ کے ذریعہ خدا سے ہدایت مانگناکوئی خلاف شریعت کام نہیں ہے ۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ    رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ۔  (بخاری ، کتاب الدعوات باب الدعا عندالاستخارۃ )


پس ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ خدا سے پوچھو،کیونکہ حضور ﷺنے ہمیں یہی سکھلایا ہے۔