سورۃ آل عمران کی آیت سے وفات مسیح کا ثبوت


ترجمہ : اور محمد نہیں ہیں مگر ایک رسول۔ یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائےگا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکےگا۔ اور اللہ یقینا شکرگزاروں کو جزا دے گا۔

یہ آیت صاف طور پر بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے گذرے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مسیح ناصری ؑ بھی ایک رسول تھے جو چھ سو سال نبی کریم ﷺ سے پہلے مبعوث کئے گئے تھے ۔ پس لامحالہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ بھی اس آیت کی رو سے فوت ہوچکے ہیں۔ 
                      اگر کوئی اعتراض کرے کہ لفظ قَدْ خَلَتْ کا   مطلب ہے ’’گزر گئے ‘‘  اور مراد یہ ہے  کہ جیسے کوئی لاہور سے گزر گیا کوئی آسمان پر گزر گیا ، نہ کہ ’’فوت ہو گئے ‘‘تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ لغت عربی کی مسند کتاب تاج العروس میں لکھاہے کہ خَلَا فُلَانٌ : اِذَا مَاتَ ۔ یعنی فلاں شخص گزر گیا کا معنی ہے وہ فوت ہو گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:۔
’’وَمَامُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلیٰ اَعْقَابِکُمْ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے ہیں۔اب کیا اگر وہ بھی فوت ہوجائیں یامارے جائیں تو ا ن کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھرجاؤ۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو ایسانبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے۔کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدائے تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔‘‘
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 427)

آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ اور معیار صداقت

 اعتراض کیا جاتا ہے کہ آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیلِ  میں صرف مدعی نبوت کا ذکر ہے اور مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ 1901ء میں کیا ۔
جواب : وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیلِ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْن۔             (الحاقہ :45تا47)
ترجمہ:۔ اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کر دیتا۔تو ہم اُسے ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے ،پھر ہم یقیناً اس کی رگ ِ جان کاٹ ڈالتے۔
اس اعتراض کی بنیاد صرف اس مفروضہ پرہے کہ اس آیت میں صرف مدعی نبوت کے لئے وعید ہے۔ جبکہ اس آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس آیت میں صرف مدعی وحی و الہام کا ذکر ہے۔
اگر مدعی نبوت کا ذکر ہوتا تو لَوْ تَنَبَّأَ  کے الفاظ ہوتے۔تَقَوَّلَ  اور   تَنَبَّأَ کے فرق کو لغت کھول کر معترض کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے اپنے الہامات 1880ء سے شائع کرنے شروع کئے ۔ گو اس سے قبل بھی آپؑ اپنے الہامات لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے لیکن 1880ء سے باقاعدہ کتابی صورت میں بھی لوگوں کے سامنے آنے شروع ہو گئے۔
براہین احمدیہ جو 1880تا1884ء شائع ہوئی ۔ اس میں ایک آدھ نہیں بلکہ سینکڑوں الہامات آپؑ نے شائع کئے۔ اب معیارِ صداقت آنحضور  ﷺ کی زندگی کے باعث 23سال ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ  1908ء میں فوت ہوئے  1884ء سے بھی حساب لگائیں تو یہ 24سال بنتے ہیں۔ جبکہ آپ کو وحی و الہام کا دعویٰ اس سے قبل 1868کے قریب سے تھا۔
تفصیل جواب
اگر بغرض بحث یہ مان بھی لیا جائے کہ یہاں صرف مدعی نبوت  ہی مراد ہے تو پھر بھی یہ اعتراض باطل ہے کیونکہ حضرت اقدس ؑ کا الہام ھُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدَی براہین احمدیہ میں موجود  ہے جس میں حضور ؑ کو  رسول کہہ کر پکارا گیا ہے اور حضورؑ نے اس الہام کو خدا کی طرف منسوب فرمایا ہے۔
اگر خدا تعالی نے حضرت مسیح موعود ؑ کو رسول نہیں کہا تھا تو پھر آیت زیر بحث کے مطابق ان کی قطع و تین ہونی چاہیے تھی مگر  حضرت مسیح موعودؑ اس الہام کے بعد تقریبا 30 سال تک زندہ رہے ۔
ہما رایہ مذہب  نہیں کہ حضرت مرزا صاحب ؑ براہین کی تالیف کے  زمانے میں نبی نہ تھے بلکہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ حضور ؑ  براہین احمدیہ کے زمانے میں بھی نبی تھے  ہاں لفظ نبی کی تعریف  جو غیر احمدی علماء کے نزدیک مسلم تھی جو یہ  تھی کہ نبی کے لئے شریعت لانا ضروری ہے نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا تابع نہ ہو اس تعریف کی رو سے نہ حضرت مرزا صاحب 1901ء سے پہلے نبی تھے اور نہ بعد میں   کیونکہ آپ کوئی شریعت نہ لائے تھے اس لئے اوائل میں حضور ؑ اس تعریف  نبوت کی رو سے اپنی نبوت کی نفی کرتے رہے  جس سے مراد صرف اس قدر تھی کہ میں صاحب شریعت براہ راست نبی نہیں ہوں لیکن بعد میں جب حضور ؑ نے نبی کی تعریف سب مخالفین پر واضح  فرماکر اس کو خوب شائع فرمایا کہ نبی کے لئے شریعت لانا ضروری نہیں اور  نہ یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب شریعت رسول کا تابع نہ ہو بلکہ کثرت مکالمہ و مخاطبہ مشتمل بر کثرت امور غیبیہ کا  نام نبوت ہے  تو اس تعریف کی رو سے آپ نے اپنے آپ کو نبی اور رسو ل کہا۔ اب ظاہر ہے کہ1901 ءسے پہلے کی تعریف نبوت کی رو سےحضرت صاحبؑ کبھی بھی نبی نہ تھے اور نہ صرف حضرت صاحب ؑ بلکہ آپ سے پہلے ہزاروں انبیاء مثلا حضرت ہارون ؑ ۔ سلیمان ؑ ، یحییؑ ۔ زکریاؑ ، اسحاقؑ یوسف ؑ ، وغیرہ بھی نبی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ وہ بھی کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے لیکن 1901 کے بعد کی تشریح کے رو سے ( جو ہم نے اوپر بیان کی ہے) 1901سے پہلے بھی حضورؑ نبی تھے۔
غرضیکہ حضرت صاحب ؑ کی نبوت یا اس کے دعوے کے زمانے کے بارہ میں کوئی اختلاف یا شبہ نہیں بلکہ بحث  صرف بحث نبوت کے متعلق ہے ورنہ حضرت صاحب ؑ  کا دعوی ابتداء سے آخر تک یکساں چلا  آتا ہے جس میں کوئی فرق نہیں آپ کے الہامات میں لفظ نبی اور رسول براہین کے زمانے  سے لے کر وفات تک ایک جیسا آیا ہے حضرت اقدسؑ نے جس چیز کو1901 کے بعد نبوت قرار دیا ہے اس کا اپنے وجود میں موجود ہونا حضورؑ نے براہین احمدیہ  کے زمانہ سے تسلیم فرمایا ہے  ۔

مرزا صاحب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود و امام مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اپنے دعویٰ سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور انہی کے دوبارہ آنے پر یقین رکھتے تھے جس کا اظہار آپؑ نے براہین احمدیہ میں بھی کیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ’’کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے۔ اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب  کرتے ہو۔ اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اِس بات کا دعویٰ ہے کہ مَیں عالم الغیب ہوں جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تُو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے تب تک مَیں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اِسی وجہ سے کمال سادگی سے مَیں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے۔ جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو مَیں اس عقیدہ سے باز آگیا۔ مَیں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دِل پر محیط ہوگیا اور مجھے نُور سے بھر دیا اُس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرانام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تُو ہی کسر صلیب کرے گا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اِس آیت کا مصداق ہے کہ ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیْظْھِرَہ ٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔ تا ہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ مَیں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی مَیں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر مَیں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ مَیں خود تعجب کرتا ہوں کہ مَیں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر مَیں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بیخبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّو مدّ سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور مَیں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اِس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پس جب اِس بارہ میں انتہا تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُوْمَرُ یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سُنا دے اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور میرے دل میں روزِ روشن کی طرح یقین بٹھا دیا گیاتب مَیں نے یہ پیغام لوگوں کو سُنا دیا یہ خدا کی حکمت عملی میری سچائی کی ایک دلیل تھی اور میری سادگی اور عدم بناوٹ پر ایک نشان تھا۔اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور انسانی منصوبہ اس کی جَڑ ہوتی تو مَیں براہین احمدیہ کے وقت میں ہی یہ دعویٰ کرتا کہ مَیں مسیح موعود ہوں مگر خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ مَیں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ورنہ میرے مخالف مجھے بتلاویں کہ مَیں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔کیایہ امر قابلِ غورنہیں جو ظہور میں آیا۔ کیا یہ طریق بے ایمانی نہیں کہ براہین احمدیہ کی اس عبارت کو تو پیش کرتے ہیں جہاں مَیں نے معمولی اور رسمی عقیدہ کی رُو سے مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کیا ہے۔ اور یہ پیش نہیں کرتے کہ اسی براہین احمدیہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی موجود ہے۔ یہ ایک لطیف استدلال ہے جو خدا نے میرے لئے براہین احمدیہ میں پہلے سے تیار کر رکھا ہے۔ ایک دشمن بھی گواہی دے سکتا ہے کہ براہین احمدیہ کے وقت میں مَیں اس سے بیخبر تھا کہ مَیں مسیح موعود ہوں تبھی تو مَیں نے اس وقت یہ دعویٰ نہ کیا۔ پس وہ الہامات جو میری بیخبری کے زمانہ میں مجھے مسیح موعود قرار دیتے ہیں ان کی نسبت کیونکر شک ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کا افترا ہیں کیونکہ اگر وہ میرا افترا ہوتے تو مَیں اسی براہین میں اُن سے فائدہ اُٹھاتا اور اپنا دعویٰ پیش کرتا اور کیونکر ممکن تھا کہ مَیں اسی براہین میں یہ بھی لکھ دیتا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ ان دونوں متناقض مضمونوں کا ایک ہی کتاب میں جمع ہونا اور میرا اُس وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرنا ایک منصف جج کو اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے کہ درحقیقت میرے دِل کو اس وحی الٰہی کی طرف سے غفلت رہی جو میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں براہین احمدیہ میں موجود تھی اِس لئے مَیں نے ان متناقض باتوں کو براہین میں جمع کردیا۔ اگر براہین احمدیہ میں فقط یہ ذکر ہوتا کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور میرے مسیح موعود ہونے کی نسبت کچھ ذکر نہ ہوتا تو البتہ ایک جلد باز کسی قدر اس کلام سے فائدہ ٹھا سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ براہین احمدیہ سے بارہ برس بعد کیوں اس پہلے عقیدہ کو چھوڑ دیا گیا۔ گو ایسا کہنا بھی فضول تھا کیونکہ انبیاء اورملہمین صرف وحی کی سچائی کے ذمہ وار ہوتے ہیں اپنے اجتہاد کے کذب اور خلاف واقعہ نکلنے سے وہ ماخوذ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے نہ خدا کا کلام تاہم عوام کے آگے یہ دھوکا پیش جا سکتا تھا مگر اب تو ایسے پوچ اعتراض کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ اُسی براہین احمدیہ میں اظہار دعویٰ سے بارہ برس پہلے جا بجا مجھے مسیح موعود قرار دیا گیا ہے اور عقلمند کے آگے میری سچائی کے لئے یہ نہایت صاف دلیل ہے۔ غرض براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کا ذکر ایک نادان کو اُس وقت دھوکا دے سکتاتھا جبکہ براہین احمدیہ میں میرے مسیح موعود ہونے کی نسبت کچھ ذکر نہ ہوتا مگر وہ ذکر تو ایسا صاف تھا کہ لدہیانہ کے مولویوں محمد اور عبدالعزیزاور عبداللہ نے اسی زمانہ میں اعتراض کیا تھا کہ یہ شخص اپنا نام عیسیٰ رکھتا ہے اور عیسیٰ کی نسبت جس قدر پیشگوئیاں ہیں وہ سب اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور ان کا جواب مولوی محمد حسین نے اپنے ریویو میں دیا تھا کہ یہ اعتراض فضول ہے کیونکہ اسی براہین میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا اقرار بھی تو موجود ہے۔ پس مَیں خدا کی حکمت عملیوں پر قربان ہوں کہ کیسے لطیف طور سے پہلے سے میری بریّت کا سامان براہین میں تیار کر رکھا۔ اگر براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا کچھ بھی ذکر نہ ہوتا اور صرف میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہوتا تو وہ شور جو سالہا سال بعد پڑا اور تکفیر کے فتوے تیار ہوئے یہ شور اُسی وقت پڑ جاتا۔ اور اگر براہین میں صرف حضرت مسیح کی آمد ثانی کا ذکر ہوتا اور میرے مسیح موعود ہونے کے الہامات اس میں مذکور نہ ہوتے تو جاہلوں کے ہاتھ میں ایک حجت آجاتی کہ براہین میں تو حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا اقرار تھا اور پھر بارہ برس بعد اُس آمد سے انکار کیوں کیا گیا مگر ایک طرف وحی الٰہی کا براہین میں مجھے مسیح موعود قرار دینا اور ایک طرف اس کے برخلاف میرے قلم سے رسمی عقیدہ کے طور پر آمد ثانی مسیح کا ذکر ہونا یہ ایسا امر ہے کہ عقلمند اس سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ خاص خدا کی حکمت عملی ہے۔ غرض خدا کی حکمت عملی نے مجھے اس غلطی کا مرتکب کر کے کہ مَیں نے عیسیٰ کی آمدثانی کا اسی کتاب میں ذکر کر دیا جہاں میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر تھا میری سادگی اور عدم افترا کو ظاہر کر دیا۔ ورنہ کیا شک تھا کہ وہ سب الہامات جو براہین احمدیہ میں مندرج ہیں جو مجھے مسیح موعود بناتے ہیں وہ تمام افترا پر محمول ہوتے اور یہ بات تو کوئی عقل سلیم قبول نہیں کرے گی کہ جو دعویٰ مسیح موعود ہونے کا براہین احمدیہ سے بارہ سال بعد پیش کیا گیا اس کا منصوبہ اتنی مدّت پہلے بنا رکھا تھا۔ غرض اسی کتاب میں جس میں میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہے حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا بھی ذکر ہونا یہی میری سادگی اور عدم افتراپر ایک زندہ گواہ ہے۔ ‘‘
(اعجازِ احمدی۔روحانی خزائن جلد 19صفحہ112تا116)