حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متضرعانہ دعائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متضرعانہ دعائیں 

انتصاراحمد نذر

دعاؤں کی تاثیر آب و آتش سے بڑھ کر ہے

 حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات نمایاں طورپر سامنے آتی ہے کہ آپ کااوڑھنا بچھونا گویادعا ہی تھا اورآپ کا سارا انحصار محض اپنے رب کریم کی ذات پر تھا ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

’’دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے مجھے باربار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ ہوگا‘‘۔(ملفوظات جدید ایڈیشن جلد ۵ صفحہ ۳۶)
آپ نے اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر دعا کی تاثیرات دنیا کے سامنے پیش کیں اور فرمایا :
’’میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہاہوں کہ دعاؤں کی تاثیرآب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیساکہ دعا ہے‘‘۔ (برکات الدعا ، روحانی خزائن مطبوعہ لندن ۱۹۸۴ء جلد ۶ صفحہ ۱۱)
آپ کو یہ یقین کامل تھا کہ ’’دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سرسبز کرسکتی ہے اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہے اس میں بڑی تاثیریں ہیں‘‘۔(ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۰۰)
دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا عنوان تھا۔ آ پ نے اپنی جماعت کو بھی دعائیں کرنا سکھایا اور اس کی حقیقت سمجھا ئی اور فرمایا کہ دعا جنتر منتر کی طرح الفاظ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقت کو سمجھنا چاہئے اور اس میں رقّت اور اضطراب پیدا کرنا چاہئے ۔ آپ فرماتے ہیں:
’’دعا کے لئے رقّت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں ۔ یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ ان کوجنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہچانے۔۔۔۔۔۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو، دعاکرو تاکہ دعا میں جوش پیدا ہو‘‘۔(ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۵۳۸)
خود آپ کو اپنی دعاؤں میں جوش حاصل تھا چنانچہ فرماتے ہیں:
’’خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیاہے جیسے سمندرمیں ایک جوش ہوتاہے‘‘۔(ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۲۷)
یہ تمام گواہیاں روز روشن کی طرح عیاں کر دیتی ہیں کہ دعا کے ساتھ آ پ کا گہرا تعلق تھا۔ آپ نے دعا کرنے کا صحیح طریق اپنی جماعت کو بتایا اوراس کی قدروقیمت کا احساس دلایا کہ یہ کسی نسخہ کیمیا سے کم نہیں۔
دعاکی اہمیت، فضیلت اور اس کی برکات کا مضمون تو بہت تفصیلی ہے ۔ سردست ان دعاؤں کا ذکرکرنا پیش نظر ہے جو آپ خود بھی کرتے رہے اور اپنی جماعت کوبھی دعائیں سکھائیں ۔ بہت سی دعائیں تو خدا نے آپ کو الہام کیں لیکن پہلے یہ ذکر کرتا چلوں کہ آپ دعا کا کیا طریق بالعموم اختیار فرماتے تھے ۔

کیسے دعا کرتے تھے

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت صاحب مجلس میں بیعت کے بعد یاکسی کی درخواست پر دعا فرمایا کرتے تھے تو آپ کے دونوں ہاتھ منہ کے نہایت قریب ہوتے تھے اور پیشانی اور چہرہ مبارک ہاتھوں سے ڈھک جاتاتھا اور آ پ آلتی پالتی مار کر دعا نہیں کیاکرتے تھے بلکہ دوزانو ہوکر دعا فرماتے تھے ۔ اگر دوسری طرح بھی بیٹھے ہوں تب بھی دعا کے وقت دوزانو ہو جایاکرتے تھے ۔ یہ دعا کے وقت حضورکا ادبِ الٰہی تھا۔ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۶۱۔ روایت نمبر ۷۳۶)
حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ سورۃ فاتحہ قرآن کا خلاصہ اور اس کا مغز ہے اوراس سورۃ کوکثرت کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ اگر کوئی آپ سے یہ پوچھتاکہ کوئی وظیفہ بتائیں تو آپ اسے نمازپڑھنے کے ساتھ ساتھ سورۃ فاتحہ کثرت سے پڑھنے کی ہدایت فرماتے اور آپ کا خود بھی یہ معمول تھا کہ ہر دعا سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ اپنی کتاب’’ سیرۃ مسیح موعودؑ ‘‘ میں تحریر کرتے ہیں:
’’ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں میں ہمیشہ یہ کوشش کرتا تھا کہ ہر مجلس میں اور ہر موقع پر حضرت صاحب کے قریب ہو کر بیٹھوں ۔ بعض دفعہ جب کوئی دوست حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کی تحریک کرتے اور حضور اس مجلس میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو میں بہت قریب ہو کر یہ سننے کی کوشش کرتا کہ حضور کیا الفاظ منہ سے نکال رہے ہیں۔ باربار کے تجربہ سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود ؑ ہر دعامیں سب سے پہلے سور ہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے اور بعد میں کوئی اور دعا کرتے تھے ۔‘‘ (سیرۃ مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ ۵۲۱)
بعض دعاؤں کے بارہ میں تویہ ذکر ملتاہے کہ حضور انہیں التزاماً کیاکرتے تھے ۔ خود فرماتے ہیں:
’’ میں التزاماً چند دعائیں ہر روزمانگا کرتاہوں:
اول: اپنے نفس کے لئے دعا مانگتاہوں کہ خداوند کریم مجھ سے وہ کام لے جس سے اس کی عزت وجلال ظاہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔
دوم: پھر اپنے گھرکے لوگوں کے لئے دعا مانگتاہوں کہ ان سے قرۃعین عطاہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پرچلیں۔
سوم: پھراپنے بچوں کے لئے دعا مانگتاہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں۔
چہارم: پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام۔
پنجم: اور پھران سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے ۔‘‘ (ملفوظات جلد ۱صفحہ ۳۰۹)

سب سے عمدہ دعا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ حقیقت بھی ہم پر آشکار فرمائی کہ اصل دعا تو رضائے الٰہی کے حصول کی دعا ہے اور زندگی کا اصل مقصود بھی یہی ہے ۔ اسی لئے اس مقصد کے حصول کے لئے دعا کرنی چاہئے ۔ زندگی کے باقی معاملات خدا خود ہی حل فرما دیتاہے۔ فرمایا:
’’سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتاہے ۔ ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دورکردے اور اپنی رضا مندی کی راہ دکھلائے‘‘۔ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۳۰)

عاجزانہ دعائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے نام مکتوب میں دعا کی تلقین کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
’’ دعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔ جو صر ف رسم اور عادت کے طورپر زبان سے دعا کی جاتی ہے کچھ بھی چیز نہیں ۔ جب دعا کرو تو بجز صلوٰۃ فرض کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤ اور اپنی نماز میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ ہوتا ہے خدائے تعالیٰ کے حضور میں دعاکرو۔
اے رب العالمین تیرے احسانوں کامیں شکر نہیں کر سکتا۔ تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پراحسان ہیں ۔ میرے گناہ بخش تامیں ہلاک نہ ہو جاؤں ۔ میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے ۔ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتاہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وار د ہو ۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین‘‘۔ (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۴ صفحہ۵)
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولانا نورالدین صاحب کو ان کے صاحبزادہ کی وفات پرایک تعزیتی مکتوب میں (اگست ۱۸۸۵ء میں) اس دعا کی طرف کمال انکساری سے توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرمایا کہ:
’’یہ دعا اس عاجز کے معمولات میں سے ہے اور درحقیقت اس عاجز کے مطابق حال ہے‘‘ ۔
نیزفرمایا کہ مناسب ہے کہ بروقت اس دعا کے فی الحقیقت دل کے کامل جوش سے اپنے گناہ کااقرار اور اپنے مولیٰ کے انعام و اکرام کا اعتراف کرے کیونکہ صرف زبان سے پڑھنا کچھ چیز نہیں جوش دلی چاہئے اور رقت اورگریہ بھی۔ دعا کا طریق حضور نے یہ بیان فرمایا۔ ’’رات کے آخری پہر میں اٹھو اور وضو کرو اور چند دوگانہ اخلاص سے بجا لاؤ اور دردمندی اور عاجزی سے یہ دعا کرو۔
’’ اے میرے محسن اے میرے خدا میں ایک تیراناکارہ بندہ پرمعصیت اور پرغفلت ہوں۔ تونے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اورانعام پر انعام کیا اورگناہ پرگناہ دیکھااوراحسان پراحسان کیا ۔ تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پرگناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اورمجھکو میرے اس گناہ سے نجات بخش کہ بغیر تیرے کوئی چارہ گر نہیں ۔ آمین ثم آمین‘‘۔ (مکتوبات احمدیہ جلد ۵ نمبر۲ صفحہ ۳)

خداکو اس کی توحید کا واسطہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں خدا کو اس کی توحید کا واسطہ دے کر دعا کرتے تھے کہ جو گروہ تیری عبادت اور تیری توحید کے قیام کے لئے وقف ہے اگرو ہ ہلاک ہو گیا تو تیری عبادت کون کرے گا۔ جنگ بدر کی دعا کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’جیسے آنحضرت ﷺ نے بدر میں دعا کی تھی کہ اے اللہ اگر تو نے آج ا س گروہ کو ہلاک کر دیا تو تیری کبھی عبادت نہ ہوگی ۔ یہی دعا آج ہمارے دل سے بھی نکلتی ہے‘‘ ۔(ملفوظات جلد ۴صفحہ ۲۷۸)
یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام بھی ہوئی ۔(ملاحظہ ہو تذکرہ صفحہ ۴۳۰)

نماز میں حصول حضور کی دعا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دوستوں کو نماز میں حصول حضور کی دعا سکھائی۔ آپ فرمایاکرتے تھے کہ نماز میں حصول حضور کا ذریعہ خود نماز ہے۔ اسے ذوق و شوق سے پڑھا جائے تو خدا کے فضل سے نماز میں لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ دعا ہمیں بکثرت پڑھنی چاہئے۔
’’اے خدا تعالیٰ قادروذوالجلال ! میں گناہ گار ہوں اور اس قدر گناہ کے زہر نے میرے دل اور رگ وریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں توُ اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میر ی تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تاکہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کرحضور نمازمیں میسر آوے‘‘۔ (فتاویٰ مسیح موعود صفحہ ۷ مطبوعہ ۱۹۳۵ء)

توفیق روزہ کے حصول کی دعا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں یہ دعا بھی سکھائی کہ اگر انسان روزوں سے محروم ہو رہا ہوتو وہ درد سے خداسے یہ دعا کرے کہ میں روزوں سے محروم رہا جاتاہوں اس لئے توُ مجھے طاقت دے ۔
فرمایا : ’’ایک دفعہ میرے دل میں خیال آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیاہے۔ تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے۔ تا کہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔ خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتاہے۔ توفدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتاہے۔
پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے کہ الٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتاہوں اورکیامعلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ ۔ یاان فوت شدہ روزوں کو اداکر سکوں یا نہ۔ اوراس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کوخدا تعالیٰ طاقت بخش دے گا‘‘۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۵۶۳)

حل مشکلات کا طریق

ایک شخص نے اپنی مشکلات کے لئے عرض کی۔ فرمایا ، استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور نمازوں میں یٰا حَیُّ یٰاقَیُّومُ اَسْتَغِیْثُ بِرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَم الرَّاحِمِیْنَ پڑھو۔ پھر اس نے عرض کی کہ استغفار کتنی مرتبہ پڑھوں؟ فرمایا:
’’کوئی تعداد نہیں ۔ کثرت سے پڑھو یہاں تک کہ ذوق پیدا ہو جائے اور استغفار کو منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ سمجھ کر پڑھو، خواہ اپنی زبان میں ہی ہو ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ ! مجھے گناہوں کے برے نتیجوں سے محفوظ رکھ اور آئندہ گناہوں سے بچا‘‘۔( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۲۵۰)

اسم اعظم

فرمایا:’’رات کو میر ی ایسی حالت تھی کہ اگر خدا کی وحی نہ ہوتی تو میرے اس خیال میں کوئی شک نہ تھا کہ میرا آخری وقت ہے ۔ اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی۔ تو کیا دیکھتاہوں کہ ایک جگہ پرمیں ہوں اور وہ کوچہ سربستہ سا معلوم ہوتا ہے کہ تین بھینسے آئے ہیں ۔ ایک ان میں سے میری طرف آیا تو میں نے اسے مار کر ہٹادیا ۔ پھردوسرا آیا تو اسے بھی ہٹادیا۔ پھر تیسراآیا اور وہ ایسا پرزور معلوم ہوتا تھا کہ میں نے خیال کیا کہ اب اس سے مفر نہیں ہے ۔ خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مجھے اندیشہ ہوا تو اس نے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا۔ میں نے اس وقت یہ غنیمت سمجھا کہ اس کے ساتھ رگڑ کر نکل جاؤں۔ میں وہاں سے بھاگا اور بھاگتے ہوئے خیال آیاکہ وہ بھی میرے پیچھے بھاگے گا ۔ مگر میں نے پھر کر نہ دیکھا ۔ اس وقت خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر مندرجہ ذیل دعا القا کی گئی:
’’رَبِّ کُلُّ شَئیٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِی وَارْحَمْنِی‘‘۔ یعنی اے میرے رب ! پس مجھے محفوظ رکھ اور میری مدد فرما اور مجھ پررحم فرما۔
’’اور میرے دل میں ڈالاگیا کہ یہ اسم اعظم ہے اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جواسے پڑھے گا ہر ایک آفت سے نجات ہوگی‘‘۔ (تذکرہ صفحہ ۴۴۲،۴۴۳)

نسیان کاعلاج

اسی دعا کے حوالہ سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اپنی کتاب سیرۃ المہدی میں تحریر کرتے ہیں کہ :
’’مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ مجھے نسیان کی بیماری بہت غلبہ کر گئی ہے۔ اس پرحضور نے فرمایا کہ رَبِّ کُلُّ شَئیٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِی وَارْحَمْنِی پڑھا کرو۔ الحمدللہ کہ اس سے مجھے بہت ہی فائدہ ہوا‘‘۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۹ روایت نمبر ۴۹۰)

علوم قرآن کے حصول کی دعا

حضر ت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دعا ایک بے نظیرحربہ ہے ۔ وہ ہر کام دعاہی سے لیتے تھے ، دعا ہی کے ذریعہ سے عربی زبان کے ہزاروں الفاظ کا علم آپ کو دیا گیا۔ اکثر امراض کا ازالہ دعاؤں سے ہوا۔ دشمن کے مقابلہ میں اسی حربہ سے فتح حاصل کی ۔ یہ زمانہ آپ کی جوانی کا تھا اور آپ اس زمانہ میں سیالکوٹ میں بسلسلہ ملازمت تھے۔ آپ کی عام عادت شروع سے یہ تھی کہ اپنا دروازہ بند کر کے خلوت میں رہتے تھے ۔ سیالکوٹ میں یہی طریق تھا۔ بعض لوگ اسی ٹوہ میں تھے کہ یہ دروازہ بند کر کے کیاکرتے ہیں ۔ آخر ایک دن انہوں نے موقعہ پا لیا اور آپ کی مخفی زندگی کا ان پرانکشاف ہوا اور وہ یہ تھا کہ آپ مصلیٰ پر بیٹھے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر دعا کر رہے تھے کہ :
’’ یا ا للہ تیرا کلام ہے مجھے تو توُ ہی سمجھائے گا تو میں سمجھ سکتاہوں‘‘۔(سیرت المہدی صفحہ۵۴۵ از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی )

آپ کی طرف سے خانہ کعبہ میں کی جانے والی دعا

یہ دعا آپ ؑ نے لکھ کر حضرت منشی احمد جان صاحبؓ مرحوم و مغفور کو دی تھی۔ جبکہ وہ حج کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ منشی احمد جان صاحب مرحوم،صاحبزادہ پیر افتخار احمد و پیر منظورمحمد صاحب کے والد ماجد تھے۔ اور خود صاحب سلسلہ تھے مگر آپ نے اس حق کو پایا اور اپنے مریدین اور اولاد کو قبول حق کی وصیت کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کی ساری اولاد الحمد للہ اس وقت قادیان میں مہاجرین کی صورت میں رہتی ہے اور حضرت منشی صاحب سے جناب خلیفۃ المسیح الاول کی نسبت صہری تھی ۔اس ارشاد عالی کی تعمیل میں حضرت منشی احمد جان صاحب نے بیت اللہ میں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں دعا کی اور بآواز بلند دعا کی اور جماعت آمین کہتی تھی۔ مقام عرفات پر بھی یہ دعا کی ۔
’’اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجزوناکارہ پرُخطا اور نالا ئق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے ۔اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین تو مجھ سے راضی ہو اور میرے خطیئات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفور اور رحیم ہے اور مجھ سے وہ کرا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق ا ور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار۔ اور اپنے ہی کامل محبّین میں اٹھا‘‘ (مکتوبات احمد یہ جلد ۵ صفحہ ۱۷،۱۸)

ایک خطرناک مرض سے شفا پانے کی دعا

۱۸۸۰ء کے قریب آ پ قولنج زحیری میں مبتلا ہوئے۔ اور سولہویں دن حالت سخت نازک ہو گئی۔ تین مرتبہ سورۃ یٰسین سنائی گئی۔ آپ ؑ فرماتے ہیں تمام عزیزوں کے د ل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہوگا ۔ تب ایساہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے :
’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ‘‘۔(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۸)

اولاد کے حق میں دعائیں

کر ان کو نیک قسمت دے ان کو دین و دولت

کر ان کی خود حفاظت ہو ان پہ تیری رحمت

دے رشد اور ہدایت اور عمر اور عزت

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

میری دعائیں ساری کریو قبول باری

میں جاؤں تیرے واری کر تو مدد ہماری

ہم تیرے در پہ آئے لے کر امید بھاری

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِی

اہل وقار ہوویں فخر دیار ہوویں

حق پر نثار ہوویں مولا کے یار ہوویں

بابرگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِی

مرے مولیٰ مری یہ اک دعا ہے

اولاد کے حق میں آپؑ نے یہ دعا بھی کی کہ :

مرے مولیٰ مری یہ اک دعا ہے

تری درگاہ میں عجز و بکا ہے

وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے

زباں چلتی نہیں شرم و حیاء ہے

مری اولاد جو تیری عطا ہے

ہر اک کو دیکھ لوں وہ پارسا ہے

تری قدرت کے آگے روک کیا ہے

وہ سب دے ان کو جو مجھ کو دیا ہے

( درثمین اردو)

گناہوں کی بخشش کی منظوم دعا

اے خداوند من گناہم بخش

سوئے درگاہ خویش راہم بخش

روشنی بخش در دل و جانم

پاک کن از گناہ پنہانم

دلستانی و دلربائی کن

بہ نگاہے گرہ کشائی کن

در دو عالم مرا عزیز توئی

وآنچہ میخواہم از تو نیز توئی

(درثمین فارسی)

ترجمہ: اے میرے اللہ میرے گناہ بخش اور اپنی درگاہ کی طرف میری رہنمائی فرما ۔ میرے دل و جان کو روشنی عطا کر اور مجھے اپنے مخفی گناہوں سے پاک کر دے۔ میر ے ساتھ محبت اور پیار کا سلوک فرما اور اپنی نگاہ کرم کے ساتھ سب عقدے کھول دے ۔دونوں جہاں میں تو ہی مجھے پیاراہے اور میں تجھ سے صرف تجھے ہی مانگتاہوں۔

بیماری سے شفا یابی کی دعا

ایک وبائی بیماری میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بتایاکہ ان ناموں کا ورد کیا جائے :’’ یا حفیظُ یا عزیزُ یا رفیق‘‘۔یعنی اے حفاظت کرنے والے، اے عزت والے اور غالب ، اے دوست اور ساتھی ! فرمایا ’’رفیق خدا تعالیٰ کا نیا نام ہے جو کہ ا س سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا‘‘۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۵۳ صفحہ ۲۸ مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۳ء)

دائمی برکت کے حصول کی دعا

قریباً ۱۸۸۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہامی طور پر ایک طرف برکت کے حصول کی یہ دعا سکھائی اور پھرکمال لطف و احسان سے اس کے منظور ہوجانے کی خبر بھی عطافرمائی:
’’رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُبَاَرکًا حَیْثُ مَا کُنْتُ
کہ اے میرے رب مجھے ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ میں بودوباش کروں برکت میرے ساتھ رہے‘‘ ۔ (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۱)
ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ارشاد فرمودہ یہ دعائیں کثرت سے کرنی چاہئیں خاص طور پر وہ دعائیں جو الہاماً آ پکو سکھائی گئیں اور کثرت سے ان کی قبولیت کے وعدے دئے گئے۔

(الفضل انٹرنیشنل۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء تا۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)

سیرت حضرت مسیح موعودء ۔ اِکرَام ضَیْف (مہمان نوازی)

سیرت حضرت مسیح موعودء ۔ اِکرَام ضَیْف (مہمان نوازی)

از قلم: حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ

 اکرام ضیف یعنی مہمان نوازی ان اخلاق فاضلہ میں سے ہے جو سوسائٹی اور تمدن کے لئے بمنزلہ روح کے ہیں ۔مہمان نوازی سوسائٹی میں احترام اور امن کا جذبہ پیدا کرتی ہے ،اس سے عناد اور حسد دور ہوتاہے اور ایک دوسرے پر اعتماد بڑھتاہے۔
حضرت نبی اکرم ﷺ نے اکرام ضیف کے لئے خاص طور پر ہدایت فرمائی ہے بلکہ اس کو ایمان کے نتائج اور ثمرات میں سے قرار دیا ہے چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا گیاہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مَن کاَنَ یُومنُ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الآخِر فَلْیُکَرِمْ ضَیْفَہ یعنی جو شخص خدا تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتاہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔
ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک یہ اخلاقی قوت اس میں نشوونما نہیں پاتی۔ اکرام ضیف میں بہت سی باتیں داخل ہیں یا یہ کہو کہ اس کے مختلف اجزاء ہیں ۔ اس کے حقوق کی رعایت کرنا ، مرحبا کہنا ،نرمی کرنا، اظہار بشاشت کرنا ، حسب طاقت کھانا وغیرہ کھلانا اور اس کے آرام میں ایثار سے کام لینا اور جب وہ روانہ ہو تو اس کی مشایعت کرنا۔
اکرام ضیف انبیاء علیہم السلام کی سنت میں داخل ہے اور حقیقت میں یہ خلق کامل طور پر ان میں ہی پایا جاتاہے۔ اورپھر اس کا کامل ترین نمونہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ اور آپ کے بروز حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں موجود ہے ۔ خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ان کے پاس بغرض حصول ہدایت آتی ہے اوروہ حق پہنچانے کے لئے اپنے دل میں ایک جوش اور تڑپ رکھتے ہیں اور پھر سنت اللہ کے موافق ان کی مخالفت بھی شدید ہوتی ہے مگر ہر حالت میں وہ اپنے مہمانوں کے آرام اور خاطر مدارات میں کبھی فرق نہیں کرتے اور ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے مہمانوں کو آرام ملے ۔

حضرت مسیح موعود ؑ کی خصوصیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو خصوصیت سے اس کی طرف توجہ تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت آپ کو وحی الٰہی کے ذریعہ سے آنے والی مخلوق کی خبر دی تھی اور فرمایا تھا کہ تیرے پاس دوردراز سے لوگ آئیں گے اور ایساہی فرمایا لاَ تُصَعّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلاتَسْئَمْ مِنَ النٖاسِ ۔غرض یہاں تو پہلے ہی مہمانوں کے بکثرت آنے کی خبر دی گئی تھی اور پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب کو وسعت اوردل میں حوصلہ پیدا کر رکھاتھا۔ اور مہمان نوازی کے لئے آپ گویا بنائے گئے تھے۔ اب میں آپ کی زندگی کے واقعات میں انشاء اللہ العزیز دکھاؤں گا کہ آ پ نے کس طرح پر مہمان نوازی کا حق ادا کیا اور ایک اسوہ حسنہ اکرام ضیف کا چھوڑا۔

اکرام ضیف کی روح آپ ؑ میں فطرتاً آئی تھی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جس خاندان میں پیدا کیا وہ اپنی عزت و وقار کے لحاظ سے ہی ممتاز نہ تھا بلکہ اپنی مہمان نوازی اور جود و سخا کے لئے بھی مشار الیہ تھا۔ اس خاندان کا دستر خوان ہمیشہ وسیع تھا۔ جس عظیم خاتون کو حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام جیسا بیٹا جننے کا فخر حاصل ہے و ہ خاص طور پر مہمان نوازی کے لئے مشہور تھیں۔ قادیان میں پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ ان کی اس صفت کا اظہار کیاکرتے تھے اور میں نے بلا واسطہ ان سے سنا جنہوں نے اس زمانہ ہی کو نہیں پایا بلکہ اس مائدہ سے حصہ لیا۔ چنانچہ حیات احمد جلداول کے صفحہ ۱۷۴،۱۷۵ پر حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ مرحومہ کا ذکر کر چکا ہوں اور ان کی اس اخلاقی خوبی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے۔
’’مہمان نوازی کے لئے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینہ میں وسعت تھی ۔ وہ لوگ جنہوں نے ان کی فیاضیاں اور مہمان نوازیاں دیکھی ہیں ان میں سے بعض اس وقت تک زندہ ہیں ،وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اگر باہر سے یہ اطلاع ملتی کہ چار آدمیوں کے لئے کھانا مطلوب ہے تو اندر سے جب کھانا جاتا تو آٹھ آدمیوں سے بھی زائد کے لئے بھیجا جاتا اور مہمانوں کے آنے سے انہیں خوشی ہوتی‘‘۔(حیات احمد جلد اول صفحہ ۱۷۴،۱۷۵)
گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیر مادر کے ساتھ مہمان نوازی کو پیاتھا ۔ جب سے آ پ نے آنکھ کھولی اس خوبی کو سیکھا ۔ اور پھر جب خد ا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے ان کو مسح کیا اور معطر فرمایا تو حالت ہی بدل گئی اور وہ قوتیں جو آپ میں بطور بیج کے تھیں ایک بہت بڑے درخت کی صورت میں نمودار ہو ئیں۔
آ پ پہلے سے خدا تعالیٰ کی وحی پا کر ان مہمانوں کے استقبال اور اکرام کے لئے تیار تھے جن کے آنے کا خدا نے وعدہ فرمایا تھا۔

قبل بعثت اور بعد بعثت کی مہمان نوازی

آپ کی مہمان نوازی پر کبھی کسی وقت نے کوئی خاص اثر نہیں پیداکیا ۔ جب آ پ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور نہ ہوئے تھے اس وقت بھی بعض لوگ آپ کے پاس آتے تھے ۔ ان کی مہمان نوازی میں بھی آپ کا وہی طریق تھا جو ماموریت کے بعد تھا ۔ پہلے جب بہت ہی کم اور کبھی کبھار کوئی شخص آتا تھا اس وقت کوئی خاص التفات نہ تھی کہ خرچ کم ہے بعد میں جب سینکڑوں ہزاروں آنے لگے تو کوئی غیر التفاتی نہیں ہوئی کہ بہت آنے لگے ہیں۔
غرض ہر زمانہ میں آ پ کی شان مہمان نوازی یکساں پائی جاتی ہے، یعنی کیفیت وہی رہی ۔ مہمانوں کی کثرت نے اس میں ترقی کا رنگ پیدا کیا ، کو ئی کمی نہیں ہوئی۔ اب میں واقعات کی روشنی میں آپ کے اس خلق عظیم کی تصویر دکھاتاہوں۔

ایک عجیب واقعہ

حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحبؓ جب سے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں آنے لگے ہیں ان کو ایک خاص مذاق اور شوق رہا ہے کہ وہ اکثر باتیں حضرت کی نوٹ کر لیا کرتے اور دوستوں کو سنایا کرتے۔
انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اخلاق کا ذکر برادر منشی محمد عبداللہ بوتالوی سے کیا اور منشی محمد عبداللہ صاحب نے مجھے لکھ کر بھیجا جو میں نے ۲۱؍اپریل ۱۹۱۸ء کے الحکم میں سیر ت المہدی کا ایک ورق کے عنوان سے چھاپ دیا ۔ اس میں اکرا م ضیف کے عنوان کے نیچے یہ واقعہ درج ہے کہ :
’’ایک مرتبہ ایک مہمان نے آ کر کہا کہ میرے پاس بسترا نہیں ہے ۔حضرت صاحب نے حافظ حامد علی صاحب کو (جو ۱۹۱۸ء میں مختصر سی دوکان قادیان میں کرتے تھے اور حضرت کے پرانے مخلص خادم تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اللھم ارحمہ) کہا کہ اس کو لحاف دے دو۔ حافظ حامد علی صاحب نے عرض کیا کہ یہ شخص لحاف لے جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ اس پر حضرت نے فرمایا:
’’اگر لحاف لے جائے گا تو اس کا گناہ ہوگا اور اگر بغیر لحاف کے مر گیا تو ہمارا گناہ ہوگا‘‘۔
اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ وہ مہمان بظاہر کوئی ایساآدمی نہ معلوم ہوتاتھا جو کسی دینی غرض کے لئے آیاہو بلکہ شکل و صورت سے مشتبہ پایا جاتا تھا مگر آپ نے اس کی مہمان نوازی میں کوئی فرق نہیں کیا ۔ اور اس کی آسائش و آرام کو اپنے آرام پر مقدم کیا۔

مہمان نوازی کے لئے ایثار کلی کی تعلیم ایک کہانی کے رنگ میں

وہی صاحب حضرت مفتی صاحب کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مہمان کثر ت سے آ گئے ۔ بیوی صاحبہ (حضرت ام المومنین) گھبرائیں ۔(اس زمانہ میں مہمانوں کا کھانا سب اندر تیار ہوتاتھا اور تمام انتظام و انصرام اندرہوتا تھا اس لئے گھبرا جانا معمولی بات تھی۔عرفانی) مجھے (مفتی محمد صادق کو ) جو مکان حضرت صاحب نے دے رکھا تھا وہ بالکل نزدیک تھا۔(یہ وہ مکان ہے جہاں آج کل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رہتے ہیں ۔ اس وقت یہ مکان نہایت شکستہ حالت میں تھا۔ بعد میں خاکسا ر عرفانی نے اسے خرید لیا اور خدا نے اسے توفیق دی کہ اس کا 1/3 حصہ حضرت اقدس کے نام ہبہ کر دے۔ خدا تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔آمین۔ پھروہ سارا مکان حضرت کے قبضہ میں آ گیا۔ عرفانی)۔ میں سنتا رہا ۔ حضرت صاحب نے بیوی صاحبہ کو ایک کہانی سنانی شروع کی۔ فرمایا ایک شخص کو جنگل میں رات آ گئی۔ اس نے ایک درخت کے نیچے بسیرا کر دیا۔ اس درخت کے اوپر ایک کبوتر اور کبوتری کا گھونسلہ بنا ہوا تھا۔ وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہمارے ہاں مہمان آیاہے ۔ اس کی کیاخاطر کریں۔ نر نے کہا کہ سردی ہے بسترا اس کے پاس نہیں ہم اپنا آشیانہ گرادیں اس سے آگ جلا کر یہ رات گزار لے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ انہوں نے سوچا اب اس کے واسطے کھانا نہیں ہے ہم دونوں اپنے آپ کو نیچے گرا دیں تاکہ وہ ہمیں بھی کھالے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس لطیف پیرایہ میں اکرام ضیف کی تاکید فرمائی حضرت ام المومنین کو اللہ تعالیٰ نے خود ایک وسیع حوصلہ دیا ہے اور وہ مہمانوں کی خدمت و دلداری میں جو حصہ لیتی ہیں اس سے وہ لوگ خوب واقف ہیں جن کی مستورات سالانہ جلسہ پر آتی ہیں ۔شروع شروع میں قادیان میں ضروری اشیاء بھی بڑی دقّت سے ملا کرتی تھیں تو مہمانوں کی کثرت بعض اوقات انتظامی دقتیں پیدا کر دیا کرتی تھی۔ یہ گھبراہٹ بھی انہیں دقتوں کے رنگ میں تھی۔ یہ واقعہ حضرت صاحب کی مہمان نوازی کا ہی بہترین سبق نہیں بلکہ مہمانوں کے لئے وہ اعلیٰ درجہ کی محبت و ایثار جو آپ میں تھا اور جو آپ اپنے گھر والوں کے دل میں پیدا کرنا چاہتے تھے اس کی بھی نظیر ہے پھر آپ کے حسنِ معاشرت پر بھی معاً روشنی ڈالتاہے کہ کس رفق اور اخلاق کے ساتھ ایسے موقعہ پر کہ انسان گھبرا جاتا ہے اصل مقصد کو زیر نظر رکھتے ہیں۔(عرفانی)۔

ڈاکٹر عبداللہ صاحب نومسلم کا واقعہ

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نیاز حاصل کرنے کے لئے لاہور سے دو دن کی رخصت لے کر آیا۔ (ڈاکٹر صاحب انجمن حمایت اسلام کے شفا خانہ میں کام کرتے تھے ۔ایڈیٹر) رات کی گاڑی پر بٹالہ اترا اس لئے رات وہیں رہا۔ اور صبح سویرے اٹھ کر قادیان کو روانہ ہو گیا۔ اور ابھی سورج تھوڑا ہی نکلاتھا کہ یہاں پہنچ گیا۔ میں پرانے بازار کی طرف سے آ رہا تھا ۔ جب میں مسجد اقصیٰ کے قریب جو بڑ ی حویلی (ڈپٹی شنکر داس کی حویلی) ہے وہاں پہنچا تو میں نے اس جگہ (جہاں اب حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا مکان ہے۔ اور اس وقت یہ جگہ سپید ہی تھی)۔حضرت مسیح موعود ؑ کو ایک مزدور کے پاس جو اینٹیں اٹھا رہاتھا کھڑے ہوئے دیکھا ۔ حضرت صاحب نے بھی مجھے دیکھ لیا ۔ آ پ مجھے دیکھتے ہی مزدورکے پاس سے آ کر راستہ پر کھڑے ہوگئے۔ میں نے قریب پہنچ کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔ آپ نے وعلیکم السلام فرمایا۔ اور فرمایا کہ اس وقت کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں رات بٹالہ رہا ہوں اور اب حضور کی خدمت میں وہاں سے سویرے چل کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پیدل آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور۔ افسوس کے لہجے میں فرمایاکہ تمہیں بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔ میں نے عرض کیا حضور کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ آ پ نے فرمایا اچھا بتاؤ چائے پیو گے یا لسّی؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ بھی نہیں پیوں گا۔ آ پ نے فرمایا تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ، ہمارے گھر گائے ہے جو کہ تھوڑا سا دودھ دیتی ہے ۔ گھروالے چونکہ دہلی گئے ہوئے ہیں اس لئے اس وقت لسیّ بھی موجودہے اور چائے بھی ، جو چاہو پی لو۔ میں نے کہا حضور لسّی پیوں گا ۔ آپ نے فرمایا اچھا چلو مسجد مبارک میں بیٹھو۔ میں مسجد میں آ کر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد بیت الفکر کا دروازہ کھلا ۔ میں کیا دیکھتاہوں کہ حضور ایک کوری ہانڈی معہ کوری چپنی کے جس میں لسیّ تھی خود اٹھائے ہوئے درواز ہ سے نکلے، چپنی پر نمک تھا اور اس کے اوپر ایک گلاس رکھا ہوا تھا۔ حضورنے وہ ہانڈی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور خود اپنے دست مبارک سے گلاس میں لسّی ڈالنے لگے میں نے خود گلاس پکڑ لیا ۔ اتنے میں چند اور دوست بھی آ گئے میں نے انہیں بھی لسّی پلائی اور خود بھی پی۔ پھر حضور خود وہ ہانڈی اور گلاس لے کر اندر تشریف لے گئے ۔ حضور کی اس شفقت اور نوازش کو دیکھ کر میرے ایمان کو بہت ترقی ہوئی اور یہ حضور کے اخلاق کریمانہ کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ صاحب اِس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور یہ خود ان کا اپنا بیان ہے ۔ سادگی کے ساتھ اس واقعہ پر غور کرو کہ حضرت مسیح موعود کے کیریکٹر (سیرت) کے بہت سے پہلوؤں پر اس سے روشنی پڑتی ہے۔ آپ کی سادگی اور بے تکلفی کی ایک شان اس سے نمایاں ہے۔ اکرام ضیف کا پہلو واضح ہے ۔ اپنے احباب پر کسی بھی قسم کی برتری حکومت آپ کے قلب میں پائی نہیں جاتی۔ اور سب سے بڑھ کر جو پہلو اس مختصر سے واقعہ میں پایا جاتاہے وہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے دوستوں جو آپ کے خادم کہلانے میں اپنی عزت و فخر یقین کرتے اور آپ کی کفش برداری اپنی سعادت سمجھتے ہیں کی تکلیف کا احساس از بس ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے پیدل چل کر آنے پر فوراً آپ کے قلب مطہر کواس تکلیف کا احساس ہوا جو عام طور پر ایک ایسے شخص کو جو پیدل چلنے کا عادی نہ ہو دس گیارہ میل کا سفر کرنے سے ہو سکتی ہے۔ غرض یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتاہے۔

مولوی علی احمد بھاگلپوری کا واقعہ

مولوی احمد علی صاحب ایم اے بھاگلپوری بیان کرتے ہیں کہ میں جب پہلی مرتبہ دارالامان میں فروری ۱۹۰۸ء میں آیا ۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ التحیۃ والسلا م کا وجود باجود ہم میں موجود تھا۔ یوں تو حضرت اقدس کی مہمان نوازی اور اکرام ضیف کے قصے زبان زد خاص و عام ہیں لیکن میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرتاہوں جس سے معلوم ہوگا کہ علاوہ خلیل اللہ جیسی مہمان نوازی کے حضور کو اپنے ان خدام کے وابستگان کا جن کو اس دارفانی سے رحلت کئے ایک عرصہ گزر گیا تھا کتنا خیال تھا اور ان کی دلجوئی حضور فرماتے تھے ۔ میں جس دن یہاں پہنچا تو ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ اسلام متعینہ نائجیریا نے حضور کو ایک رقعہ کے ذریعہ مجھ جیسے ہیچمریزآدمی کے آنے کی اطلاع کی اور اس میں اس تعلق کو بھی بیان کیا جو مجھے حضرت مولانا حسن علی صاحب واعظ اسلام رضی اللہ عنہ سے تھا جن کی وفات فروری ۱۸۹۶ء میں واقع ہوئی تھی۔ میں نے بچشم خود دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا کہ حضور نے مہمان خانہ کے مہتمموں کو بلا کر سخت تاکید میر ی راحت رسانی کی فرمائی۔ وہ بیچارے کچھ ایسے پریشان سے ہو گئے۔ میں نے انہیں یہ کہہ کر کہ میں یہاں آرام اٹھانے اور مہمان داری کرانے کے لئے نہیں آیا ہوں میں ا س مقصد کے حصول کی کوشش میں آیا ہوں جس کولے کر حضور مبعوث ہوئے ہیں ان کو مطمئن کیا۔

حضرت مولوی حسن علی صاحبؓ کا واقعہ اور اعتراف مہمان نوازی

حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری پہلے اسلامی مشنری تھے جنہوں نے ۱۸۸۶ء میں ایک سکو ل کی ہیڈماسٹری سے استعفیٰ دے کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کااہم فریضہ اپنے ذمہ لیا۔ وہ ۱۸۸۷ء میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ پر تشریف لائے اور امرتسر میں بابو محکم الدین صاحب مختار عدالت اور دوسرے لوگوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنا ۔ اس وقت آپ نے کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اور نہ ابھی بیعت لیتے تھے البتہ براہین احمدیہ اور دوسری کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔ اکثر نیک دل اور سلیم الفطرت لوگ آپ سے فیض پانے کے لئے قادیان بھی آتے رہتے تھے ۔ مولوی حسن علی صاحب مرحوم نے اپنے واقعہ کا خود اپنی قلم سے ذکر کیا جو ان کی کتاب تائید حق میں چھپاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’جب میں امرتسر گیا تو ایک بزرگ کا نام سنا۔ جو مرزا غلا م احمد کہلاتے ہیں ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان نامی میں رہتے ہیں اور عیسائیوں ،برہمو اور آریہ سماج والوں سے خوب مقابلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک کتاب براہین احمدیہ نام بنائی ہے جس کا بڑاشہرہ ہے ۔ ان کا بہت بڑا دعویٰ یہ ہے کہ ان کو الہام ہوتاہے۔ مجھ کویہ دعویٰ معلوم کر کے تعجب نہ ہوا۔ گو میں ابھی تک اس الہام سے محروم ہوں جو نبی کے بعد محدث کو ہوتا رہاہے لیکن میں اس بات کو بہت ہی عجیب نہیں سمجھتا تھا۔ مجھ کو معلوم تھا کہ علاوہ نبی کے بہت سے بندگان خدا ایسے گزرے ہیں جو شرف مکالمہ الٰہیہ سے ممتاز ہوا کئے ہیں۔ غرض میرے دل میں جنا ب مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے کی خواہش ہوئی۔ امرتسر کے دو ایک دوست میرے ساتھ چلنے کو مستعد ہوئے ۔ ریل پر سوار ہو کر بٹالہ پہنچا۔ ایک دن بٹالہ میں رہا پھر بٹالہ سے یکہ کی سواری ملتی ہے اس پر سوار ہو کر قادیان پہنچا ۔ مرزا صاحب مجھ سے بڑے تپاک اور محبت سے ملے۔ جناب مرزا صاحب کے مکان پر میرا وعظ ہوا ۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کے لئے چندہ بھی ہوا۔ میرے ساتھ جو صاحب تشریف لے گئے وہ مرزا صاحب کے دعویٰ الہام کی وجہ سے سخت مخالف تھے اور مرزا صاحب کو فریبی اور مکار سمجھتے تھے ۔ لیکن مرزا صاحب سے مل کر ان کے سارے خیالات بدل گئے اور میرے سامنے انہوں نے جناب مرزا صاحب سے اپنی سابق کی بدگمانی کے لئے معذرت کی، مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا ۔ ایک چھوٹی سی بات لکھتاہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ مجھ کو پان کھانے کی بری عادت تھی ۔ امرتسر میں تو مجھے پان ملا۔ لیکن بٹالہ میں مجھ کو کہیں پان نہ ملا ناچار الائچی وغیرہ کھا کر صبر کیا۔ میرے امرتسر کے دوست نے کما ل کیاکہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بری عادت کا تذکرہ کر دیا ۔ جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی روانہ کیا دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان موجود پایا۔ سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا‘‘۔(تائید حق صفحہ ۵۵،۵۶)
یہ واقعہ اس شخص نے بیان کیا ہے جو اسلامی جوش تبلیغ اور اپنی قربانی کے لحاظ سے بے غرض اور صاف گو تھا اور واقعہ اس زمانہ کا ہے جب کہ آپ کا کوئی دعویٰ مسیحیت یا مہدویت کا نہ تھا اور نہ آپ بیعت لیتے تھے۔ ایک مہمان کی ضرورت سے واقف ہو کر اس قدر تردد اور کوشش کہ سولہ کوس کے فاصلہ سے پان منگوا یا گیا۔
مہمان نوازی کے اس وصف نے اس شخص کو جو ہندوستان کے تمام حصوں میں پھرچکا تھا اور بڑے بڑے آدمیوں کے ہاں مہمان رہ چکا تھا ، حیران کر دیا۔ اس کی سعادت اور خوش قسمتی تھی کہ اسے سات سال بعد ۱۸۹۴ء میں پھر قادیان لائی اور اس کو حضرت اقدس کی غلامی کی عزت بخشی جس پر وہ ساری عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ غرض یہ واقعہ بھی اپنی نوعیت میں ایک عجیب روشنی آپ کے وصف مہمان نوازی پر ڈالتاہے۔

حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ کا ایک واقعہ

حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ اپنی ذات کے متعلق تحریر فرمایا کہ :
’’ ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے اور ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے حضور مرحوم و مغفور کی خدمت میں قادیان میں کچھ عرصہ قیام کے بعد رخصت حاصل کرنے کے واسطے عرض کیا ۔ حضور اندر تشریف رکھتے تھے اور چونکہ حضور کی رافت و رحمت بے پایاں نے خادموں کو اندر پیغام بھجوانے کاموقعہ دے رکھا تھا اس واسطے اس عاجز نے اجازت طلبی کے واسطے پیغام بھجوایا۔ حضور نے فرمایا کہ :
’وہ ٹھہریں ہم ابھی باہر آتے ہیں‘
یہ سن کر میں بیرونی میدان میں گول کمرہ کے ساتھ کی مشرقی گلی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اور باقی احباب بھی یہ سن کر کہ حضور باہر تشریف لاتے ہیں پروانوں کی طرح ادھر ادھر سے اس شمع انوار الٰہی پر جمع ہونے کے لئے آ گئے۔ یہاں تک کہ سیدنا مولانا نورالدین صاحب بھی تشریف لے آئے اور احباب کی جماعت اکٹھی ہو گئی۔ ہم سب کچھ دیر انتظار میں خم بر سرراہ رہے کہ حضور اندر سے برآمد ہوئے ۔ خلاف معمول کیا دیکھتا ہوں کہ حضور کے ہاتھ میں دودھ کا بھرا ہوا لوٹا ہے اور گلاس شاید حضرت میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اور مصری رومال میں ہے۔ حضور گول کمرہ کی مشرقی گلی سے برآمد ہوتے ہی فرماتے ہیں کہ شاہ صاحب کہاں ہیں؟میں سامنے حاضر تھا فی الفور آگے بڑھا اور عرض کیا حضور حاضر ہوں۔ حضور کھڑے ہو گئے اور مجھ کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ میں اسی وقت زمین پر بیٹھ گیا۔ گلا س میں دودھ ڈالا گیا اور مصری ملائی گئی۔ مجھے اس وقت یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت محمود نے میرے ہاتھ میں گلاس دودھ بھرا دیا یا خود حضور نے (میں اس واقعہ کا دیکھنے والا ہوں خود حضرت نے گلاس اپنے ہاتھ سے دیا اور میری آنکھ اب تک اس موثر نظارے کو دیکھتی ہے گویا وہ بڑا گلاس حضرت کے ہاتھ سے میر صاحب کو دیا جا رہا ہے۔ ایڈیٹر) مگر یہ ضرور ہے کہ حضرت محمود اس کرم فرمائی میں شریک تھے۔ (صورت یہ تھی کہ حضرت نے مصری گھول کر لوٹے میں ڈالی اور اس کو ہلایا اور گلاس میں دودھ ڈال کر اچھی طرح سے ہلایا۔ پھر حضرت گلاس میں ڈالتے اور گلاس حضرت محمود کے ہاتھ میں ہوتا۔ پھر حضرت گلاس لے کر میر صاحب کو دیتے ۔ بعض دوستوں نے خود یہ کام کرنا چاہا مگر حضرت نے فرمایا نہیں نہیں کچھ حرج نہیں۔ ایڈیٹر)۔ میں نے جب وہ گلاس پی لیا تو پھر دوسرا گلاس پر کر کے عنایت فرمایا گیا میں نے وہ بھی پی لیا ۔ گلاس بڑاتھا میرا پیٹ بھر گیا۔ پھر اسی طر ح تیسرا گلاس بھراگیا میں نے بہت شرمگین ہو کر عرض کیا کہ حضور اب تو پیٹ بھر گیاہے ۔ فرمایا اور پی لو ۔ میں نے وہ تیسرا گلاس بھی پی لیا۔ پھر حضور نے اپنی جیب خاص سے چھوٹی چھوٹی بسکٹیں نکالیں اور فرمایا کہ جیب میں ڈا ل لو راستہ میں اگر بھوک لگی تو یہ کھا نا ۔ میں نے وہ جیب میں ڈال لیں ۔ حضرت محمود لوٹا اور گلاس لے کر اندر تشریف لے گئے۔ اور حضور نے فرمایا کہ چلو آ پ کو چھوڑ آئیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور اب میں سوار ہو جاتاہوں اور چلا جاؤں گا حضور تکلیف نہ فرمائیں مگر اللہ رے کرم و رحم کہ حضور مجھ کو ساتھ لے کر روانہ ہو پڑے۔
باقی احباب جو موجود تھے ساتھ ہو لئے اور یہ پاک مجمع اسی طرح اپنے آقا مسیح موعود کی محبت میں اس عاجز کے ہمراہ روانہ ہوا۔ حضور حسب عادت مختلف تقاریر فرماتے ہوئے آگے آگے چلتے رہے یہاں تک کہ بہت دور نکل گئے ۔ تقریر فرماتے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت سیدناو مولانا مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نے قریب آ کر مجھے کان میں فرمایا کہ:آگے ہو کر عرض کرو اور رخصت لو جب تک تم اجازت نہ مانگو گے حضور آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ میں حسب ارشاد والا آگے بڑھا اور عرض کیا کہ حضور اب سوار ہوتاہوں حضور تشریف لے جائیں۔ اللہ اللہ ! کس لطف سے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ :’’اچھا ہمارے سامنے سوار ہو جاؤ‘‘۔ میں یکہ میں بیٹھ گیااور سلام عرض کیا تو پھر حضور واپس ہوئے۔
مجھے یاد ہے کہ محمد شادی خان صاحب بھی اس وقت بٹالہ جانے کے واسطے میرے ساتھ سوار ہوئے تھے ۔ انہوں نے حضور کی اس کریمانہ عنایت خاص پر تعجب کیا اور دیر تک راستہ میں مجھ سے تذکرہ کرتے رہے اور ہم خوش ہو ہوکر آپ کے اخلاق کریمانہ کے ذکر سے مسرور ہوتے تھے ۔
’’اے خدا کے پیار ے اور محمد ؐکے دلارے مسیح موعود تجھ پر ہزاروں سلام ہوں کہ تو اپنے خادموں کے ساتھ کیسامہربان تھا۔ تیری محبت ہمارے ایمانوں کے لئے اکسیر تھی ۔ جس سے ہمارے مس خام کو کندن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تیرے اخلاق کریمانہ اب بھی یاد آ آ کر خدا تعالیٰ کے حضور میں ہمارے قرب کا موجب ہو رہے ہیں‘‘۔
حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ خودراقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے بہت سے واقعات کا عینی شاہد اللہ کے فضل سے ہے۔ اس واقعہ کو پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور سیرت کے میں صر ف اس اسوہ ہی کو پیش نہیں کر رہا ہوں جو مہمان نوازی، اکرام ضیف اور مشایعت مہمان کے پہلوؤں پر حاوی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور کو اپنا کام آپ کرنے میں قطعاً تامل نہ ہوتا تھا اور معاً یہ واقعہ آپ کی صداقت کی بھی ایک زبردست دلیل ہے ۔ اگر تکلف اور تصنع کو آپ کے اخلاق کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا تو آپ اپنے مخلص اور جانثار مریدوں کے درمیان اس طرح پرکھڑے ہو کر اپنے ایک خادم کو دودھ نہ پلاتے جیسے ایک خادم اپنے آقا کو پلاتاہے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ محبت اور ہمدردی مخلوق کے اس مقام پر کھڑا تھا جہاں انسان باپ سے بھی زیادہ مہربان اور شفیق ہوتا ہے ۔ وہ اپنے خادموں کو غلام نہیں بلکہ اپنے معزز اور شریف بھائی سمجھتا تھا۔ ان کے اکرام و احترام سے وہ سبق دیتا تھا کہ ہم کوکس طرح پر اپنے بھائیوں سے سلوک کرنا چاہئے اور کس طرح ایک دوسرے سے احترام کے اصول پر کاربند ہو کر اس حقیقی عزت و احترام کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے جو مومنین کا خاصہ ہے۔
کیا دنیا کے پیروں اور مرشدوں میں اس کی نظیر پائی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہاں یہ نظیر اگر ملے گی تو اس جماعت میں جو انبیاء علیہم السلام کی جماعت ہے اور یاان لوگوں میں ملے گی جنہوں نے منہاج نبوت پر خدا تعالیٰ کی تجلیوں اور فیوض کوحاصل کیاہے۔

منشی عبدالحق نو مسلم کاواقعہ

منشی عبدالحق بی اے جو مولوی چراغ الدین صاحب قصوری مدرس مشن سکول لاہور کے فرزند رشید ہیں اور ایک زمانہ میں عیسائی ہو گئے تھے اور لاہورمشن کالج میں بی اے کلاس میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے الحکم اور حضرت اقدس کی بعض تحریروں کو پڑھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا تھاکہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کوعملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت خلیفۃ اللہ نے ان کو لکھ بھیجا تھا کہ وہ کم از کم دوماہ کے لئے قادیان آ جائیں ۔ چنانچہ وہ ۲۳؍دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد دوپہر قادیان پہنچے۔ حضرت اقدس کی طبیعت ان ایام میں ناساز تھی مگر باوجود ناسازی مزاج کے آپ دوسرے مہمانوں اور اس حق جوُمہمان کے لئے باہر تشریف لے آئے اور سیر کو تشریف لے گئے۔ اور تمام راستہ میں آتی اور جاتی دفعہ برابر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس تبلیغ کا نتیجہ تو آخر میں یہ ہواکہ یہ نوجوان مسلمان ہوگیا او ر برہان الحق ایک رسالہ بھی تالیف کیا اور بھی چھوٹے چھوٹے رسالے لکھے ۔ مگر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کر رہاہوں وہ یہ ہے کہ باوجود ناسازی طبیعت آپ مہمان نوازی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کے باعث باہر تشریف لائے اور یہ دیکھ کر کہ وقت کو غنیمت سمجھناچاہئے آپ نے پوری تبلیغ فرمائی اور آخر میں منشی عبدالحق صاحب کو فرمایا :
’’آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان وہی آرام پا سکتا ہے جو بے تکلف ہو پس آپ کو چاہئے کہ جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں‘‘۔
پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ:
’’دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ا ن کوکسی قسم کی تکلیف نہ ہو ‘‘۔(اخبار الحکم ،۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۳،۴)
منشی عبدالحق صاحب پر تو جو اثر حضرت کی تبلیغ کا ہوا اس کو آپ کے اس خُلقِ مہمان نوازی نے اور بھی قوی کر دیا اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے منشی صاحب مسلمان ہو گئے ۔ اور اب تک مسلمان ہیں۔ انہوں نے میاں سراج الدین صاحب بی اے کابھی ذکر کیا ۔( یہ وہی سراج الدین ہے جس کے نام پر سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب شائع ہوا ہے)۔ اس نے حضرت اقدس کی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی خوبی کو خدا جانے کس آنکھ سے دیکھا ۔ جب وہ یہاں سے گیا ہے تو حضرت اقدس اس کو چھوڑنے کے لئے تین میل تک چلے گئے تھے ۔اس کا ذکر اس نے منشی عبدالحق سے ان الفاظ میں کیا:
’’جب میں آیا تھا تو وہ تین میل تک مجھے چھوڑنے آئے تھے ‘‘۔
میں اس موقع پر سلیم الفطرت قلوب سے اپیل کروں گا کہ وہ غور کریں ۔ حضرت مسیح موعود ایک شخص کو (جو عیسائی ہو گیا تھا اور اس کے رشتہ دار وغیرہ اسے قادیان اس غرض سے لائے تھے کہ اسے کچھ فائدہ پہنچے۔ چونکہ وہ دراصل اپنے بعض مقاصد کو لے کر عیسائی ہوگیاتھا اس لئے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکا) چھوڑنے جا رہے ہیں۔ کیا یہ کسی ذاتی غرض و مقصد کا نتیجہ ہے یا محض شفقت اور ہمدردی لئے جارہی تھی۔ آپ کی فطرت میں یہ جوش تھا کہ کسی نہ کسی طرح یہ روح بچ جاوے اور اس وقت اور موقع کو غنیمت سمجھ کر آ پ نے اکرام ضیف بھی کیا اور تبلیغ بھی کی مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔
الغرض منشی عبدالحق صاحب جب تک یہاں رہے حضرت کی مہمان نوازی کے معترف رہے اور اس کا ان کے قلب پر خاص اثر تھا۔ میں نے ان ایام میں دیکھا کہ حضرت قریباً روزانہ منشی عبدالحق کو سیر سے واپس لوٹتے وقت یہ فرماتے کہ :
’’آپ مہمان ہیں ، آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلف کہیں کیونکہ میں تو اندر رہتاہوں اور نہیں معلوم ہوتاکہ کس کو کیاضرورت ہے۔ آج کل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں ۔ آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیا کریں۔ مہمان نوازی تو میرا فرض ہے‘‘۔(اخبار الحکم ،۷؍فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۵)

ایک ہندو سادھو کی تواضع

اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک ہندوسادھو کوٹ کپورہ سے آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ مسلمانوں کے لئے تو خاص تردد اور تکلیف نہیں ہو سکتی کیونکہ لنگر جاری تھا اور جاری ہے وہاں انتظام ہر وقت رہتاہے لیکن ایک ہندو مہمان کے لئے خصوصیت سے انتظام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ وہ انتظام دوسروں کے ہاں کرانا ہوتا ہے اس لئے مشکلات ظاہر ہیں تاہم حضرت اقدس ہمیشہ ایسے موقعہ پر بھی پورا التزام مہمان نوازی کا فرماتے تھے ۔ ۶؍اکتوبر کی شام کو اس نے حضرت اقدس سے ملاقات کی ۔ آپ ؑ نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ :
’’ یہ ہمارا مہمان ہے اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کر دینا چاہئے۔ ایک شخص کو خاص طورپر حکم دیا کہ ایک ہندو کے گھر اس کے لئے بندوبست کیا جاوے‘‘۔
چنانچہ فوراً یہ انتظام ہو گیا۔ آپ کے دسترخوان پر دوست دشمن کی کوئی خاص تمیز نہ تھی ۔ ہر شخص کے ساتھ جو آپ کے یہا ں مہمان آ جاتا آ پ پورے احترام اور فیاضی سے برتاؤ کرتے تھے۔ اور اکثرفرمایا کرتے تھے کہ مہمان کا دل شیشے سے بھی نازک ہوتاہے اس لئے بہت رعایت اور توجہ کی ضرورت ہے اور باربار لنگر خانہ کے خدام کو خود تاکید فرمایا کرتے تھے ۔ اور محض اسی خیال سے کہ مہمانوں کو کوئی تکلیف نہ ہو آپ نے اپنی حیات میں لنگر خانہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا تاکہ بعض ضوابط اور قواعد کی پابندیاں کسی کے لئے تکلیف کا موجب نہ ہو جائیں۔ اور آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ آپ ہرمہمان کے متعلق اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ وہ کس قسم کی عادات کھانے کے متعلق رکھتاہے ۔ مثلاً اگر حیدرآباد یاکشمیر سے کوئی مہمان آتا تو آپ اس کے کھانے میں چاول کا خاص طور پر التزام فرماتے کیونکہ وہاں کی عام غذا چاول ہے ۔ اور اس امر کی خاص تاکید کی جاتی اور کوشش یہ رہتی تھی کہ مہمان اپنے آپ کو اجنبی نہ سمجھے بلکہ وہ یہی سمجھے کہ اپنے گھر میں ہے ۔
حضرت اقدس کے معمولات میں یہ بات بھی تھی کہ جب وہ مہمانوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے تو ہمیشہ سب مہمانوں کے کھا چکنے کے بعد بھی بہت دیر تک کھاتے رہتے اور غرض یہ ہوتی تھی کہ کوئی شخص حجاب نہ کرے اور بھوکا نہ رہے اس لئے آپ بہت دیر تک کھانا کھاتے رہتے ۔ اگرچہ آپ کی خوراک بہت ہی کم تھی غرض آپ کی مہمان نوازی عدیم المثال تھی اور آپ کا دسترخوان بہت وسیع تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی ابونصر آہ مرحوم کاواقعہ

مولوی ابوالکلام آزاد (جو آج کل مسلمانوں کے سیاسی لیڈروں میں مشہورہیں) کے بڑے بھائی مولوی ابونصر آہ مرحوم ۳؍مئی ۱۹۰۵ء کو قادیان تشریف لائے تھے اور اخلاص و محبت سے آئے تھے ۔ حضرت اقدس نے ان سے خطاب کر کے ایک مختصر سی تقریر کی تھی۔ انہوں نے قادیان سے جانے کے بعد امرتسر کے اخبار وکیل میں اپنے سفر قادیان کاحال شائع کیاتھا۔
اگرچہ اس میں بعض دوسری باتوں کا بھی ذکر ہے اور اگر میں صرف اس حصہ کو یہاں درج کر دیتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی پر روشنی ڈالتاہے تو اس بات کے موضوع کے لحاظ سے مناسب تھا مگر اس مضمون کے ناتمام چھاپنے سے وہ اثر جوبھیئت مجموعی پڑتا ہے کم ہو جاتا ہے اس لئے میں ان خیالات کو پورا درج کر دیتاہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’میں نے اورکیا دیکھا؟ قادیان دیکھا۔ مرزا صاحب سے ملاقات کی ، مہما ن رہا ۔ مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرناچاہئے۔ میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔ مرزا صاحب نے (جب کہ دفعتاً گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے ) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی ‘‘۔
’’آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ (جو خود ان ہی کی ملکیت ہے) میں قیام پذیر ہیں ۔ بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی قریباً تین ہزار آدمیوں کی ہے ۔ مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے ۔ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے ۔ راستے کچے اور ناہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آتی ہے۔ یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی‘‘۔
’’اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا‘‘ ۔
اکرا م ضیف کی صفت خا ص اشخاص تک محدود نہ تھی ۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا ساسلوک کیا۔ اور مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولانا عبدالکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھو م ہے ۔ مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔ جناب میر ناصر نواب صاحب دہلوی جو مرزا صاحب کے خسر ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے ۔ ایل ۔ایل۔ بی ، ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ، مولوی یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم ۔ جناب شاہ سراج الحق صاحب وغیرہ وغیرہ پرلے درجہ کی شفقت اور نہایت محبت سے پیش آئے ۔افسوس کہ مجھے اور اشخاص کا نام یاد نہیں ورنہ میں ان کی مہربانیوں کا بھی شکر یہ ادا کرتا۔ مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندارہے جس کا اثر بہت قوی ہوتاہے ۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے ۔ طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔ مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا اور بردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیاہے۔ گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گویا متبسم ہیں رنگ گورا ہے بالوں کوحنا کا رنگ دیتے ہیں ۔جسم مضبوط اور محنتی ہے سر پرپنجابی وضع کی سپید پگڑی باندھتے ہیں۔ سیاہ یا خاکی لمبا کوٹ زیب تن فرماتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے ۔ عمر قریباً چھیاسٹھ سال کی ہے‘‘۔
’’مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔ میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی۔ اور بے حد عقیدت مند تھے ‘‘۔
’’مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا۔’’ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھرآئیں اور کم از کم دوہفتہ قیام کریں‘‘۔ (اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے)۔
’’میں جس شوق کو لے کر گیا تھا ساتھ لایا۔ اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے حسن خُلقکَ وَلَو مَعَ الکُفٖار۔۔۔ میں نے اور کیا دیکھا بہت کچھ دیکھا مگر قلم بند کرنے کا موقع نہیں سٹیشن جانے کا وقت سر پر آ چلا ہے پھر کبھی بتاؤں گا کہ میں نے کیا دیکھا ۔راقم آہ دہلوی‘‘۔( الحکم ۲۴؍ مئی۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰)
افسوس ہے کہ مولانا ابونصر آہ کو موت نے فرصت نہ دی ورنہ وہ دوبارہ قادیان میں آتے اور ضرور آتے اور جو وعدہ کر کے یہاں سے گئے تھے اسے پورا کرتے ۔ سلسلہ کے لئے ایک محبت اور اخلاص کی آگ ان کے سینہ میں سلگ چکی تھی اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے اس اخلاص کا نیک بدلہ انہیں دے گا۔ مولانا ابونصر کی یہ تحریر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے شمائل و اخلاق کا ایک مختصر سا مرقع ہے۔

خاکسار مؤلف کا اپنا واقعہ

میں پہلی مرتبہ ۱۸۹۳ء کے مارچ مہینے کے اواخر میں قادیان آیا۔ راستہ سے ناواقف تھا اور بٹالہ گاڑی شام کے قریب آتی تھی۔ دن تھوڑا ساباقی تھا۔ میرے پاس کچھ سامان سبزی وغیرہ قسم کا تھا۔ مجھے یکہ کوئی نہ ملا۔ میں نے ایک مزدور جو بٹالہ میں جوتوں کی مرمت کیا کرتا تھا ساتھ لیا ۔ وہ بڈھا آدمی تھا اور اس کا گھر دوانی وال تھا۔راستہ میں جب وہ اپنے گاؤں کے قریب پہنچا تو اس نے کہا کہ میں گھر سے ہو آؤں اور گھر والوں کو اطلاع دے آؤں کہ قادیان جاتاہوں۔ اسے گھر میں اچھی خاصی دیر ہو گئی اور آفتاب غروب ہو گیا۔ میں نے بٹالہ میں راستہ کی کچھ تفصیلات معلوم کی تھیں کہ نہر آئے گی اس سے آگے ایک چھوٹی سے پُلی آئے گی وہاں سے قادیان کو راستہ جاتاہے۔ رات اندھیری تھی ہم دونوں چلے آئے مگر وہ بھی راستہ سے پورا واقف نہ تھا ۔ نہر پہنچے تو چونکہ نہر بند تھی ہمیں کچھ معلوم نہ ہواکہ نہر آ گئی ہے اور اس لئے آگے جو نشان بتایا گیا تھا اس کا بھی پتہ نہ لگا۔ اور ہم ہرچووال کی نہر پر جا پہنچے مگر سفر کی طوالت وقت کے زیادہ گزرنے سے معلوم ہوئی تھی گو شوق کی وجہ سے کچھ تکان نہ تھی۔ میں نے ا س بڈھے مزدور سے کہا کہ تم کہتے تھے میں راستہ سے واقف ہوں اور ہم کو بٹالہ سے چلے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ابھی تک وہ موڑ نہیں آتا یہ کیا بات ہے؟ اس نے کہاکچھ پتہ نہیں۔ الغرض جب ہم ہرچووال پہنچے تو جا کر معلوم ہوا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ اتفاقاً وہاں ایک آدمی مل گیا اور اس نے ہم کو ہماری غلطی پر آگاہ کیا۔ اور ہم واپس ہوئے اور لیل کلاں کے قریب آ کر پھر بھولے مگر اس وقت دو تین آدمی لیل سے باہر نکل کر باہر جارہے تھے کہ انہوں نے ہم کو سیدھے راستہ پر ڈال دیا۔
اس پریشانی میں اس رفیق سفر پر بہت غصہ آتا تھا مگراس کا نتیجہ کچھ نہ تھا۔ آخر اس راستہ پر جو لیل سے قادیان کو آتا ہے ہم قادیان کے باغ کے قریب پہنچے۔ باغ کے پاس آئے تو آگے پانی تھا ۔ باغ کی طرف سے ہم نے آوازدی تو ایک شخص نے کہا چلے آؤ پانی پایاب ہے۔ غرض وہاں سے گزر کر مہمان خانہ پہنچے۔ رمضان کا آغاز تھا او ر لوگ اس وقت اٹھ رہے تھے مہمان خانہ کی کائنات صر ف دو کوٹھریاں ایک دالان تھا جو مطب والا ہے۔ باقی موجودہ مہمان خانہ تک پلیٹ فارم ہی تھا۔ حضرت حافظ حامد علی مرحوم کو خبر ہوئی کہ کوئی مہمان آیاہے۔ اس وقت مہمان خانہ کے مہتمم کہو، داروغہ کہو، خادم سمجھو سب کچھ وہی تھے۔ میرے وہ واقف وآشنا تھے۔جب وہ آ کر ملے تو محبت اور پیار سے انہوں نے مصافحہ اور معانقہ کیا اور حیرت سے پوچھا کہ اس وقت کہاں سے۔ میں نے جب واقعات بیان کئے تو بیچارے بہت حیران ہوئے ۔ میں نے وہ سبزی وغیرہ ان کے حوالے کی وہ لے کر اسی وقت اندر گئے ۔ اور حضرت صاحب کو اطلاع کی ۔ میرا خیال ہے کہ تین بجے کے قریب قریب وقت تھا ۔ حضرت صاحب نے اسی وقت مجھے گول کمرہ میں بلا لیا۔ اوروہاں پہنچنے تک پرتکلف کھانا بھی موجود تھا۔ میں اس ساعت کو اپنی عمر میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ کس محبت اور شفقت سے باربار فرماتے تھے آپ کو بڑی تکلیف ہوئی ۔ میں عرض کرتا رہا نہیں حضور تکلیف تو کوئی نہیں ہوئی معلوم بھی نہیں ہوا۔ مگر آپ بار بار فرماتے ہیں راستہ بھول جانے کی پریشانی بہت ہوتی ہے۔ اور کھانا کھانے کے لئے تاکید فرمانے لگے۔ مجھے شرم آتی تھی کہ آپ کے حضور کس طرح کھاؤں میں نے تامّل کیا مگر آپ نے خود اپنے دست مبارک سے کھانا آگے کر کے فرمایا کہ کھاؤ ، بہت بھوک لگی ہوگی۔سفر میں تکان ہو جاتا ہے۔ آخر میں نے کھانا شروع کیا تو پھر فرمانے لگے کہ خوب سیر ہو کر کھاؤ شرم نہ کرو ۔ سفر کر کے آئے ہو۔
حضرت حامد علی صاحب بھی پاس ہی بیٹھے تھے اور آپ بھی تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ حضور آ پ آرام فرمائیں میں اب کھا لوں گا۔ حضرت اقدس نے اس وقت محسوس کیا کہ میں آپ کی موجودگی میں تکلف نہ کروں ۔ فرمایا ’’اچھا حامد علی تم اچھی طرح سے کھلاؤ اور یہاں ہی ان کے لئے بستر بچھا دو تا کہ یہ آرام کر لیں اور اچھی طرح سے سو جائیں‘‘۔ آ پ تشریف لے گئے مگر تھوڑی دیر بعد ایک بسترا لئے ہوئے پھر تشریف لے آئے ۔ میر ی حالت اس وقت عجیب تھی ایک طرف تو میں آپ کے اس سلوک پر نادم ہو رہا تھا کہ ایک واجب الاحترام ہستی اپنے ادنیٰ غلام کے لئے کس مدارات میں مصروف ہے ۔ میں نے عذر کیا کہ حضور کیوں تکلیف فرمائی ۔فرمایا ’’نہیں نہیں تکلیف کس بات کی آپ کو آج بہت تکلیف ہوئی ہے اچھی طرح آرام کر و‘‘۔
غرض آپ بسترا رکھ کر تشریف لے گئے اور حافظ حامد علی صاحب میرے پاس بیٹھے رہے ۔ انہوں نے محبت سے کھانا کھلایا اور بسترا بچھا دیا۔ میں لیٹ گیا تو مرحوم حافظ حامد علی نے میری چاپی کرنی چاہی تو میں نے بہت ہی عذر کیا تو وہ رکے مگر مجھے کہاکہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ ذرا دبا دینا بہت تھکے ہونگے ۔ ان کی یہ بات سنتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل گئے کہ اللہ ! اللہ! کس شفقت اور محبت کے جذبات اس دل میں ہیں ۔ اپنے خادموں کے لئے وہ کس درد کا احساس رکھتا ہے۔فجر کی نماز کے بعد جب آپ تشریف فرما ہوئے تو پھر دریافت فرمایا کہ نیند اچھی طرح آگئی تھی ۔ اب تکان تونہیں۔غرض اس طرح پر اظہار شفقت فرمایا کہ مجھے مدت العمر یہ لطف اور سرو ر نہ بھولے گا۔ میں چند روز تک رہا اور ہر روز آپ کے لطف و کرم کو زیادہ محسوس کرتا تھا۔ جانے کے لئے اجازت چاہی تو فرمایا نوکر ی پر تو جانا نہیں اور دو چار روز رہو میں پھر ٹھہر گیا ۔ آخر آپ کی محبت و کرم فرمائی کے جذبات کا ایک خاص اثر لے کر گیا اور وہ کشش تھی کہ مجھے ملازمت چھڑا کر یہاں لائی اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کیا کہ مجھے اس آستانہ پر دھونی رما کر بیٹھ جانے کی توفیق عطا فرمائی۔ والحمدللہ علی ذالک۔
میں نے مختصراً اس واقعہ کو صاف اور سادہ الفاظ میں بیان کر دیا ہے ۔ میں اس وقت ایک غریب طالب علم تھا اور کسی حیثیت سے کوئی معروف درجہ نہ رکھتا تھا۔مگر حضرت اقدس کی مہما ن نوازی اور وسعت اخلاق سب کے لئے یکساں تھی۔ وہ ہر آنے والے کو سمجھتے تھے کہ یہ خدا کے مہمان ہیں۔ ان کی آسائش ، تالیف قلوب اور ہمدردی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتے تھے آپ کی پیاری پیاری باتوں اور آرام دہ برتاؤ کو دیکھ کر گھر بھی بھول جاتا تھا۔ ہر ملاقات میں پہلے سے زیادہ محبت اور شفقت کا اظہار پایا جاتا تھا۔ اور مخفی طور پر خادم مہمان خانہ کوہدایت ہوتی تھی کہ مہمانوں کے آرام کے لئے ہر طرح خیال رکھو۔ اور براہ راست انتظام اپنے ہاتھ میں اس لئے رکھا تھا کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے۔

میاں رحمت اللہ باغانوالہ کا واقعہ

میاں رحمت اللہ باغانوالہ سیکرٹری انجمن احمدیہ بنگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص خادموں میں سے ہیں اور بنگہ کی جماعت میں ان کے بعد خدا تعالیٰ نے بڑی برکت اور ترقی بخشی ۔ ۱۹۰۵ء میں جبکہ حضرت اقدس باغ میں تشریف فرما تھے ۔ میاں رحمت اللہ قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ مہمان خانہ میں حسب معمول ٹھہرے ہوئے تھے ۔ میاں نجم الدین مرحوم لنگر خانہ کے داروغہ اور مہتمم تھے ۔ ان کی طبیعت کسی قدر اکھڑسی واقع ہوئی تھی۔ اگرچہ اخلاص میں وہ کسی سے کم نہ تھے۔ اور سلسلہ کی خدمت اور مہمانوں کے آرام کا اپنی طاقت اور سمجھ کے موافق بہت خیال رکھتے تھے۔ اور مجتہدانہ طبیعت پائی تھی۔ میاں رحمت اللہ صاحب نے کچھ تکلف سے کام لیا ۔ روٹی کچی ملی اور وہ بیمار ہو گئے ۔ مجھ کو خبر ہوئی میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو بتایا کہ روٹی کچی تھی۔ اور تنور کی روٹی عام طور پر کھانے کی عاد ت نہیں مجھ ان کی تکلیف کااحساس ہوا۔ میری طبیعت بے دھڑک سی واقعہ ہوئی ہے ۔ میں سیدھا حضرت صاحب کے پاس گیا۔ اطلاع ہونے پر آ پ فوراً تشریف لے آئے ۔ اور باغ کی اس روش پر جومکان کے سامنے ہے ٹہلنے لگے ۔ اور دریافت فرمایا کہ میاں یعقوب علی کیابات ہے؟ میں نے واقعہ عرض کر کے کہا کہ حضور !یا تو مہمانوں کو سب لوگوں پر تقسیم کر دیاکرو اور یاپھر انتظام ہو کہ تکلیف نہ ہو۔ میں آج سمجھتاہوں اور اس احساس سے میرا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ کہ میں نے خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل کے حضور اس رنگ میں کیوں عرض کی؟ مگر اس رحم و کرم کے پیکر نے اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی کہ میں نے کس رنگ میں بات کی ہے فرمایا ،’’آپ نے بہت ہی اچھا کیا کہ مجھ کو خبر دی میں ابھی گھر سے چپاتیاں پکوانے کا انتظام کردوں گا۔ اورمیاں نجم الدین کو بھی تاکید کرتاہوں اسے بلا کر میرے پاس لاؤ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ اگر کسی مہمان کو تکلیف ہو تو فوراً مجھے بتاؤ۔ لنگر خانہ والے نہیں بتاتے اور ان کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ میاں رحمت اللہ کہا ں ہیں؟ وہ زیادہ بیمار تو نہیں ہو گئے اگر وہ آ سکتے ہیں تو ان کو بھی یہاں لے آؤ۔
میں نے واپس آ کر میاں رحمت اللہ صاحب سے ذکر کیا ۔ وہ بیچارے بہت محجوب ہوئے کہ آپ نے کیوں حضرت کو تکلیف دی۔ میری طبیعت اب اچھی ہے۔ خیر میں ان کو حضرت کے پاس لے گیا اور میاں نجم الدین صاحب کی بھی حاضری ہوئی۔ حضرت نے میاں رحمت اللہ صاحب سے بہت عذر کیا کہ بڑی غلطی ہو گئی۔ آپ کو تکلف نہیں کرنا چاہئے تھے۔ میں باغ میں تھا ورنہ تکلیف نہ ہوتی۔ اب انشاء اللہ انتظام ہو گیاہے۔ جس قدرحضرت عذر اور دلجوئی کریں میں او ر میاں رحمت اللہ اندر ہی اندر نادم ہوں اور پھر جتنے دن وہ رہے حضرت نے روزانہ مجھ سے دریافت فرمایا کہ تکلیف تونہیں۔ میاں نجم الدین صاحب کو بھی بہت تاکید اور وعظ فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کے مہمان ہیں یہ خداکے لئے آتے ہیں اور گھروں کا آرام چھوڑ کر آتے ہیں۔ اگر ان کی صحت ہی درست نہ رہے تو یہ اس غرض کو کیونکر حاصل کر سکیں گے جس کے لئے یہاں آتے ہیں۔ بہت کچھ ان کو سمجھایا اور وہ اپنے طریق کے موافق عذر کرتے رہے۔
میرا مطلب اس سے یہ دکھانا ہے کہ اگر کسی مہمان کو ذرا سی بھی تکلیف ہو تو آ پ فوراً بے قرار ہو جاتے تھے اور جب تک اس کو اطمینان اور آرام کی حالت میں نہ دیکھ لیں آ پ صبر نہ کرتے تھے ۔

مہمان نوازی پر اجمالی نظر

آپ کی مہما ن نوازی کے واقعات اور مثالیں اس کثر ت سے ہیں کہ اگر ان سب کو جمع کیا جاوے تو بجائے خود ایک مستقل کتاب ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ جس کو توفیق دے گاوہ اس خصوص میں ایسا ذخیرہ جمع کردیگا۔
آپ کی عام خصوصیات مہمان نوازی میں یہ تھیں کہ :
(۱)۔۔۔ آپ مہمان کے آنے سے بہت خوش ہوتے تھے اور آ پ کی انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ مہمان کو ہر ممکن آرام پہنچے ۔ اور آپ نے خدام لنگر خانہ کو ہدایت کی ہوئی تھی کہ فوراً آ پ کو اطلاع دی جائے ۔ اور یہ بھی ہدایت تھی کہ جس ملک اور مذاق کا مہمان ہو اس کے کھانے پینے کے لئے اسی قسم کا کھانا تیار کیاجاوے۔مثلاً اگر کوئی مدراسی، بنگالی یا کشمیری آ گیاہے توان کے لئے چاول تیار ہوتے تھے۔ ایسے موقعہ پر فرمایا کرتے تھے کہ اگر ان کی صحت ہی درست نہ رہی تو وہ دین کیا سیکھیں گے ۔
ایک مرتبہ سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدرآباد دکن حیدرآباد سے ایک جماعت لے کر آئے ۔ سید صاحب ان ایام میں ایک خاص جوش اور اخلاص رکھتے تھے ۔ حیدرآبادی لوگ عموماً ترش سالن کھانے کے عادی ہوتے ہیں ۔آپ نے خاص طور پر حکم دیا کہ ان کے لئے مختلف قسم کے کھٹے سالن تیار ہواکریں تاکہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ ایسا ہی سیٹھ اسماعیل آدم بمبئی سے آئے تو ان کے لئے بلاناغہ دونوں وقت پلاؤ اور مختلف قسم کے چاول تیار ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ عموماً چاول کھانے کے عادی تھے ۔ مخدومی حضرت سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ بھی ان ایام میں قادیان میں ہی تھے ۔ غرض آپ اس امر کا التزام کیاکرتے تھے کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف کھانے پینے میں نہ ہو۔
(۲)۔۔۔ یہ امر بھی آپ کی مہمان نوازی کے عام اصولوں میں داخل تھا کہ جس وقت کوئی مہمان آتا تھا اسی وقت اس کے لئے موسم کے لحاظ سے چاء لسی یا شربت مہیاکرتے ۔ اور اس کے بعد کھانے کافوری انتظام ہوتا تھا اور اگر جلد تیار نہ ہو سکتا ہو یا موجود نہ ہو تو دودھ ڈبل روٹی یا اور نرم غذا فواکہات غرض کچھ نہ کچھ فوراً موجو د کیا جاتا۔ اور اس کے لئے کوئی انتظار آ پ روانہ رکھتے۔ بعض اوقات دریافت فرما لیتے اور بعض اوقات کھانا ہی موجود کرتے ۔ ایسے واقعات ایک دو نہیں سینکڑوں سے گزر کر ہزاروں تک ان کا نمبر پہنچتاہے۔
جناب قاضی امیر حسین صاحب بھیروی جو عرصہ دراز سے ہجرت کر کے قادیان بیٹھے ہوئے تھے ایک زمانہ میں امرتسر کے مدرسۃ المسلمین میں ملازم تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امرتسر سے قادیان میں آیا اور حضرت صاحب کو اطلاع دی ۔ آپ فوراً تشریف لائے اور شیخ حامد علی صاحب کو بلاکر حکم دیا کہ قاضی صاحب کے لئے جلد چائے لاؤ۔ یہ ایک واقعہ نہیں علی العموم ایساہی ہوتا تھا۔
(۳)۔۔۔ آپ کی مہمان نوازی کی تیسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ مہمان کے جلدی واپس جانے سے خوش نہ ہوتے تھے بلکہ آپ کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ زیادہ دیر تک رہے ۔ تا کہ پورے طور پر اس کے سفر کا مقصد پورا ہو اور آپ کی دعوت کی تبلیغ ہو سکے۔ اس لئے جلد اجازت نہ دیتے تھے۔ بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ابھی کچھ دن اور رہو آ پ کے جو پرانے خدام ہوتے تھے ان کے ساتھ خصوصیت سے یہی برتاؤ ہوتاتھا۔
ایک مرتبہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی یہاں آئے وہ ا ن دنوں میں مجسٹریٹی کے ریڈرتھے وہ ایک دو دن کے لئے یونہی موقع نکال کر آئے تھے مگر جب اجازت مانگیں تو یہی ہوتارہا کہ چلے جانا ابھی کون سی جلدی ہے اور اس طرح پران کو ایک لمبا عرصہ یہاں ہی رکھا۔
اصل بات یہ ہے کہ آپ دل سے یہی چاہتے تھے کہ احباب زیادہ دیر تک ٹھہریں ۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ حضرت کی اس سیرت سے کہ بہت چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے پاس رہیں ۔ یہ نتیجہ نکالا کرتا ہوں کہ یہ آپ کی صداقت کی بڑی بھاری دلیل ہے اور آپ کی روح کو کامل شعور ہے کہ آپ منجانب اللہ اور راست باز ہیں ۔ جھوٹا آدمی ایک دن میں گھبرا جاتاہے اور وہ دوسروں کو دھکے دے کر نکالتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کا پول کھل جائے۔
(۴)۔۔۔ آپ کی مہمان نوازی کی چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ مہمان کے ساتھ تکلف کابرتاؤ نہیں ہوتاتھا۔ بلکہ آپ اس سے بالکل بے تکلفانہ برتاؤ کرتے تھے ۔ اور وہ یقین کرتا تھا کہ وہ اپنے عزیزوں اور غمگسار دوستوں میں ہے۔ اور اس طرح پر وہ تکلف کی تکلیف سے آزاد ہو جاتاتھا۔ حضرت خلیفہ نورالدین صاحب آف جموں (جو حضرت اقدس کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور جنہوں نے بعض اوقات سلسلہ کی خاص خدما ت کی ہیں جیسے قبر مسیح کی تحقیقات کے لئے انہوں نے کشمیر کا سفر کیا اور اپنے خرچ پر ایک عرصہ تک وہاں رہ کر تمام حالات کو دریافت کیا)۔ بیان کرتے ہیں کہ جن ایام میں حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نواب صاحب کی درخواست پر مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تھے میں قادیان آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھاکہ مجھے دونوں وقت کھانے کے لئے اوپر بلا لیتے اور میں اور آپ دونوں ہی مل کر کھانا کھاتے ۔اور بعض اوقات گھنٹہ گھنٹہ ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھے رہتے او ر انوسینٹ ریکری ایشن (تفریح بے ضرر ) بھی ہوتی رہتی۔ ایک دن ایک چاء دانی چائے سے بھری ہوئی اٹھا لائے ۔ اور فرمایا کہ خلیفہ صاحب یہ تم نے پینی ہے یا میں نے ۔ خلیفہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا ہمارے گھر والوں پر حرام ہے اس سے اور بھی تعجب خلیفہ صاحب کو ہوا ۔ ان کو متعجب پا یا تو فرمایا یہ حرام طبی ہے شرعی نہیں۔ ان کی طبیعت اچھی نہیں اور چائے ان کے لئے مضر ہے۔ غرض یہ بظاہر ایک لطیفہ سمجھا جا سکتا ہے مگر آپ کی غرض اس واقعہ سے یہ بھی تھی کہ خلیفہ صاحب خوب سیر ہو کر پئیں کیونکہ گھر میں تو کسی نے چائے پینی نہ تھی اور حضرت کو یہ خیال تھا کہ خلیفہ صاحب بوجہ کشمیر میں رہنے کے چائے کے عادی سمجھے جاسکتے ہیں اور چائے بہت پیتے ہونگے۔ اس لئے آپ ان کی خاطر داری کے لئے بہت سی چائے بنوا کر لائے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم نے اورمیں نے ہی پینی ہے تا کہ ایک قسم کی مساوات کے خیال سے ان کو تکلف نہ رہے غرض مہمانوں میں کھانے پینے اور اپنی ضروریات کے متعلق بے تکلفی پیدا کر دیتے تھے تا کہ وہ اپنا گھر سمجھ کر آزادی اور آرام سے کھا پی لیں۔
اسی بے تکلفی پیدا کرنے کے لئے کبھی کبھی شہتوت بیدانہ کے ایام میں باغ میں جاکر ٹوکرے بھروا کر منگواتے اور مہمانوں کو ساتھ لے کر خود بھی انہی ٹوکروں میں سے سب کے ساتھ کھاتے۔ آہ ! وہ ایام کیا مبارک اور پیارے تھے ۔ ا ن کی یاد آتی ہے تو تڑپا جاتی ہے۔

دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا

سفر میں بھی جب کبھی ہوتے تو اپنے مہمانوں کا خاص خیال رکھتے ۔ جن ایام میں گورداسپور مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے ہوئے تھے احباب کو معلوم ہے کہ کس طرح پر مہمانوں کی خاطر مدارات کا خیال رکھا جاتاتھا۔ آموں کے موسم میں آموں کے ٹوکرے منگوا کر اپنے خدام کے سامنے رکھتے۔
ایک مرتبہ خواجہ صاحب کے لئے آموں کا ایک بار خر خریدا گیا۔ احباب مذاق کرتے تھے کہ خواجہ صاحب آموں کا گدھا کھا گئے۔خواجہ صاحب کو کھانے پینے کا بہت شوق تھا اور حضرت اقدس ان کے احساسات کاخیال رکھتے تھے اس لئے ان کے لئے خاص طور پر اہتمام ہوتا ۔ اور خود خواجہ صاحب بھی شب دیگ وغیرہ پکاتے رہتے۔ میرا مطلب ا ن واقعات کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اپنے مہمانوں اور خادموں کے ساتھ بے تکلفی کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔ ایسا ہی حضرت مولوی شیر علی صاحب کی روایت ہے حضرت صاحبزادہ صاحب نے سیرت المہدی میں ایک واقعہ لکھاہے کہ مولوی صاحب اور چند اور آدمی جن میں خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بھی تھے حضرت اقد س کی ملاقات کو اندر مکان میں حاضر ہوئے۔ آ پ نے خربوزے کھانے کو دئے۔ اور مولوی صاحب کوایک موٹا سا خربوزہ دیا اور فرمایا کہ اسے کھا کر دیکھیں کیساہے؟پھر آپ ہی مسکرا کر فرمایا کہ موٹا آدمی منافق ہوتاہے پھیکا ہی ہوگا۔ چنانچہ وہ پھیکا ہی نکلا۔ یہ لطیفہ بھی بے تکلفی کی ایک شان اپنے اندر رکھتاہے۔
(۵)۔۔۔ آپؑ کی مہمان نوازی کی ایک یہ بھی خصوصیت تھی کہ آپ مہمانوں کے آرام کے لئے نہ صرف ہر قسم کی قربانی کرتے تھے بلکہ ہر ممکن خدمت سے کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے۔
حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک واقعہ بیان کیاہے اور اسے شائع کیا ہے کہ چار برس (۱۸۹۶ء کا غالباً واقعہ ہے کیونکہ ۱۹۰۰ء میں آپ نے یہ بیان شائع کیا تھا ۔ عرفانی) کا عرصہ گزرتا ہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لودہانہ گئے ہوئے تھے ۔ جون کا مہینہ تھا مکان نیا نیا بناتھا۔ میں دوپہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر لیٹ گیا۔ حضرت ٹہل رہے تھے ۔ میں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے ۔ میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا آپ نے بڑی محبت سے پوچھا ۔ آپ کیوں اٹھے ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سو رہوں۔ مسکرا کر فرمایا،’’میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا ۔ لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے‘‘۔ (’’سیرت مسیح موعود‘‘ مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب صفحہ ۴۱)
یہ محبت یہ دلسوزی اور خیر خواہی ماں باپ میں بھی کم پائی جاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ان لوگوں میں ہی ودیعت کی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہدایت کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں۔ اور اگریہ ہمدردی مخلوقِ الٰہی کے لئے ان کے دل میں نہ ہو تو وہ ان مشکلات کے پہاڑوں اور مصائب کے دریا ؤں سے نہ گزر سکیں جو تبلیغ حق کی راہ میں آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کی اس انتہائی دلسوزی اور غم خواری کا نقشہ قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیاہے:لَعَلٖکَ بَاخِعٌ نٖفْسَکَ اَلاٖ یَکُونُوا مُؤمِنِیْنَ۔ یعنی اس ہم و غم میں کہ لوگ کیوں خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور صراط مستقیم کو اختیار کر کے اس مقصد زندگی کو پورا نہیں کرتے جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے تو اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا۔ یہ جوش مخلوق کی ہدایت کے لئے اور ان کی ہمدردی کے لئے خاصۂ انبیاء علیہم السلام ہے۔
میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کی خصوصیات بیان کر رہا تھا اور اس میں حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیاہے کہ کس طرح پر آ پ ان کے آرام کے لئے ایک پہرہ دار کی طرح کام کرتے تھے۔
(۶)۔۔۔ چھٹی خصوصیت آپ کی مہمان نوازی کی یہ تھی کہ حفظ مراتب کی ہدایت کے ساتھ عام سلوک اور تعلقات میں آپ مساوات کے برتاؤ کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے ۔ اس بات کا بے شک لحاظ ہوتاتھا کہ مہمانوں کو ان کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے اتارا جاتااور یہ حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل تھی۔ مگر خبرگیری اور مہمان نوازی کے عام معاملات میں کوئی امتیاز نہیں ہوتاتھا۔ ۱۹۰۵ء کے سالانہ جلسہ پرکھانے وغیرہ کا انتظام میرے سپرد تھا اور میر ی مددکے لئے اور چند دوست ساتھ تھے ہم نے مولوی غلام حسین صاحب پشاوری اور ان کے ہمراہیوں کے لئے خاص طور پر چند کھانوں کا انتظام کرنا چاہا۔ حضرت اقدس تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کیفیت طلب فرماتے تھے کہ کھانے کا کیاانتظام ہے،کس قدر تیار ہو گیا ، کس قدر باقی ہے ، کیا پکایاگیاہے اس سلسلہ میں یہ بھی میں نے عرض کیا کہ ان کے لئے خاص طورپر انتظام کر رہے ہیں ۔فرمایا کہ :
’’میرے لئے سب برابر ہیں اس موقع پر امتیاز اور تفریق نہیں ہو سکتی۔ سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھاناہو نا چاہئے۔ یہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔ مولوی صاحب کے لئے الگ انتظام ا ن کی لڑکی کی طرف سے ہو سکتاہے اور وہ اس وقت میرے مہما ن ہیں اور سب مہمانوں کے ساتھ ہیں اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیاجائے خبردار کوئی امتیاز کھانے میں نہ ہو‘‘۔
اور بھی بہت کچھ فرمایا اورغربائے جماعت کی خصوصیت سے تعریف کی اور فرمایا کہ :
’’جیسے ریل میں سب سے بڑی آمدنی تھرڈ کلاس والوں کی طرف سے ہوتی ہے اس سلسلہ کے اغراض و مقاصد کے پورا کرنے میں سب سے بڑا حصہ غرباء کے اموال کا ہے اور تقویٰ طہارت میں بھی یہی جماعت ترقی کر رہی ہے‘‘۔ غرض اس طرح نصیحت کی فَطُوبی لِلغُرَباء۔
آپ ہرگز عام برتاؤاور سلوک میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے تھے گو منازل و مراتب مناسبہ کو بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے اور یہ حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل تھی۔
(۷)۔۔۔ ساتویں خصوصیت یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ ہمارے دوست خصوصاً کثرت سے آئیں اور بہت دیر تک ٹھہریں اگرچہ زیادہ دیر تک ٹھہرنا وہ سب کا پسند کرتے تھے ۔ غیروں کے لئے اس لئے کہ حق کھل جائے اور اپنوں کے لئے اس لئے کہ ترقی کریں۔ کثرت سے آنے جانے والوں کو ہمیشہ پسند فرمایا کرتے تھے۔ اس کی تہ میں جو غرض اور مقصود تھا و ہ یہی تھا کہ تا وہ اس مقصود کو حاصل کر لیں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیاہے۔ حضرت مولاناعبدالکریم رضی اللہ عنہ نے آپ کی اس خصوصیت کے متعلق لکھا ہے کہ :
’’حضرت کبھی پسند نہیں کرتے تھے کہ خدام ان کے پاس سے جائیں۔ آنے پر بڑے خوش ہوتے ہیں اور جانے پر کرہ سے رخصت دیتے ہیں اور کثرت سے آنے جانے والوں کو بہت ہی پسند فرماتے ہیں ۔ اب کی دفعہ دسمبر میں (۱۸۹۹ء کاواقعہ ہے) بہت کم لوگ آئے اس پر بہت اظہار افسوس کیااور فرمایاہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ کیا بن جائیں ۔ و ہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اورجس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں باربار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اکتائیں اور فرمایا جو شخص ایسا خیال کرتاہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتاہے یاایسا سمجھتاہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہوگااسے ڈرنا چاہئے کہ شرک میں مبتلا ہے۔ ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہماراعیال ہو جاوے تو ہمارے مہمات کا متکفل خدا ہے ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔ یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے نکال دینا چاہئے۔ میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت کو تکلیف دیں۔ ہم تو نکمے ہیں یونہی بیٹھ کر روٹی کیوں توڑاکریں ۔ وہ یاد رکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالاہے کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔ ایک روز حکیم فضل الدین صاحب (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ حضور میں یہاں نکما بیٹھا کیا کرتاہوں مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں وہاں درس قرآن ہی کروں گا۔ یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت ہو۔ فرمایا آ پ کایہاں بیکار بیٹھنا ہی جہادہے اور یہ بیکاری بڑا کام ہے ۔ غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا یہ عذر کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے حضور میں عذر کیا تھااِنٖ بُیُوتَنَا عَورَۃٌ اور خدا تعالیٰ نے ان کی تکذیب کردی’’ اِنْ یُرِیدُونَ اِلاٖ فِرَارًا‘‘۔ (سیرت مسیح موعود مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم ؓ صفحہ ۴۹،۵۰)
غرض آپ کو اپنے خدام کے متعلق خصوصیت سے یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ بہت باربار آئیں اور کثرت سے آئیں اور ان کے قیام کی وجہ سے جو کچھ بھی اخراجات ہوں ان کو برداشت کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے ۔
(۸)۔۔۔ آٹھویں خصوصیت یہ تھی کہ مہمان نوازی کے لئے دوست دشمن کا امتیاز نہ تھا بلکہ بریں خوان یغماچہ دشمن چہ دوست کا مضمون آ پ کے دسترخوان پر نظر آتاتھا۔ جیسا کہ میں نے آپ کے اخلاق عفو و درگزر میں دکھایا ہے کہ یہ خلق خادموں اور دوستوں تک محدود نہ تھا اسی طرح مہمان نوازی بھی وسیع اورعام تھی ۔ کسی خاص قوم اور فرقہ تک محدود نہ تھی۔ بلکہ ہندو، مخالف الرائے مسلمان،عیسائی یا کسے باشد جو بھی آ جاتا اس کے ساتھ اسی محبت سے پیش آتے۔ چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی میں بروایت مولوی عبداللہ صاحب سنوری لکھا ہے کہ :
’’حضرت مسیح موعود بیت الفکر میں (مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے) لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمپت یا شاید لالہ ملاوا مل نے دستک دی ۔ میں اٹھ کر کھڑکی کھولنے لگامگر حضرت صاحب نے بڑی جلد ی اٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھراپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔ (جلد اول صفحہ ۷۲)
اسی طرح ایک مرتبہ بیگووال ریاست کپورتھلہ کا ایک ساہوکار اپنے کسی عزیز کے علاج کے لئے آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ہوئی۔ آپ نے فوراً اس کے لئے نہایت اعلیٰ پیمانہ پر قیام و طعام کا انتظام فرمایا اور نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ ان کی بیماری کے متعلق دریافت کرتے رہے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر تاکید فرمائی۔ اس سلسلہ میں آ پ نے یہ بھی ذکر کیا کہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو ایک مرتبہ بیگووال جانا پڑا تھا ۔اس گاؤں کے ہم پر حقوق ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی وہاں آ جاتا تو آ پ ان کے ساتھ خصوصاً بہت محبت کا برتاؤ فرماتے ۔
ایک دفعہ مولوی عبدالحکیم جو نصیر آبادی کہلاتا تھا قادیان میں آیا۔ یہ بہت مخالف تھا اور وہی مولوی تھا جس نے لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ۱۸۹۲ء میں مباحثہ کیا تھا اور اس مباحثہ کے کاغذات لے کر چلا گیاتھا ،وہ قادیان آیا۔ حضرت کو اطلاع ہوئی۔ حضرت نواب صاحب نے اپنا مکان قادیان میں بنوا لیاتھا اور وہ اس وقت کچا تھا اس کے ایک عمدہ کمرہ میں اس کو اتارا گیا اور ہر طرح اس کی خاطر تواضع کے لئے آپ نے حکم دیا اور یہ بھی ہدایت کی کہ کوئی شخص اس سے کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کی دلشکنی کا موجب ہو ۔ وہ چونکہ مخالف ہے اگر کوئی ایسی بات بھی کرے جو رنج دہ او ردل آزاری کی ہو تو صبر کیا جاوے۔ چنانچہ و ہ رہا ۔ میں اس مباحثہ میں جو لاہور فروری ۱۸۹۲ء میں ہواتھا موجود تھا اور مجھے معلوم تھاکہ اس مباحثہ کے کاغذات وہ لے گیاتھااور واپس نہ کئے تھے ۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ جناب مجھے آپ کی بڑ ی تلاش تھی آپ کے پاس مباحثہ کے پرچے ہیں ۔ مہربانی کر کے مجھے دے دیں۔ آ پ کے کام کے نہیں اور اگر اپنا پرچہ نہ بھی دیں تو حرج نہیں مگر حضرت اقدس والے پرچے ضرور دیدیں۔
مولوی عبدالحکیم صاحب کو خیال تھا کہ شاید اسے اور کوئی نہیں جانتا اور حضرت صاحب نے تو اس مباحثہ کا ذکر بھی نہیں فرمانا تھا کہ اسے ندامت نہ ہو بلکہ اخلاق و مروت کا اعلیٰ برتاؤ فرماتے رہے۔ مولوی صاحب بڑے جوش سے آئے تھے کہ میں مباحثہ کروں گا اور وہ اپنے مکان پرمخالفت کرتے تھے اور بڑے جوش سے کرتے تھے ۔ ہم ان کی مخالفت کو سنتے اور جیسا کہ حکم تھا نہایت ادب اور محبت سے ان کی تواضع کرتے رہے آخر جب ان سے میں نے مباحثہ لاہور کے پرچے مانگے تو اس کے بعد وہ بہت جلد تشریف لے گئے اور وعدہ کر گئے کہ جاتے ہی بھیج دوں گا۔ ان کے ساتھ ہی وہ مباحثہ کے کاغذا ت ختم ہوئے باوجودیکہ وہ مخالفت پر اتر آیا تھا اور مخالفت کرتارہا مگر حضرت اقدس نے اس لئے کہ وہ مہمان تھا اس کے اکرام اور تواضع کے لئے ہم سب کو حکم دیا اور سب نے اس کی تعمیل کی ۔ اس نے مباحثہ وغیرہ تو کوئی نہ کیا اور چپکے سے چل دیا۔

بغدادی مولوی کا واقعہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی کوئی دعویٰ نہ کیا تھا ۔ آپ مجاہدات کر رہے تھے اور عام آدمیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک مولوی آیا جو بغدادی مولوی کے نام سے مشہور تھا۔ خصوصیت سے وہ وہابیوں کا بہت دشمن تھا اور جہاں جاتا ان کی بہت مخالفت کرتا تھا۔ و ہ قادیان میں بھی آیا تھا باوجودیکہ وہ بہت گالیاں دیتاتھاحضرت اقدس نے اس کی بہت خدمت و تواضع کی اور اکرام مہمان کے شعار کو ہاتھ سے نہ دیا۔ وہ اپنے وعظ میں وہابیوں کو گالیاں دیتا رہا۔ بعد میں لوگوں نے کہاکہ جس کے گھر میں تم ٹھہرے ہوئے ہو وہ بھی تو وہابی ہے پھروہ چپ ہو گیا۔ حضرت اقدس نے اس واقعہ کو خود بیان کیاہے مگر اس کا نام نہیں لیا۔ احسان کے متعلق تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
’’ایک عرب ہمارے ہاں آیا ۔ وہ وہابیوں کا سخت مخالف تھا یہاں تک کہ جب اس کے سامنے وہابیوں کا ذکر بھی کیا جاتا تو گالیوں پر اتر آتا ۔ اس نے یہاں آ کر بھی سخت گالیاں دینی شروع کیں۔ اور وہابیوں کو برا بھلا کہنے لگا ۔ ہم نے اس کی کچھ پرواہ نہ کرکے اس کی خدمت خوب کی اور اچھی طرح سے اس کی دعوت کی اور ایک دن جبکہ و ہ غصہ میں بھرا ہوا وہابیوں کو خوب گالیاں دے رہا تھا کسی شخص نے اسکو کہا کہ جس کے گھر تم مہمان ٹھہرے ہو وہ بھی تو وہابی ہے ۔ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔ اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں‘‘۔(بدر ۱۴؍جولائی ۱۹۰۷ء)

ڈاکٹر پینل کا واقعہ

بنوں کے ایک میڈیکل مشنری ڈاکٹر پینل تھے ۔ یہ شخص بڑا دولت مند اور آنریری طورپر کام کرتاتھا۔بنوں اور اس کے نواح میں اس نے اپنا دجل پھیلایا ۔ ایک مرتبہ وہ ہندوستان کے سفر پر بائیسکل پر نکلا اور اس نے اپنے ساتھ کچھ نہیں لیا تھا۔ ایک مسلمان لڑکا بھی اس کے ساتھ تھا ۔ وہ قادیان میں آیا اور یہاں ٹھہرا۔ حضرت اقدس نے باجودیکہ وہ عیسائی اور سلسلہ کا دشمن تھا۔ اس کی خاطر تواضع اور مہمان داری کے لئے متعلقین لنگر خانہ اور دوسرے احباب کو خاص طورپر تاکید فرمائی اور ہر طرح اس کی خاطر و مدارات ہوئی ۔ اس نے اپنے اخبار تحفہ سرحد بنوں میں غالباً اس کا ذکر بھی کیا تھا۔ او ر آپ کا یہ طریق تھا کہ آ پ مہمانوں کے آنے پر لنگر خانہ والوں کو خاص تاکید فرمایا کرتے تھے ۔چنانچہ ایک مرتبہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۳ء کو جب کہ بہت سے مہمان بیرونجات سے آ گئے تھے میاں نجم الدین صاحب مہتمم لنگر خانہ کو بلا کر فرمایا کہ :
’’دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔ سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔ تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو ۔ اگر کسی گھر یامکا ن میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کرو‘‘۔ (اخبار البدر ۸؍جنوری صفحہ ۳۔۴)
اور یہ ایک مرتبہ نہیں ہمیشہ ایسی تاکید کرتے رہتے۔ بعض وقت یہ بھی فرماتے کہ میں نے تم پر حجت پوری کر دی ہے ۔ اگر تم نے غفلت کی تواب خدا کے حضور تم جواب دہ ہوگے۔
ایسا ہی ایک مرتبہ ۲۲؍اکتوبر۱۹۰۴ء کو فرمایا:
’’لنگر خانہ کے مہتمم کو تاکید کردی جاوے کہ و ہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مدنظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اورکام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتاہو اس لئے کوئی دوسرا شخص یاد دلادیا کرے ۔کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دستکش نہ ہونا چاہئے کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مدنظر رکھیں۔ بعض وقت کسی کو بیت الخلاء کا ہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے۔ میں تو اکثر بیمار رہتاہوں اس لئے معذور ہوں۔ مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائم مقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔(اخبار الحکم ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۔۲)

*۔۔۔*۔۔۔*

(الفضل انٹرنیشنل ۳۱؍جولائی ۱۹۹۸ء تا۲۷؍اگست ۱۹۹۸ء)

احمدی کا مبارک امتیازی نام

احمدی کا مبارک امتیازی نام


اور سیاسی ملاؤں کی ایک حیرت انگیز نئی قلابازی (دوست محمد شاہد ۔ مؤرخ احمدیت)

اے عزیزو اس قدر کیوں ہو گئے تم بے حیا

کلمہ گو ہو کچھ تو لازم ہے تمہیں خوفِ خدا

انیسویں صدی کے آخری سال کا واقعہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے ۴؍نومبر ۱۹۰۰ء کو اشتہار دیا کہ ملک میں مردم شماری ہونے والی ہے جس میں ہر فرقہ اپنے لئے جو نام پسند کرتا ہے وہی نام سرکاری کاغذات میں لکھوائے گا۔ اس وقت تک پنجاب اور ہندوستان میں تیس ہزار مخلصین شامل ہوچکے تھے اس لئے حضرت اقدس علیہ السلام نے اس اشتہار میں اعلان فرمایا:

’’و ہ نام جو اس سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے اور جائز ہے کہ احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔‘‘

اس نام کا پس منظر یہ بیان فرمایا کہ

’’ہمارے نبی ﷺ کے دو نام تھے ایک محمدﷺ اور ایک احمدﷺ۔۔۔ اسم محمد جلالی نام تھا۔۔۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت ﷺ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے ۔۔۔ اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھا جائے تا اس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے‘‘۔ (’اشتہار واجب الاظہار‘ بحوالہ مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعودؑ حصہ سوم صفحہ ۳۵۶۔۳۶۶)

۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۵ء کو دہلی میں ایک صاحب نے حضرت اقدسؑ سے عرض کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے، آپ نے اپنے فرقہ کا نام احمدی کیوں رکھا ہے؟ یہ بات ھو سمّٰکم المسلمین (الحج:۷۹) کے برخلاف ہے۔ اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا:

’’اسلام بہت پاک نام ہے اور قرآن شریف میں یہی نام آیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ حدیث شریف میں آ چکا ہے اسلام کے تہتر فرقے ہوگئے ہیں اور ہر ایک فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ انہی میں ایک رافضیوں کا ایسا فرقہ ہے جو سوائے دو تین آدمیوں کے تمام صحابہؓ کو سّب و شتم کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے ازواجِ مطہرات کو گالیاں دیتے ہیں۔ اولیاء اللہ کو برا کہتے ہیں۔ پھر بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔ خارجی حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو برا کہتے ہیں اور پھر بھی مسلمان نام رکھاتے ہیں۔ بلادِ شام میں ایک فرقہ یزیدیہ ہے جو امام حسینؓ پر تبرّہ بازی کرتے ہیں اور مسلمان بنے پھرتے ہیں۔ اسی مصیبت کو دیکھ کر سلف صالحین نے اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے تمیز کرنے کے واسطے اپنے نام شافعی ، حنبلی وغیرہ تجویز کئے۔ آجکل نیچریوں کا ایک ایسا فرقہ نکلا ہے جو جنت ، دوزخ، وحی، ملائک سب باتوں کا منکر ہے یہاں تک کہ سید احمد خاں کا خیال تھا کہ قرآن مجید بھی رسول کریم ﷺ کے خیالات کا نتیجہ ہے اور عیسائیوں سے سن کر یہ قصے لکھ دیئے ہیں۔ غرض ان تمام فرقوں سے اپنے آپ کو تمیز کرنے کے لئے اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا گیا‘‘۔

مزید ارشاد فرمایا:

’’ہم مسلمان ہیں اور احمدی ایک امتیازی نام ہے۔ اگر صرف مسلمان نام ہو تو شناخت کا تمغہ کیونکر ظاہر ہو۔ خدا تعالیٰ ایک جماعت بنانا چاہتا ہے اور اس کا دوسروں سے امتیاز ہونا ضروری ہے۔ بغیر امتیاز کے اس کے فوائد مترتب نہیں ہوتے اور صرف مسلمان کہلانے سے تمیز نہیں ہوسکتی۔ امام شافعیؒ اور حنبلؒ وغیرہ کا زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس وقت بدعات شروع ہو گئی تھیں۔ اگر اس وقت یہ نام نہ ہوتے تو اہل حق اور ناحق میں تمیز نہ ہوسکتی۔ ہزارہا گندے آدمی ملے جلے رہتے۔ یہ چار نام اسلام کے واسطے مثل چاردیواری کے تھے۔ اگر یہ لوگ پیدا نہ ہوتے تو اسلام ایسا مشتبہ مذہب ہو جاتا کہ بدعتی اور غیربدعتی میں تمیز نہ ہوسکتی۔ اب بھی ایسا زمانہ آگیا ہے کہ گھر گھر ایک مذہب ہے۔ ہم کو مسلمان ہونے سے انکار نہیں، مگر تفرقہ دور کرنے کے واسطے یہ نام رکھا گیا ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

’’جو لوگ اسلام کے نام سے انکار کریں یا اس نام کو عار سمجھیں، ان کو تو میں لعنتی کہتا ہوں۔ میں کوئی بدعت نہیں لایا۔ جیسا کہ حنبلی شافعی وغیرہ نام تھے ایسا ہی احمدی بھی نام ہے بلکہ احمد کے نام میں اسلام کے بانی احمد ﷺ کے ساتھ اتصال ہے اور یہ اتصال دوسرے ناموں میں نہیں۔ احمد، آنحضرت ﷺ کا نام ہے۔اسلام احمدی ہے اور احمدی اسلام ہے۔ حدیث شریف میں محمدی رکھا گیا ہے۔ بعض اوقات الفاظ بہت ہوتے ہیں مگر مطلب ایک ہی ہوتا ہے۔ احمدی نام ایک امتیازی نشان ہے۔ آج کل اس قدر طوفان زمانہ میں ہے کہ اول آخر کبھی نہیں ہوا۔ اس واسطے کوئی نام ضروری تھا۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک جو مسلمان ہیں، وہ احمدی ہیں۔‘‘ (بدر ۳؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔۴، بحوالہ ملفوظات حضرت مسیح موعود ؑ جلد ۴ صفحہ ۵۰۰۔۵۰۲ جدید ایڈیشن)

خدا تعالیٰ نے اس مبارک نام کو قبولیت کا ایسا عالمی شرف بخشا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ مصر سے دائرۃ المعارف الاسلامیہ کے نام سے ضخیم انسائیکلوپیڈیا شائع ہوئی ہے جس میں الاحمدیہ ہی کے زیر عنوان بہت قیمتی نوٹ چھپا ہے۔ علاوہ ازیں مجلتہ الازھر شعبان ۱۳۷۸ھ (فروری ۱۹۵۹ء) میں مدیر مذہبیات الدکتور محمد عبداللہ کے قلم سے جماعت احمدیہ کے جرمن قرآن پر تبصرہ کا آغاز ہی ان الفاظ سے کیا گیا ہے ’’نشرت ھذہ الترجمہ البعثۃ الاحمدیہ‘‘۔

پاکستان میں ’’اردو انسائیکلوپیڈیا‘‘ ، ’’اردو جامع انسائیکلوپیڈیا‘‘ اور ’’شاہکار انسائیکلوپیڈیا‘‘ بالترتیب فیروز سنز لاہور، غلام علی اینڈ سنز لاہور اور شاہکار بک فاؤنڈیشن کراچی کی طرف سے منظر عام پر آ چکے ہیں ان سب میں احمدی نام موجود ہے۔ حضرت قائد اعظم کی پریس ریلیز اخبار ڈان (DAWN) کی ۸ اکتوبر ۱۹۴۵ء کی اشاعت میں درج ذیل الفاظ میں چھپی:

"Ahmadiyya Community to support Muslim League”

ڈاکٹر سر محمد اقبال نے لکھا ’’جہاں تک میں نے اس تحریک کے منشا کو سمجھا ہے احمدیوں کا اعتقاد ہے کہ مسیح کی موت ایک عام فانی انسان کی موت تھی‘‘ (’اقبال اور احمدیت صفحہ ۹۰ مرتبہ بشیر احمد ڈار ناشر آئینہ ادب چوک مینار انارکلی لاہور)

پاکستان کے محقق و مؤرخ شیخ محمد اکرام صاحب ایم۔اے نے ’’موجِ کوثر‘‘ میں، جسٹس منیر اور جسٹس کیانی نے ’’رپورٹ تحقیقاتی عدالت‘‘ میں۔ جناب اصغر علی گھرال صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور نے اپنی کتاب ’’اسلام یا ملاّ ازم‘‘ میں بے دریغ احمدی ہی کا نام استعمال کیا ہے۔

پاکستانی پریس قیام پاکستان سے لے کر آج تک بے شمار مرتبہ یہ مبارک نام استعمال کرچکا ہے مثلاً’’ پاکستان ٹائمز‘‘ (۱۳؍نومبر ۱۹۸۰ء)،’’ مشرق‘‘ (۳۰ جون ۱۹۷۴ء) ’’نوائے وقت‘‘ (۱۲ ؍اپریل ۱۹۶۰ء)، ہفت روزہ ’’رضاکار ‘‘لاہور (۲۴ مئی ۱۹۷۳ء)۔

احمدیت کے مخالف لٹریچر میں بھی مدت سے احمدی نام کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ جناب ملک محمد جعفر خان نے احمدیت کی مخالفت میں جو کتاب لکھی ہے اس کا نام ہی ’’احمدیہ تحریک‘‘ رکھا ہے۔

مفکر احرار چوہدری افضل حق نے ’’فتنہ ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیوں‘‘ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کو زبردست خراج تحسین ادا کرتے ہوئے انہیں احمدی کے ہی نام سے یاد کیا ہے۔ مولوی ظفر علی خان مدیر ’’زمیندار‘‘ نے ۱۹؍مارچ ۱۹۳۶ء کو تقریر کرتے ہوئے کہا کہ:

’’احمدیوں کی مخالفت کا احرار نے محض جلب زر کے لئے ڈھونگ رچا رکھا ہے۔‘‘ (تحریک مسجد شہید گنج صفحہ ۱۶۹۔ مؤلفہ جانباز مرزا)

نامور اہل حدیث عالم میر ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے ’’پیغام ہدایت در تائید پاکستان و مسلم لیگ‘‘ کے صفحہ ۱۱۲، ۱۱۳ پر کئی بار احمدی کا لفظ استعمال کیا۔ نیز لکھا:

’’احمدیوں کا اس اسلامی جھنڈے (تحریک پاکستان مراد ہے۔ ناقل) کے نیچے آ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔‘‘

’’اور اس امر کا اقرار کہ احمدی اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں ، مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی ہے‘‘

یہ حیرت انگیز واقعہ مجسٹریٹ درجہ اول کوئٹہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ نام نہاد ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مولوی تاج محمد صاحب نے ۲۱؍دسمبر ۱۹۸۵ء کو بیان دیا کہ:

’’ یہ درست ہے کہ حضور رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جو آدمی نماز پڑھتا تھا، اذان دیتا تھا یا کلمہ پڑھتا تھا اس کے ساتھ مشرک یہی سلوک کرتے تھے جو اب ہم احمدیوں سے کر رہے ہیں۔‘‘

غرضیکہ کہاں تک بیان کیا جائے احمدی کا مبارک نام عرب و عجم اور احمدی اور غیر احمدی حلقوں میں قریباً ایک صدی سے استعمال ہو رہا ہے اور جماعت احمدیہ کی دائمی پہچان اور شناخت بن چکا ہے۔ اس ضمن میں قارئین الفضل کو یہ چونکا دینے والا انکشاف یقیناً ورطہ حیرت میں ڈال دے گا کہ سیاسی ملاؤں نے ۱۹۵۲ء کی ایجی ٹیشن کے دوران یہ فتوی دیا کہ:

’’مرزائی چونکہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی بجائے احمدی کہلاتے ہیں ۔۔۔ لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے۔‘‘ (احراری اخبار ’’آزاد‘‘ لاہور ۱۱؍ستمبر ۱۹۵۲ء صفحہ۹ کالم ۲، مطالبہ نمبر)

اس ضمن میں مولوی عبدالحامد بدایونی صاحب نے ۹ جولائی ۱۹۵۲ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر عنوان آرام باغ میں جو تقریر کی اس کا خلاصہ اخبار ‘‘آزاد‘‘ ۱۳؍جولائی ۱۹۵۲ء نے صفحہ نمبرایک پر پہلی سطر میں نہایت درجہ جلی قلم سے حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا:

’’مرزائی اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی بجائے احمدی کہلاتے ہیں ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔

نیز رپورٹ میں مزید لکھا کہ:

’’آپ نے اس تجویز کو پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی دلیل یہ ہے کہ مرزائیوں نے اپنے آپ کو کبھی مسلمان نہیں کہلایا وہ خود اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔‘‘ (صفحہ۱ کالم۲)

اب ان سیاسی ملاؤں کی حالیہ قلابازی ملاحظہ ہو کہ پچھلے دنوں پاکستان کی نگران حکومت نے جب یہ شوشہ چھوڑا کہ پاکستانی سفارتخانوں کو یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ پاسپورٹوں میں قادیانی کی بجائے احمدی کا لفظ استعمال کیا جائے تو پاکستان کے علاوہ برطانیہ میں مقیم سیاسی ملاؤں نے بھی ایک زبردست ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس ضمن میں روزنامہ جنگ لندن ۱۴ جنوری ۱۹۹۷ء نے صفحہ۷ پر ایک مفصل رپورٹ شائع کی جس کی دوہری سرخی یہ تھی:

’’قادیانیوں کو احمدی لکھنے کے فیصلے پر برطانیہ بھر کے علماء کا احتجاج۔نگران حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو مسلمان میدان میں آنے پر مجبور ہوں گے۔ دینی رہنماؤں کا ردّعمل‘‘

ازاں بعد لندن کے اخبار ’’دی نیشن‘‘ ۲۴ تا ۳۰؍ جنوری ۱۹۹۷ء کے صفحہ۵ پر لندن کی مرکزی جماعت اہل سنت کی اپیل پر ’’یوم تاجدار ختم نبوت‘‘ منائے جانے کی خبر اشاعت پذیر ہوئی جس میں کہا گیا کہ:

’’قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو پھر انہیں شعائر اسلام استعمال کرنے کی اجازت دینا تعلیمات مصطفوی سے انحراف ہے۔‘‘

بالفاظ دیگر ’’احمدی‘‘ کا نام شعائر اسلام میں سے ہے اس لئے جماعت احمدیہ کے لئے اس کا استعمال تعلیمات مصطفوی سے انحراف کے مترادف ہے۔ حالانکہ ایک صدی سے خود ان حضرات کے اکابر و اصاغر یہ نام استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر امت مسلمہ ’’یوم تاجدار ختم نبوت‘‘ منانے والے سیاسی ملاؤں اور طالع آزماؤں سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ اعلان کریں کہ جماعت کے لئے احمدی کا لفظ استعمال کرنے والوں کو کیا تعلیمات مصطفوی سے منحرف اور باغی قرار دیتے ہیں؟؟ علامہ شبلی نعمانی نے کیا خوب کہا تھا

کرتے ہیں مسلمانوں کی تکفیر شب و روز

بیٹھے ہوئے کچھ ہم بھی تو بیکار نہیں ہیں

پاکستان کے فاضل ادیب و کالم نویس جناب عنایت حسین صاحب بھٹی نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور (۲۰ جنوری ۱۹۹۷ء) میں سیاسی ملاؤں کے اس طرز عمل پر ایک نہایت دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:

’’مولوی صاحبان نے احتساب کرانے کا بیڑہ اٹھایا تھا اور الیکشن سے لاتعلقی کا اعلان فرمایا۔ وہ احمدی اور قادیانی مسئلہ میں الجھ گئے یا الجھا دیئے گئے اور حسب سابق پٹڑی سے اتر گئے۔ لیکن مولوی حضرات سے ایک سوال کرنے کی جرأت کروں گا کہ قادیانی سوائے پاکستان کے پوری دنیا میں احمدی کہلاتے ہیں۔ پورے افریقہ میں ان کے مشن ہیں جو لوگوں کو تبلیغ کرکے ان کے مذاہب تبدل کرکے ان کو احمد کا نام دیتے ہیں۔ پورے یورپ اور دیگر ممالک میں وہ احمدی کہلاتے ہیں حتیٰ کہ بھارت میں بھی ان کو احمدی کہا جاتا ہے۔ مگر صرف پاکستان میں احمدی نہ کہا گیا تو کیا فرق پڑے گا۔ یہاں ایک لطیفہ سنئے کہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر پر ایک سکھ چڑھ گیا اور بارہ بجنے میں پانچ منٹ پر اس نے گھڑیال کا پنڈولم پکڑ لیا اور کہنے لگا اب میں زیادہ نہیں بجنے دوں گا۔ لوگ ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ سردار جی جب ساری دنیا کی گھڑیوں پر بارہ بج جائیں گے تو اگر ایک گھڑیال میں نہ بجے تو کیا فرق پڑے گا۔ مولوی حضرات سے گزارش ہے کہ قرآن میں ارشاد پروردگار ہے لا اکراہ فی الدین دین میں جبر نہیں، آپ سیاست کو چھوڑ کر دین کی تبلیغ کیوں نہیں کرتے۔ لوگوں کو دلائل سے قائل کیجئے کہ صحیح اسلام کیا ہے، دنیا میں اپنے تبلیغی مشن بھیجیں تاکہ لوگ صحیح دین سے متعارف ہوں، ڈنڈے سے کام تو وہ لیتا ہے جس کے پاس دلائل نہ ہوں۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍مئی ۱۹۹۷ء تا ۵؍جون ۱۹۹۷ء)

قومی اسمبلی 1974کی کا روائی پر تبصرہ

قومی اسمبلی 1974کی کا روائی پر تبصرہ

کتاب کا تعارف

          ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صا حب نے ایک مؤرخ کی حیثیت سے 1974ء سے قبل کے حالات اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارگزاری کا جائزہ لیا ہے۔ بحیثیت مؤرخ واقعات کی جستجو اور پڑتال کی غرض سے اس دور کی بعض سرکردہ شخصیات سے ملاقات کرکے ان کے انٹرویو بھی لئے۔
        قومی اسمبلی کی کارروائی خفیہ قرار دی گئی تھی۔ اب قریباً چار دہائیوں کے بعد قومی اسمبلی کی سپیکر محترمہ فہمیدہ مرزا صا حبہ کی زیر ہدایت اس سے پردہ اخفا اٹھالیا گیا ہے اور پابندی ختم کردی گئی ہے اور کارروائی سرکاری طور پر شائع بھی کردی گئی ہے مگر یہ کارروائی بالعموم دستیاب نہیں۔
        پاکستان کی نئی نسل اور علمی حلقوں میں اس کارروائی کے بارہ میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر محققین بھی یہ جاننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ خصوصی کمیٹی کی کارروائی میں اسمبلی کے سامنے معاملہ کس رنگ میں زیر بحث لایا گیا ، اسمبلی کے آئینی اختیارات کیا تھے، جماعت احمدیہ کا مؤقف کیا تھا، امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پر جو جرح کی گئی اس کا اثر اور ماحصل کیا تھا، قومی اسمبلی اس معاملے سے کس انداز سے نبرد آزما ہوئی اور کہاں تک اس نازک ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکی۔
         دریں اثنا مذکورہ واقعات کے بارہ میں ایک مؤرخ کا بیان قارئین کی خدمت میں ”خصوصی کمیٹی میں کیاگزری … تاریخ کا ایک باب“ کے عنوان سے پیش ہے۔ اس میں 7/ ستمبر 1974ء کی منظور کردہ آئینی ترمیم اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارگزاری اور پس منظر اور پیش منظر بیان کئے گئے ہیں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

مضمون وار کتاب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مکمل کتا ب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

حضرت مسیح ناصری کی آمد ثانی

حضرت مسیح ناصری کی آمد ثانی

سید احمد علی۔ نائب ناظر اصلاح و ارشاد۔ ربوہ

کامل شریعت قرآن کریم نے یہود و نصاری کے غلط عقائد کی طرف پرزور دلائل سے توجہ دلائی ہے۔ مثلاً یہ کہ جناب مسیح صلیب پر ہرگز نہ مرے تھے کہ ان کو جھوٹا اور لعنتی کہہ کر رد کر دیا جائے۔ اور نہ وہ زندہ ہو کر آسمان پر گئے اور نہ جسم عنصری کے ساتھ زمین کی طرف واپس آئیں گے کیونکہ حضرت مسیح نے واضح کر دیا تھا کہ : ’’آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سو ا اس کے جو آسمان سے اترا یعنی ابن آدم جو آسمان میں ہے‘‘۔(یوحنا باب ۳ آیت ۱۳)
اور فرمایا کہ:’’ میں آسمان سے اترا ہوں‘‘(یوحنا باب ۶ آیت ۳۸)
’’ ہمارا وطن آسمان میں ہے‘‘۔(فلپی باب ۳ آیت ۲۰)
ان بیانات میں حضرت مسیح اپنا اترنا آسمان سے اور چڑھنا اور پھر آسمان میں ہونے کا تمثیلی طورپر اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے پیارے اور پاک لوگ ہر وقت آسمانی باتیں کرتے ہیں اور آسمان پرہوتے ہیں جیسا کہ (فلپی باب ۳ آیت ۲۰) کا بیان پڑھ چکے ہیں اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود
علیہ السلام بھی انہیں معنوں میں فرماتے ہیں ؂
ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں
آسماں پر رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار
پس جناب مسیح ناصریؑ نہ تو اس خاکی جسم کے ساتھ آسمان پرگئے اور نہ دوبارہ زمین پر آنے والے ہیں کیونکہ انجیل ’’متی‘‘ اور’’ یوحنا‘‘ جو ’’ رسول‘‘ کہلاتے ہیں (متی باب ۱۰ آیت ۲ اور ۳) اور حواری اور موقع کے گواہ تھے ان دونوں نے آسمان پر جانے کا قطعاً ذکر نہیں کیا۔ ہاں ’’مرقس ‘‘اور ’’لوقا ‘‘نے ذکر کیا ہے مگر یہ دونوں نہ حواری ، نہ رسول اور نہ موقع کے گواہ تھے ۔ان کا بیان حواریوں کے مقابلہ میں قطعاً قابل توجہ اور لائق قبول نہیں اور انہوں نے بھی لوگوں سے باتیں ’’دریافت‘‘ کرکے لکھی ہیں(لوقا باب ۱ آیت۳)249 نہ کہ کسی الہام سے ۔ اسی لئے امریکہ سے جو اب نئی بائبل (ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورشن) نام سے شائع ہوئی ہے اس میں ’’مرقس‘‘ اور ’’ لوقا‘‘ کے آسمان پر جانے کے مضمون کو پرانی اناجیل کے خلاف اور الحاقی ہونے کی وجہ سے اس نئی بائبل سے بالکل خارج کر دیا ہے اور اب کسی بھی انجیل میں مسیح کے آسمان پر جانے کا کوئی ثبوت نہیں۔
دراصل مسیح کا آسمان پرجانا اورآنا تمثیلی کلام ہے (جیساکہ یوحنا باب ۳ آیت ۱۳ اور باب ۶ آیت ۳۸ ، فلپی باب ۳ آیت ۲۰ سے عیاں ہے) اورجو ٹھیک حضرت ایلیاہ نبی کی طرح کا ہے جن کے متعلق لکھا ہے کہ ’’ایلیاہ بگولے میں ہوکر آسمان پر جاتا رہا‘‘ (۲۔ سلاطین باب ۲
آیت ۱۱) اور پھر آسمان سے واپس آنے کی بھی یہ پیشگوئی تھی کہ:
’’ دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا‘‘۔(ملاکی باب ۴ آیت ۵)
ان واضح پیش خبریوں کی بنا پر یہودی حضرت ایلیاہ نبی کی مسیح سے پہلے آمد کے شدت سے منتظر تھے مگر حضرت مسیحؑ نے اس مسئلہ کاحل یوں فرمایا کہ
’’ ایلیاہ کی روح اور قوت میں‘‘ (لوقا باب ۱ آیت ۱۷) اس کا مثیل بن کر کسی اور وجود کا آنا مراد ہے جیسا کہ لکھا ہے:
’’شاگردوں نے اس سے پوچھا کہ پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ ایلیاہ کا پہلے آنا ضروری ہے ۔ اس نے جواب میں کہا کہ ایلیاہ تو البتہ آ چکا وہ سب کچھ بحال رہے گا لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیاہ تو آ چکا اور اس کو انہوں نے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیااسی طرح ابن آدم بھی ان کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ہم سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہاہے‘‘۔(متی باب ۱۷ آیات ۱۱ تا ۱۳)
حضرت مسیح کے اس بیان میں دو باتیں واضح کر دی گئی ہیں:۔
اول:۔۔۔ یہ کہ ایلیاہ نبی جو آسمان پرگیا اور دوبارہ آنے والا تھا اس کی بجائے اس کامثیل آنا مراد ہے۔
دوم:۔۔۔ یہ کہ ایلیاہ نبی کے مثیل کو جس طرح نہ پہچان کر دکھ دئے گئے ابن آدم یعنی میں بھی جب دوبارہ آؤں گا تو خودنہیں بلکہ میرا مثیل بن کر کوئی شخص آئے گا اور وہ بھی یوحنا کی طرح دکھ اٹھائے گا۔
کیونکہ حضرت مسیح اس مسئلہ کو بوضاحت اور کھول کھول کر بیان کر چکے ہیں کہ :
۱۔۔۔’’ میں آگے کو دنیا میں نہیں ہونگا‘‘(یوحنا ۱۷: ۱۱)
۲۔۔۔ ’’ابن آدم نئی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا‘‘۔(متی باب ۱۹ آیت ۲۸)
اب کیا کوئی عیسائی یہ مان سکتا ہے کہ حضرت مسیح جب دو ہزارسال کی عمر میں آئیں گے تو وہ حضرت مریمؑ کے ہاں دوبارہ پیدا ہونگے؟ ہر گزنہیں۔ پس اس سے یہی مراد ہے کہ مسیح کی دوبار ہ آمد بھی ایلیاہ نبی کی طرح بطور مثیل کسی اوروجود میں ہوگی۔
۳۔۔۔ پھر فرماتے ہیں کہ ’’ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے جب تک یہ نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے‘‘۔(متی۲۳:۳۹ ، لوقا۱۳:۳۵)
یہ بیان کتناصاف اور واضح اور اس عیسائی عقیدہ کو رد کرتا ہے کہ مسیح دوبارہ خود آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں، تم مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے ہاں میرے نام پر کوئی اور شخص ایلیاہ کی طرح میرا مثیل بن کر آئے گا۔ورنہ یہودیوں کو کیاجواب دیا جا سکتا ہے؟ اگر مسیح دوبارہ آ سکتا ہے تو ایلیاہ کو بھی خودآنا چاہئے۔ اگرایلیاہ دوبارہ نہیں آ سکتا تو مسیح بھی دوبارہ قطعاً نہیں آ سکتا۔ بلکہ اس کا مثیل بن کر آپ کے نام پرکوئی اور شخص آنا مراد ہے۔’’ اگر در خانہ کس است حرفے بس است‘‘
پس بائبل کے بیان کردہ حقائق کے پیش نظر ہم عیسائی حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ کامل مذہب اسلام ، نجات کا ذریعہ قرآن اور تمام دنیا کے لئے کامل نمونہ اورکامل تعلیم لے کر آنے والے حضرت محمد مصطفی ﷺ نبیوں کی پیشگوئیوں کے مصداق آ چکے جو حضرت موسیٰ کی مانند نبی صاحب شریعت اورعہد کے رسول ہیں۔ اور عیسائی عقائد کی اصلاح کے لئے پیشگوئیوں کے مطابق خدا نے حضرت مسیح ناصری کا مثیل بنا کر اسلام میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود بنا کر مبعوث فرما دیا ہے آپ نے خدا سے الہام پا کر اعلان کیا کہ :
(الف): ’’مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے‘‘۔(ازالہ اوہام)
(ب): ’’ مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو ‘‘(فتح اسلام )
(ج) :اور فرمایا کہ:’’ مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا ہے تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے سو میں صلیب کو توڑنے اور خنزیروں کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔
(فتح اسلام)
حضرت بانی جماعت احمدیہ مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نہ صرف قرآن و حدیث کے معیار وں کی رو سے بلکہ بائبل کے صادق ماموروں کی پہچان کے لئے بیان کردہ معیاروں کی رو سے بھی خدا کی طرف سے صادق و راستباز مامور ہیں۔ ملاحظہ ہو:
اول:۔۔۔ صادق مدعی کے دعویٰ سے پیشتر کی زندگی کا پاکیزہ اور بے عیب و مطہّر ہونا اس کے دعویٰ کی صداقت او ر حقانیت کا زبردست ثبوت ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح ناصریؑ فرماتے ہیں:’’ تم میں سے کون مجھ پر گناہ ثابت کر سکتا ہے‘‘۔(یوحنا باب ۸ آیت ۴۶)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چیلنج کیا کہ :
’’ تم کوئی عیب ،افتراء یاجھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے‘‘۔(تذکرۃ الشہادتین )
چنانچہ کوئی مخالف آپ کی پہلی زندگی پر حرف نہ لا سکا بلکہ مولوی محمد حسین بٹالوی، مولانا میرحسن صاحب سیالکوٹی، مولوی ثناء اللہ امرتسری اور مولوی سراج الدین صاحب ایڈیٹر اخبار ’’زمیندار‘‘ لاہور وغیرہ نے آپ کی پاکیزگی کی تعریف کی ہے۔
دوم:۔۔۔ جناب مسیح ناصریؑ فرماتے ہیں :’’ جو پودا میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا وہ جڑ سے اکھاڑا جائے گا‘‘۔(متی باب ۱۵ آیت۱۳)
اگر بانی جماعت احمدیہ خدا کے صادق و راستباز مامور نہ ہوتے تو کب کے تباہ وبرباد ہو چکے ہوتے کیونکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ؂
لعنت ہے مفتری پہ خدا کی کتاب میں
عزت نہیں ہے ذرّہ بھی اس کی جناب میں
توریت میں بھی نیز کلامِ مجید میں
لکھا گیا ہے رنگ وعید شدید میں
کوئی اگر خدا پہ کرے کچھ بھی افتراء
ہو گا وہ قتل ہے یہی اس جرم کی سزا
سوم:۔۔۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادق مامور مدعی ہو خداتعالیٰ ہر موقع پر اس کی تائید و نصرت اور مدد فرماتا ہے اورکامیاب کرتا ہے جیسا کہ حضرت داؤد ؑ فرماتے ہیں کہ:
’’صادق کھجور کے درخت کی مانندسرسبز ہو گا۔ وہ لبنان کے دیودار کی طرح بڑھیگا‘‘۔(زبور باب۹۲آیات ۱۲،۱۳)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ۱۸۸۹ء سے اب تک دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنا اور دنیا کے ۱۵۳ ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں احمدیوں کا ہو جانا اور آپ کے ماننے والوں میں یہودیوں ، عیسائیوں، ہندو ؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کے ۷۲فرقوں میں سے نکل نکل کر نیکی ، تقویٰ اور ایمانی وعملی حالت میں قدم آگے ہی آگے بڑھانے والوں کا ہونا آپ کے دعویٰ کی صداقت کا زبردست ثبوت اور روشن نشان ہے ؂
کبھی نصرت نہیں ملتی درمولیٰ سے گندوں کو
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
چہارم:۔۔۔ آخرمیں ہم عیسائی حضرات کو انجیل کا یہ بیان سنا کر مضمون ختم کرتے ہیں:
’’ملی ایل نامی ایک فریسی نے جو شرع کا معلم اور سب لوگوں میں عزت دار تھا عدالت میں کھڑے ہو کر کہا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ ان آدمیوں سے کنارہ کرو اور ان سے کچھ کام نہ رکھو ایسا نہ ہو کہ خدا سے بھی لڑنے والے ٹھہرو۔ کیونکہ یہ تدبیر یا کام اگر آدمیوں کی طرف سے ہے تو آپ برباد ہو جائے گا لیکن اگر خدا کی طرف سے ہے تو تم ان لوگوں کومغلوب نہیں کر سکو گے‘‘۔(اعمال باب ۵ آ یت ۳۴ تا ۳۹)
صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں
اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوفِ کردگار
آؤ عیسائیو! ادھر آؤ! نورِ حق دیکھو راہ حق پاؤ
جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ
*۔۔۔*۔۔۔*

(مطبوعہ:الفضل انٹرنیشنل ۱۳؍فروری۱۹۹۸ء تا۱۹؍فروری ۱۹۹۸ء)

کیا حضرت مسیح ؑ نے کہا تھا کہ وہ مرنے کےتین دن بعد پھر جی اٹھے گا

کیا حضرت مسیح ؑ نے کہا تھا کہ وہ مرنے کےتین دن بعد پھر جی اٹھے گا

مسعود احمد خان دہلوی ۔ جرمنی

اناجیل اربعہ میں ابن آدم یعنی ابن مریم کے متعلق اس امر کا متعدد بار ذکر آتا ہے کہ اس نے اپنے حواریوں اور درپئے جاں یہودیوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لوگوں کی طرف سے اسے بہت دکھ دیا جائے گا حتی کہ دکھ جھیلنے کے دوران ہی وہ چل بسے گا لیکن مرنے کے تین دن بعد وہ پھر جی اٹھے گا۔ عیسائی حضرات اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور ایسا ہی ظہور میں آیا یعنی مسیح مرنے کے بعد پھر جی اٹھا۔ چنانچہ وہ دوبارہ جی اٹھنے کے مزعومہ واقعہ کو ’’الوہیت مسیح‘‘ کے ایک ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
قبل اس کے کہ ہم انجیل میں مذکور پیشگوئیوں کے اصل الفاظ کے بارہ میں ایک مغربی محقق کی ریسرچ کا ماحصل پیش کریں، یہ بتانا ضروری ہے کہ گزشتہ صدی کے دوران جب عیسائی پادریوں نے ہندوستان کی پوری آبادی کو عیسائیت کا حلقہ بگوش بنانے کی غرض سے ایک زبردست مشنری مہم کا آغاز کیا تو بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہندوستان میں عیسائیت کی یلغار کو روکنے اور عیسائیت کے مشرکانہ عقائد کا پول کھولنے کے لئے عیسائیوں پر اتمام حجت کا فریضہ دو طرح سے ادا فرمایا۔ ایک تو آپؑ نے بڑے ہی محکم دلائل کے ساتھ اس امر کو بڑی شدومد اور تحدی سے پیش فرمایا کہ مسیح علیہ السلام طویل عمر پاکر طبعی موت سے فوت ہوگئے تھے اس لئے اب وہ اللہ تعالیٰ کی قدیمی سنت مستمرہ کے مطابق اسی جسد عنصری کے ساتھ واپس نہیں آئیں گے اور نہ وہ کبھی آ سکتے ہیں۔ دوسرے حضور علیہ السلام نے از روئے انجیل خود واقعاتی شہادتوں اور بیرونی شواہد کی روشنی میں اس امر کا حتمی اور یقینی ثبوت بہم پہنچایا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ صلیب پر سے زندہ اتارے جانے کے بعد آپ اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی تلاش میں فلسطین سے خفیہ طور پر نکل کھڑے ہوئے اور جانب شرق سفر کرتے ہوئے کشمیر پہنچے اور پھر وہاں اپنا مشن پورا کرنے کے بعد آپ نے طبعی موت سے وفات پائی اور سرینگر کے محلہ خانیار میں دفن ہوئے جہاں ان کا مزار آج تک موجود ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جب مسیح علیہ السلام صلیب پر مرے ہی نہ تھے تو پھر اس امر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ تین دن کے بعد جی اٹھتے۔ اس سے دو ہی باتیں مستنبط ہوتی ہیں ایک یہ کہ اناجیل میں مندرج مسیح کی طرف منسوب کی جانے والی یہ پیشگوئی کہ وہ مرنے کے تین دن بعد جی اٹھے گا الحاقی ہے یا پھر عین ممکن ہے کہ مسیح علیہ السلام نے پیشگوئی کے طور پر کچھ اور فرمایا ہو جسے بدل کر کچھ کا کچھ کردیا گیا ہو۔ اس عقیدہ کو گزشتہ صدی کے ایک مغربی محقق نے اپنی کتاب میں حل کیا ہے۔ اس مغربی محقق کی تحقیق کا لبّ لباب پیش کرنا ہی فی الوقت ہمارے مدّنظر ہے۔
گزشتہ صدی میں ہوگزرنے والے اس برطانوی محقق کا نام تھا Mr. Keningale Cook M.A., LLD. (کیننگیل کک ایم۔اے، ایل۔ ایل۔ ڈی)۔ مسٹر کُک نے آج سے تقریباً ایک صدی سے بھی قبل کے زمانہ میں "The Fathers of Jesus” کے نام سے دو جلدوں پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی جس میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ مروجہ مسیحی عقائد کے اصل ماخذ کون کون سے ہیں یعنی قبل از مسیح کے زمانہ قدیم میں یورپ اور ایشیا میں جو مذہبی عقائد و نظریات رائج تھے ان کے بعض حصوں کو بعد کے مسیحیوں نے کس طرح اناجیل میں داخل کرکے مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیا اور اسے خدا کی الوہیت میں شریک ٹھہرایا۔ اس کتاب کو اس وقت کے مشہور برطانوی اشاعتی ادارے Kegan Paul, Paternoster Square, London نے ۱۸۸۶ء میں شائع کیا۔ اس کی جلد اول کے باب دوم بعنوان "An Aryan Ancestor” (ایک آریائی مورث اعلیٰ) میں اس امر پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے کہ مسیح نے اپنے مرنے کے بارہ میں پیشگوئی کے طور پر جو کچھ کہا تھا بعد میں اسے اپنے تبدیل شدہ عقائد کی روشنی میں کچھ اور ہی معانی پہنا دئے گئے۔ مسٹر کُک نے ثابت یہ کیا ہے کہ یونانی زبان میں تحریر کردہ قدیم ترین نسخہ میں جو ایک مقدس مخطوطہ کے طور پر آج بھی محفوظ ہے مسیح کا مذکورہ قول درج کرتے ہوئے ’’مر کر جی اٹھنے‘‘ کے مفہوم کے طور پر جو یونانی لفظ استعمال ہوا ہے وہ مر کر جی اٹھنے کے معنوں میں استعمال ہی نہیں ہوتا۔ اس یونانی لفظ کا انگریزی تلفظ ہے ANASTASY۔ مسٹر کُک کا کہنا یہ ہے کہ قدیم یونانی زبان کا یہ لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تو اس کے معنے ہیں بیٹھی ہوئی یا لیٹی ہوئی حالت سے اٹھ کر’’سیدھا کھڑا ہونا‘‘ اور دوسرے معنے ہیں ’’بیدار ہونا‘‘۔ جب اس قدیم یونانی مخطوطہ کو انگریزی میں منتقل کیا گیا تو اس یونانی لفظ کا ترجمہ تو Raise up ہی کیا گیا جس کے لفظی معنے کھڑا ہونا ہی ہیں لیکن عیسائی مترجمین نے اپنے بدلے ہوئے عقیدہ کو درست ثابت کرنے کے لئے اس انگریزی لفظ کے معانی میں ’’جی اٹھنے‘‘ کا مفہوم بھی داخل کردیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لفظ اس مفہوم کا متحمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔
یہ ثابت کرنے کے بعد مسٹر کُک نے انجیل کی متعلقہ آیات درج کی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ آیات درج کرتے وقت بریکٹ میں Raise up کا اصلی لفظی ترجمہ درج کرکے اس امر کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ مسیح کا اصل مطلب کیا تھا۔ ان کی درج کردہ آیات کا متن بریکٹ میں درج کئے ہوئے الفاظ سمیت بمعہ اردو ترجمہ ہم یہاں درج کرتے ہیں:
۱۔ جب یہودیوں نے مسیح سے نشان دکھانے کا مطالبہ کیا تو اس نے انہیں مخاطب ہوکر کہا:
"Destroy this temple, and in three days I will raise it up (literally "awaken it”) . . . . . He spoke of his body” (John ii 19,21)
ترجمہ: اس ہیکل کو ڈھا دو اور میں اسے تین دن میں کھڑا کردوں گا (لفظی معنوں کی رو سے اسے ’’بیدار کردوں گا‘‘ ) ۔۔۔ اس نے یہ اپنے بدن کی ہیکل کی بابت کہا تھا۔ (یوحنا باب ۲، آیات ۱۹، ۲۱)
۲۔ جب یسوع مسیح اپنے حواریوں کے ساتھ گلیل نامی شہر میں پھرتا تھا تو اس نے ان سے کہا:
"The son of man is about to be delivered into the hands of men, and they will kill him, and the third day he will be raised (literally "awakened”) (Matt. xvii, 22)
ترجمہ: انسان کا بیٹا آدمیوں کے ہاتھوں حوالہ کیا جائے گا اور وہ اسے مار دیں گے اور وہ تیسرے دن جی اٹھے گا (لفظی معنوں کی رو سے ’’وہ بیدار ہو جائے گا‘‘) ۔
(متی باب ۱۷، آیت ۲۲)
(۳) واقعہ صلیب کے بعد دوسرے روز جو تیاری کے بعد کا دن تھا سردار کاہنوں اور فریسیوں نے پیلاطوس کے پاس جمع ہوکر کہا:
"We remember that that deceiver said, while he was yet alive, after three days I am raised [literally, "am awakened”] (Matt xxvii 63)
ترجمہ: ہمیں یاد ہے کہ وہ دغاباز اپنے جیتے جی کہتا تھا کہ میں تین دن کے بعد جی اٹھوں گا [لفظی معنوں کی رو سے ’’میں بیدار ہو جاؤں گا‘‘] ۔ (متی باب ۲۷، آیت ۶۳)
(۴) اسی طرح مرقس نے اپنی انجیل میں لکھا ہے:
"He used to touch his disciples and say to them, the son of man is delivered up into the hands of men, and they will kill him, and though killed, after three days he will raise himself [literally "upstand himself”] But they understood not the saying and were afraid to ask him” (Mark ix-31,32)
ترجمہ: اس نے اپنے شاگردوں کو سکھلایا اور انہیں کہا کہ انسان کا بیٹا آدمیوں کے ہاتھوں میں حوالہ کیا جاتا ہے اور وہ اسے مار دیں گے اور اس طرح مارے جانے کے تیسرے دن وہ جی اٹھے گا [لفظی معنوں کی رو سے ’’خود بخود اٹھ کھڑا ہوگا‘‘] وہ اس بات کو نہ سمجھے اور اس کے پوچھنے سے ڈرے‘‘۔ (مرقس باب ۹۔ آیات ۳۱، ۳۲)
اناجیل کی مندرجہ بالا انگریزی عبارتیں اور ان کے درمیان بریکٹ میں دئے ہوئے توضیحی جملے مسٹر کیننگیل کُک کی مذکورہ کتاب کے صفحہ ۹۵، ۹۶ سے یہاں نقل کئے گئے ہیں۔ مسٹر کُک کی سطور بالا میں بیان کردہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب مسیح نے یہ کہا تھا کہ وہ مرنے کے تین دن بعد بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہوگا تو اس میں یہ اشارہ مضمر تھا کہ جب وہ لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا اور وہ اسے اپنی دانست میں مار ڈالیں گے تو وہ فی الحقیقت مرے گا نہیں بلکہ اس پر نیند کی طرح کی غشی طاری ہوجائے گی اور وہ تین دن بعد اس غشی سے باہر آکر یا بالفاظ دیگر نیند سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہوگا۔ جب مسیح خود اپنے قول کے بموجب مرا ہی نہ تھا بلکہ وہ نیند سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہوا تھا تو اس کے جی اٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی اس بیداری کو اس کی الوہیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا سراسر بے معنیٰ ہے۔
مسٹر کیننگیل کک کا یہ نظریہ ۔۔۔ کہ جس قدیم یونانی لفظ کا ترجمہ مردوں میں سے جی اٹھنا کیا گیا ہے اس کے لفظی اور اصل معانی بیدار ہوکر اٹھ کھڑے ہونے کے ہیں نہ کہ مر کر جی اٹھنے کے ۔۔۔ ایک اور لحاظ سے بھی درست ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اس نئے حوالہ کی جس سے یہ نظریہ سولہ آنے درست ثابت ہوتا ہے نشاندہی ازمنہ قدیم کی تاریخ اور بالخصوص تاریخ مذاہب قدیم کے برطانوی پروفیسر T. R. Glover کی کتاب "The Conflict of Religions in th Early Roman Empire” (سلطنت روما کے ابتدائی دور میں مذاہب کی آویزش باہمی) سے بھی ہوتی ہے۔ یہ کتاب لندن کے اشاعتی ادارہ Methuen & Co. Ltd. نے پہلی بار ۱۹۰۹ء میں شائع کی تھی اور ۱۹۱۸ء تک اس کے سات ایڈیشن شائع ہوچکے تھے۔ مسٹر گلوور نے اپنی اس کتاب میں ایک بات یہ بھی لکھی کہ ابتدائی صدیوں کے مسیحی ماہرین دینیات نے یہودیوں کو مسیحیت کا قائل کرنے کے لئے اس امر کو بڑی شدومد سے پیش کرنا شروع کیا کہ مسیح کی اپنی زندگی میں جو واقعات بھی پیش آئے ان میں سے ہر واقعہ کی عہد نامہ قدیم میں پہلے سے پیشگوئی موجود ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان سب پیشگوئیوں کا مسیح کی ذات پر چسپاں ہونا اور اس کی حیات میں عملاً پورا ہونا اس کی صداقت کی بیّن دلیل ہے۔ چنانچہ قدیم مسیحی مخطوطات اور کتب کے حوالہ سے انہوں نے اپنی مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر ۱۸۵ پر ایسی پیشگوئیوں کی ایک فہرست بھی درج کی۔ اس میں انہوں نے مسیح کے مر کر جی اٹھنے کی پیشگوئی کے طور پر زبور کے ایک حوالہ کا مفہوم غالباً اپنے الفاظ میں یوں درج کیا:
"I slept and slumbered and I rose up because the Lord laid hold of me”. (Ps. 3,5)
اس زبور کا ترجمہ یہ ہے کہ میں سوگیا اور محو خواب ہوا کیونکہ خدا میرا سہارا تھا اور اسی نے مجھے سنبھالا۔ زبور ۳ کی یہ آیت عہدنامہ قدیم کے پرانے نسخوں میں بایں الفاظ مذکور ہے:
I laid me down and slept; I awaked; for the Lord sustained me [Ps. 3, 5]
ترجمہ : میں لیٹ گیا اور سو رہا ، میں جاگ اٹھا کیونکہ خدا نے مجھے سنبھال لیا۔(ترجمہ از ’’ہولی بائبل مطبوعہ کیمبرج یونیورسٹی پریس لندن۔ ۱۸۴۶ء)
لندن کے اشاعتی ادارے Darton, Longman & Todd نے "The New Jerusalem Bible” کے نام سے ۱۹۸۵ء میں بائبل کا جو جدید نسخہ شائع کیا اس میں زبور کی اس آیت کو پیشگوئی کے طور پر ان الفاظ میں درج کیا:
"As for me, if I lie down and sleep, I shall awake for yahweh sustains me.” [Ps. 3, 5]
ترجمہ: جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے اگر میں لیٹ جاؤں اور سو جاؤں تو میں جاگ اٹھوں گا کیونکہ مجھے سنبھالنے والا میرا خدا ہے۔
بہرحال زبور کے الفاظ جو بھی ہوں خود مسیحیوں کے اعتقاد کے بموجب عہد نامہ قدیم میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسیح پر اونگھ آئے گی اور وہ سو جائے گا اور وہ پھر بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہوگا کیونکہ خدا خود اسے سہارا دے کر سنبھال لے گا اور اس کی نیند کو موت میں تبدیل نہیں ہونے دے گا۔ اندریں صورت مسیحی حضرات کا یہ کہنا کس طرح درست تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا تھا اور مرنے کے بعد پھر جی اٹھا تھا۔ زبور کی اس پیشگوئی سے بھی یہ بات دو اور دوچار کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ مسیح فی الحقیقت صلیب پر مرا نہ تھا بلکہ اس پر نیند کی طرح کی غشی طاری ہوگئی تھی جسے رومی سپاہیوں نے موت قرار دے کر مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا اور وہ بعد میں اسی طرح اٹھ کھڑا ہوا تھا جس طرح ایک سویا ہوا شخص بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ زبور کی اس پیشگوئی سے بھی جسے مسیحی خود دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح یہ کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ مرنے کے تین دن بعد پھر جی اٹھے گا۔ اس نے تو وہی کچھ کہنا تھا جو خودمسیحیوں کے اپنے اعتقاد کی رو سے پہلے ہی بطور پیشگوئی زبور میں بیان کردیا گیا تھا اور وہ یہی تھا کہ مجھ پر صرف نیند نما غشی طاری ہوگی اور میں بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہوں گا۔
*۔۔۔*۔۔۔*

الفضل انٹرنیشنل ۴؍جولائی ۱۹۹۷ء ؁ تا۱۰؍جولائی ۱۹۹۷ء ؁

علامہ اقبال کی علمی و سیاسی لغزشیں

علامہ اقبال کی علمی و سیاسی لغزشیں

شیخ عبدالماجد، لاہور

سراقبال ، مذہب اسلام میں الحاق و آمیزش کے بارے میں فرماتے ہیں:
۱۔۔۔ موبدانہ تخیل (قبل از اسلام زرتشتی ، یہودی، نصرانی اور صابی تخیل) مسلمانوں کی دینیات ، فلسفہ اور تصوف کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے ‘‘۔(اقبال کا مضمون ۔ قادیانی اور جمہور مسلمان۔ ۱۴؍مئی ۱۹۳۵؁ء)
۲۔۔۔ ’’اسلام، مذہبی اور ذہنی واردات کے حوالے سے نئی راہ پیدا کرناچاہتاتھا لیکن ہماری مغانہ وراثت نے اسلام کی زندگی کو کچل ڈالا اور اسلام کی روح و مقاصد کو ابھرنے کا کبھی موقع نہ دیا‘‘۔
۳۔۔۔اسلام کی ظاہری و باطنی تاریخ میں ایرانی عنصر کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے‘‘۔(دین شا۔ پارسی کے جواب میں)
۴۔۔۔پھر فرماتے ہیں:
’’مذہب اسلام پر قرون اولیٰ سے ہی مجوسیت اور یہودیت غالب آ گئی۔ میری رائے ناقص میں اسلام آج تک بے نقاب نہیں ہوا‘‘۔(خط بنام راغب احسن’’جہان دیگر‘‘ صفحہ ۸۹۔ خط ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۴؁ء)
راقم عرض کرتاہے کہ زمانے کی گمراہیوں ، مفاسد کے وسیع تر پھیلاؤ اورمذہب اسلام میں زبردست الحاق و آمیزش کے پیش نظر اقبال، اصلاح احوال کی طرف سے مایوس تھے۔ اس مایوسی کا انداز ہ ان کے درج ذیل تاثر سے بھی لگایا جا سکتاہے۔ لکھتے ہیں:
’’مجھے یقین ہے کہ اگرنبی کریم ؐ بھی دوبارہ زندہ ہوکراس ملک میں اسلام کی تعلیم دیں توغالباً اس ملک کے لوگ اپنی موجودہ کیفیت اوراثرات کے ہوتے ہوئے ’’حقائق اسلامیہ‘‘ نہ سمجھ سکیں‘‘۔(مکاتیب اقبال بنام خان نیازالدین صفحہ ۷۳۔ شائع کردہ اقبال اکادمی)
علامہ نے اپنے علی گڑھ لیکچر ’’ملت بیضا پر عمرانی نظر‘‘ میں ہندوستان میں اسلامی و قومی سیرت کی نشوونما کے مختلف اسلوب کی تاریخ بیان کی ہے ۔ اس ضمن میں آپ نے وسیع بنیادوں پرایسی ’’اسلامی جماعت‘‘ معرض وجود میں لانے کی تمنا ظاہر کی ہے جو ان تمام عناصر کی آمیزش سے اپنے وجود کوکمال احتیاط کے ساتھ پاک کردے جو اس کی روایات مسلمہ اور قوانین منضبطہ کے منافی ہوں۔
We must produce a type of character which at all costs holds fast to its own, ……it carefully excluded from its life all that is hostile to its cherished traditions & institutions.
علامہ کی نظروں میں پنجاب میں ایک ایسی ’’اسلامی جماعت‘‘ موجود تھی جسے تقلید کیلئے مسلمانان ہند کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا جا سکتاہے۔ یعنی جس نے کمال احتیاط کے ساتھ ہر نوع کی غیراسلامی روایات و عناصر سے اپنے وجود کو پاک کر رکھا تھا۔
علامہ سمجھتے تھے کہ ان کا علی گڑھ لیکچر تشنہ رہے گااگراس ’’اسلامی جماعت‘‘ کی نشاندہی نہ کردی جائے ۔ چنانچہ اگلی سطور میں علامہ اس کایوں اظہار کرتے ہیں:
’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ ا س جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
( لیکچرملت بیضا پر عمرانی نظر ۔ ۱۹۱۰؁ء)
A carefull observation of the Muslim community in India reveals the point on which the various lines of moral experience of the community are now tending to converge. In the Punjab the essentially Muslim type of character has found a powerful expression in the so-called Qadiyani sect.
حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی وفات ۱۹۰۸؁ء میں ہوئی تھی۔ یہ لیکچر اس کے دو سال بعد کاہے۔

علامہ اقبال کی علمی لغزش

اگر علامہ کامطلب یہ ہے کہ لوگوں کو حقائق اسلامیہ سمجھانے اور اسلامی سیرت کے ٹھیٹھ نمونہ کی حامل جماعت پیدا کرنے کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ، حضرت مرزا صاحب سے کسی طرح کم تر مرتبہ رکھتے ہیں تویہ علامہ کی ایک بڑی لغزش ہے اور اس معاملہ میں جماعت احمدیہ ان کی ہمنوائی نہیں کر سکتی۔
حضرت بانی سلسلہ احمدیہؑ کی نظرمیں آنحضرت ﷺ کا مقام و مرتبہ کیاہے ؟ آپ کی قوت قدسیہ کے طفیل اصلاح عالم کا جو عظیم الشان کام ہوا، وہ کس درجہ بلند ہے؟ مناسب ہوگا یہاں دو ایک حوالے آپ کے ارشادات میں سے درج کر دئے جائیں ۔
حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگر ا س جگہ یہ استفسار ہو کہ اگریہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلم ہے تو پھر جناب سید ناو مولانا سیدالکل و افضل الرسل خاتم النبیین محمد مصطفی ﷺ کے لئے کون سادرجہ باقی ہے؟ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام ا ور برتر مرتبہ ہے جو اسی ذات کامل الصفات پرختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کاکا م نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اورکو حاصل ہو سکے ۔۔۔‘‘۔ (توضیح مرام روحانی خزائن جلد نمبر۳ مطبوعہ لندن صفحہ۶۲)
پھر فرماتے ہیں:
’’ میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللّٰہ ﷺ کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ ﷺ نے کی، ہرگز نہ کر سکتے ‘‘۔(ملفوظات جلد دوئم مطبوعہ لندن صفحہ ۱۷۴)

علامہ اقبال کی دوسری علمی لغزش

ہمیں حیرت ہے کہ چالیس سال تک احمدیوں سے رشتۂ موانست قائم رکھنے کے بعد جب عمر کے آخری تین سالوں میں علامہ اقبال نے اپنے تئیں تعصب کی قباؤں میں لپیٹ کر احمدیوں کے خلاف محاذآرائی شروع کی تو آپ پرایکا ایکی درج ذیل قسم کے انکشافات ہونے لگے۔
*۔۔۔آپ کو تحریک احمدیہ میں سامی اور آریائی تصوف کی عجیب و غریب آمیزش دکھائی دینے لگی۔
(A strange mixture of Sometic and Aryan mysticism).
*۔۔۔آپ کو تحریک احمدیہ ، اسلام کے رخساروں پر زردی کی صورت میں نظرآنے لگی۔
(Pallor of Ahmadism on the cheeks of Indian Islam)
*۔۔۔آپ نے انکشاف کیا کہ جو لوگ تحریک احمدیہ کا شکار ہوئے ہیں ان کی روحانیت فنا ہو چکی ہے ۔
(Destroyed the sipritual virility.)
*۔۔۔ آپ نے پنڈت نہرو کو یہ بھی لکھ دیا کہ تحریک احمدیہ کے ڈرامے میں حصہ لینے والے ایکٹر انحطاط کے ہاتھوں محض کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔
(Innocent instruments in the hands ofdecadents).
(پنڈت نہرو کے سوالات کے جواب میں ۔ مضمون جنوری ۱۹۳۶؁ء)
نیز پنڈت جی کو ایک علیحدہ خط کے ذریعہ لکھاکہ احمدی ، اسلام کے غدار(Traitors) ہیں۔
اس تعصب کو ذاتی و سیاسی وجوہ نے جنم دیا تھا ۔ تعصب ایک ایسی بلا ہے جو غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط کہنے پر اکساتی ہے۔ تحریک احمدیہ میں کیڑے نکالنے کے سلسلے میں اقبال کے ہاں یہی تصویر ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ دین کے معاملہ میں ہر ایک کو تعصب سے محفوظ رکھے ۔ سراقبال ہی کا کہناہے ؂
لاکھ اقوام کو دنیا میں اجاڑا اس نے
یہ تعصب کو مگر گھر کا دیا کہتے ہیں
(علامہ اقبال کی طرف سے متعصب علماء کی دربار نبویؐ میں شکایت ۔ نظم ابرگوہر بار)
( بعض اخبارا ت، سراقبال کے احمدیوں کے ساتھ چالیس سالہ رشتہ ٔ موانست کا ذکر کئے بغیر صرف تین سال کی ’’مخالفت احمدیت‘‘ کو اچھال کر وطن عزیز میں اشتعال کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔مثلاً دیکھئے روزنامہ ’’لشکر‘‘ ۷؍جون ۱۹۹۸؁ء اور ’’اوصاف‘‘ راولپنڈی ۷؍جون ۱۹۹۸؁ء ۔ مگر وہ اس حقیقت کو پردہ ٔ اخفاء میں رکھتے ہیں کہ مخالفت کا یہ دور کب شروع ہوا۔ کتنے عرصہ تک جاری رہا۔ اس کی وجوہات کیا تھیں۔ اگلی سطور میں ہم مخالفت کی ایک وجہ کی نشاندہی کررہے ہیں)۔

سر اقبال کی سیاسی لغزش

۱۹۳۵؁ء میں احمدیت کے خلاف سر اقبال کے بیانات میں جو شدت اور تلخی در آئی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت برطانیہ نے وائسرائے کونسل ہند کے ممبر سر فضل حسین کی میعاد رکنیت ختم ہونے پر ان کی جگہ سر اقبا ل کو متعین کرنے کی بجائے سر ظفراللہ خان کاتقرر کر دیا۔ یہ تقرر خالصتاً سر ظفراللہ خان کی محنت ، دیانت، خلوص ، حسن تدبر اور آپ کی سابقہ عمدہ کارکردگی کی وجہ سے ہوا تھا اس میں جماعت احمدیہ کا کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ تقرر ’’زمیندار‘‘ ، کانگرس، احرار وغیرہ کے لئے سوہان روح بناہوا تھا ۔ کیونکہ چوہدری صاحب مسلم حقوق کے لئے شمشیر برہنہ تھے مگر افسوس یہ تقرر سر اقبال کی طرف سے احمدیوں کی مخالفت کا ایک اہم اور فوری سبب بن گیا جسے بیان کرنے میں بہت بخل سے کام لیا جاتاہے۔ چوہدری صاحب نے مئی ۱۹۳۵؁ء میں اپنے عہدے کا چارج لے لیا۔ ادھر مئی ۱۹۳۵؁ء میں ہی سراقبال کااحمدیوں کے خلاف پہلا مضمون شائع ہوا جس کے ضمیمہ میں عیسائی حکومت کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ استحکام اسلام کے لئے احمدیوں کو اقلیت قرار دے دے۔ اس مطالبہ کے بانی مبانی دراصل احرار تھے اور احرار کے متعلق فرزند اقبال جناب ڈاکٹر جسٹس (ر) جاوید اقبال کی تحقیق یہ ہے :
’’مجلس احرار خلافت کمیٹی کی کوکھ سے نکلی تھی اوریہ جماعت کانگرس کی ہمنوا تھی‘‘۔(زندہ رود صفحہ ۵۸۹)
فرزند اقبال نے احرار کے ساتھ سر اقبال کے رابطے پر بھی روشنی ڈالی ہے اور دبے الفاظ میں تسلیم کیاہے کہ علامہ کامیلان اور تعلق احرار ٹولے کی طرف ہو چکا تھا۔ فرماتے ہیں :
’’جب اقبال کشمیر کمیٹی میں احمدیوں سے مایوس ہوئے تو عین ممکن ہے احراریوں نے اقبال سے مفاہمت کرنے کی کوشش کی ہو‘‘۔(زندہ رود صفحہ ۵۸۹)
پھر لکھتے ہیں:
’’کشمیر کمیٹی کے دوران ممکن ہے اقبال نے احراری رہنماؤں سے مفاہمت کرنے کے بعد ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہو‘‘۔(ایضاً)
واضح رہے جب تک سراقبال نے احمدیوں کے ساتھ بھائی چارے اور مؤانست کارشتہ قائم رکھا ، آپ کی سیاست مسلم اتحاد و یگانگت کے جذبہ سے عبارت رہی ۔بدقسمتی سے جب یہ صورت برقرار نہ رہی تو سیاست اقبال کی یہ خوبی دھندلی نظر آنے لگی ۔چنانچہ سر فضل حسین ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’اقبال اور بعض دیگر مسلم لیڈر اپنے سیاسی اغراض کے حصول کی خاطر مسلمانوں میں مذہبی فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں‘‘۔( سرفضل حسین کے انگریزی خطوط مرتبہ وحید احمد صفحہ ۶۹۵)
( نوٹ: سر فضل حسین اپنی مخلصانہ کاوشوں کے سبب مسلمانوں کے ’’اورنگ زیب‘‘ مشہور تھے۔)
ایک اور مکتوب میں سر فضل حسین انکشاف فرماتے ہیں:
’’اقبال مسلمانوں کے اتحاد اور یک جہتی کو اندر سے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ ( سرفضل حسین کے انگریزی خطوط مرتبہ وحید احمد )
پنجاب کی ۱۷۵نشستوں میں سے مسلم نشستیں ۸۹ تھیں ۔اقلیتوں کے لئے خصوصی مراعات کے پیش نظر احمدیوں کو الگ اقلیت قرار دے دیا جاتا تو انہیں ایک نشست تو ملنی تھی۔ اگر صرف ایک کا اور اضافہ ہو جاتا تو مسلم نشستیں ۸۷ رہ جاتیں اور غیر مسلم سیٹیں ۸۸ ہو جاتیں۔ مسلم اکثریت ، اقلیت میں بدل جاتی ۔ یہی کانگریس اور احرار کی تمنا تھی ۔ سراقبال کی یہ بھی ایک بڑی لغزش تھی کہ انہوں نے اپنا وزن احرارکے پلڑے میں ڈال دیا۔ یہ تو اللہ تعالی ٰ کا فضل ہوا کہ علامہ کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا اور اس وقت پنجاب کی مسلم سیاست تباہ ہونے سے بچ گئی۔
(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل۲۳؍اپریل۱۹۹۹ء تا۲۹؍اپریل ۱۹۹۹ء)

اللہ وسایا کی کتاب "پارلیمنٹ میں قادیانی شکست" پر تبصرہ

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

اللہ وسایا کی کتاب "پارلیمنٹ میں قادیانی شکست” پر تبصرہ (مجیب الرحمن ، ایڈوکیٹ)

 PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

منکرین فیضان ختم نبوت ،جو عوام الناس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے معروف ہیں، کے طائفہ کے ایک رکن اللہ وسایا نے ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں احمدیہ مسئلہ کے تعلق میں پہلے ۱۹۹۴ء میں ’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ ۔ ۱۳روزہ کا رروائی ‘‘ اور پھر ۲۰۰۰ء میں ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے ۔ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اس طائفہ کی فطری روش کے مطابق یہ کتاب بھی کتمان حق ،تلبیس و تحریف ،قطع وبرید اور دجل و فریب کا ایک پلندہ ہے۔

مکرم مجیب الرحمان صاحب نے، ان بے شمار سعید روحوں کے لئے جو ہر دور میں ہمیشہ سچائی کی تلاش میں رہتی ہیں،ذاتی حیثیت میں، اپنی ذمہ داری پر اس کتاب پر ایک مختصرمگربھرپور تبصرہ لکھا ہے جو ان کے شکریہ کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے۔

جناب مجیب الرحمان ایک معروف قانون دان ، پاکستان سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ او ربار کے سینئر رکن ہیں۔ بالخصوص بنیادی انسانی حقوق کے حوالہ سے آپ کی مساعی قابل ذکر ہیں۔ آپ متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مل کرکام کرچکے ہیں۔ آرڈیننس (xx) کے خلاف قانونی جہد میں فیڈرل شریعت کورٹ ، عدالت ہائے عالیہ او ر سپریم کورٹ آف پاکستان میں آپ کی پیروی اسلامی فقہی لٹریچر اور عصری قوانین میں آپ کی گہری نظر اور وسیع مطالعہ کی آئینہ دار ہے۔ (مدیر)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ حضوری باغ روڈ ملتان‘ کی طرف سے شائع کردہ جناب اﷲوسایا کی مرتبہ کتاب بعنوان’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست ‘‘ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی اس مبینہ کارروائی کی اشاعت غیر قانونی اور بدوں اختیار و بلااجازت افسران مجاز ہونے کی وجہ سے کسی طرح بھی ایک مستند حوالہ قرار نہیں دی جاسکتی اس قسم کی جعلسازیوں اور گمراہ کن کارروائیوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کی مستند کارروائی جوقانون کے مطابق لفظ بہ لفظ ریکارڈ کی گئی تھی سرکاری طور پر شائع کردی جائے۔ قومی اسمبلی نے خود تو کارروائی شائع نہیں کی اور نہ ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس دیدہ دلیری اور غیر قانونی اشاعت کو قابلِ اعتناء سمجھا ہے ۔لہٰذا تاریخ کا ریکارڈدرست رکھنے کی خاطر ہم نے اس مبینہ کارروائی پر تبصرہ کی اشاعت کو ضروری سمجھا ہے تاکہ سند رہے۔

آئندہ صفحات میں اللہ وسایاکی کتاب پر ایک تبصرہ پیشِ خدمت ہے جس میں ان کو اپنی ہی کتاب کا آئینہ دکھایا گیا ہے۔ اﷲوسایا کی یہ کتا ب کیوں مستند حوالہ کے طور پر استعمال نہیں کی جاسکتی ، یہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق خصوصی کمیٹی ’’احمدیہ مسئلہ ‘‘ پر غور کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ لہٰذا ہم نے اس مضمون کے لئے اسی عنوان کا انتخاب کیا ہے۔

(۱)۔۔۔۔حافظہ نہ باشد

جو لوگ قرآن حکیم کو غور اور تدبر سے پڑھتے ہیں ان پر یہ امر خوب روشن ہے کہ تاریخ مذاہب کے ہر دور میں جب دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بن پڑا تو ہمیشہ ہی مذہب کے ٹھیکیداروں نے سیاسی اقتدار کو اپنا حلیف و ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی مامورین کی تاریخ سے مختلف نہیں۔ اﷲ وسایا اس بات کو تاریخ اور دنیا کی نظر سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتے کہ ۱۹۷۴ ء میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی بھی ایک سیاسی طالع آزما اور مذہب کے ٹھیکیداروں کے مابین ایک سازش اور گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھی۔ اللہ وسایا جس بت کو خدا بنائے بیٹھے ہیں اور وہ پارلیمنٹ جس کی قرار داد کو وہ فرمانِ الٰہی اور فرمودات رسول سے بڑھ کر کوئی چیز سمجھ بیٹھے ہیں اس کا اپنا یہ عالم ہے کہ اسے کسی پہلو قرار نصیب نہیں ۔ آئے دن بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہے ، چشم بینا کیلئے پارلیمنٹ کے اس حشر میں کافی سامان عبرت موجود ہے۔ مگر جناب اللہ وسایا ان لوگوں میں سے ہیں جو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے اور کوئی تازیانہ عبرت ان کی آنکھیں نہیں کھولتا۔اس اسمبلی کے نمائندوں کے بارہ میں اﷲ وسایا کے ممدوح ’’خادمِ اسلام‘‘ جناب ضیاء الحق کی حکومت نے قرطاسِ ابیض شائع کیا۔اس سے خوب ظاہر ہے کہ وہ کس کردارکے حامل، کیسے لوگ تھے اور دینی امورمیں اجتہاد یا رائے دینے کے کتنے اہل تھے جنہوں نے ایک مہتم بالشان معاملہ میں مداخلت فی الدین کی جرأت کی ۔رہ گئے جناب اﷲ وسایا کے اکابرین علماء حضرات تو انہوں نے اٹارنی جنرل کی اس دینی مسئلہ میں جو امداد کی وہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ مسئلہ ختمِ نبوّت سے متعلق تحریک کا سامنا کرنے کا تو حوصلہ ہی علماء حضرات کو نہ ہوا۔ان کی علمی بے بسی اور عجز کا اعتراف تو پہلے ہی دن ہو گیا جب انہوں نے وزیرِ قانون کی طرف سے پیش کردہ، ختمِ نبوت سے متعلق قرارداد سے جان چھڑانے کی خاطر اپنی ایک الگ قرارداد پیش کردی۔ قادیانیت کی جس شکست اور اپنی جس فتح کا اعلان اللہ وسایا موصوف کر رہے ہیں اس پر خود ان کے اپنے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ خدمت اسلام کی مہم میں وہ دروغگوئی اور تلبیس اور اخفاء حق کے مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ لئے بغیر اپنی کارروائی پر اعتماد نہیں کر پا رہے۔ قریب نصف درجن جھوٹ تو اﷲ وسایا کے رقم کردہ دیباچہ ہی سے جھانکتے نظر آتے ہیں۔

قطع وبرید اور تحریف کا شاہکار

زیرِ نظر کتاب کی اشاعت اوّل جولائی ۲۰۰۰ء ظاہر کی گئی ہے مگر اللہ وسایا صاحب کی طرف سے رقم کردہ دیباچہ کے آخر میں اس کتاب کو ’’جدید اور خوبصورت ایڈیشن‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ جس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ کتاب کی اشاعتِ اوّل نہیں ہے۔امر واقع یہی ہے کہ اس سے پہلے۱۹۹۴ ء میں اللہ وسایا صاحب کی طرف سے ایک کتاب ’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ ۱۳ روزہ کارروائی‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس وقت اﷲ وسایا صاحب نے جو مقدمہ تحریر کیا اس میںیہ لکھا:۔
’’اس وقت اسمبلی کے اراکین مفکر الاسلام مولانا مفتی محمود ، شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق اور دوسرے اکابر سے اسمبلی کی کارروائی کے متعلق زبانی اور تحریری جو معلومات حاصل ہوتی رہیں۔ ممبران اسمبلی سے سوالات و جوابات کی تفصیل قلمبند ہوتی رہی۔ مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا محمد حیات فاتح قادیان کی یادداشتوں سمیت جو کچھ بن پڑا حاضر خدمت ہے۔‘‘
گویا اس بات کے تو اللہ وسایا صاحب خود اقبالی ہیں کہ قومی اسمبلی کی تیرہ دن کی جو مبینہ کارروائی ا نہوں نے شائع کی تھی اسے اسمبلی کے ریکارڈ سے مرتب نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ بھان متی کا کنبہ انہوں نے زبانی اور تحریری معلومات اور مختلف اراکین سے حاصل کردہ یادداشتوں سے جوڑا تھا۔ حالانکہ اسمبلی کے قواعد کی رو سے موصوف کے اکابرین اللہ وسایا صاحب کو یہ معلومات مہیا کرنے کے مجاز ہی نہیں تھے۔ لہذا اللہ وسایا صاحب نے یا تو ان مرحوم اکابرین پر قواعد کی خلاف ورزی کا داغ لگایا ،یا خود جھوٹ کے مرتکب ہوئے ۔
۱۹۹۴ ء کی اشاعت کے مقدمہ میں اﷲوسایا صاحب نے مزیدلکھا:
’’میں یہ تو عرض کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں کہ تحریک ختم نبوت 74کی یہ دوسری جلد قومی اسمبلی کی مکمل کارروائی پر مشتمل ہے ‘تاہم اگر کسی دن قدرت کو منظور ہوااور یہ کارروائی حکومت نے شائع کر دی تو انشاء اﷲالعزیز ہمیں اپنی دیانت پر اتنا اعتماد ہے کہ آپ کو سوائے تفصیل اور اجمال کے اور کوئی فرق نظر نہیں آئیگا۔‘‘
یہ ان کا دوسرا 5 اقرار تھا کہ کارروائی مکمل نہیں بلکہ بقول انکے صرف ’’اجمال‘‘ ہے ۔ حالانکہ در اصل جسے وہ اجمال قرار دے رہے تھے وہ اجمال نہیں قطع و برید اور تحریف کا شاہکار تھا۔
اب اسی کارروائی کو، جسے’’ اجمال‘‘ کے پردے میں شائع کیا گیا تھا بڑی ڈھٹائی سے’’ مکمل روداد‘‘کے نام سے شائع کر دیا گیا ہے۔چنانچہ زیر نظر کتاب میں اللہ وسایا کا یہ دعویٰ ہے کہ:
’’آج سے سالہا سال پہلے جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے بارہ میں ایک کیس تھا۔ اس کیس کی پیروی کے لئے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے صدر پاکستان جناب محمد ضیاء الحق صاحب مرحوم سے وفد بھجوانے کی درخواست کی۔ پاکستانی حکومت نے مولانا تقی عثمانی‘ جناب محمد افضل چیمہ‘ سید ریاض الحسن گیلانی‘ مولانا مفتی زین العابدین ‘ جناب پروفیسر غازی محمود احمد کو افریقہ بھجوا دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ختم نبوت‘ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر اور عبدالرحمن یعقوب باوا کیس کی پیروی کیلئے افریقہ گئے۔ قومی اسمبلی میں قادیانی اور لاہوری مرزائیوں پر جو جرح ہوئی تھی‘ جناب جنرل ضیاء الحق صاحب نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کی’’مکمل کاپی ‘‘ فراہم کر دی۔ حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم‘ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم‘ مولانا عبدالحق صاحب مرحوم کی یادداشتوں اور ان کو بحیثیت ایک ممبر قومی اسمبلی جو کارروائی کی کاپیاں ملتی تھیں اس مواد سے زیر نظر کتاب کو جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی اصل کارروائی کے ساتھ ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے۔‘‘
گویا اب بھی موصوف واضح طور پر یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ اصل کارروائی کا مکمل ریکارڈ ہے۔ بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ’’یادداشتوں کو‘‘ ضیاء الحق صاحب کی فراہم کردہ ’’مکمل کاپی‘‘ اورجنوبی افریقہ بھیجی جانے والی ’’اصل کارروائی کے ساتھ ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے‘‘۔ مگر یہ بات بھی جھوٹ سے خالی نہیں۔
جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں تین مقدمات زیر سماعت آئے جن کی تفصیل یہ ہے۔
۱۔ مقدمہ نمبر: 10058/82
عنوان: اسمعیل پیک بنام مسلم جوڈیشل کونسل ۔
عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ
Cape of Good Hope
پراونشل ڈویژن
۲۔ مقدمہ نمبر: 1438/86
عنوان: محمد عباس جسیم بنام شیخ ناظم محمد وغیرہ
عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ
Cape of Good Hope
پراونشل ڈویژن
۳۔ مقدمہ نمبر: 201/92
عنوان: شیخ ناظم محمدوغیرہ بنام محمد عباس جسیم
عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ اپیل ڈویژن
اللہ وسایا صاحب کا کہنا یہ ہے کہ آج سے سالہا سال پہلے جنرل ضیاء الحق نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کارروائی کی مکمل کاپی فراہم کر دی۔ جناب اللہ وسایا نہ تو پاکستانی وفد میں شریک تھے اورنہ ہی ان علماء میں ان کا نام دکھائی دیتا ہے جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جنوبی افریقہ گئے اور نہ ہی وہ یہ بتاتے ہیں کہ وفد کے کس رکن سے انہوں نے جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی کارروائی حاصل کی۔
جنوبی افریقہ والے مقدمات 1994 ء سے بہت پہلے سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستانی وفد بہت پہلے جنوبی افریقہ جا چکا تھا لہذا اگر جنوبی افریقہ والے مقدمہ کی پیروی کے دوران کارروائی کی نقل حاصل ہو چکی تھی تو اللہ وسایا صاحب نے اس وقت یہ ذکر کیوں نہ کیا؟اس وقت’’ مکمل ‘‘روداد 5 دستیاب تھی تو ’’اجمال ‘‘کا نقاب اوڑھنے کی کیا ضرورت
تھی ؟اور ضیاء الحق صاحب نے کس اختیار کے تحت چپکے چپکے اسمبلی کی کارروائی ان کے حوالہ کر دی؟ اور کی بھی یا نہیں اس کی سند کیا ہے؟
وزیر قانون کا ریزولیوشن اور حزب اختلاف کی تحریک ۳۰ جون ۱۹۷۴ ء کو پیش کئے گئے تھے۔ اﷲ وسایا صاحب نے کارروائی کا آغاز’’ ۵؍اگست ۱۹۷۴ء کی کارروائی ‘‘ سے کیا ہے۔ ۵؍ اگست سے تو جر ح کا آغاز ہوا ۔ ۳۰؍ جون اور ۵؍ اگست کے درمیانی عرصہ کی کارروائی بھی غائب ہے ۔ وہ بیان جس پر جرح کی گئی وہ بھی غائب ہے۔ الغرض یہ بات تو واضح ہے کہ اﷲ وسایا کی شائع کردہ کتاب قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی’’ مکمل کارروائی‘‘ ہرگز نہیں ۔ اسے مکمل کارروائی قرار دینا جھوٹ اور تلبیس کے سوا کچھ نہیں۔
۱۳ دن کی کارروائی کی جو نامکمل رپورٹ ممبران اسمبلی کو مہیا کی جاتی رہی اس کا حجم بھی دو اڑھائی ہزار صفحات سے کم نہیں تھا۔ جرح کے دوران حضرت مرزا ناصر احمد صاحب آیاتِ قرآنی‘ احادیث اور عربی حوالہ جات پڑھتے رہے جو کارروائی قلمبند کرنے والا عملہ قلمبند نہیں کر پاتا تھا اور کارروائی میں وہ حصے درج نہیں ہوتے تھے۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے طویل اقتباسات اسمبلی میں پڑھ کر سنائے تھے جن میں سے کسی کا بھی اللہ وسایا کی شائع کردہ کارروائی میں پتہ نہیں ملتا۔ بسااوقات سوالات انگریزی زبان میں ہوتے تھے اور وہ انگریزی ہی میں درج تھے ان کا کوئی ذکر اس کارروائی میں نہیں ملتا۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے بعض سوالات کے جواب میں تحریری بیان بھی داخل کئے تھے وہ تحریری بیان کیا تھے، وہ کہاں ہیں؟ ان کا بھی یہاں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ وہ تفصیل سے اپنی بات سمجھانے کے لئے بیان دیتے رہے اور اراکین اسمبلی ان کے جوابات سے اتنے متأثر تھے کہ جناب مفتی محمود کی نیند اڑ گئی۔ اس بارہ میں مفتی محمود صاحب کا شائع شدہ اقرار موجود ہے۔
قومی اسمبلی کے روبرو کارروائی کے دوران اپنے محضر نامہ میں بھی اور جرح کے دوران سوالات کے جواب میں بھی امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے دیوبندی مسلک کے بزرگ مولانا قاسم نانوتوی، بریلوی مسلک کے بزرگ مولانا احمد رضا خان بریلوی، اہلِ حدیث مسلک کے بزرگ نواب صدیق الحسن خان صاحب کے
حوالہ جات اور دیگر بزرگان کے طویل حوالہ جات پیش کئے اور پڑھ کر سنائے تھے، جن کا ان دنوں قومی اسمبلی کے اراکین میں بڑا چرچا تھا ۔ اﷲ وسایا کی شائع کردہ مبینہ کارروائی میں ان حوالہ جات کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگر واقعی ان کے پاس مکمل کارروائی موجود ہے تو ان حصوں کو شائع نہ کرنا صریح بد دیانتی ہے۔ آخر قومی اسمبلی میں بلانے کا مبیّنہ مقصد یہی تھا کہ جماعت احمدیہ کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔ جو وضاحتیں دی گئیں اگر وہ غائب کر دی جائیں تو سمجھا یہی جائے گا کہ ان وضاحتوں سے احمدیوں کے خلاف گمراہ کن پراپیگینڈے کا تار پود بکھر کر رہ گیا تھا۔ ورنہ وہ وضاحتیں جو بقول انکے مکمل کارروائی میں ان کے پاس موجود ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں شائع کیوں نہیں کیں۔ اور اگر مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہے تو اپنی کتاب کو مکمل ریکارڈ کا نام کیوں دیا؟ ختمِ نبوت کے مقدس نام پر دین کی خدمت کے لئے نکلے ہیں تو یہ دھوکہ دہی اور فریب کیوں؟
بد قسمتی سے وطنِ عزیز ان دنوں مذہبی منافرت اور عدمِ رواداری کی گرفت میں ہے۔ رواداری ،برداشت اور صبروتحمّل عنقاء ہیں۔ منافرت کی فتنہ سامانیاں آزاد اور بے لگام ہیں ۔ معقولیت اور اعتدال پسندی تشدد کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ احمدیوں پر پابندیاں، مقدمات کی بھرمار ، تبلیغ پر پابندی، اخبارات و جرائد پر پابندی، اﷲ وسایا صاحب سیاسی اقتدار کی ساز باز سے ان سب زنجیروں کا بندوبست کرکے احمدیوں کو للکارتے پھرتے ہیں۔ اگر واقعی خود پر بھروسہ ہے تو احمدیوں کے ساتھ مل کر یہ مطالبہ کریں کہ احمدیوں کے جرائد اور رسائل پر پابندیاں ختم کی جائیں اورتبلیغ پر پابندی ختم کی جائے توخوب کھل جائے گاکہ کس کے نصیب میں شکست اور کس کے مقدر میں آسمان نے فتح لکھ دی ہے۔اس طرح کی جعلسازی اور مفسدانہ کارروائیوں سے حق نہ کبھی چُھپا ہے اور نہ کبھی چُھپے گا۔

(۲) قانونی حیثیت

دُنیا جانتی ہے یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی خفیہ تھی ۔ خفیہ کیوں رکھی گئی؟ آیا خفیہ رکھا جانا مناسب تھا یا نہیں،یہ ایک الگ سوال ہے۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ یہ کارروائی شائع ہونی چاہیے، مگر امر واقع یہ ہے کہ اسمبلی کی کارروائی شائع نہیں کی گئی۔ایسی کارروائی جو اسمبلی کے قواعد کی رُو سے خفیہ رکھی جائے اس کارروائی کا ریکارڈ رکھنا یا اس کی رپورٹ تیار کرنا صرف قومی اسمبلی کے سپیکر کے اختیار میں ہے اور قواعد کی رُوسے کسی دیگر شخص کو یہ اختیار اور اجازت نہیں کہ وہ کوئی نوٹ رکھے یا اس کو کُلی یاجُزوی طور پر ریکارڈکرے یا اس کی رپورٹ کا کوئی حصہ اشاعت کے لئے جاری کرے یا اس کوظاہر کرے یا اس کی کارروائی کی کوئی ایسی رپورٹ جاری کرے جو مزعومہ طور پر اسمبلی کی کارروائی سمجھی جائے۔ایسی خفیہ کارروائی پر سے پابندی اٹھانے کا اختیار صرف اسمبلی کو ہے اور اس پابندی اٹھانے کاتحرّک قائد ایوان کی طرف سے ہونا ضروری ہے۔ قائد ایوان کی تحریک جب منظور ہوجائے تو بھی کارروائی کی رپورٹ سپیکر کی زیرہدایت سیکرٹری جنرل ہی تیار کرواسکتا ہے۔
قومی اسمبلی کے متعلقہ قواعد درج ذیل ہیں۔
قاعدہ نمبر ۲۰۷: خفیہ اجلاس
کسی کمیٹی کے خفیہ اجلاس منعقد کئے جا سکتے ہیں اگر کمیٹی اس طرح فیصلہ کرے۔
قاعدہ نمبر ۲۰۸: شہادت قلمبند کرنے یا کاغذات،ریکارڈیا دستاویزات طلب کرنے کا اختیار
(۴)کمیٹی کو کسی شخص کی حا ضر ی کی تعمیل کر ا نے اور دستاویزات کو جبراً پیش کرانے کیلئے وہی اختیار حاصل ہوں گے جودیوانی عدالت کو مجموعہ ضابطہ دیوانی (ایکٹ نمبر5 بابت 1908)ء) کے تحت حاصل ہیں۔
قاعدہ نمبر ۲۱۰ : گواہوں کا بیان
(۵) جب کسی گواہ کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے تو کمیٹی کی کارروائی کا لفظ بلفظ ریکارڈ رکھا جائے گا۔
(۶) کمیٹی کے سامنے دی گئی شہادت کمیٹی کے تمام اراکین کوفراہم کی جا سکے گی۔
قاعدہ نمبر۲۷۴: کارروائی کی رپورٹ
سپیکر کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی کی ایک رپورٹ ایسے طریقے سے مرتب کراسکتا ہے جو وہ مناسب سمجھے لیکن کوئی دوسرا شخص کسی خفیہ اجلاس کی کسی کارروائی یا فیصلوں کا کوئی نوٹ یا ریکارڈ، خواہ جزوی یا کلی طور پر نہیں رکھے گایا ایسی کارروائی کی کوئی رپورٹ جاری یا افشاء نہیں کرے گا یا کوئی ایسا بیان نہیں دے گا جس سے ایسی کارروائی مترشح ہو۔
قاعدہ نمبر ۲۷۵: دیگر امور کے بارے میں طریق کار۔ ان قواعد کے تابع‘ کسی خفیہ اجلاس کے سلسلے میں تمام دیگر امور کاطریق کار ایسی ہدایت کے مطابق ہوگا جو اسپیکر جاری کرے گا۔
قاعدہ نمبر۲۷۶: اخفائے راز کی پابندی ختم کرنا
جب یہ خیال کیا جائے کہ کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی کے بارے میں اخفائے راز کی ضرورت باقی نہیں رہی تو اسپیکر کی رضامندی کے تابع،قائد ایوان یا اس بارے میں اس کی جانب سے مجاز کردہ کوئی رُکن تحریک کرسکتاہے کہ وہ آئندہ راز تصورنہ کی جائے۔
(۲) ذیلی قاعدہ(۱)کے تحت کسی تحریک کے منظور کئے جانے پر سیکرٹری جنرل اس خفیہ اجلاس کی کارروائی کی رپورٹ مرتب کروائے گا اور جتنی جلدی ممکن العمل ہو‘ اسے ایسی شکل میں اور ایسے طریقے سے شائع کرائے گاجس کی اسپیکر ہدایت دے۔
قاعدہ نمبر۲۷۷: کارروائی یا فیصلوں کا افشائ
ماسوائے جیسا کہ قاعدہ 276میں قرار دیا گیا ہے‘ کسی شخص کی جانب سے کسی بھی طریقے سے کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی یا فیصلہ کا افشاء اسمبلی کے استحقاق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
قواعد کی اس صورت حال کے پیش نظرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ یا ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘کے زیر عنوان کتاب کی اشاعت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔قانوناً یہ فرضی اور جعلی کارروائی متصور ہو گی اور اسے کسی حوالے کے طور پر ہر گزاستعمال نہیں کیا جاسکتا۔
ہاں البتہ جیسا کہ ہم آگے چل کرواضح کریں گے کہ یہ کتاب ہر منصف مزاج محقق کے لئے اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی رہے گی کہ مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک سیاسی تنظیم نے کس کس حربے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ کتاب جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کی ہے ان کی عملی بددیانتی اور فریب اور جعلسازی کی ایک بدنما مثال کے طور پرتاریخ میں محفوظ رہے گی۔

(۳) دوسری آئینی ترمیم

سال ۱۹۷۴ء میں تاریخ کا ایک انوکھا واقع رونما ہوا یعنی پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ سے احمدیوں کو آئین اور قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قراردے دیا۔ اس غرض کے لئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ ’’خصوصی کمیٹی کی تشکیل اور اس کے دائرہ کار کے بارے میں وزیر قانون نے مندرجہ ذیل تحریکات پیش کیں‘‘۔
رولز آف بزنس کے قاعدہ نمبر۲۰۵کے تحت مندر جہ ذیل تحریک پیش کرنے کا نوٹس دیتا ہوں۔
یہ کہ ’’ایوان ایک ایسی خصوصی کمیٹی تشکیل کرے جو کہ پورے ایوان پرمشتمل ہو، اس کمیٹی میں وہ اشخاص شامل ہوں جوایوان کو خطاب کرنے کا حق رکھتے ہوں۔نیز ایوان کی کارروائی میں حصہ کا استحقاق رکھتے ہوں۔ سپیکر صاحب اس خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ہوں اور یہ کمیٹی مندرجہ ذیل امُور سرانجام دے۔
(1) دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرناجو حضرت محمدﷺ کے آخری نبیؐ ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔
(2)کمیٹی کی جانب سے متعین کردہ میعادکے اندر اراکین سے تجاویز،مشورے،ریزولیشن وصول کرنااوران پر غورکرنا۔
(3) مندرج بالا متنازعہ امور کے بارے میں شہادت لینے کے بعداورضروری دستاویزات پر غور کرنے کے بعدسفارشات پیش کرنا۔
کمیٹی کیلئے’’کورم‘‘چالیس افراد پر مشتمل ہوگا‘ جن میں سے دس کا تعلق ان پارٹیوں سے ہو گا جو کہ قومی اسمبلی کے اندرحکومت کی مخالف ہیںیعنی حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں‘‘۔
30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بھی احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے ایک قرارداد پیش کی‘ جس کا متن درج ذیل ہے۔
’’جناب سپیکر‘‘قومی اسمبلی پاکستان ۔
محترمی !
ہم حسبِ ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کے یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اسکا جھوٹا اعلان‘ بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں، اسلام کے بڑے احکام سے غداری تھی۔
نیز ہرگاہ کے وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اسلام کو جھٹلاناہے۔
نیز ہرگاہ کہ پوری امتِ مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اُسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ نیز ہر گاہ کہ ان کے پیروکار، چاہے اُنہیں کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمانوں کے ساتھ گھل مِل کر اور اسلام کاایک فرقہ ہونے کا ایک بہانہ کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں،جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر اہتمام 6اور10اپریل 1974ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دُنیا بھر کے تمام حصّوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی،متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت،اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے،جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار،انہیں کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو مؤثّر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیرمسلم اقلیت کے طور پر انکے جائز حقوق ومفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں‘‘۔
قومی اسمبلی نے پورے ایوان کو ایک خصوصی کمیٹی کی شکل دے کر جماعت احمدیہ کے نمائندگان کو اسمبلی میں پیش ہونے کا پابند کیا۔ جماعت احمدیہ نے اپنا مؤقف ایک محضرنامہ کی شکل میں پیش کردیا جس میں ایوان کی اس حیثیت اور اختیار کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ کسی کے ایمان کے بارے میں فیصلہ کرے ۔چنانچہ محضرنامہ کے آغازہی میں لکھا کہ:۔
’’پیشتر اس کے کہ ان دونوں قراردادوں میں اُٹھائے جانے والے سوالات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے ہم نہایت ادب سے یہ گزارش کرناضروری سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ اُصولی سوال طے کیا جائے کہ کیا دُنیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہٖ اس بات کی مجاز ہے کہ:۔
اوّل:۔ کسی شخص سے یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسُوب ہو؟
دوم: ۔ یا مذہبی امُور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذہب ہے؟‘‘
جماعت احمدیہ کامؤقف یہ تھا کہ:
’’ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ ونسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منُسوب ہو اور دُنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے ۔ اقوام متحدہ کے دستورالعمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منُسوب ہو‘‘۔
چنانچہ کم وبیش دس صفحات پر پھیلے ہوئے دلائل اور وجوہات بیان کرنے کے بعد محضرنامہ میں اسمبلی سے یہ اپیل کی گئی کہ:۔
’’ پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے معاملات پر غور کرنے اور فیصلہ کرنے سے گریز کرے جن کے متعلق فیصلہ کرنا اور غور کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور پاکستان کے دستور اساسی کے خلاف ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ارشادات نبویؐکے بھی سراسر منافی ہے اور بُہت سی خرابیوں اور فساد کو دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘
اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے امام اور ان کے ساتھ ایک وفد پیش ہواجن پر گیارہ روز تک جرح کے رنگ میں مختلف سوالات کئے جاتے رہے۔ وہ سوالات کیا تھے، ان کے جوابات کس انداز میں دیئے گئے، ان جوابات کی علمی حیثیت اور مقام و مرتبہ اور اثر آفرینی ایک الگ مضمون ہے۔ لیکن بالآخر ۷؍ ستمبر۱۹۷۴ء کو ایک قرارداد منظور کرلی گئی اور اس کی روشنی میں آئین میں ترمیم کر دی گئی جس کی رو سے یہ قرار دیا گیا کہ:۔
جو شخص حضرت محمد ﷺ، جو کہ آخری نبی ہیں ،کے آخری نبی ہونے پرقطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔
ترمیم سے و اضح ہے کہ مجددین، امام مہدیؑ اور عیسیٰ ؑ کے ظہور سے متعلق اُمّت مُسْلمہ کے ۱۴۰۰ سالہ مُسلَّمہ عقیدہ سے انحراف کیا گیا ہے۔ ترمیم میں’’ قطعی اور غیر مشروط‘‘ اور ’’ کسی بھی مفہوم‘‘ کے الفاظ اس بات کی بھی غمازی کر رہے ہیں کہ احمدی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تو ضرورمانتے ہیں۔ ترمیم پر احمدیوں کو تو دکھ ہونا ہی تھا وطن عزیز کے سنجیدہ طبقہ نے بھی اس ترمیم پر دُکھ محسوس کیا۔البتہ تنگ نظر مُلاّؤں نے جشن منائے اور تحریک ختم نبوت نے اس ساری کارروائی کا سہرہ اپنے سر باندھا اور اس بات کو 1953ء سے لیکر 1974ء تک اپنی مساعی کا نتیجہ قرار دے کر فتح و کامرانی کے ڈنکے بجائے ۔ دوسری طرف ایک سیاسی طالع آزما نے، جسے مذہب سے کوئی سروکار نہیں تھا ، اپنے خیال میں ۹۰سالہ مسئلہ حل کر دیا اور بزعم خود ایک تیر سے کئی شکار کئے۔ ترمیم تو منظور ہو گئی، مگر کیسے منظور ہوئی ، اس بارہ میں جناب الطاف حسن قریشی مدیر اُردو ڈائجسٹ نے ’’عوامی حقوق کی جنگ ‘‘ کے زیر عنوان تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔
’’اس امر واقع سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پہلی ترمیم اور دوسری ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی اور دوسری ترمیم میں بالخصوص تمام قوائد وضوابط ایک طرف رکھ دیئے گئے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ترمیم کا تعلق قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے تھا ۔ہم نے اس خطرناک پہلو کی پہلے ہی نشان دہی کی تھی کہ وزیراعظم ایک پتھر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے۔ ایک طرف دستور میں ترمیم کرکے عوامی جذبات پر فتح حاصل کرلی جائے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کو دستوری ترمیم عجلت میں پاس کرنے کا خوگر بنا دیا جائے۔ مسٹر بھٹو نے قادیانی مسئلے کے بارے میں آخری اقدام کے لئے ۷؍ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی مگر ایسے حالات بھی پیدا کئے جن میں آخری وقت تک کوئی بات فیصلہ کُن نظر نہ آتی تھی۔ قومی اسمبلی میں کئی روز سے قادیانی مسئلے کے سلسلے میں خفیہ کارروائی ہو رہی تھی اور قادیانی جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیاتھا۔ یہ بحث ۶؍ستمبر تک چلتی رہی اور کچھ طے نہ پایاکہ دستوری ترمیم کے الفاظ کیا ہوں گے۔ ۷؍ستمبرکو چار بجے شام تک ایک غیر سرکاری مسودے پر مختلف پارلیمانی قائدین کے مابین گفت و شنید ہوتی رہی۔ ہونا یہ چاہئے تھاکہ خفیہ کارروائی کے نتیجہ میں ایک بل تیار ہوتا اور اس پر قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں غور ہوتا اور اس کے بعد اسے بحث و تمحیص کیلئے ایوان میں پیش کر دیا جاتا۔ جناب بھٹو اس پورے طریق کار کو ختم کر دینے کے درپے تھے تاکہ آئندہ کے لئے ایک مثال قائم ہو جائے۔ چنانچہ وہ آخری وقت تک طرح دیتے رہے اور پانچ بجے کے قریب بل پڑھ کر سنایاگیااور ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی رات سینٹ کا اجلاس طلب ہوا اور اس ایوان میں بھی کچھ زیادہ وقت نہ لگا۔ اس رواروی اور گہماگہمی میں کچھ بھی غوروفکر نہ ہوااور دُوسری آئینی ترمیم میں چند بنیادی خامیاں رہ گیئں جن پر اب صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے‘‘۔(اُردو ڈائجسٹ لاہور۔دسمبرء ۱۹۷۵ء صفحہ۵۷)
تحریک ختم نبوت والوں نے جشن تو خوب منایا اور دُنیا کو یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ جماعت احمدیہ عقائد کے اعتبار سے مسلمان نہیں اور اس بات پر گویا قومی اسمبلی نے مہر ثبت کر دی ہے۔ مگر مجلس تحفظ ختمِ نبوت اور مولوی حضرات کو اپنی کامیابی پر دل سے یقین کبھی نہیں آیا اور وہ ہمیشہ ہی اپنے دل کو تسلی دلانے کیلئے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔پہلے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک صاحب، فقیر اﷲوسایاکی مرتبہ ایک کتاب’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ کے نام سے شائع کی گئی ، جسے حضوری باغ روڈ ملتان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا، اور اب اسی کارروائی کو ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘ کے نام سے شائع کر دیا ہے۔

(۴) مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوّت

مولوی اﷲ وسایا کی مرتب کردہ اورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ کتاب کے پایۂ استناد اور پسِ پردہ محرکات کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے حقیقی خدوخال کا علم ضروری ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دراصل مجلس احرار کادوسرا جنم ہے۔ مجلس احرار ایک سیاسی جماعت تھی اور تحریکِ پاکستان کے دوران اس کا گھناؤنا کردار کسی ذی علم پاکستانی سے مخفی نہیں ۔ تحریکِ پاکستان اور جدو جہدِ آزادی کے دوران مجلس احرار نے کانگرس کی بھرپور حمائت کی اور مسلم لیگ، قائدِاعظم اور پاکستان کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا۔ سیاسی میدان میں مسلمانوں کے مفادات کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کے بعد مجلس احرار کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں تھی اورسیاسی طور پر پذیرائی کا کوئی امکان نہیں تھا۔چنانچہ مجلس احرار نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا اورخود کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام دے دیا۔ اس بات کی تاریخی اور دستاویزی شہادت خود ان کی کی شائع کردہ کتاب ’’تحریک ختم نبوت جلد دوم‘‘ کے باب چہارم میں مہیا کردی گئی ہے۔(صفحہ ۳۸۳)
صفحہ ۳۸۷ میں ۴؍ستمبر۱۹۵۴ء کے مرکزی شورٰی کے اجلاس کی کارروائی درج ہے جس میں یہ فقرہ تحریر ہے ۔
’’ہدایات نمبر۱۔مجلس احرار نے جب سیاسیات سے علیحدگی اختیار کی تو مقصد الیکشن سے علیحدگی تھا۔لیکن ملکی اور شہری حقوق سے دستبرداری یا حکومت پر جائز نکتہ چینی سے دستبرداری مراد نہ تھی۔اب مجلس تحفظ ختم نبوت کی بُنیاد یہ ہے کہ یہ جماعت صرف تبلیغی جماعت ہے اس کو دینی باتیں صرف وعظ و پند کے طور پر کہنی ہوں گی۔ تنقید اور نکتہ چینی کا رنگ نہ ہوگا………… ‘‘۔گو یا

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

مندرجہ بالا ہدایت فی الواقعہ ایک ہدایت تھی یا ایک پردہ تھا اور مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کہاں تک اپنی اس ہدایت پر قائم رہ سکی یہ تاریخ کا حصہ ہے اور اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ۱۳ دسمبر ۱۹۵۴ء کو امیر شریعت سید عطاء اﷲشاہ بخاری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر اوّل قرار پائے اور پھر تادم حیات اس کے امیر رہے۔ ان کے بعد دوسرے امیر قاضی حسین احمد شجاع آبادی ہوئے وہ بھی مجلس احرار کے رُکن تھے۔تیسرے امیرمولانا محمد علی جالندھری، چوتھے امیر لال حسین اختر، پانچویں مولانا یوسف بنوری مقرر ہوئے ۔مجلس کی اس ساخت سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار ہی کاتسلسل ہے۔ اور مجلسِ احرار کے بارہ میں منیر انکوائری رپورٹ میں عدالت نے لکھا:
’’احرار کے رویّہ کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان کا طرزِ عمل بطورِ خاص مکروہ اور قابلِ نفرین تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلہ کی توہین کی‘‘۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحہ۲۷۷)
اسی طرح عدالت نے لکھا:۔
’’ مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ احرار پاکستان کے مخالف تھے۔۔۔۔۔۔ اس مقرر نے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لئے پلیدستان کا لفظ استعمال کیا اور سید عطاء اﷲ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا۔ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراًقبول کر لیا ہے۔‘‘ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحہ۲۷۴)
اسی طرح رپورٹ کے صفحہ۱۴۹‘ ۱۵۰ پر لکھا:۔

’’ ان (احراریوں) کے ماضی سے ظاہر ہے کہ وہ تقسیم سے پیشتر کانگرس اور ان دوسری جماعتوں سے مل کر کام کرتے تھے جو قائدِ اعظم کی جدوجہد کے خلاف صف آراء ہو رہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس جماعت نے دوبارہ اب تک پاکستان کے قیام کو دل سے گوارہ نہیں کیا۔‘‘

عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت اور مجلسِ احرار کے تاریخی رشتوں اور پاکستان کے بارہ میں ان کے رویّوں کی مختصر طور پر نشاندہی کے بعد اب ہم اس کتاب کا جائزہ لیتے ہیں جو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی کے طور پر شائع کی گئی ہے۔

(۵) اڑنے سے پیشتربھی ترا رنگ زرد تھا

بات دراصل یہ ہے کہ موصوف اور ان کی قبیل کے دُوسرے حضرات اس بات کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے کہ جماعت احمدیہ کا مؤقف یا جماعت احمدیہ کے ایمان واعتقاد کے بارے میں جماعت احمدیہ کا اپنا بیان اور ان کی اپنی وضاحت عوام الناس تک پہنچے ۔ یہ حضرات سیاق وسباق سے کاٹ کر عبارت پیش کر کے عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں،کبھی پوری تحریر پیش نہیں کرتے اوراس بات کی تاب نہیں لاسکتے کہ کوئی اُن کی پیش کردہ کسی گمراہ کُن عبارت کو اس کے سیاق وسباق میں پیش کر کے ان کے فریب کا طلسم توڑ دے۔ اس لئے ان کی ساری کوشش اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی ہو ، لٹریچر پر پابندی ہو اور ان سے معاشرتی تعلقات پر پابندی ہو تاکہ لوگ نام نہاد علماء کی فریب دہی کی تہہ تک نہ پہنچ جائیں۔ اپنی’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ کی کارروائی میں بھی اﷲوسایا موصوف کو ’’اجمال‘‘ کی ضرورت اس لئے ہی پیش آئی کہ جو وضاحتیں امام جماعت احمدیہ نے پیش کیں وہ عوام کے سامنے نہ آجائیں۔ یہ حضرات عوام کو یہ تأثّر دینا چاہتے ہیں کہ احمدیوں کو پورا موقع دیا گیااور مولوی حضرات نے گویا قادیانیت جیسے کفر کو چاروں شانے چت کیا مگر اس کارروائی کی تفصیلات جو ان کی ’’عظیم فتح‘‘کی آئینہ دار ہیں عوام کے سامنے لانے کو تیار نہیں۔خود ان کی کتاب سے ظاہر ہے کہ ان کی پوری کوشش یہ رہی کہ قومی اسمبلی میں بھی جماعت احمدیہ کا پورا مؤقف سامنے نہ آنے پائے۔ان کی کوششوں کی راہ میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی شخصیت ، ان کا علم اور ان کی فراست ایک نور کی دیوار بن کرحائل ہو گئی تھی جو ان کی پیداکردہ شرارتوں اور ظلمتوں کو پاش پاش کر رہی تھی ۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے امام جماعت احمدیہ کے بیان کو اور اس کی تاثیرات کو ماند کر سکیں۔ان کی اس کوشش کی جھلک اﷲوسایا موصوف کی مرتب کردہ کتاب میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔
اﷲوسایا موصوف نے اپنی گمراہ کن کارروائی کے ذریعہ جو کچھ انصاف پسند قارئین کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی ہے اس کا جائزہ تو ہم آگے چل کر لیں گے۔ فی الحال کچھ مختصر نشاندہی اُن امور کی بھی ہو جائے جو ان کی کتاب میں گویا سطح پر ہی تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جنہیں وہ تہِ دامن چھپا نہیں سکے گو اس کی کوشش بہت کی۔
جو باتیں اس کتاب سے ظاہر ہیں وہ یہ ہیں:۔
(۱) کارروائی کے دوران اسمبلی میں علماء میں سے مفتی محمود صاحب، غلام غوث ہزاروی صاحب،مصطفی الازہری صاحب، ظفراحمد انصاری صاحب اور شاہ احمد نورانی صاحب گویا دیو بندی، بریلوی، ازہری ہر طبقہ فکر کے علماء موجود تھے جو اٹارنی جنرل جناب یحيٰ بختیار کو سوالات تیار کرکے دیتے تھے۔
(۲) ارکانِ اسمبلی کو جماعت احمدیہ کا پیش کردہ محضرنامہ مل چکا تھا اور وہ اس کے مندرجات سے بخوبی واقف تھے۔
(۳) اﷲوسایا کی شائع کردہ کارروائی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ محضرنامے اور بحث کا جو اصل موضوع تھا اس پر علماء کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ گیارہ دنوں کی جرح کے دوران ان علماء حضرات نے کوئی ایک سوال بھی محضرنامے میں اٹھائے گئے علمی سوالات کے بارے میں نہیں کیا۔ کسی ایک حوالے کی نشاندہی بھی علماء نے اٹارنی جنرل کے ذریعہ نہیں کروائی کہ آئمہ سلف کے جو حوالے ختمِ نبوت کے مفہوم کے بارہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے دیئے گئے،ان میں سے کوئی حوالہ غلط ہے۔
ختم نبوت کا عقیدہ بحث میں ایک بنیادی حیثیت رکھتاتھا مگر آیت خاتم النبینﷺ کے سلسلے میں جو حوالے جماعت احمدیہ کے محضرنامے میں دیئے گئے تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی بحث نہیں کی گئی۔ یہ علماء حضرات موجود نہ ہوتے تو یہ وہم گزرسکتا تھا کہ اٹارنی جنرل اس میدان کے شناور نہیں لہٰذا وہ سوالات رہ گئے ہوں۔ مگر یہاں تو نہ صرف یہ کہ علماء موجود تھے بلکہ وہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے واضح طور پر موئے آتش دیدہ کی طرح بل کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ادھرمرزا ناصر احمد ہیں کہ وہ نہایت تحمل اور بردباری سے پورے ٹھہراؤ کے ساتھ حوالوں کی جانچ پڑتال کرکے پوری وضاحتوں کے ساتھ حوالے دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ مولوی حضرات نے آیت خاتم النبینﷺ کے بارے میں مرزا ناصر احمد سے کوئی سوال پوچھے ہوں اور ان کو لاجواب کردیا ہو تو اللہ وسایا اس حصّے کو شائع نہ کریں۔
(۴) اللہ وسایا کی کتاب سے یہ بھی ظاہر ہے کہ وضاحتیں اور تفصیلات غائب کردی گئی ہیں مثلاً:۔
(i) صفحہ۱۳۹ پراٹارنی جنرل کے اس سوال کے جواب میں کہ کلمۃالفصل کے اقتباس کے حوالہ سے حقیقی مسلمان کی تعریف کیا ہے، مرزا ناصر احمد صاحب کا مختصر جواب ایک فقرہ میں درج ہے مگر جو حوالہ وہ دے رہے ہیں وہ غائب ہے۔
(ii) صفحہ۵۸ پر منیر انکوائری رپورٹ میں آئینۂ صداقت کے حوالہ سے، مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کے جواب کا ذکر ملتا ہے اور اس بارہ میں جرح بھی کی گئی ہے مگر مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب ایک فقرہ میں درج کر کے منیر انکوائری رپورٹ میں دیئے گئے جواب کو غائب کر دیا گیا ہے تا کہ زیرِ بحث مسئلہ پر جماعت احمدیہ کا موقف واضح نہ ہو سکے۔
(iii) صفحہ ۲۸۷ پر اٹارنی جنرل کا بیان ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب نے زیرِ اعتراض ایک شعر کی وضاحت اسی نظم کے ایک دوسرے شعر سے کرنے کی کوشش کی، مگر وہ وضاحتی شعر کارروائی اور جرح کے دوران کہیں نظر نہیں آتا۔ آخر کیوں ؟ پھریہ مکمل ریکارڈ یا مکمل کارروائی کیسے ہوئی۔
(iv) اﷲ وسایا کی شائع شدہ کارروائی میں بار بار یہ اعتراض نظر آتا ہے کہ جواب لمبا ہے، مختصر کرنے کی ہدایت کی جائے مگر کوئی ایک لمبا جواب بھی کارروائی میں نظر نہیں آتا سب غائب کر دیئے گئے۔کوئی ایک جواب تو درج ہوتا جس سے پتہ لگ سکتا کہ غیر ضروری طوالت سے کام لیا جا رہا ہے۔
(v) ان مولوی حضرات کا تلملانا کہ جواب مختصر دیا جائے ہم خطبہ سُننے نہیں آئے، وضاحتوں سے روکا جائے، ہاں یا نہ میں جواب دیں، ان کو پابند کیا جائے کہ جواب ہاں یا نہ تک محدود رکھیں۔یہ بیٹھ کر کیوں جواب دے رہے ہیں،یہ بھی کھڑے رہیں اور جواب دیں۔یہ سب باتیں ان مولوی حضرات کی پریشانی اور اضطراب کی آئینہ دار ہیں جو اﷲ وسایا کی کتاب سے جھلکتے ہیں۔
انہی دنوں جناب مفتی محمود صاحب نے کراچی کے ایک استقبالیہ میں قومی اسمبلی کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ:۔

’’ اسمبلی میں قرارداد پیش ہوئی اور اس پر بحث کے لئے پوری اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دے دی گئی۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کی دونوں جماعتیں خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی ان کو اسمبلی میں بلایا جائے اور ان کا موقف سنا جائے تاکہ کل اگر ان کے خلاف فیصلہ کر دیا جائے تو وہ دنیا میں اور بیرونی ممالک میں یہ نہ کہیں کہ ہم کو بلائے بغیر اور موقف سنے بغیر ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ بطور اتمام حجت کے ان کا موقف سننا ہمارے لئے ضروری تھا اس لئے ان کو بلایا گیا ۔ جب انہوں نے اپنے بیانات پڑھے تو ان پر تیرہ دن بحث ہوئی گیارہ دن مرزا ناصر پر اور دو دن صدر الدین پر جرح ہوئی۔

اس میں شبہ نہیں کہ جب انہوں نے اپنا بیان پڑھا تو مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے فائدہ اُٹھایا اور یہ ثابت کیا کہ فلاں فرقے نے فلاں پر کفر کا فتوٰی دیا ہے اور فلاں نے فلاں کی تکفیر کی ہے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو لے کر اسمبلیوں کے ممبران کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ مولویوں کا کام ہی صرف یہی ہے کہ وہ کفر کے فتوے دیتے ہیں یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو کہ صرف قادیانیوں سے متعلق ہو۔یہ انہیں تاثر دیا۔

اس میں شک نہیں کہ ممبران اسمبلی کا ذہن ہمارے موافق نہیں تھا، بلکہ ان سے متاثر ہو چکا تھا تو ہم بڑے پریشان تھے چونکہ ارکان اسمبلی کا ذہن بھی متاثر ہوچکا تھا اور ہمارے ارکان اسمبلی دینی مزاج سے بھی واقف نہ تھے اور خصوصاً جب اسمبلی ہال میں مرزا ناصر آیا تو قمیض پہنے ہوئے اور شلواروشیروانی میں ملبوس بڑی پگڑی طرہ لگائے ہوئے تھا اور سفید داڑھی تھی۔تو ممبران نے دیکھ کر کہاکیا یہ شکل کافر کی ہے؟ اور جب وہ بیان پڑھتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب حضوراکرمﷺ کا نام لیتا تو درود شریف بھی پڑھتاتھا اور تم اسے کافر کہتے ہو،اور دشمن کہتے ہو اور پروپیگنڈے کے لحاظ سے یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے تو جب وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو تمہیں کیا حق ہے کہ آپ ان کو کافر کہیں؟ تو ہم اﷲسے دست بدعا تھے کہ اے مقلب القلوب ان دلوں کو پھیر دے اگر تم نے بھی ہماری امداد نہ فرمائی تو یہ مسئلہ قیامت تک اسی مرحلہ میں رہ جائے گا اور حلنہیں ہو گا حتی کے مَیں اتنا پریشان تھا کہ بعض اوقات مجھے رات کے تین یا چار بجے تک نیند نہیں آتی تھی‘‘۔ (ہفت روزہ لولاک لائلپور۔ ۲۸؍دسمبر۱۹۷۵ء صفحہ ۱۷۔۱۸)

(۵) پانچویں بات جو اس کارروائی سے ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ مولانا مفتی محمود صاحب کی پریشانی کا حل یہ نکالا گیا کہ اصل مسئلہ کو زیر بحث لانے کی بجائے ایسے سوالات چنے گئے جو ہمیشہ سے عامۃ الناس کو اشتعال دلانے کی خاطرمولوی حضرات بیان کیا کرتے ہیں ۔
ایک متفقہ آئین میں ایک نہائت متنازعہ اور ایسی ترمیم زیرِ غور تھی جس کے نتیجہ میں مداخلت فی الدین کے ایسے نازک مسائل زیرِ بحث آنے تھے جس کی نظیر قوموں کی آئینی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔ خیال تو یہ تھا کہ بڑے سنجیدہ ماحول میں گمبھیر مسائل زیرِ بحث آئیں گے، علمی مباحث ہوں گے قرآن و حدیث سے دلائل کا ایک انبار علماء کی طرف سے لگا دیا جائے گا مگر ساری کارروائی میں تیرہ روز کی جرح اور اٹارنی جنرل کی بحث میں جو سوال اٹھائے گئے ، وہ کیا تھے؟ چند پٹے ہوئے اعتراضات یعنی:۔
۱۔احمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔
۲۔احمدی مسلمانوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔
۳۔احمدی مسلمانوں میں رشتہ ناطہ نہیں کرتے۔
۴۔بانی ٔ جماعت احمدیہ کی بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں ۔
۵۔احمدیوں کا تصورِ جہاد عام مسلمانوں سے مختلف ہے۔
۶۔احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
کوئی پوچھے کیا یہ آئینی اہمیت کے سوال تھے؟ یہ سوالات بار بار فریقین کی کتب میں زیرِ بحث نہیں آچکے تھے؟ کیا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اسی غرض کے لئے قائم کی گئی تھی ؟ اگر ایسا تھا تو ان امور کا ذکر وزیر قانون کی تحریک میں کیوں نہیں تھا ؟
اور اگر یہی بنیاد تھی تو ترمیم یوں ہونی چاہئے تھی کہ:۔

’’جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے یا کسی مسلمان کا جنازہ نہ پڑھے یا رشتہ نہ دے یا تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کی مخالفت کر چکا ہو وہ آئین و قانون کی ا غراض کے لئے غیر مسلم ہو گا۔ ‘‘

بہرحال اللہ وسایا کی کتاب جو کہانی سنا رہی ہے اس کے مطابق تو یہی سوالات ایک سٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے ترتیب پا کر اٹارنی جنرل کو مہیا کر دئے گئے۔ اٹارنی جنرل بے چارے کیا کرتے انہی علماء پر بھروسہ کرتے ہوئے وہی سوال پوچھتے رہے ۔ جو لوگ اِن معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں ان کی حقیقت معلوم ہے وہ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اﷲوسایا موصوف نے امام جماعت احمدیہ کے جوابات کو قطع و برید یا بقول ان کے ’’اجمال‘‘ کی آڑ میں کتنا بھی مسخ کر دیا ہو جب سوال سامنے آ گیا تو جواب کے لئے اگر اسمبلی کی کارروائی مہیا نہ بھی ہو تو جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے رجوع کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ۔
ہم اصلاحِ احوال اور ازالۂ اشتعال انگیزی کی خاطر ان میں سے چندسوالات کے جوابات اختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ جوابات کا اکثر حصہ اﷲ وسایا کی کتاب ہی کے حوالہ سے ہے اور کچھ ان کی کتاب میں درج حوالوں کے تعلق میں جماعت احمدیہ کے لٹریچر اور دیگر مستند تاریخی کتب پر مبنی ہے۔مگر ان اعتراضات اور جزئیات کی طرف توجہ کرنے سے پہلے چند بنیادی سوال ہمیں اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کچھ ان کا ذکر ہو جائے۔

(۶) چاراہم سوال

پہلا سوال:

اﷲوسایاصاحب کی مرتبہ کتاب پارلیمنٹ میں قادیانی شکست میں صفحہ۳۳پر ۵؍اگست ۱۹۷۴ء کی کارروائی سے آغاز کیا گیاہے اور اس کے مطابق حضرت امام جماعت پر اس دن جرح کا آغاز ہوا ۔ سب جانتے ہیں کہ گواہ پر جرح اسکے بیان پر کی جاتی ہے۔ جرح سے پہلے حضرت امام جماعت احمدیہ نے کوئی بیان بھی دیا ہو گا اٹارنی جنر ل کے بیان اور خود موصوف کی کتاب سے ظاہر ہے کہ تحریری بیان بھی داخل کیا گیا اوراسے حلف لینے کے بعد پڑھ کر سنایا بھی گیا۔ اس بیان کا ایک دوسری جگہ اٹارنی جنرل نے محضر نامے کے طور پر بھی ذکر کیاہے۔
قانونِ شہادت کے مطابق گواہ کا بنیادی اظہار اور جرح دونوں مل کر گواہ کی شہادت کہلاتے ہیں، لہٰذا اﷲوسایا موصوف سے ہمارا پہلا سوال تو یہ ہے کہ جرح کی کارروائی تحریر کرنے سے پہلے انہوں نے وہ ابتدائی، بنیادی، مفصل بیان کیوں درج نہ کیا؟ موصوف کے وہ بزرگان اور قائدین جنہوں نے اتنی محنت سے بقول اﷲوسایاصاحب زبانی اور تحریری یادداشتیں تیار کررکھی تھیں، کیا ان کے پاس یہ محضرنامہ موجود نہیں تھا؟ اس محضرنامے کی نقول تو تمام ممبران اسمبلی کو مہیا کی گئی تھیں ۔ اس کی تیاری کے بارے میں تو وہ مشکلات اسمبلی کی طرف سے درپیش نہیں تھیں جن کا اﷲوسایاکی شائع کردہ کارروائی کے دوران جگہ جگہ ذکر ملتاہے۔ پوری کارروائی میں کسی ایک ممبر نے بھی یہ سوال نہیں اُٹھایاکہ انہیں جماعت احمدیہ کے محضرنامے کی نقل نہیں ملی۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ اﷲوسایا نے اس بنیادی مفصّل بیان کو چھوڑ کر جرح سے اپنی کتاب کا آغاز کیا؟ کیا ان کے بزرگان نے یہ محضرنامہ ان سے چھپا لیا اور ان کو اسکی ہوا تک نہیں لگنے دی۔ یا پھر یہ کارستانی اﷲوسایا کی اپنی ہے کہ وہ اس کو گول کر گئے اور خود یوں نقاب پوش ہوگئے کہ گویا یہ بھی ’’اجمال‘‘ ہی کا حصہ ہے۔ پورے بیان کو حذف کر دینا تو اجمال نہیں ہوتا۔ تو پھر آخرکیوں یہ کارروائی کی گئی؟
کیا صرف اس لئے کہ کہیں جماعت احمدیہ کا مؤقف ان کے اپنے الفاظ میں، عوام کے پاس نہ پہنچے اور کوئی بالغ نظر منصف مزاج قاری ان سے یہ نہ پوچھ بیٹھے کہ کارروائی کیا تھی اور نتیجہ کیا نکلا؟
یا اس لئے کہ اپنے بیان میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے واضح طور پر ایسے سوال اٹھائے تھے اور نمایاں طور پر تنقیحات وضع کرکے اسمبلی کو توجہ دلائی تھی کہ کوئی بھی فیصلہ ان تنقیحات کے جواب کے بغیرممکن نہیں۔ یا اس لئے کہ اﷲوسایاصاحب میں قوم کو یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کہ ان حضرات کے پاس ان تنقیحات کا کوئی جواب نہیں اورانہوں نے ان تنقیحات کو نظر انداز کر کے خدا اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی ہے۔

دوسرا سوال:

خصوصی کمیٹی کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:۔

’’دینِ اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پربحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘‘

عقیدۂِ ختمِ نبوت اورشانِ خاتم النبیینﷺ کے بارہ میں امام جماعت احمدیہ نے اپنے مفصّل اور مدلّل تحریری بیان میں کہا تھا کہ:۔

’’جماعت احمدیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ اصولی اور بنیادی طور پر ختمِ نبوت کی ان تمام تفاسیر کو بدل و جان تسلیم کرتی ہے جن سے آنحضرت ﷺکی ارفع اور منفرد شان دوبالا ہوتی ہے اورجو بزرگانِ اُمّت نے گزشتہ تیرہ صدیوںمیں وقتاًفوقتاًبیان فرمائیں‘‘۔

اور اسکے ساتھ ضمیمہ کے طور پر تیرہ صدیوں کے بزرگانِ امت کے اسمائِ گرامی اور حوالہ جات بھی پیش کئے تھے۔
اﷲوسایا صاحب سے ہمارادوسرا سوال یہ ہے کہ موصوف کی شائع کردہ کارروائی میں کوئی ایک سوال بھی ایسا کیوں نہیں جس میں اس بارے میں جرح کی گئی ہو۔ اگر اس بیان پر جرح نہیں کی گئی تو قانون کے مطابق سمجھا جائے گا کہ بیان تسلیم کر لیا گیا ہے۔
کیا اس لئے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ حوالہ جات جن بزرگان اور صلحائے امت سے منسوب تھے وہ تمام نام اتنے معزز اور محترم ہیں کہ ان کے فرمودات رد نہیں کئے جا سکتے۔ اور مولوی حضرات میں سے کسی کی یہ مجال نہیں کہ ان بزرگوں کی حیثیت متعین کرکے انہیں خارج از دائرہ اسلام قرار دے۔

تیسراسوال:

موصوف کی کتاب’’ تحریکِ ختمِ نبوت جلد دوئم‘‘ کے باب چہارم میں جو مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں درج کی گئی ہیں اس میں۱۹۵۶ء کی مرکزی مجلس کے اجلاس مورخہ۱۲؍فروری کی کارروائی میں جو قرارداد منظورکی گئی اس میں مطالبہ یہ تھاکہ۔

’’یہ اجلاس مجلس دستور ساز سے پر زور مطالبہ کرتاہے کہ وہ اپنے اس اعلان کی روشنی میں مسلمان کی تعریف کرے۔‘‘

اﷲوسایا صاحب سے ہمارا تیسرا سوال یہ ہے کہ۳۰؍جون ۱۹۷۴ء کو جو قرارداد حزب اختلاف کی طرف سے ۳۷؍افراد کے دستخطوں سے پیش کی گئی اس میں آئین میں مسلمان کی تعریف کرنے کا مطالبہ کیوں ترک کر دیا گیا؟
کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس بارے میں امام جماعت احمدیہ نے جو سات عدد تنقیحات وضع فرما دی تھیں ان کی روشنی میں ایسا کرنا ناممکن تھا اورانہوں نے آپ کے لئے کوئی راہِ فرار نہیں چھوڑی تھی۔ اوریہ ہو نہیں سکتاتھا کہ ان سوالات پر کوئی غور کرے اور مسلمان کی تعریف کے بارہ میں وہ رویہ نہ اپنائے جو جماعت احمدیہ نے تحریری بیان میں اختیار کیا،جو یہ تھا:۔
’’دنیا بھرمیں یہ ایک مسلّمہ امر ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی نوع معین کرنے سے قبل اس نوع کی جامع و مانع تعریف کردی جاتی ہے جو ایک کسوٹی کا کام دیتی ہے اور جب تک وہ تعریف قائم رہے اِس بات کا فیصلہ آسان ہو جاتاہے کہ کوئی فرد یا گروہ اس نوع میں داخل شمار کیا جاسکتاہے یا نہیں ۔ اس لحاظ سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر مزید غور سے قبل مسلمان کی ایک جامع ومانع متّفق علیہ تعریف کی جائے جس پر نہ صرف مسلمانوں کے تمام فرقے متّفق ہوں بلکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کا اس تعریف پر اتفاق ہو ۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل تنقیحات پر غور کرنا ضروری ہوگا۔
(الف)۔۔۔کیا کتاب اﷲ یا آنحضرتﷺ سے مسلمان کی کوئی تعریف ثابت ہے جس کا اطلاق خود آنحضرتؐ کے زمانے میں بِلا استثناء کیا گیا ہو؟ اگر ہے تو وہ تعریف کیا ہے؟
(ب)۔۔۔ کیا اس تعریف کو چھوڑ کر جو کتاب اﷲاور آنحضرتؐ نے فرمائی ہو اور خود آنحضورؐ کے زمانہ ٔمبارک میں اس کااطلاق ثابت ہو، کسی زمانہ میں بھی کوئی اور تعریف کرنا کسی کے لئے جائز قرار دیا جاسکتاہے؟
(ج)۔۔۔ مذکورہ بالا تعریف کے علاوہ مختلف زمانوں میں مختلف علماء یا فرقوں کی طرف سے اگر مسلمان کی کچھ دوسری تعریفات کی گئی ہیں تو وہ کونسی ہیں؟ اوراوّل الذکرشق میں بیان کردہ تعریف کے مقابل پر ان کی کیاشرعی حیثیت ہو گی؟
(د)۔۔۔ حضرت ابو بکر صّدیق ؓ کے زمانہ میں فتنۂ ارتداد کے وقت کیا حضرت ابوبکر صّدیق ؓ یا آپ ؐ کے صحابہؓ نے یہ ضرورت محسوس فرمائی کہ آنحضورؐ کے زمانے میں رائج شدہ تعریف میں کوئی ترمیم کریں۔
(ر)۔۔۔ کیا زمانہ ٔ نبوی ؐ یا زمانہ ٔ خلافت راشدہ میں کوئی ایسی مثال نظر آتی ہے کہ کلمہ لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اﷲ کے اقرار کے اور دیگر چار ارکانِ اسلام یعنی نماز ‘ زکوٰۃ ‘ روزہ اور حج پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو؟
(س)۔۔۔ اگر اس بات کی اجازت ہے کہ پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو قرآن کریم کی بعض آیات کی ایسی تشریح کرنے کی وجہ سے جو بعض دیگر فرقوں کے علماء کو قابلِ قبول نہ ہو، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے یا ایسا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے جو بعض دیگر فرقوں کے نزدیک اسلام کے منافی ہے تو ایسی تشریحات اور عقائدکی تعیین بھی ضروری ہوگی تاکہ مسلمان کی مثبت تعریف میں یہ شق داخل کر دی جائے کہ پانچ ارکانِ اسلام کے باوجود اگر کسی فرقہ کے عقائد میں یہ یہ اُمور داخل ہوں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔‘‘
اس کے بعدمحضر نامہ میں پر زور اپیل کی گئی تھی کہ:۔
’’ اگر حقیقتاً عقل اور انصاف کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام میں جماعت احمدیہ کی حیثیت پر غور فرمانا مقصود ہے یا اسلام میں آیت خاتم النبییّن کی کسی تشریح کے قائل ہونے والے کسی فرد یا فرقہ کی حیثیت کا تعین کرنا مقصود ہے تو پھر ایسا پیمانہ تجویزکیا جائے جس میں ہر منافیٔ اسلام عقیدہ رکھنے والے کے کفر کو ماپا جاسکتاہو اور اس پیمانہ میں جماعت احمدیہ کے لئے بہرحال کوئی گنجائش نہیں ‘‘۔
اورمزید یہ کہا گیا تھا کہ:۔
’’جماعت احمدیہ کے نزدیک مسلمان کی صرف وہی تعریف قابل قبول اور قابل عمل ہو سکتی ہے جو قرآن عظیم سے قطعی طور پر ثابت ہو اور آنحضرت ﷺ سے قطعی طور پر مروی ہو اور آنحضرتﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں اُس پر عمل ثابت ہو ۔ اس اصل سے ہٹ کر مسلمان کی تعریف کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ رخنوں اور خرا بیوں سے مبرانہیں ہوگی بالخصوص بعد کے زمانو ں (جبکہ اسلام بٹتے بٹتے بہتّرفرقوں میں تقسیم ہو گیا ) میں کی جانے والی تمام تعریفیں اس لئے بھی ردّ کرنے کے قابل ہیں کہ اُن میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہے اور بیک وقت اُن سب کو قبول کرنا ممکن نہیں اور کسی ایک کو اختیار کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ اس طرح ایسا شخص دیگر تعریفوں کی رُو سے غیر مسلم قراردیا جائے گا اور اس دلدل سے نکلنا کسی صورت میں ممکن نہیں رہے گا ۔ ‘‘
کیا یہ درست نہیں کہ ان تنقیحات اور بنیادی سوالات کا کوئی جواب بَن نہیں پڑا تو ’’مسلمان‘‘ کی تعریف کے مطالبے سے ہی دستبردار ہو گئے؟

چوتھا سوال:

ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ اﷲوسایا صاحب کی کتاب میں مسلمان کی تعریف کے بارے میں ان تنقیحات پر کوئی بحث یا جرح کیوں نہیں؟ کیاان پر جرح کی ہی نہیں گئی؟ اگر جرح کی گئی تو اسے شائع کیوں نہیں کیا گیا؟
یہ ہو نہیں سکتا کہ ان پر جرح کر کے ،بقول اﷲوسایا صاحب، مرزا ناصر احمد صاحب کو’’چاروں شانے چت‘‘ گرایا ہو اوراﷲ وسایا صاحب یہ کارنامہ عوام کے سامنے نہ لائیں۔
انہوں نے راہِ فرار اختیار کر کے خدا اور اس کے رسول کے ارشادات سے رو گردانی کی ہے۔
اس سوال پر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا متعلقہ حصہ اہلِ نظر کے لئے ایک پڑھنے کی چیز ہے۔

(۷) اٹارنی جنرل کی مشکل ’’ کفر کم تر از کفر‘‘

مولوی حضرات ہمیشہ یہ کہہ کر مسلمانوں کو اشتعال دلاتے ہیں کہ احمدی مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام اور اُمّتِ مسلمہ سے خارج تصور کرتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کا مؤقف بڑا واضح ہے اور اُمّت کے سابقہ بزرگوں کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔اس موضوع پر ساری کارروائی میں سے تفصیلات کو حذف کر دینا ایک بہت بڑی بددیانتی ہے۔ مگر جوکارروائی جناب اللہ وسایا نے شائع کی اس کے مطالعہ سے بھی احمدیوں کا مؤقف بڑی آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ امام جماعت کا مؤقف کیا تھا ، اٹارنی جنرل کیا کہہ رہے تھے،امام جماعت کے مؤقف کی بنیاد کیا تھی ،یہ سب اس کارروائی سے کافی حد تک واضح ہو جاتاہے اور یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ اللہ وسایا کو اس ’اجمال‘ اور قطع و برید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
جرح کے بعد اپنی بحث کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا:۔
’’جناب والا!اب میں دوسرے موضوع کی طرف آتاہوں جو زیادہ اہم ہے میں نکات ۴،۵ کو اکٹھا لوں گا۔ یہ نکات یہ ہیں ’’مرزا صاحب کے نبوت کے دعویٰ کو نہ ماننے کے اثرات اور اِس دعویٰ کے مسلمانوں پر اثرات اور ان کا ردعمل‘‘۔ اس موضوع پر معروضات پیش کرنے سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مجھے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ (صفحہ۳۰۵)
حضرت امام جماعت احمدیہ کے بارے میں اٹارنی جنرل نے کہا:۔
’’ مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیرالدین محمود احمدکی جگہ بطور خلیفہ سوئم جماعت احمدیہ،۱۹۶۵ء میں عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی(ربوہ)گروپ کے سربراہ ہیں۔ وہ ۱۹۰۹ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مؤثر شخصیت کے مالک ہیں۔ ایم۔اے۔(آکسفورڈ) عربی، فارسی اور اُردو کے بہت بڑے عالم ہیں۔دینی معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔‘‘ (صفحہ۳۰۶)
آگے چل کر اسی تسلسل میں کہا:۔
’’جناب والا! جب یہ مقدس ہستی کمیٹی کے رُوبرو پیش ہوئی تو سوال پیدا ہوا، بہرحال میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گاکہ جو مرزا صاحب کی نبوت کو نہیں مانتے، ان کے بارے میں انہوں نے کیاکہا ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے لوگ کافرہیں۔ اس کامطلب کیا ہے؟اس (مرزاناصر احمد) نے جواب دیا’’کافر‘‘ سے مراد ایسا شخص نہیں جسے منحرف یامرتد قراردیاجائے یاایسا تارک الدین شخص جسے اسلام کے دائرے سے خارج کرناپڑے،بلکہ ایسے کافر سے مراد ایک قسم کاگنہگار ہے یا ثانوی درجے کا کافر ۔وہ پیغمبر اسلامﷺپرتو ایمان رکھتاہے اس لئے مرزا ناصراحمد کے بقول ایسا شخص(جومرزاغلام احمد کی نبوت کا انکارکرتاہے)ملت محمدّیہ کے اندر تو رہے گا مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔ میں نے یہ بات سمجھنے کی انتہائی کوشش کی، جب ایک شخص کافرہوجاتاہے تووہ کیسے ’’دائرہ اسلام سے خارج ہے مگرملت محمدّیہ سے باہرنہیں‘‘ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کئی روز تک ہم اس مشکل میں مبتلا رہے۔‘‘(صفحہ۳۰۶۔۳۰۷)
فاضل اٹارنی جنرل کوجس دشواری کا سامنا تھا اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ اسمبلی کی کارروائی کی، جو صورت بھی شائع کی گئی ہے، کو پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ اٹارنی جنرل صاحب دو تین دن تک بار بار گھما پھراکر ہر پہلو سے ،ہر انداز سے
امام جماعت احمدیہ سے یہ کہلوانے کی کوشش کرتے رہے کہ جملہ مسلمان مطلقاً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اٹارنی جنرل کی اس کوشش کو ہرلحاظ سے ناکام کیا ۔یہ وہ مشکل ہے جس کا سامنا اٹارنی جنرل کو کرنا پڑا۔ ملاحظہ ہو:۔
’’ اٹارنی جنرل: قرآن وحدیث کی رُو سے کافر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
مرزاناصر: قرآن وحدیث میں دائرہ اسلام کا محاورہ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل: مسلمان رہتا ہے یا نہیں۔اگر مسلمان نہیں رہتا تو وہ اسلام کے دائرہ میں نہ رہا۔ایک حدیث میں ہے اور اگر حدیث کونہیں مانتے تو آپ کے والد نے کہا ہے اسے تو مان لیں۔یہ میرے ہاتھ میں ان کی کتاب ہے آپ کے والد کی، وہ کہتے ہیں کہ جو مرزا کونہیں مانتے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں؟
مرزاناصر: کفر کفر میں فرق ہے۔ایک کفر وہ ہے جو ملّت سے خارج کردیتا ہے ۔ایک وہ کفرہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جو کلمہ کاانکار کرے وہ ملت سے خارج ہوتاہے۔
اٹارنی جنرل: اورجو مرزا کی نبوت کاانکار کرتا ہے، وہ ملّت سے خارج نہیں ہوتا۔
مرزاناصر: نہیں ہوتا۔
اٹارنی جنرل: ایک آپ کی یہ شہادت ہے، ایک آپ کے والد کی منیر کمیشن میں شہادت تھی۔دونوں میں فرق ہے تو کون صحیح ہوگا؟
مرزاناصر: منیر کمیشن میں میرے والد نے کہا مگر اورجگہ بھی توکہا، سب کو دیکھناہے۔
اٹارنی جنرل: ایک عدالت کے سامنے جو ریکارڈ، شہادتیں اور دلائل ہوتے ہیں؟
مرزاناصر: مجھے نہیں معلوم کہ میرے باپ نے کیا کہا، مگر میں ملت سے خارج نہیں مانتا۔
اٹارنی جنرل: اور جو مرزا کو نہیں مانتا ؟
مرزاناصر: وہ قابل مؤاخذہ ۔
اٹارنی جنرل: ملت اسلامیہ سے نکل گیا؟
مرزاناصر: سیاسی معنوں میں نہیں نکلا۔
اٹارنی جنرل: حقیقی معنوں میں نکل گیا؟
مرزاناصر: جی۔
اٹارنی جنرل: صرف جی نہیں، بلکہ صاف فرمائیں کہ نکل گیا؟
مرزاناصر: کہہ تو دیاہے کہ ایک معنی میں کافر ہے،دوسرے میں مسلمان‘‘۔ (صفحہ۵۶۔۵۷)
’’اٹارنی جنرل: آپ کے باپ کی کتاب ہے’’آئینہ صداقت‘‘ صفحہ۳۵ہے۔
مسڑ چیئرمین: کیا کہا اس کتاب میں۔
اٹارنی جنرل: کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے
مسیح موعود کا نام نہ سُنا ہو، وہ بھی کافراوردائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
مرزاناصر: کفر کے دو قسم بتائے ہیں، ایک یہ بھی ہے۔یہی بات انہوں نے منیر کمیشن میں کہی تھی کہ وہ سیاسی کافر ہوں گے‘‘۔ )صفحہ۵۸)
آگے چل کر اٹارنی جنرل پھر اسی موضوع کی طرف لوٹتے ہیں:
’’اٹارنی جنرل: جو شخص ملت اسلامیہ میں ہے آپ کے اعتقاد کے مطابق وہ دائرہ اسلام میں بھی ہے ۔لیکن جو دائرہ اسلام میں ہے، وہ ہرشخص ملت اسلامیہ میں نہیں،گویا ایک شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر اس کے باوجود وہ مسلمان ہے؟
مرزاناصر : اس کے باوجود مسلمان ہے۔
اٹارنی جنرل: گویا کافر بھی ہے اور مسلمان بھی؟
مرزاناصر:بعض جہت سے کافر اور بعض سے مسلمان ‘‘۔(صفحہ۶۹)
پھر اسی مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے اٹارنی جنرل کہتے ہیں۔
’’اٹارنی جنرل: رابطہ عالم اسلامی میں دُنیا بھر کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے آپ کو کافر کہا۔
مرزاناصر: وہ تو نامزد لوگ ہوں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اقوام متحدہ یا کوئی دُنیا کامنتخب ادارہ بھی ہمارے کُفر پر متفق ہوجائے توپھر بھی میں سمجھوں گاکہ اس معاملہ کو خدا پر چھوڑتے ہیں۔
اٹارنی جنرل: دیکھئے اقوام متحدہ یا کسی اور کے فیصلہ پر تو صاد کرکے صرف خدا کی عدالت میں اپیل کا کہتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا ادارہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی یا رابطہ، فیصلہ کریں تو آپ اسے صاد نہیں کرتے؟
مرزاناصر: میں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے فیصلہ پر بھی معاملہ خداپر چھوڑوں گا، یہ کہ اسے بھی صحیح نہیں سمجھتا۔
اٹارنی جنرل: پھر اگر آپ پوری دُنیا کے فیصلہ کو بھی نہیں مانتے تو ان کے فیصلہ کرنے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ آپ پوری دُنیا کے کسی بھی متفقہ فیصلہ کو، جو آپ کے خلاف ہو، نہیں مانتے۔ پھر تو بات ہی ختم ہو گئی۔ آپ صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری دُنیا سے الگ ہیں ان معنوں میں ؟
مرزاناصر: میرا دل نہیں مانتا تو وہ میں کیسے کروں گا‘‘۔(صفحہ۷۶)
یہ اقتباسات جو جناب اﷲ وسایا کی شائع شدہ کارروائی سے نقل کئے گئے ہیں ان کے بارے میں ہم ہرگز تسلیم نہیں کر رہے کہ یہ مکالمہ اس طرح سے ہوا۔ اس کارروائی میں خود ایسے اشارے موجود ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ضروری تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے، مثلاً منیر انکوائری کمیشن میں اِسی مسئلہ پر دیئے گئے جواب کا ذکر ہے مگر وہ جواب کارروائی میں نہیں۔ امام جماعت کے جواب ایک ایک فقرے میں ظاہر کئے گئے ہیں،کارروائی کے کئی حصّے ایسے بھی ہیں جہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ کارروائی میں سے جواب کا اصل اور مؤثر حصہ حذف کردیا گیا ہے۔ مگر ایک بات بالکل واضح ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب سارا زور اِس بات پر لگا رہے ہیں اور اپنی ساری صلاحیتیں امام جماعت سے یہ کہلوانے کی خاطر بروئے کار لارہے ہیں کہ سارے مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور امام جماعت احمدیہ کسی صورت بھی یہ نہیں کہہ رہے۔
اٹارنی جنرل بار بار اسی مضمون کو چھیڑتے ہیں اور اس بات پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کوئی شخص گویا کافر بھی ہے مسلمان بھی ہے اور مرزا ناصراحمد پھر یہی فرماتے ہیں کہ بعض جہات سے کافر اور بعض سے مسلمان۔اور مرزا ناصر احمد صاحب بار بار دائرہ اسلام اور ملتِ اسلامیہ میں سے خارج ہونے کے فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔
منیر انکوائری کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں آئینۂ صداقت صفحہ ۳۵کے حوالہ سے کوئی سوال پوچھا گیا، مگر اس سوال اور جواب کی تفصیل پر اﷲوسایا صاحب نے ’’اجمال‘‘ کا پردہ ڈال دیا ہے۔ ہم وہ تفصیل منیر انکوائری کمیشن کے حوالہ سے پیش کر رہے ہیں۔ منیر انکوائری میں جماعت احمدیہ کے خلیفۂِ ثانی حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب سے پوچھا گیا ۔

’’سوال:۔ کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب ’’آئینہ صداقت‘‘ کے پہلے باب میں صفحہ ۳۵پر ظاہر کیا تھا۔ یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کانام بھی نہ سُنا ہو وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج؟

جواب:۔ یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتاہوں۔ پس جب میں ’’کافر‘‘ کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ ۲۴۰پرکیا گیا ہے۔ جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک دُوْنَ الْاِیمان اور دوسرے فَوقَ الْاِیمان۔ دُوْنَ الْاِیمانمیں وہ مسلمان شامل ہیں‘جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔ فَوقَ الْاِیمان میں ایسے مسلمانوں کاذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو دُوْنَ الْاِیمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔ مشکٰوۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتااور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔(تحقیقاتی عدالت میں جماعت احمدیہ کا بیان)

امام راغب کے جس قول کا حوالہ دیاجارہا ہے وہ یہ ہے۔
وَالاِْسلامُ فی الشَرعِ علیٰ ضَرْبَیْنِ:۔ احَدُھُما دُونَِ الایمانِ وَھُوَ الاعِتَرافُ باللسانِ و بہٖ یُحقَنُ الدّمُ حَصَلَ معہ الاِعتِقَادُ اَولم یُحصل وایَّاہُ قُصِدَ بقولہٖ قالتِ الاعرابُ آمَنَّاقُلْ لَم تُوْمِنُوا وَلٰکِنْ قُولوا اَسْلَمْنَا ۔ والثانی فَوقَ الا یمانِ وَھو اَنْ یَکُون مَعَ الاِعتَرَافِ اعتِقَاد بِالقَلب ووفائ’‘ بالفعل۔ واستِسْلاَم ﷲِ فِیْ جَمیعِ ما قَضَیٰ وَقدّرَ کَمَاذُکِرَ عَنْ ابراھیمَ علیہ السلامُ فی قولِہٖ اذ قَالَ لَہ‘رَبُّہ‘ اَسلِمْ قَالَ اَسْلمتُ لرَبِّ الْعَالَمِین ۔(المفردات فی غریب القرآن از علامہ راغب اصفہانی، مطبوعہ 1961 اصح المطابع، آرام باغ فریئر روڈ ، کراچی۔ صفحہ ۲۴۰)
یعنی ایک زبانی اقرار کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اصطلاحاً دائرہ اسلام میں آجاتا ہے اور اس کے بارے میں امام راغب یہ کہتے ہیں’’ کہ اس اقرارِزبانی کے ساتھ اعتقاد شامل ہو یا نہ ہو ایسا اقرار زبانی کرنے والا’’دُوْنَ الْاِیمان‘‘ دائرہ اسلام میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے ‘‘۔اور اس بات کی تائید میں امام راغب سورۃالحجرات کی قرآنی آیت لائے ہیں اپنی طرف سے بات نہیں کی۔سورۃالحجرات کی آیت کا ترجمہ یوں ہے۔’’بدُو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو لیکن یہ کہوکہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔‘‘ اس کو ’’دُوْنَ الْاِیمان ‘‘ اسلام کہا گیا۔ یعنی دائرہ اسلام میں تو ہے مگر اسلام کی حقیقی معرفت کو نہیں پہنچا۔اور جسے امام راغب ’’فَوقَ الْاِیمَان ‘‘ کہتے ہیں۔جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اقرارِزبانی کے علاوہ قلبی اعتقاد اور فعلی وفامکمل طور پر خداکے قضاوقدر میں خود سپردگی کا نام ہے۔یہ اصل اسلام ہے جس کو ’’فَوقَ الْاِیمَان ‘‘ کہااور یہ بات بھی امام راغب نے خود نہیں کہہ دی اس کے لئے بھی حضرت ابراھیم ؑ کے قول کی مثال قرآن شریف سے دی اور پھر متعدد آیات قرآن شریف کی اس تائید میں لائے کہ ’’فَوقَ الْاِیمان ‘‘ والے مسلمان تو وہ ہیں جو شیطان کے چنگل سے آزادہوں،مکمل طور پر راضی بہ رضا ہوں اور یہ ایک ایسی واضح اور بدیہی بات ہے کہ اس کو اصطلاحات کی باریکیوں سے الگ کر کے بھی باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ہر مسلمان اپنے ادّعااور خواہش کے باوجود حقیقی اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتا۔قدم لڑکھڑاتے بھی ہیں اور سنبھل بھی جاتے ہیں۔گناہ سرزد بھی ہوجاتے ہیں۔عرقِ انفعال اور ندامت بھی دامنگیر ہوتی ہے۔اسلام کے حقیقی تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا ہوتا لیکن یہ تو نہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ۔ہر چند کہ شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے۔ ایسے افعال کر بیٹھتا ہے جو کفر کے مترادف ہوتے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔ یہ دائرہ اسلام دُوْنَ الْاِیمان ہے۔ ایسا شخص مسلمان ہے ،امت کافرد ہے۔گناہگار ہے، ایسے افعال کر بیٹھتا ہے جن سے شرک یا کفر لازم آجاتا ہے، غیر اﷲکے آگے حقیقی یا معنوی رنگ میں سجدہ ریز بھی ہوجاتا ہے، قبروں پر ماتھا جاٹیکتاہے مگر خود کو مسلمان کہتا ہے ۔دائرہ اسلام میں تو ہے مگر دُونَ الْاِیمان ہے، حقیقی اسلام تو نہیں۔فَوقَ الْاِیمان کی کیفیات کا تو کیا کہنا۔ یہ ایسی بات تو نہیں جو سمجھ میں نہ آتی ہو۔ ہر مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ وہ مسلمان تو ہے لیکن اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پارہا۔ مگر ایسا شخص دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں۔ فقہاء کی اصطلاح میں دُونَ الْاِیمان اسلام ہے۔
لہٰذا احمدیہ لڑیچر میں جہاں بھی مسلمانوں کو کافر کہا گیا وہ اس’’ کفر کم تر ازکفر ‘‘کے معنوں میں کہاگیا اور اس بات کو امام جماعت احمدیہ نے تفصیل سے بیان کیا اور جناب اﷲوسایا ان تفصیلات کو حذف کرکے’’ اجمال‘‘ کی نقاب اوڑھے ہوئے یہ اشتعال انگیزی کرنا چاہتے ہیں کہ احمدی تمام مسلمانوں کومطلقاً کافر سمجھتے ہیں۔ مگر اہل انصاف کیلئے یہ نقطۂ نظر سمجھنے میں کوئی دقّت نہیں کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہو اور پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان کا زبانی اقرار کرتا ہو وہ مسلمان ہی رہتا ہے ،اُمت مسلمہ سے خارج نہیں ہوتا۔ جو شخص بھی دیانتداری سے اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں، گناہوں، نافرمانیوں پر نظر ڈالے گا وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ خدا کے رسولؐ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا کہ ان تمام کوتاہیوں کے باوجود اس کے مسلمان ہونے کو ایسا تسلیم کیا کہ خدا اور اس کے رسولؐ کا ذمّہ قرار دے دیا۔
یہی بات جب منیر انکوائری میں امام راغبؔ کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے کہی یا قومی اسمبلی میں جماعت کے خلیفۂ ثالث نے کہی تو اُن لوگوں کی سمجھ میں نہ آئی ہو جو سیاست کے نام پر ووٹ لے کر آئے تھے، جنہیں ایمانیات پر رائے دینے کا بھی حق نہ تھامگر ان چند حضرات کی سمجھ میں تو ضرورآجانی چاہیے تھی جن کے مدارس میں انہی حوالوں سے ایمان اور اسلام کی بحثیں پڑھائی جاتی ہیں۔ جماعت احمدیہ کا نقطۂ نظر چونکہ ان وضاحتوں کے ساتھ عوام کو باآسانی سمجھ آسکتا تھا۔ ان حضرات پر یہی دُھن سوار تھی کہ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہ‘‘ میں جواب دو ۔وضاحت نہ کرو۔ مضمون کو کھول کر نہ بیان کرو۔آخر کیا مقصد تھا ؟کہ کہیں عوام اصل بات کو سمجھ نہ لیں۔ اور جب امام جماعت احمدیہ، اس مردِ خدانے اس شور وغوغا کے باوجود مسئلہ کھول کر بیان کر دیا تو اٹارنی جنرل صاحب کہتے ہیں کہ:۔

’’ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔ میں نے یہ سمجھنے کی انتہائی کوشش کی کہ جب ایک شخص کافر ہوجاتا ہے تو وہ شخص کیسے دائرۂ اسلام سے خارج ہے مگر ملتِ محمدیہ سے نہیں۔‘‘(صفحہ۳۰۷)

مگر جب ان فتاویٰ ٔ کفر کا سامنا کرنا پڑا جو سب فرقے ایک دوسرے پر لگا چکے ہیں تواٹارنی جنرل خود علامہ اقبال کا یہ اقتباس نقل کرتے ہیں:۔

’’فقہ کا طالبِ علم جانتا ہے کہ ائمہ فقہ اس قسم کے کفر کو کفرکم تر از کفر سے موسو م کرتے ہیں یعنی اس طرح کا کفر مجرم کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا‘‘۔(صفحہ۲۸۳)

اتنی بات تو اٹارنی جنرل صاحب کی سمجھ میں بھی آ گئی کہ ثانوی درجہ کا کفربھی ہوتا ہے۔ وہی بات جو امام راغب نے کہی، جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے کہی، اب وہی بات مرزا ناصر احمدصاحب کہہ رہے ہیں، وہی بات خود اٹارنی جنرل صاحب علّامہ اقبال کے حوالہ سے دہرا بھی رہے ہیں، مگر پھر بھی اصرار ہے کہ آپ ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے۔

(۸) کہ دانم مشکلاتِ لَااِلٰہ

بات واضح ہو چکی ہے مگر اٹارنی جنر ل ’’کلمۃالفصل ‘‘کے حوالہ سے پھر اسی مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے کہتے ہیں:۔
’’ اس موقع پر میں نے مرزا ناصر احمد سے پوچھاکہ ’’حقیقی مسلمان‘‘سے کیامراد ہے؟اس نے اپنے محضر نامے سے بھی سچے مسلمان کی تعریف میں کافی زیادہ تفصیلات بیان کی ہیں۔مرزا ناصر احمد نے کہا کہ’’حقیقی مسلمان‘‘کئی ایک ہیں۔میں نے پوچھا:کیا آج بھی ایسے (حقیقی مسلمان)موجود ہیں کیونکہ یہ ایک بہت ہی مشکل تعریف ہے۔مسلمان کی تعریف میں مرزاغلام احمد کو نبی ماننے یانہ ماننے کاکوئی ذکر نہیں۔اس لئے یہ خاصی مشکل تعریف ہے‘‘ ۔
مرزا ناصر احمد اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:۔
مرزا ناصر احمد:محضرنامے میں اس کا جواب صفحہ ۲۳ پر ہے۔
اٹارنی جنرل : ایک پٹھان ایک مولوی کے پاس گیا۔ میں بھی پٹھان ہوں۔ اس نے مولوی سے پوچھا کہ جنت میں جانے کا کیا طریقہ ہے۔ اس نے پہلے تو اسے کہا کہ جنت میں جانے کے لئے نمازیں پڑھیں،روزے رکھیں،اﷲاور اس کے رسول پر ایمان لائیں ۔ تو اس نے کہا کہ یہ سب کچھ کیا تو جنت میں جا سکوں گا،تو مولوی نے کہا کہ پل صراط ہوگا، جو تلوارسے تیز ، بال سے باریک ہے۔ پٹھان نے کہا آپ صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ جنت میں جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ میں نے مولوی ا ورپٹھان کی بات کی ہے،آپ نے حقیقی مسلمان کی Definitionدی ہے، آپ کو دنیامیں کتنے مسلمان نظر آتے ہیں ۔‘‘
جس مشکل تعریف کا ذکر اٹارنی جنرل کر رہے ہیں وہ محضر نامہ سمیت اﷲ وسایا صاحب نے کارروائی سے غائب کردی ہے۔وہ تعریف اٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں بانی جماعت احمدیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کی۔ اس کاایک حصہ ہم پیش کرتے ہیں۔

’’ اس تقریر سے معلوم ہواکہ اِسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے اور کوئی اِنسان کبھی اِس شریف لقب اہلِ اسلام سے حقیقی طور پر ملقّب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوّتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخُدا نہ کر دیوے اور اپنی انانیت سے معہ اُس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اُٹھا کر اُسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔

پس حقیقی طور پر اُسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا جب اُس کی غافلانہ زندگی پرایک سخت اِنقلاب وارد ہو کر اُسکے نفسِ ا مّارہ کا نقش ہستی مع اُس کے تمام جذبات کے یک دفعہ مٹ جائے اور پھر اِس موت کے بعد مُحسن للہ ہونے کے نئی زندگی اُس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اُس میں بجز طاعتِ خالق اور ہمدردیٔ مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔

خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اُس کی عزت وجلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزتی اور ذلت قبول کرنے کے لئے مُستعد ہواور اُس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں مَوتوں کو قبول کرنے کے لئے طیارہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اُس کے احکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلاوے کہ گویا وہ کھاجانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا بھَسم کر دینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوّتوں کے ساتھ بھاگناچاہے۔ غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیّات چھوڑ دے اور اس کے پیوَند کے لئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کیلئے سب نفسانی تعلّقات توڑ دے۔اور خلق کی خدمت اِس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اورطُرق کی راہ سے قسّامِ اَزل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے اِن تمام امور میں محض للہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہو سکتی ہے ان کو نفع پہنچا وے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خداداد قوّت سے مدد دے اور اُن کی دنیاوآخرت دونوں کی اِصلاح کے لئے زور لگاوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سو یہ عظیم الشّان لِلّہی طاعت وخدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حنفیّتِ تامّہ سے بھری ہوئی ہے یہی اِسلام اور اِسلام کی حقیقت اور اِسلام کا لُبّ لُباب ہے جو نفس اور خلق اور ہَوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتاہے‘‘۔(آئینہ کمالاتِ اِسلام،روحانی خزائن، جلد ۵، مطبوعہ نظارت اصلاح و ارشاد ، ربوہ صفحہ۶۰۔۶۲)

اب اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بہت مشکل تعریف نظر آتی ہے۔یحیےٰ بختیار، خود کو علامہ اقبال کا شیدائی کہتے تھے ،اُردو ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور عدالتی کارروائی میں انگریزی بحث کے دوران بھی بسا اوقات علامہ کے شعر پڑھتے سنا گیا ہے۔ انکو علّامہ کی زبان میں ہی سنادوں ۔ ؂

اگر گوئم مسلمانم بلرزم

کہ دانم مشکلاتِ لااِلٰہ

اصل بات تو یہی ہے کہ کوئی اسلام کی حقیقت کو سمجھے اور خود پر غور کرے تو لرزہ ہی طاری ہو جاتا ہے ۔ علّامہ نے یہ بھی تو کہا۔ ؂

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اٹارنی جنرل صاحب بلاوجہ خشک مُلّاؤں کی راہ پر چل نکلے ورنہ علامہ اقبال موصوف تو مُلّاں کے مذہب کے بارے میں یہ فرما چکے ہیں ؂

یا رفعت افلاک میں تکبیر مسلسل

یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات

وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست

یہ مذہب مُلّا و نباتات و جمادات

اور اقبال تو حقیقی مسلمان کے بارے میں کہتے ہیں :’’ہمسایہ جبریل امیں بندۂِ مومن‘‘۔
یہ ہمسایہ جبریل امین ہونا آسان بات تو نہیں مگر حقیقی اسلام تو یہی ہے ۔ حقیقی اسلام کے بارے میں امام
جماعت احمدیہ کے بیان پر جناب اٹارنی جنرل کی طنزیہ حیرت خود باعث حیرت ہے۔
جناب اٹارنی جنرل صاحب کو تو نہ مسلمان کی آسان اور عام فہم تعریف پسند آئی ہے جس کی رُو سے ہر وہ شخص جو زبانی اقرار کرکے خود کو مسلمان کہے اسے قبول کر لیا جائے اور جس کی تعریف آنحضرتﷺ نے خود بیان کردی۔ یہ آسان تعریف ایک معاشرتی اور سیاسی تعریف ہے اس میں حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا، ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلے کو قبلہ بنایا یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ظاہر پہ بنا کرکے معاشرتی شناخت کے لئے یہ مسلمان کی تعریف کی جارہی ہے اور حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ یہی وہ مسلمان ہے جس کے لئے اﷲاور اسکے رسول کا ذمّہ ہے،پس تم اﷲ کے دیئے ہوئے ذمہ میں اسکے ساتھ دغابازی نہ کرو۔مگر اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ایک آدمی حقیقی معنوں میں مسلمان نہ ہونے کے باوجود کیسے مسلمان کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ موصوف کو علامہ اقبال کے الفاظ میں ’’کفر کم تر از کفر‘‘ کی اصطلاح دستیاب ہوگئی۔ یہی بات امام جماعت احمدیہ فرما رہے تھے کہ بعض معنوں میں کفریہ اعتقاد یا اعمال سرزدہو جانے پر اسلام کی حقیقت سے دور جا پڑتا ہے مگرچونکہ وہ زبان سے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے اس لئے اسے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
جماعت احمدیہ نے اپنے تحریری بیان میںیہ مؤقف بیان کیا ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے جوحضرت خاتم الانبیا محمد مصطفیﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی اور جو اسلامی مملکت کے لئے ایک شاندار چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے ۔
جماعت احمدیہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا :

’’ہمارے مقدس آقا ﷺ کایہ احسانِ عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضورؐ نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالمِ اِسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اِس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ اُمتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔

قرونِ اُولیٰ کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں میں مختلف زمانوں میں مختلف علماء نے اپنی من گھڑت تعریفوں کی رُو سے جو فتاویٰ صادر فرمائے ہیں ان سے ایسی بھیانک صُورتِ حال پَیدا ہوئی ہے کہ کسی صدی کے بزرگان دین ، علمائے کرام ، صوفیاء اور اولیاء اﷲ کا اسلام بھی ا ن تعریفوں کی رُو سے بچ نہیں سکا اور کوئی ایک فرقہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا جس کا کفر بعض دیگر فرقوں کے نزدیک مسلّمہ نہ ہو۔‘‘

( اس سلسلہ میں مزید تفصیلات جاننے کے لئے محضر نامہ کامتعلقہ حصہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گا۔)
اٹارنی جنرل کی اصل مشکل یہ تھی کہ وہ مولوی حضرات کے نرغے میں تھے ،سوالات پر سوالات ان کو دیئے جا رہے تھے اور وہ بے چارے وہی سوالات پوچھتے چلے جا رہے تھے۔ ان کویہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملی کہ اصل مسئلہ زیرِ بحث کیا تھا ۔ اور مولوی حضرات مسلمان کی تعریف قرآن و سنت کی رو سے متعین کرنے سے فرار اختیار کر رہے تھے اور محض اشتعال انگیزی اور ارکانِ اسمبلی کو متنفر کرنے کے لئے یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ احمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ حضرت امام جماعت احمدیہ بڑے وقار سے بغیر کسی مداہنت کے کفر و اسلام کا مسئلہ بیان کر رہے تھے کہ:۔
’’جماعت احمدیہ کے نزدیک فتاویٔ کفر کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عنداﷲکافر قرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حشرنشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہوگا۔ اس لحاظ سے ان فتاوی کو اس دُنیا میں محض ایک انتباہ کی حیثیت حاصل ہے۔جہاں تک دُنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو اُمّت مسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا مجاز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے‘‘۔
لہٰذا کسی فرقہ کے فتویٰ کے باوجود کوئی دوسرا فرقہ حقیقت اسلام سے کتنا بھی دور سمجھا جائے ، ملّتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔
امام جماعت احمدیہ نے تو آنحضرت ﷺ کے اقوال کی روشنی میں ایک روشن اور درخشندہ شاہراہِ اتحادِملّت کی نشاندہی کر دی تھی جس پر چل کر ساری اُمّت وحدت کی لڑی میں پروئی جائے مگر یہ مذہب کے اجارہ دار اپنے فتووں کی شدّت میں کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں اور یہ تسلیم کرنے پر راضی نہیں کہ ان کے جاری کردہ فتویٰ کے باوجود بھی کوئی مسلمان رہ سکتا ہے۔

( ۹) غیرتِ ناموسِ محمد ﷺ

حضرت بانی ٔجماعت احمدیہ زندگی بھر آریوں اور عیسائیوں سے چو مکھی لڑائی لڑتے رہے ۔ عیسائی پادریوں نے ایک اودھم مچا رکھا تھا اور آنحضرت ﷺ کی شان میں بے لگام گستاخیوں کے مرتکب ہو رہے تھے، اور بے جا اور دل آزار اعتراضات کر رہے تھے اور باوجود بار بار کی فہمائش کے باز نہ آئے تو حضور ﷺ سے محبت اور غیرت کا تقاضہ یہ تھا کہ پادریوں کو منہ توڑ جواب دیاجاتا۔ اور حضرت مرزا صاحب نے نامِ محمد ﷺ کی غیرت میں پادریوں کو ان کے اپنے اعتقادات کا آئینہ دکھایا۔
حیرت در حیرت اس امر پر ہے کہ ریفرنس تو یہ تھا کہ ’’جو لوگ حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اسلام میں اُن کی حیثیت کیا ہے‘‘۔ جو ریفرنس خصوصی کمیٹی کے سامنے تھایا جو قرارداد حزب اختلاف نے پیش کی اس میں سے کسی میں بھی یہ سوال شامل نہیں تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی کتب میں حضرت عیسٰی ؑ کی توہین کی ہے۔ لیکن محض معاملے کو طول دینے، الجھانے اور عوام کے ذہنوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے یہ سوال بھی اُٹھایا گیا اور طویل جرح کی گئی۔
اﷲوسایا نے اپنی مرتب کردہ کتاب کے صفحہ ۸۵،۸۶پراس مضمون پر کئے گئے سوالات اور جوابات نقل کئے ہیں اور جوابات بالبداہت مکمل نقل نہیں کئے ،ان میں قطع و برید کی گئی ہے۔ اصل جواب جو دیا گیاوہ تو اسمبلی کی کارروائی شائع ہونے پر ہی سامنے آئے گا مگریہ اعتراض جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی علماء حضرات سے اصل صورتِ حال پوشیدہ تھی۔اس قسم کی باتیں دہرا کر، گویا اراکینِ اسمبلی کو متأثر کیا جا رہا تھااور جناب مفتی محمود صاحب کی اُس پریشانی کا، جس کا اوپرذکر آ چکا ہے ،یہ حل نکا لا گیا تھا کہ ممبران کو مشتعل کرکے مرزا ناصر احمد صاحب کے بیان کا اثر زائل کیا جائے۔چونکہ اﷲ وسایا نے اپنی کتاب میں گمراہ کُن سوال شائع کیا ہے اس لئے مناسب ہے کہ اصل صورتِ حال جماعت کے لٹریچر اور اس دور کے پس منظر میں پیش کر دی جائے۔
حضرت مرزا صاحب پر حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام نہ صرف غلط بلکہ خلافِ عقل ہے کیونکہ مرزا صاحب خود مثیل مسیح ہونے کے مدعی تھے۔حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔

’’جس حالت میں مجھے دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ ؑ کو برا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتاتا‘‘۔(اشتہار ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۷ء حاشیہ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحہ ۷۰)

چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے بار بار اس الزام کی تردید کی اور فرمایا:۔

’’ہم اس بات کے لئے بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شانِ بزرگ کے برخلاف ہو۔ اور اگر کوئی ایساخیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے‘‘۔ (ایام الصّلح۔ ٹائٹل پیج صفحہ ۲، روحانی خزائن جلد نمبر۱۴صفحہ ۲۲۸)

حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصورات جدا جدا ہیں ۔ عیسٰی ابن مریم اور یسوع تاریخی طور پر ایک ہی وجودہیں ۔ ناصرہ کے مقام پر حضرت مریمؑ کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ جس کوقرآن کریم عیسٰی ابن مریم کہتاہے وہ اﷲکے ایک برگزیدہ رسول تھے۔ انکی عظمت قرآن شریف میں بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے کبھی خدائی یا خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ مؤحّد تھے، کبھی تثلیث کی تعلیم نہیں دی ۔ یہ عیسٰی ابن مریم کے بارے میں مسلمانوں کا تصور ہے۔ قرآن حکیم نے ابن مریم ہونے کے علاو ہ حضرت عیسیٰؑ کا شجرۂ نسب بیان نہیں کیا۔ مگر عیسائیوں کے ہاںیسوع کا شجرۂ نسب ملتاہے اور جوکچھ رطب و یابس عیسائیوں کی بائبل میں درج ہے اسکے مطابق یسوع کی دو نانیاں نعوذباﷲ کسبیاں تھیں۔ یہ آیا ت آج تک کسی نے بائبل سے حذف نہیں کیں۔ یسوع کی جو شخصیت بائبل سے ظاہر ہوتی ہے اسکے مطابق یسوع شراب بھی پیا کرتے تھے اور بھی بہت سی لغویات یسوع کے بارے میں بائبل میں ملتی ہیں۔اس فرضی مسیح کے بارے میں خود مولانا مودودی لکھتے ہیں۔

’’ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ( یعنی عیسائی) اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالمِ واقع میں ظاہر ہوا تھا، بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کرکے اس کو خدا بنا لیا ہے۔‘‘ (’’تفہیم القرآن‘‘ جلد ۱ صفحہ ۴۹۱ سورۃ النساء)

حضرت مرزا صاحب نے پادریوں کو انہی کے اعتقادات دکھائے۔ مگر ساتھ ساتھ ہمیشہ اس امر کی وضاحت فرماتے رہے کہ ان کا روئے سخن اس فرضی یسوع کی طرف ہے جو عیسائیوں کے مُسلّمہ صحیفوں سے نظر آتا ہے۔اور اس فرضی مسیح کا نقشہ جو بائبل سے ابھرتا ہے وہ عیسائیوں کو بطور آئینہ کے دکھایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:۔

’’ بالٓا خر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے نا حق ہمارے نبی ﷺ کوگالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ اُن کے یسوع کا تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔۔۔۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا ۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ (ضمیمہ’’انجَام آتھم‘‘ صفحہ ۱۸۔۱۹، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۱ صفحہ ۲۹۲۔۲۹۳)

اور اس طرزِ خطاب کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔

’’ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سیدو مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ۔۔۔۔۔۔تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سبّ و شتم استعمال کئے۔ اس لئے قرینِ مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کردیا جاوے۔ لہٰذا یہ رسالہ لکھا گیا۔ امید ہے کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تا ہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شانِ مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اوروہ بھی سخت مجبوری سے۔ کیونکہ اس نادان (فتح مسیح ۔ناقل) نے بہت ہی شّدت سے گالیاں آنحضرت ﷺ کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے‘‘۔ (نور القرآن‘‘ نمبر ۲ صفحہ ۱،روحانی خزائن جلد نمبر۹ صفحہ ۳۷۶)

یہ وضاحت مرزا صاحب کی تحریرات میں جگہ جگہ موجود ہے کہ:۔

’’ پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اُس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں نا م ونشان نہیں‘‘۔(’’ تبلیغِ رسالت ‘‘ جلد ۵ صفحہ۸۰)

پھر فرماتے ہیں:۔

’ سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔ اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔ ……ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آ کر دیکھ لیوے‘‘۔ (اشتہار ’’ناظرین کے لئے ضروری اطلاع ‘‘،۲۰ ؍دسمبر۱۸۹۵ء نورالقرآن نمبر۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر۹ صفحہ ۳۷۵)

پھر فرماتے ہیں:۔

’’ ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا ہے جس نے بجائے مہذّبانہ کلام کے ہمارے سید و مولیٰ نبی ﷺ کی نسبت گالیوں سے کام لیاہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیبین و سیّد المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے لہٰذا محض ایسے یا وہ گو لوگو ں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔

ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر دل جان سے ایمان لائے تھے، اور حضرت موسیٰ کی شریعت کے صد ہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور بجزُ اپنے نفس کے تمام اوّلین آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سزا لعنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الٰہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ بن مریم جو نبی تھا اور جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے ‘‘۔ ( نور القرآن نمبر۲ بعنوان ناظرین کیلئے ضروری اطلاع، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحہ ۳۷۴ ۔۳۷۵)

ان تحریرات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر عیسٰی ؑ کی توہین قرار دینا کسی مسلمان کیلئے اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے والی بات ہے۔ جب آنحضرتﷺ پر گندے الزام لگائے گئے تو غیرت کا تقاضہ یہ تھاکہ عیسائیوں کو یسوع کے بارے میں آئینہ دکھایاجاتا۔ طرز تحریر اور زور بیان سمجھنے کی چیزیں ہیں ۔ دراصل اہلِ علم اور اہلِ کلام میں یہ ایک معرو ف طریق ہے کہ بعض اوقات فریقِ مخالف کو اس کے اپنے معتقدات یا بیانات کا آئینہ دکھا کر اسے لا جواب کیا جاتاہے۔اس طریق کو الزامی جواب بھی کہتے ہیں۔ الزامی جواب کے بھی کئی طریق ہوتے ہیں ۔ خود مرزاصاحب کے اپنے زمانے میں بعض دیگر علما ء نے یہ طریق اختیار کیا۔ یہ طرز استدلال اُس زمانے کے اہل علم کے دستور کے مطابق تھا۔
بریلوی فرقہ کے لوگ مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی کو چودہویں صدی کا مجدّد مانتے ہیں اور پاکستانی عوام کی اکثریت بریلوی ہے ۔وہ لکھتے ہیں:۔

’’نصاریٰ ایسے کو خدا مانتے ہیں جو مسیح کا باپ ہے۔۔۔۔۔۔ایسے کو جو یقیناًدغا باز ہے ، پچھتاتا بھی ہے تھک بھی جاتا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘۔(’’العطایا النبویہ فی الرضویہ‘‘صفحہ ۷۴۰،۷۴۱ )

اور یہ اندازدیگر علماء نے بھی اختیارکیا ہے۔ اہل حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب ایک واقعہ یو ں لکھتے ہیں:۔

’’ایک بار ایک ایلچی روم پاس بادشاہ انگلستان کے گیا تھا۔ اس مجلس میں ایک عیسائی نے اس کو مسلمان دیکھ کر یہ طعن کیا کہ تم کو کچھ خبر ہے کہ تمہارے پیغمبر کی بی بی کو لوگوں نے کیا کہا تھا۔ اس نے جواب دیا ہاں مجھ کو یہ خبر ہے کہ اس طرح کی دو بیبیاں تھیں جن پر تہمت زنا کی لگائی گئی تھی مگر اتنا فرق ہوا کہ ایک بی بی پر فقط اتہّام ہوا، دوسری بی بی ایک بچہ جن لائیں۔ وہ نصرانی مبہوت ہوکر رہ گیا‘‘۔ (’’ترجمان القرآن ‘‘جلد اول صفحہ۴۳۰،نواب صدیق حسن خان صاحب سورۃ آل عمران زیر آیت (اذ قالت الملئکۃ یٰمریم ان اﷲیبشرک بکلمۃ منہ)، مطبوعہ مطبع احمدی لاہور)

مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب ’’استفسار‘‘میں جو ’’ازالۃ الاوہام‘‘ مؤلفہ مولوی رحمت اللہ صاحب کرانوی مہاجر مکّی کے حاشیہ پر چھپی ہے، تحریر فرماتے ہیں:۔

’’ارے ذرے گریبان میں سر ڈال کر دیکھو کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰؑ کے نسب نامہ مادری میں دو جگہ تم آپ ہی زنا ثابت کرتے ہو‘‘۔ (صفحہ ۳۷)

’’ان ( پادری صاحبان) کا اصل دین و ایمان آکر یہ ٹھہر ا ہے کہ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کئی مہینے تک کھاتا رہا اور علقہ سے مضغہ بنا اور مضغہ سے گوشت اور اس میں ہڈیاں بنیں اور اس کے مخرج معلوم سے نکلا اور ہگتا مُوتتا رہا۔ یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے یحيٰ کا مرید ہوا اور آخرکو ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا‘‘۔ (صفحہ۳۵۰،۳۵۱ )

’’پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کا سب بیان معاذاللہ جھوٹ ہے اور کرامتیں اگر بالفرض ہوئی بھی ہیں تو ویسی ہی ہو نگی جیسی مسیح دجّال کی ہو نے والی ہیں ‘‘۔ (صفحہ ۳۷۱)

جس دور کا ذکر ہے اُس دور میں پادریوں نے ہندوستان میں طوفان اٹھا رکھا تھا۔ مسلمان مسجدوں کے علماء عیسائیت قبول کر کے پادری بن رہے تھے۔ آگرہ کی جامع مسجد کے خطیب مولانا عماد الدین، پادری عمادالدین بن گئے۔اس ماحول میں جو اسلام کا درد رکھتے تھے اور جنہیں آنحضرتﷺ کی غیرت تھی انہوں نے پادریوں کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر بے جا حملوں کے جواب کے لئے وہی انداز اختیار کیا ۔یہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی غیرت کا سوال تھا۔

’’انجیل کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مسیح نے اجنبی عورتوں سے اپنے سر پر عطر ڈلوایا‘‘۔(متی ۶:۲۶، مرقس۳:۱۴، یوحنا ۶:۱۲، اہل حدیث امرتسر ۳۱؍مارچ۱۹۳۹ء)

الزامی جواب کی یہ چند مثالیں دیگر بزرگوں کی کتب سے پیش کی گئی ہیں جن میں وہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ جو مبیّنہ سخت الفاظ حضرت مسیح کے بارے میں بیان کئے جاتے ہیں وہ دراصل اُس فرضی یسوع کے بارے میں ہیں جس کو عیسائی بطور خدا پیش کرتے تھے۔ظلم و تعدّی کرنے والے بدزبان معترضین کے لئے الزامی جواب کا یہ اندازجو مرزا صاحب نے اختیارکیاوہ قرآن حکیم کی اس تعلیم کے عین مطابق تھا۔(وَلَاتُجَادِلُوْا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَن اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْامِنْھُم
اسمبلی میں موجود علماء حضرات یہ سب باتیں جانتے تھے، حضرت مرزا صاحب کی کتب ان کے پاس موجود تھیں،حوالوں اور اقتباسات کے پس منظر سے بھی واقف تھے، علمِ کلام اور مناظرہ کے معروف طریقوں سے بھی وہ واقف تھے اور مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دیگر بزرگان کی طرف سے اسی انداز میں بائبل کے انہیں حوالوں سے اسی انداز میں دیئے گئے الزامی جوابات بھی علماء حضرات سے پوشیدہ نہیں تھے۔ اس کے باوجود یہ اعتراض کہ حضرت مرزا صاحب نے نعوذباﷲ حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کی، ناقابلِ فہم ہے اور تضیع اوقات اور اشتعال انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔ بالخصوص جب کہ یہ امر نہ وزیرِ قانون کی تحریک میں مذکور تھا، نہ حزبِ اختلاف کی قرارداد میں ۔ اصل مقصد یہی تھا کہ بنیادی سوال سے گریز کیا جائے اورعوام کو الجھا دیا جائے۔

(۱۰) باؤنڈری کمیشن

اﷲوسایا کی کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے یہ اعتراض بھی اُٹھایا کہ:۔
’’ بوقتِ آزادی اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر (ایوارڈ) فیصلے میں گورداسپورہندوستان کو دے دیا گیا تا کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے ‘‘۔ (صفحہ ۸۳)
اور پھر جماعت احمدیہ کے امام جب ایک دوسرے سوال کی وضاحت میں جواب ریکارڈ کروا رہے تھے تو انہوں نے خلیفۂ ثانی کے۱۳؍ نومبر ۱۹۴۶ء کے خطبہ کی وضاحت کرنا چاہی تو اٹارنی جنرل نے طنزاً کہا:۔
اٹارنی جنرل: ’’ ہندوؤں نے کہا کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں ۔ آپ نے واقعہ میں مسلم لیگ سے علیحدہ میمورینڈم پیش کر دیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد ۵۱ سے ۴۹ رہ گئی۔ آپ کا خیال ہے کہ آپ اس سے مسلم لیگ کو مضبوط کررہے تھے۔ ٹھیک ہے فائل کرا دیں اور آگے چلیں۔‘‘ (صفحہ۱۴۷)
جناب اٹارنی جنرل نے جس انداز سے اس سوال سے جان چھڑائی اس سے اٹارنی جنرل کی یا تو دیانت مشتبہ ہو جاتی ہے یا ان کی ذہانت پر زد پڑتی ہے۔ مجلسِ احرار اور کانگریسی علماء بلکہ بعض مسلم لیگی علماء بھی اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ مسلم لیگ میں جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ احمدی مسلم لیگ کے ممبر نہ بنائے جائیں تو قائد اعظم نے سختی سے اس بات کو دبا دیا۔ لیکن مجلسِ احرار اور کانگریس کے ڈھنڈھورچی بدستور شور مچا رہے تھے اور اس صورتِ حال سے کانگریس بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتی تھی، اور یہ بات سمجھنے کے لئے بہت باریک بینی اور غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں، اس وجہ سے مسلم لیگ ہائی کمان نے بٹالہ مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کو علیحدہ میمورنڈم داخل کرنے کی اجازت دی۔ گوردا سپور کے ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی اور کانگریس احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کئے جانے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ معمولی اکثریت بھی ختم ہو جاتی۔ اس لئے اس بات کا ہر طرح سے یقینی بنایا جانا ضروری تھا تا کہ کوئی دور کا شائبہ بھی اس بات کانہ رہ جائے کہ احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کیا جائے۔ چنانچہ احمدیوں نے قادیان کے لئے اپنا کلیم اس بنیاد پر داخل کیا کہ احمدی مسلمان ہیں اور قادیان مسلمانوں کی ایک فعال جماعت کا روحانی مرکز ہے اور دنیا بھر سے آنے والوں کا مرجعِ خلائق ہے۔
اس کے علاوہ سکھوں کی طرف سے ننکانہ صاحب کی وجہ سے شیخوپورہ کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ بٹالہ مسلم لیگ کی طرف سے جو میمورنڈم داخل کیا گیا اس میں بٹالہ کی تاریخی اہمیت‘ بٹالہ کی مسلمان آبادی‘بٹالہ کی مسلمان انڈسٹری اور بٹالہ تحصیل میں واقع قادیان کے ذکر میں لکھا۔
’’اگر مذہبی مقامات اور زیارتوں کو زیر غور لانا ہے تو بٹالہ صدر پولیس سٹیشن میں واقع قادیان کا قصبہ خاص توجہ کا مستحق ہے ۔ مسلمانوں میں سے احمدی مرزا غلام احمد کو نبی تصور کرتے ہیں۔۔۔‘‘۔
احمدیوں نے اپنے میمورنڈم کے شروع ہی میں آٹھ اہم نکات قادیان کو پاکستان میں شامل کئے جانے کی بنیاد کے طور پر درج کئے۔ جس میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ قادیان اسلام میں عالمگیر جماعت احمدیہ کا فعال مرکز ہے۔ اور ساتواں نکتہ یہ تھا کہ قادیان جس ضلع میں واقع ہے اس میں واضح مسلمان اکثریت ہے۔
جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اہم نکات بیان کرنے کے بعد پہلے ہی پیرے میں لکھاکہ جماعت احمدیہ جو مسلمانوں کا اہم مذ ہبی حصہ ہے اور جس کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں اس کا مرکز ضلع گوردا سپور میں ہے۔مغربی اور مشرقی پنجاب کی عبوری تقسیم میں یہ ضلع دونوں حصوں کی سرحد پر واقع ہے اور باؤنڈری پر فریقین کے تنازع میں اس ضلع پر دونوں فریق نے دعویٰ کیاہے۔ لہٰذاجماعت احمدیہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتی ہے کہ اپنا نقطۂ نظر باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کرے ۔ چنانچہ میمورنڈم کے آغاز ہی میں میمورینڈم کے پیش کئے جانے کی اغراض بیان کرتے ہوئے تین مرتبہ اس بات کا اظہارموجود ہے کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس لئے ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔
(Partition Of Punjab Vol. I; P:428-429)
جب اس میمورینڈم پر بحث کا وقت آیا تو بحث کے پہلے فقرہ ہی میں کہا گیا کہ قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہئے۔ اور دورانِ بحث اس بات پر زور دیا گیا کہ ’’قادیان جو تحصیل بٹالہ میں ہے‘ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔‘‘
جماعت احمدیہ کے میمورینڈم اور بحث کے علاوہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی میں یہ بات بار بار سامنے آئی کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔بحث کے دوران احراری اور کانگریسی علماء کے پھیلائے ہوئے زہر کا اثر جسٹس تیجہ سنگھ کے ایک سوال سے بھی ظاہر ہوا۔
’’مسٹرجسٹس تیجہ سنگھ: احمدیہ جماعت کی اسلام کے حوالہ سے کیا پوزیشن ہے؟
شیخ بشیر احمد: وہ اول و آخر مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ وہ اسلام کا حصہ ہیں‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:213)
اس طرح سے خود کانگریس کے وکیل نے اپنی بحث میں ضلع گوردا سپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت صرف اس وجہ سے ہے کہ تین چھوٹے چھوٹے حصوں یعنی قادیان، فتح گڑھ چوڑیاں اور بٹالہ میں ان کی اکثریت بہت زیادہ ہے۔ اور ان تین علاقوں کے مسلمانوں کی تعداد نکال دی جائے تو ضلع غیر مسلم اکثریت کا نظر آتا ہے۔گویا سیتل واڈ نے بھی قادیان کو مسلم اکثریت کے علاقہ کے طور پر شمار کیا اور اپنی بحث کو ایک نیا موڑ دے دیا۔
سیتل واڈ کی بحث کے دوران جسٹس منیر نے کہا :۔
’’مسٹر جسٹس منیر احمد:میں سمجھ گیا ہوں بٹالہ کے یہ چھوٹے چھوٹے دو نقطے دیکھیں ۔ آپ ان کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔
مسٹر سیتل واڈ: تیسرا قادیان کا قصبہ ہے۔
مسٹر جسٹس منیر: اس کی آبادی کیا ہے؟
مسٹر سیتل واڈ: اعداد وشمار ابھی آپ کو دیتا ہوں۔
مسٹر جسٹس منیر: کیا میں سمجھوں کہ اس پوری تحصیل میں قادیان کے علاوہ کوئی مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں۔
مسٹر سیتل واڈ: نہیں جہاں تک میں نقشہ کو دیکھتا ہوں ایسا ہی ہے۔ ہم نے مسلم اکثریت کے بڑے بڑے علاقے چنے ہیں اور ہمیں اس سائز کے اور علاقے نہیں ملتے۔لہٰذا ہم نے ان کو نقشے پر علیحدہ ظاہر نہیں کیا‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:214)
اسی طرح اپنی جوابی بحث میں مسٹر سیتل واڈ نے کہا:
’’ اب اگلے نقطے پر آئیے جو بٹالہ ہے اس میں آپ تین سفید حصے دیکھیں گے۔ میں آپ کو اس تحصیل کے اعداد وشمار دیتا ہوں۔
مسلمان : 209277
غیر مسلم : 177776
31501 کا فرق ہے اور یہاں میں نے تینوں pockets کو اکٹھا لے لیا ہے۔ پہلا فتح گڑھ چوڑیاں ہے جہاں مسلمان18055 اور غیر مسلم 4641 ۔ دوسرا بٹالہ کا شہر اور مضافاتی گاؤں ہیں جہاں مسلمان 45181 اور غیر مسلم 4664۔ تیسرا حصہ قادیان ہے جہاں مسلمان 10226 اور غیر مسلمان 1135 ہیں۔ اگر ہم تینوں کو اکٹھا لے لیں تو مسلمانوں کی مجموعی تعداد 73462 اور غیر مسلموں کی 22227 ہے‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:528)
گویا ساری کارروائی کے دوران قادیان اور احمدیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کیا جاتا رہا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ احمدی الگ ہو گئے اور مسلمانوں کی اکثریت گھٹ گئی، ایک بیہودہ، نامعقول اورشرمناک جھوٹ ہے اور سرکاری ریکارڈ اس جھوٹ کی تردید کررہا ہے۔
شیخ بشیر احمد کی بحث کے دوران جب احمدیوں کی تعداد 5,00,000 بتائی گئی تو جسٹس تیجہ سنگھ نے پوچھا:
’’مسٹر جسٹس تیجہ سنگھ: کیا انہیں گزشتہ مردم شماری کے دوران علیحدہ شمار کیا گیا تھا۔
شیخ بشیر احمد: گزشتہ مردم شماری میں احمدیوں کا کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ۔ جو فرق تسلیم کیا گیا و ہ یہ تھا کہ اگر کوئی خود کو شیعہ ظاہر کرے تو اس کو شیعہ درج کیا جائے اوراگر کوئی شخص کوئی اور تفصیل بتائے تو اس کوسُنّی درج کیا جائے‘‘۔
مگر اٹارنی جنرل بااصراراس بات کو پیش کرتے رہے کہ احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں الگ میمورینڈم پیش کرکے خود کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا جس سے مسلمانوں کی تعداد گھٹ گئی اور گورداسپور،ہندوستان کو چلاگیا۔ اٹارنی جنرل صاحب مسلم لیگی تھے اور سیاسی کارکن رہے ہیں۔اگر پہلے احراری لیڈروں کے مسلسل جھوٹ کے زیر اثر وہ کوئی غلط تأثر قائم کر بھی چکے تھے تو باؤنڈری کمیشن کی پوری کارروائی شائع ہوچکی ہے، اس سے استفادہ کر سکتے تھے۔ یقیناًجناب یحيٰ بختیار پڑھنے لکھنے کا ذوق رکھتے ہوں گے اور ان تاریخی دستاویزات کا مطالعہ تو انکا محبوب مشغلہ رہاہوگا۔ ان کے علم میں ہونا چاہئے تھا کہ یہ اعتراض مجلسِ احرار کی طرف سے اٹھایا گیا، کبھی مسلم لیگ کی ہائی کمان کی طرف سے یہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
مذہبی امور میں مولوی حضرات کے مہیّا کردہ سوالات کے بارہ میں اٹارنی جنرل صاحب کی مجبوری سمجھ میں آ سکتی ہے مگر اس سیاسی سوال پر اٹارنی جنرل صاحب کی لا علمی نا قابلِ فہم ہے۔ اﷲ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمدیہ کے میمورینڈم کامطالعہ کر چکے تھے، کیونکہ احمدیوں کی تعداد کے بارے میں اُسی میمورینڈم کے حوالہ سے دوسری جگہ سوال و جواب موجود ہے۔
یہ اب تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ریڈ کلف کا ایوارڈ غیرمنصفانہ تھا۔ ایوارڈ کا اعلان کرنے میں تاخیر ہورہی تھی۔ طرح طرح کی خبریں سننے میں آرہی تھیں ۔ جنکی وجہ سے چوہدری محمد علی صاحب جو مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے وہ قائداعظم کے ارشاد پر قائداعظم کی تشویش کا اظہار کرنے کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور یہ تشویش ضلع گورداسپور کے بارے میں تھی۔ اس بارے میں چوہدری محمد علی کا بیان یہ ہے:۔
When I reached Delhi, I went straight from the airport to the Viceroy’s house where Lord Ismay was working. I was told that Lord Ismay was closeted with Sir Cyril Radcliffe. I decided to wait until he was free. When, after about an hour, I saw him, I conveyed to him the Quaid-e-Azam’s message. In reply Ismay professed complete ignorance of Radcliffe’s ideas about the boundry and stated categorically that neither Mountbatten nor he himself had ever discussed the question with him. It was entirely for Radcliffe to decide and no suggestion of any kind had been or would ever be made to him. When I plied Ismay with details of what had been reported to us, he said he could not follow me. There was a map hanging in the room and I beckoned him to the map so that I could explain the position to him with its help. There was a pencil line drawn across the map of the Punjab. The line followed the boundary that had been reported to the Quaid-e-Azam. I said that it was unneccessary for me to explain further since the line, already drawn on the map, indicated the boundary I had been talking about. Ismay turned pale and asked in confusion who has been fooling with his map. This line differed from the final boundary in only one respect that the Muslim majoraty Tehseels of Ferozupr and Zera in the Ferozpur district were still on the side of Pakistan

as in the sketch-map.

(Ch. Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 218)

ترجمہ:۔
’’جب میں دہلی پہنچا تو میں ائرپورٹ سے سیدھا وائسرائے ہاؤس گیا جہاں لارڈایزمے کام کیا کرتے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ لارڈ ایزمے سر سیرل ریڈکلف کے ساتھ بند کمرے میں مصروف ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے فارغ ہونے تک میں انتظار کروں گا۔تقریبًا ایک گھنٹے بعد جب میں ان سے ملا تو میں نے انہیں قائد اعظم کا پیغام دیا۔ جوابًا لارڈ ایزمے نے باؤنڈری کمیشن سے متعلق ریڈکلف کے خیالات کے بارہ میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نہ تو انہوں نے خود اور نہ ماؤنٹ بیٹن نے اس مسئلہ پر ان سے کوئی گفتگو کی ہے۔ فیصلہ کرنا کلیۃً ریڈکلف کا کام ہے اور کسی قسم کی کوئی تجویز نہ انہیں دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی۔ جب میں نے ایزمے کو ان اطلاعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جو ہمیں مل رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ وہ میری بات سمجھ نہیں سکے۔ کمرے میں ایک نقشہ لٹکا ہوا تھا میں نے انہیں اس نقشہ کی طرف بلایا تا کہ نقشہ کی مدد سے صورتحال واضح کر سکوں۔پنجاب کے نقشہ کے بیچوں بیچ پنسل سے ایک لائن کھینچی ہوئی تھی اور یہ لائن اس باؤنڈری کے مطابق تھی جس کی اطلاعات قائداعظم کو مل رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ اب مزید وضاحت ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ نقشہ پر موجود لائن اس باؤنڈری کو ظاہر کر رہی ہے جس کے بارہ میں میں بات کر رہا ہوں۔ ایزمے کا رنگ پیلا پڑ گیا اور گھبراہٹ میں کہنے لگے ان کے نقشہ کو کون چھیڑتا رہا ہے۔ یہ لائن حتمی باؤنڈری سے صرف ایک لحاظ سے مختلف تھی یعنی فیروز پور اور زیرہ کی مسلمان اکثریت والی تحصیلیں اس وقت تک بھی اس نقشہ میں پاکستان کی طرف تھیں‘‘۔
جسٹس منیر اپنی کتاب From Jinah to Zia میں لکھتے ہیں۔
Another occasion for us to resign arose when after an interview with Sir Cyril at Simla Mr. Justice Din Muhammad came out with the impression that practically the whole of Gurdaspur with a link to Kashmir was going to India, but we were again

asked to proceed with our work. (From Jinah to Zia;2nd Edition, Page 12)

ترجمہ:۔
’’ہمارے استعفیٰ دینے کا ایک اور موقعہ اس وقت پیدا ہوا جب شملہ میں سر سیرل سے ایک انٹرویو کے بعد جسٹس دین محمد یہ تاثر لے کر باہر آئے کہ گورداسپور کا سارا ضلع کشمیر کو ایک رابطہ کے ساتھ ہندوستان کو جا رہا ہے۔ لیکن ہمیں پھر یہ کہا گیا کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔‘‘
پھر آگے چل کر گورداسپور کے بارہ میں لکھتے:۔
One of the moot points was Gurdaspur, a Muslim majority district and it became predominantly Muslim area if Pathankot was adjoined to the adjacent Hindu areas to the east. But Pathankot being not exclusively Hindu, the adhopur Headworks, which would mostly irrigate Muslim majority areas, with the area to the west of it, should be awarded to Pakistan, But the argument had no effect on him and he gave both Gurdapur and Batala, which had a Muslim majority, to India. Ajnala Tehsil in Ameritsar

also, which was Muslim area (59.04) he refused to join with the district of Lahore and

gave it to India. (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 13)

ترجمہ:۔’’زیر بحث سوالات میں سے ایک گورداسپور تھا جو مسلم اکثریت کا ضلع تھا اور اگر اس میں سے پٹھان کوٹ مشرقی جانب ہندو اکثریت کے حصہ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا تو گورداسپور میں غالب اکثریت مسلم اکثریت ہو جاتی۔ لیکن پٹھان کوٹ چونکہ کلیۃً ہندو علاقہ میں تھا اور مادھو اور ہیڈورک سے زیادہ تر مسلم اکثریت کے علاقوں کی آب پاشی ہوئی تھی اس لئے یہ اس کی مغربی جانب کا حصہ پاکستان کو جانا چاہئے۔ لیکن اس دلیل کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے گورداسپور اور بٹالہ دونوں مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کو دے دیئے۔ امرتسر کی تحصیل اجنالہ جو مسلمان علاقہ تھا (59.04) کو اس نے لاہور کے ساتھ شامل کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھی ہندوستان کو دے دیا۔‘‘
جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں :۔
There is conclusive proof, oral as well as documentary, that the award was altered in respect of the Ferozepure Tehsils and the areas that lie between the angle of the

Beas and the Satluj. (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 14)

ترجمہ:۔’’ اس بات کے زبانی اور تحریری طور پر قطعی ثبوت موجود ہیں کہ فیروز پور کی تحصیل اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقوں کے بارے میں ایوارڈ میں ردوبدل کیا گیا۔‘‘
قائداعظم جو ایسے معاملوں میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے خود انہوں نے فرمایا:۔
The division of India has now been finally and irrevocably effected. No doubts, we feel the carving out of this great independent sovereign Muslim state has suffered injustices. We have been squeezed in as uch as it was possible in the latest blow that we have received was the Award of the boundary commmission. It is an unjust, incomprehensible and even perverse Award. It may be wrong unjust and perverse and it may not be a judicial but political Award, but we had agreed to abide by it and it is binding upon us. As honorable people, wemust abide by it. (Speeches and Statementsof Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinah(Lahore: Research Society of Pakistan;1976)Page; 432)
ترجمہ:۔
’’ ہندوستان کی تقسیم اب حتمی اور ناقابل تنسیخ طور پر عمل میں آ چکی ہے۔ اس میں بلاشبہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس عظیم خود مختار مسلم ریاست کے قیام میں ناانصافیاں ہوئی ہیں اور باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ جو ہمیں آخری ضرب پہنچی ہے اس کے ذریعہ ہمیں جہاں تک ہو سکا ہے سکیڑ دیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ ناقابل فہم بلکہ غلط ایوارڈ ہے۔ گو یہ غیر منصفانہ اور غلط ایوارڈ ہے اور یہ انصاف کی بجائے سیاست پر مبنی ایوارڈ ہے لیکن ہم نے اسے تسلیم کرنے کا اقرار کیا تھا اور اب ہم اس کے پابند ہیں۔ ایک باوقار قوم کی حیثیت سے ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا۔‘‘
دنیا بھر کے محققین ریڈ کلف کی شرمناک بددیانتی پر متفق ہیں ۔ مگر مجلس احرار، کانگریسی علماء اور مجلس ختم نبوت کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ریڈ کلف بیچارہ کیا کرتا، احمدیوں نے اعدادوشمار ہی ایسے دے دیئے۔گویا ریڈکلف تونہایت صاف ستھرا، دیانتداراور منصف مزاج آدمی تھا، ایوارڈ بالکل درست ہورہاتھا، احمدیوں نے الگ میمورینڈم داخل کرکے یا اعداد وشمار داخل کرکے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کرنے کا راستہ صاف کردیا۔ یہ ریڈکلف کے گماشتے اتنا بھی نہیں جانتے کہ گورداسپور اور زیرہ وغیرہ اعداد وشمار کی بنا پر ہندوستان کو نہیں دیئے گئے، Other Factors کی بنیاد پر دئیے گئے ۔اس بارے میں بددیانت اور ظالم ریڈکلف کوخود بھی شرم آئی اور وہ جو کسی بات کی توجیہ پیش کرنے کا پابند نہیں تھا اسے توجیہ پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کھلی کھلی بددیانتی کا مرتکب ہورہا تھا، اس لئے اس نے ایک لولا لنگڑا عذرپیش کر دیا۔
The Partition of Punjabکے شروع میں پیش لفظ کے بعد شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون ریڈ کلف ایوارڈ کے بارہ میں شامل کیا گیا ہے ۔اس مضمون میں شریف الدین پیر زادہ جسٹس منیر کے مضمون Days to Remember کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گورداسپور کے بارہ میں ریڈ کلف سے گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس منیر نے لکھا ہے :
It was a Muslim majority area and , therefore if a district was to be taken as a unit , the whole of it had to go to Pakistan. But if …..the district had to be partitioned , the Pathankot Tehsil could… be separated from it and joined with the contiguous non-Muslim area. Shakargarh was not only a Muslim majority area but also a physical entity, with the Ravi as its eastern boundary,and could not conceivably be split up .

(27e)

ترجمہ:۔
’’ یہ مسلمان اکثریت کا علاقہ تھا لہٰذا اگر ضلع کو اکائی سمجھا جاتا تو یہ سارا ضلع پاکستان کو جانا چاہئے تھا لیکن اگر۔۔۔ضلع کو تقسیم کرنا تھا توپھر پٹھانکوٹ کو اس سے الگ کیا جاسکتا تھا ۔ شکر گڑھ نہ صرف مسلم اکثریتی علاقہ تھا بلکہ طبعی طور پر اکائی تھا کیونکہ راوی اس کی مشرقی سرحد بنتا تھا اور یوں اسے توڑنے کا کوئی تصور نہیں تھا‘‘۔
یہ اسی مضمون کا حوالہ ہے جس کا ذکر اٹارنی جنرل کررہے ہیں۔ گویا جسٹس منیر واضح طور پر لکھ رہے ہیں کہ گورداسپور مسلمان اکثریتی علاقہ ہی تھا۔ کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اس کی مسلم اکثریت احمدیوں کی وجہ سے گھٹ گئی تھی۔
جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں:۔
Further, there is intrinsic evidence in the award itself to show that this part of the award was not the result of an honest endevour to arrive at a just decision. I have already said that Sir Cyril gave no reasons for the award but for these two Tehsil’s remaining in India he did give a reason and that reason is nothing but convincing. The reason is as follwos: I have hesitated long over those not inconsiderable areas east of the Satluj river and in the angle of the Beas and Satluj River in which Muslim majorities are found but on the whole I have come to the conclusion that it would be in the interest of neither state to extend the territories of the west Punjab to a strip on the far side of the Satluj and that there are factors such as the disruption of railway communication and water systems that ought in this instance to displace the priary claims of contiguous majorities. But I must call attention to the fact that the Depalpur canal, which serves areas in the west Punjab, takes off from the Ferozpure headworks and I find it difficult to envisage a satisfactory demarcation of boundary at this point that is not accompanied by some arrangement for joint control of the intake of

thedifferent canals dependent on these headworks.”

(Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol I; — National Documentation Center, 1983, Page xxxvi)

ترجمہ:
’’مزید برآں ایوارڈ میں اس بات کے اندرونی شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایوارڈ کسی منصفانہ نتیجہ پر پہنچنے کیلئے کسی دیانتدارانہ کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ سر سیرل ؔ نے اس ایوارڈ کی کوئی وجوہات یا دلائل بیان نہیں کئے۔ لیکن بایں ہمہ ان دو تحصیلوں کے ہندوستان میں شامل کرنے کی دلیل ضرور دی گئی ہے۔ اور وہ دلیل معقول (قائل کرنے والی) نہیں ہے۔ وہ دلیل یوں ہے، دریائے ستلج کے مشرق کی جانب معتدبہ علاقے جو تھوڑے بھی نہیں ہیں اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقہ کے بارہ میں جو مسلم اکثریت کے علاقے ہیں۔میں طویل تذبذب کا شکار رہا ہوں لیکن بحیثیت مجموعی میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ دونوں ریاستوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا کہ مغربی پنجاب کی حدود کو ستلج دریا کے بیرونی طرف تک بڑھا دیا جائے اور ریلوے کے رسل و رسائل اور آبپاشی کا نظام ایسے عوامل ہیں جو اس موقعہ پر ملحقہ اکثریتی آبادیوں کی دلیل پر حاوی ہیں۔ مجھے اس جانب توجہ دلانی ہے کہ دیپال پور نہر جو کہ مغربی پنجاب کے علاقوں کو سیراب کرتی ہے وہ فیروز پور ہیڈ ورکس سے نکلتی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نقطہ پر باؤنڈری کی ایسی نشاندہی بہت مشکل ہے جس میں اس ہیڈورکس سے نکلنے والی مختلف نہروں کے مشترکہ کنٹرول کا نظام شامل نہ ہو۔‘‘
شریف الدین پیرزادہ نے اپنے مضمون میں Aloys A. Michelکی کتاب The Indus Riverکا حوالہ بھی درج کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:۔
But in Gurdaspur "other factors” came into consideration as they had in Ferozpur, and irrigation was one of them.Thus the argument form the irrigation standpoint would appear to have reinforced that from the population standpoint: if the principal of "contiguous majority” applied to districts as a whole, then it would have been quite logical and quite consistent to award Ferozpure, Amritsur, and Jullundur to India and Gurdaspur to Pakistan; if irrigation considerations were to take precedence, why not give Madhopur headworks to Pakistan, since the area served was mainly in the Lahore District, since Pakistan could not supply Lahore without supplying Amritsur on the way, and since – if Pakistan were to interfere with the supplies on two southern branches- India could retaliate by cutting of supplies from Ferozpure headworks to the Depalpur Canal?… Yet straight forward logic of irrigation consideration in Gurdaspur was apparently vitiated by still further "other factors” Gurdaspur included the only road linking the Eastern Punjab, and hence India, with Jammu and Kashmir, and the only bridge (on the Madhopur Barrage) over the Ravi above Lahore. The railways from Amritsur and Jullundur met at Pathankot, with a branch to Madhopur, although there was no rail connection across the river here (one was under construction in1965).

Had Radcliffe awarded Gurdaspur to Pakistan, there would have been no land commmunication between India

and Jammu-Kashmir

(Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol I; — National Documentation Center, 1983, Page xxxix)

ترجمہ:۔
’’لیکن گورداسپور کے معاملہ میں”Other Factors” زیرِغور آگئے ، جیسا کہ فیروز پور کے بارہ میں آئے تھے اور آبپاشی کا نظام ان میں سے ایک تھا۔یوں نظام آبپاشی کی دلیل آبادی کی دلیل کو تقویت پہنچاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔ اگر’’ ملحقہ اکثریتی آبادی ‘‘ کا اصول ضلعوں پر مجموعی طور پر لاگو کیا جاتا تو منطقی طور پر فیروز پور ،ا مرتسر اور جالندھرہندوستان کو دئے جاتے اور گورداسپور پاکستان کو۔اور اگر نظامِ آبپاشی کی دلیل کو فوقیت دی جاتی تو پھر مادھوپور ہیڈورکس ، جس سے لاہور کا ضلع سیراب ہوتا تھا اور پاکستان کو پانی دئے بغیر لاہور کو پانی مہیا نہیں کر سکتا تھا، پاکستان کو کیوں نہ دیا جاتا۔ پاکستان دو جنوبی لہروں کا پانی روک لیتا تو ہندوستان فیروز پور ہیڈ ورکس سے دیپالپور کی نہر کا پانی روک سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر آبپاشی کی سیدھی سادی منطق گورداسپور کے معاملہ میں بظاہر مزید”Other Factors”کی زد میں آگئی۔ مشرقی پنجاب ، اور یوں ہندوستان کو جموں اور کشمیر سے ملانے والی واحد سڑک گورداسپور میں واقع تھی اور راوی پر مادھوپو ر ہیڈورکس کا پل لاہور کے بالائی علاقہ میں واحد پل تھا۔ امرتسر اور جالندھر سے ریل پٹھانکوٹ پر ملتی تھی، جس کی ایک شاخ مادھو پور کو جاتی تھی ۔ اگر چہ دریا کے اس پار ، اس وقت ریل کا کوئی راستہ نہیں تھا
(جو۱۹۶۵ء میں زیر تعمیرتھا) ۔اگر ریڈ کلف گورداسپور پاکستان کو دے دیتا تو ہندوستان اور جموں کشمیر کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہ رہتا‘‘۔
الغرض باؤنڈری کمیشن کے رکن جسٹس محمد منیر، قومی اور بین الاقوامی محققین سب اس بات پر متفق ہیں کہ گورداسپور بددیانتی سے ہندوستان کو دے دیا گیا اور اس بارہ میں اکثریت کے اصول کو نظر انداز کردیا گیا۔
یہ ساری تفصیلات پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی بیدار مغز علم دوست اور سیاسی وقائع سے دلچسپی رکھنے والے شہری کو معلوم ہونی چاہئیں ۔کم از کم مسلم لیگی کارکنان اور سب سے بڑھ کر مسٹر یحییٰ بختیاراٹارنی جنرل کے علم میں ہونی چاہئے تھیں۔مگر اٹارنی جنرل تومولویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ سچائی سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا اور جھوٹ کو اچھا ل رہے تھے۔
اٹارنی جنرل نے آگے چل کر پھر جسٹس منیر کے ایک اخباری مضمون کے حوالہ سے غلط اور نامکمل معلومات کی بنا پر یہ سوال کیا۔
’’اٹارنی جنرل : آزادی کی جدو جہد میں باؤنڈری کمیشن کا مرحلہ آتا ہے ۔ جسٹس منیر صاحب کے حوالے سے ظفراللہ خان کی بڑی خدمات ہیں ۔ وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے ۔ مسلم لیگ کے وکیل تھے ۔ لیکن جسٹس منیر صاحب جو باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے ‘انہوں نے ’’پاکستان ٹائمز۔ میں ۲۴ جون ۱۹۶۴ء آرٹیکل لکھے۔ ان میںیہ بھی تھا۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ ۲۱ جون۱۹۶۴ ’’ میرے یادگار دن‘‘۔ معاملہ کے اس حصے کے متعلق میں ایک نہائت ہی ناخوشگوار واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے علیحدہ عرضداشت کیوں دی تھی ‘ اس قسم کی عرضداشت کی ضرورتبھی ہو سکتی تھی جب احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر سے متّفق نہ ہوتے ، جو کہ بذاتِ خود ایک افسوسناک صورتِ حال ہوتی ۔ہو سکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعدادوشمار دیئے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بسنتر دریا کے مابین کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور یہ بات اس تنازعہ کی دلیل بنتی تھی کہ اگر اچ دریا اور بین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کو مل جائے تو بین دریا اور بسنتر دریا کا درمیانی علاقہ خود بخودہندوستان کو چلا جاتا ہے ، جیسا کہ ہوا۔ احمدیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا ،وہ ہمارے لئے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔
مسلمان ۵۱ فیصد تھے ‘ہندو ۴۹ فیصد ‘ احمدی ۲ فیصد ۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۵۱ کی بجائے ۴۹ فیصد ہو گئے ۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیا مگر یہ قضیہ تو عجیب سا لگتا ہے۔
مرزاناصراحمد: جسٹس منیر صاحب نے اپنی رپورٹ میں ظفراللہ خان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اب اس کے ۱۷ سال بعد جب بوڑ ھے ہو گئے تویہ بیا ن د ے دیا ۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، باؤنڈری کمیشن کے یہ جج تھے۔ پہلے خراجِ تحسین اور اب یہ شکوک ۔ ۱۷ سال کی خاموشی کے بعد جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے ، شاید ممکن ہے بڑھاپے کی وجہ سے جو بات جوانی سے سمجھ آئی ہو ،وہ بڑھاپے میں نہ سمجھ آئی ہو۔
اٹارنی جنرل: یہ اچھا جواب ہے ۔ خیر میں صرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا تھامگر علیحدہ یادداشت کیوں پیش کی‘‘۔
’’میرے یادگاردن‘‘ کے عنوان سے جسٹس محمد منیر کے جس مضمون کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس منیر کی عبارت نقل کرنے کے بعد جو نتیجہ اٹارنی جنرل کے سوال میں نکالا گیا ہے وہ اس بیان سے ہر گز نہیں نکلتا۔ یہ بات کہ’’مسلمان۵۱فیصد تھے ہندو۴۹فیصد اور احمدی ۲فیصد۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تومسلمان ۵۱فیصد کی بجائے ۴۹فیصد ہوگئے اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیامگر یہ قضیہ تو عجیب سالگتاہے‘‘۔
یہ ساری بات جسٹس منیر کے مضمون میں نہیں۔
(۱)۔۔۔یہ بات بھی موجود نہیں کہ مسلمان ۵۱فیصد اورہندو۴۹فیصد تھے۔
(۲)۔۔۔یہ بھی نہیں کہ احمدی ۲فیصد تھے۔
(۳)۔۔۔یہ بات بھی جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تو مسلمان ۴۹فیصد رہ گئے۔ یہ سارا اعداد وشمار کا افسانہ جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں،از خود تراش لیا گیاہے۔
جسٹس منیر نے اپنے بیان میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ گورداسپور اس وجہ سے جاتارہا کہ ’’احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے‘‘۔یہ سارا قصہ ہی ایک شرانگیز افسانہ ہے ۔ البتہ جسٹس منیر نے اپنے مضمون میں یہ لکھا:۔
’’انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصّوں کے بارے میں اعداد وشمار دیئے‘‘۔
اعداد وشمار کیا تھے؟ ان کا ذکر نہیں ۔ اس بیان کے بارے میں جو جواب حضرت مرزاناصر احمد صاحب کی طرف منسوب اللہ وسایا کی کتاب میں شائع کیا گیا ہے اس کو اٹارنی جنرل صاحب نظر انداز کرکے آگے چل پڑے ۔ اس سوال جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تفصیلات ضرورحذف کر دی گئی ہیں اور قارئین سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔مگر اس سوال کے اندرایسے شواہد موجود ہیں اور جسٹس منیر کے پورے مضمون کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب جیسا بھی درج کیا گیا ہے وہ درست تھا۔ جسٹس منیر نے جب یہ مضمون لکھا تو ضعیف العمری کی وجہ سے انکی یادداشت ماند پڑچکی تھی اور ان کے حافظہ نے ساتھ نہیں دیا ۔اس بات کی اندرونی شہادت اس مضمون کے اندر موجود ہے اور بیرونی شہادت ریکارڈ پر موجود ہے۔

اندرونی شہادت

جسٹس منیر نے اپنے مضمون کے آغاز میں ہی خودلکھا :۔
’’حافظے کی مثال ایک ایسے باکس کی ہے جس کی گنجائش محدود ہو جو بچپن سے اس ترتیب سے بھرنا شروع ہوجاتا ہے جس ترتیب سے واقعات رونماہوتے ہیں تا وقتیکہ میری عمر میں پہنچ کر اوپر تک بھر جاتا ہے۔ فزیالوجی کے اسی اصول کے تحت پہلے رونما ہونے والے تازہ واقعات کی نسبت بہتر محفوظ رہتے ہیں۔چونکہ باکس بھر چکاہوتا ہے اور واقعات رونما ہونے کے جلد بعد ہی دوسرے رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے چھلک جاتے ہیں لیکن بعض تازہ واقعات اپنی اثر پذیری کی وجہ سے اتنے ٹھوس ہوتے ہیں کہ وہ کبھی نہیں بھولتے اور یاد داشت تازہ کرنے کی معمولی کوشش سے باآسانی اپنی شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔ جومیں کہنے والا ہوں وہ مؤخرالذکر سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔
(۱)۔۔۔ پہلی بات تو واضح ہے جسٹس منیر کو خود اپنے حافظہ پر اسوقت پورا بھروسہ نہیں اور یاد داشت تازہ کرنے کی جس کوشش کا ذکر کیا ہے وہ کوشش جگہ جگہ دھوکہ دے گئی ہے۔ لہذا بعض باتیں جن کی دوسرے ذرائع سے تصد یق ہو سکتی ہو، یقیناًاہم ہیں ۔
(۲)۔۔۔ مضمون کی پہلی قسط کے کالم نمبر ۳ میں انہوں نے لکھا:۔
’’مسٹر شیتل وارڈ کانگرس کی طرف سے پیش ہوئے ۔ مسٹر ہرنام سنگھ سکھوں کی طرف سے اور سرمحمدظفر اللہ خان مسلم لیگ اور احمدیو ں کی طرف سے ‘‘۔
یہاں ان کے حافظہ نے واضح طور پر ٹھوکر کھائی ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ ظفر اللہ خان مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوئے تھے، احمدیوں کی طرف سے نہیں ۔جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب پیش ہوئے تھے ۔ حافظے نے جو یہاں ٹھوکر کھائی ہے اسکی اہمیت صرف یہ نہیں کہ انہوں نے احمدیو ں کی طرف سے سر ظفر اللہ کے پیش ہونے کا کہا بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ شیخ بشیر احمد، جسٹس منیر کے ذہن سے بالکل غائب ہیں۔ لہذا انکی طرف سے پیش کردہ دلائل بھی انکے ذہن سے محو ہو چکے ہیں اور موجو د نہیں ۔
(۳)۔۔۔ اپنے مضمون کی تیسر ی قسط میں جہاں سے اٹارنی جنرل کا متصلہ سوال لیا گیا ہے جسٹس منیر نے یہ لکھا:۔
’’ احمدیوں نے گڑھ شنکر کے ایک حصے کے بارے میں ایسے اعدادوشمار دیئے جس سے یہ بات نمایاں ہو گئی کہ دریائے بین اور دریائے بنستر کا درمیانی علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے‘‘۔
اول تو گڑھ شنکر کے نام کی کوئی تحصیل گورداسپور میں تھی ہی نہیں ۔ گڑھ شکر ضلع ہوشیارپور کی تحصیل تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ تحصیل شکر گڑھ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔یہا ں پر بھی ان کے حافظہ نے واضح ٹھوکر کھائی ہے ۔
(۴)۔۔۔ دریائے بین دریائے بسنترکا ذکر جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ یہ بحث کانگرس کے وکیل مسٹر سیتل وارڈ نے اٹھائی تھی کہ تقسیم تحصیل اور ضلعوں کی بجائے دریاؤں کے درمیان دوآبوں کی بنیاد پر کی جائے اور دریاؤں اور نہروں کو سرحد بنایا جائے۔ تحصیل شکر گڑھ راوی کے اس پار واقع تھی اور واضح مسلم اکثریت کی تحصیل تھی لہذا کانگرس اسے دریاؤں کے درمیانی علاقوں کی بنیاد پر مشرقی پنجاب میں شامل کروانا چاہتی تھی ۔ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں یا بحث میں کہیں بھی دریائے بین یا دریائے بسنتر کا ذکر موجود نہیں ۔ جماعت احمدیہ کا میمورنڈم پارٹیشن آف پنجاب کے صفحہ ۴۲۸تا صفحہ۴۴۹پرسرکاری طور پر شائع شدہ موجود ہے جو دیکھا جاسکتا ہے۔ جماعت احمدیہ نے دریاؤں کو سرحد بنانے کے اصول کی مخالفت کی تھی اور ایک دلیل یہ دی تھی کہ دریا اپنے رخ بدلتے رہتے ہیں ۔ بہر حال اس بارے میں جسٹس منیر کے حافظہ نے ٹھوکر کھائی ہے۔اس سے پہلے جسٹس منیر اپنے ایک عدالتی فیصلے میں واضح طور پر لکھ چکے تھے۔
’’ احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس نے ہندوستان میں شامل کردیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیارکیا۔‘‘
جوالزامات ۱۹۶۴ء کی تحریر کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں انہیں ۱۹۵۴ء میں جسٹس منیر معاندانہ اور بے بنیاد قراردے چکے ہیں ۔ یہ ایک عدالتی فیصلے کا حصّہ ہے ۔عدالتی فیصلے حقائق و واقعات سامنے رکھ کر احتیاط کے ساتھ لکھے جاتے ہیں ۔ ۱۹۶۴ء کا بیا ن یادداشتوں پر مبنی ہے اور اس میں اندرونی تضاد موجود ہیں ۔
گورداسپور ایک سازش کے ماتحت ہند وستان میں شامل کیا گیااور اس بارے میں ناقابل تردید تاریخی شہادت موجو د ہے جو اوپر پیش کی جا چکی ہے۔
رہی یہ بات کہ تقسیم کے وقت جماعت احمدیہ نے ایک علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا ؟ اٹارنی جنرل کو معلوم ہونا چاہئے تھا اور اگر نہیں معلوم تھا تو انہیں متعلقہ محکمہ یا ریکارڈ سے اس بات کی تسلی کرلینی چاہئے تھی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ تقسیم پنجاب کے بارے میں سرکاری طور پرشائع کردہ ریکارڈ کے مطابق ۱۸؍جولائی ۱۹۴۷ء تک ۴۹میمورینڈم مختلف تنظیموں کی طرف سے داخل کئے گئے تھے جن کی فہرست ریکارڈ میں دستاویز ۲۴۳کے طور پر مذکورہ کتاب کے صفحہ ۴۷۴پر درج ہے۔ جن میں :۔
(۱)۔۔۔پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ۔
(۲)۔۔۔ سٹی مسلم لیگ‘ منٹگمری ۔
(۳)۔۔۔ بٹالہ مسلم لیگ ،بٹالہ۔
(۴)۔۔۔ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ، لدھیانہ ۔
(۵)۔۔۔ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن‘سٹی اینڈ ڈسڑکٹ مسلم لیگ،جالندھر۔
(۶)۔۔۔ انجمن مغلیاں لوہاراں، ترکھاناں پنجاب۔
(۷)۔۔۔انجمن بھٹی راجپوتاں پنجاب۔
(۸)۔۔۔ انجمن راٹیاں جالندھر، تحصیل جالندھر۔
(۹)۔۔۔ مسلم راجپوت ایسوسی ایشن۔
(۱۰)۔۔۔ مسلم راجپوت کمیٹی تحصیل گڑھ شنکر اینڈ نواں شہر۔
(۱۱)۔۔۔مسلم لیدر مرچنٹ ایسوسی ایشن۔
(۱۲)۔۔۔ انجمن مدرسۃالبنات جالندھر۔
(۱۳)۔۔۔ مزنگ منڈی سرکل۔
کی طرف سے میمورینڈم داخل کئے گئے تھے اور یہ سارے میمورینڈم مسلم لیگ کی تائید میں تھے۔ اسی طرح بہت سی ہندو ‘ سکھ تنظیموں نے کانگریس کی تائید میں اپنے میمورینڈم داخل کئے ۔ عیسائیوں اور اینگلو انڈینز کی طرف سے مسلم لیگ کی تائید میں، پاکستان کے حق میں اور کچھ کانگریس کی تائید میں ، ہندوستان کی تائید میں داخل کئے گئے۔ اصل بات جو نمایاں طور پر واضح تھی وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا میمورینڈم دوسری بہت سی مسلم تنظیموں کے ساتھ مسلم لیگ کی تائید میں داخل کیا گیا تھااور اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم پنجاب کے وقت پارٹیشن پلان کے ساتھ ایک فہرست اور ایک جدول بھی شامل کئے گئے تھے جس میں ۱۹۴۱ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں مسلم اکثریت کے ضلعوں کی تفصیل دی گئی تھی ۔ گورداسپور کا ضلع جو کہ مسلم اکثریت کا ضلع تھا اسے عارضی اور عبوری طور پر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔مگروائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں ضلع گورداسپور کے بارہ میں یہ اظہار کیا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف ۸ء۰ فیصد ہے اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماً غیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔چوہدری محمد علی اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں :
”at his press confrence of June 4 1947 Mount Batten was asked why he had, in the broad cast of previous evening on the June 3 Partition Plan, catagorcally stated that,” the ultimate boundries will be settled by a boundary commission and will almost certainly not be identical with those which have been provisionally adopted.” Mount Batten immidiately replied,” I put that in for the simple reason that in the district of Gurdaspur in the Punjab the population is 50.4 % Muslim, I think and 49.6 % non muslims. With a differance of 0.8 % You will see at once that it is unlikely that the boundary commission will throw the whole of the district into the Muslim

majority areas.”

(Ch. Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 215)

ترجمہ:۔۴ جون ۴۷ ۱۹ء کی پریس کانفرنس میں ماؤنٹ بیٹن سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے ۳؍ جون کے منصوبہ کے بارہ میں گزشتہ شب اپنی نشری تقریر میں دو ٹوک انداز میں یہ کیوں کہا کہ ’’ حتمی باؤنڈری کا تصفیہ باؤنڈری کمشن کرے گا اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ حتمی باؤنڈری ،عبوری باؤنڈری کے ہوبہو مطابق نہیں ہو گی‘‘ ماؤنٹ بیٹن نے جواب دیا ،
’’میرے ایسا کرنے کی سیدھی سی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کے ضلع گورداسپور میں مسلمان آبادی میرے خیال میں ۴ء۵۰ فیصدہے اور غیر مسلم آبادی ۶ء۴۹فیصد ہے ۔ آپ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات غیر اغلب ہے کہ صرف ۸ء۰ فیصد کے فرق کی وجہ سے باؤنڈری کمشن پورا ضلع ہی مسلم اکثریت کے حصہ میں ڈال دے۔
چونکہ گورداسپور جالندھر اور فیروزپور کے بعض علاقے اس عارضی اور عبوری سرحد (Notional Boundary) کے قریب تھے ۔ اس لئے اس عبوری سرحد کے قریب قریب واقع دونوں طرف کے علاقے گویا فریقین کے درمیان زیر بحث تھے ۔ کانگریس لاہور اور منٹگمری کے ضلعوں میں سے بھی کچھ علاقوں کا مطالبہ کررہی تھی اور مسلم لیگ امرتسراور فیروز پور کے علاقوں کا مطالبہ کررہی تھی۔ لہٰذا ان علاقوں کے لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے مطالبات کے قطع نظر یہ سوال کہ ان علاقوں کے لوگ کسی طرف شامل ہونے کے خواہش مند ہیں بھی اہمیت اختیار کرگیاتھا۔چنانچہ اس علاقے کی بعض عیسائی تنظیموں نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بارے میں میمورنڈم داخل کئے۔
باؤنڈری کمیشن کےTerms Of Reference یہ تھے:۔
"For the Punjab:The boundary commission is instructed to demarcate the boundaries of the two parts of the Punjab on the basis of ascertaining the contiguous majorities areas of Muslims and Non-muslims. In doing so it will also

take into account other factors.”

دونوں فریق Terms Of Referenceمیں Other Factorsکی شق کی وجہ سے اپنے اپنے حق میں استدلال کرناچاہتے تھے۔ جماعت احمدیہ کامیمورینڈم کوئی علیحدہ یا انوکھی چیز نہیں تھی ۔ اس دستاویز میں سارا زور اس بات پرہے کہ تقسیم پنجاب کے لئے خواہ کوئی طریقہ اپنایا جائے ‘ قادیان کو پاکستان کا حصّہ ہونا چاہئے ۔ اس کی تائید میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ
بشیر احمدایڈووکیٹ نے بحث کی جو جلد دوم کے صفحہ ۲۴۰ سے شروع ہوتی ہے اور بحث کا آغاز ہی اس فقرے سے ہوتاہے۔
’’میں اپنی معروضات کو ایک محدود سوال تک محدود رکھنا چاہتا ہوں یعنی مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کے لئے قادیان کا کلیم کیا ہے‘‘۔
صفحہ ۲۵۱پر ان کا یہ بیان درج ہے کہ ’’قادیان کے تقسیم کے Referenceمیں مسلمانوں کو یکجا رکھنا مقصود ہے اور آپس میں ملحقہ مسلم علاقوں کو یکجا رکھنا مقصد ہے ۔‘‘
انہوں نے کہا:۔
’’تقسیم کی بنیا د مذہب ہے ، قادیان اسلامی دنیا کا ایک بین الاقوامی زندہ مرکز بن چکا ہے‘‘۔لہذا ا س اکائی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہندوستان میں شامل ہوں یا پاکستان میں اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ہم پاکستان میں داخل ہوں گے۔
میمورنڈم میں صفحہ ۴۳۷پر جو نکات پیش کئے گئے ہیں ان میں سے نمبرایک پر یوں درج ہے:۔
’’قادیان ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے تھانہ بٹالہ میں واقع ہے ۔ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ گورداسپور ضلع کو مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کا کلیم اتنا واضح اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہے کہ عملاً اس بارے میں کوئی بحث بھی باؤنڈری کمیشن کے دائرہ سے باہر ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف زیرو پوائنٹ آٹھ فی صدہے۔ اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماًغیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اس بارے میں وائسرائے کی معلومات درست نہیں تھیں۔ ۱۹۴۱ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ضلع گورداسپور کی مسلمان آبادی کُل آبادی کا ۱۴ء۴۹فی صد ہے۔ اس طرح سے مسلمانوں کی آبادی دوسروں کی نسبت ۸ء۲فی صدزیادہ ہے۔۸ء۰فی صد نہیں ‘‘۔
اس میمورنڈم میں مزید وضاحت یہ کی گئی کہ اگر اچھوت اقوام اور ہندوستانی عیسائی ہندوؤں اور سکھوں کا ساتھ دیں تب بھی مسلمان آبادی ۸ء۲ فیصد زائد ہے۔ مگر عیسائی راہنما ایس پی سنگھا، جو بٹالہ ضلع گورداسپور سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا …….کہ وہ پاکستان میں رہنا پسند کریں گے۔عیسائیوں کی آبادی ضلع گورداسپورمیں ۴۶ء۴فیصدہے ۔ اگر اس کو مسلمان آبادی کے ساتھ شامل کر لیا جائے تو پھر ضلع گورداسپور میں پاکستان میں شمولیت اختیا ر کرنے والوں کا تناسب۶۰ء۵۵فیصد ہو جاتا ہے۔ اور یہ معتدبہ تفاوت ہے ۔
میمورنڈم میں دوسری تحصیلوں کے بارے میں یہ اعداد وشمار دئیے گئے۔
(۱)۔۔۔تحصیل بٹالہ۰۷ء۵۵
(۲)۔۔۔تحصیل گورداسپور۱۵ء۵۲
(۳)۔۔۔تحصیل شکرگڑھ۱۴ء۵۳
(۴)۔۔۔تحصیل پٹھانکوٹ۸۸ء۳۸
اور اس میمورنڈم میں یہ واضح کیا گیا کہ تحصیل بٹالہ میں مسلمانوں کی آبادی ۱۴ء۱۰فی صد زیادہ ہے ۔تحصیل گورداسپور میں ۳۰ء۴شکرگڑھ میں ۲۸ء۶فی صد۔ اور اگر اُن عیسائیوں کو شامل کر لیا جائے جو پاکستان میں شمولیت کے خواہاں ہیں تو پھر تحصیل بٹالہ میں اکثریت ۵۳ء۶۰فی صد اور تحصیل شکرگڑھ میں۸۸ء۵۴فی صد ہو جاتی ہے۔
تحصیل پٹھانکوٹ کے بارے میں جماعت احمدیہ نے یہ کہا کہ اس کو بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہئے ۔کیونکہ اس میں ’’OTHER FACTORS‘‘ کی شق کے تحت پاکستان میں شامل کئے جانے کے قوی دلائل موجود ہیں۔جو یہ ہیں کہ دریائے راوی اس تحصیل میں سے گزرتا ہے اور پھر مغربی پنجاب میں داخل ہوتا ہے اس میں سے جو نہریں نکالی گئی ہیں ان کا ھیڈورکس مادھوپور ہے۔ اور یہ نہریں مغربی پاکستان کے علاقے کو سیراب کرتی ہیں اور اس کو مشرقی پنجاب میں شامل کئے جانے کے نتائج بڑے بھیانک ہو سکتے ہیں ۔
جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اگر تحصیل بہ تحصیل آبادی کا جائزہ لیا جائے توبھی ضلع گورداسپور اور اسکی تمام تحصیلوں کو پاکستان میں آنا چاہئے اور اگر ذیل کو اکائی قرار دیا جائے یا تھانہ کو اکائی قرار دیا جائے توبھی قادیان کو پاکستان میں آنا چاہئے ۔ کیونکہ دِ ذیل جو کہ پچاس ساٹھ دیہات پر مشتمل اکائی ہوتی ہے اگر اس کو بنیا د بنایا جائے تو قادیان جو کہ دلّہ کی ذیل میں آتا ہے اس میں مسلمان اکثریت۱۰ء۶۱فی صد ہے اور قادیان سے مشرق کی جانب دریائے بیاس تک اورمغرب کی جانب بٹالہ تک سارے کے سارے ذیل مسلم اکثریت کے ذیل ہیں اس لئے قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔یہ میمورینڈم کتاب کی جلد اوّل کے صفحہ ۴۲۸سے لے کر ۴۵۹تک لفظ لفظ ریکارڈ پر موجود ہے ۔اس میمورینڈم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت مدّلل اور قوی دستاویز ہے جس کا مطالعہ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔
غرضیکہ حقائق اتنے واضح روشن اور واشگاف ہیں کہ اس بارہ میں اٹارنی جنرل کی طرف سے سوال اٹھایا جانانا قابلِ فہم ہے۔
تاریخ میں جن لوگوں کی وابستگیاں کانگریس کے ساتھ رہی ہوں اور جوسستی شہرت حاصل کرنے کے لئے پبلک سٹیج پر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے من گھڑت ‘غیر مستند بے سروپا الزامات دہرانے کے عادی ہوں ان کی بات اور ہے مگر قومی اسمبلی ہر شہری کے نزدیک متانت، وقاراور ثقہ بحث کی آئینہ دارہونی چاہئے تھی۔ خصوصی کمیٹی میں یہ سوال اٹھا کر کمیٹی کی پوری کارروائی کو مسندِاعتبار سے گرا کر مشتبہ بنا دیا گیا۔
کمیٹی کے سامنے جو بات زیرِ غور تھی وہ عقیدۂ ختمِ نبوت سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر اس سوال کا مقصد تحریکِ پاکستان سے سیاسی وابستگی یا عدم وابستگی ظاہر کرنا تھا تو ترمیم ان الفاظ میں ہونی چاہئے تھی:۔

’’جو شخص تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کے مفاد کے خلاف کام کر چکا ہو وہ آئین اور قانون کی اغراض سے غیر مسلم ہو گا اور پاکستانی شہریت کا حقدار نہ ہو گا۔‘‘

اگر یہ مقصد ہوتا تو جماعت احمدیہ تو اپنے علیحدہ میمورینڈم کے باوجود اس تعریف میں نہ آتی مگر یہ ختمِ نبوت والے احراری اور کانگریسی علماء ضرور اس تعریف میں آ جاتے۔ عقل دنگ ہے کہ اٹارنی جنرل ان مولویوں کے ہاتھوں ایسے بے بس ہو گئے کہ ان کو اپنا بنیادی ریفرینس ہی بھول گیا ۔مگر کیا کیجئے اﷲوسایا کی کتاب سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے ۔

(۱۱) اٹارنی جنرل کی آخر ی بحث(دلچسپ انکشاف)

اﷲوسایا کی مذکورہ کتاب کے مطالعہ سے بعض ایسے انکشافات بھی ہوئے ہیں جو سنجیدہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہونگے۔اﷲوسایاکی مرتبہ کتاب کے صفحہ۲۵۶سے لے کر ۳۱۷ تک اٹارنی جنرل کا وہ مفصل بیان درج ہے جو گویا انہوں نے تمام کارروائی کے اختتام پر بحث کو سمیٹتے ہوئے دیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ اٹارنی جنرل کے اِس بیان میں اﷲوسایا موصوف نے کوئی ’’اختصار‘‘ یا’’ اجمال‘‘ کی کارروائی نہیں کی ہوگی اور بالخصوص کوئی ایسی ٹھوس اور مؤثر بات جو جماعت احمدیہ کے موقف کا توڑ اور نفی کرتی ہو اٹارنی جنرل کے بیان میں سے یقیناً حذف نہیں کی ہوگی۔ حکومتی پارٹی کی طرف سے جو ریفرنس یعنی مسئلہ خصوصی کمیٹی کے سپردہوا تھا اس کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر چکے ہیں۔ یہ بات حیرت اور دلچسپی کا موجب ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی آخری بحث میں یوں تو وزیرِ قانون کی تحریک اور حزبِ اختلاف کی قرار د اد دونوں ہی پرتنقید کی، مگر وزیرِ قانون کی تحریک کو تو ایک ہی فقرے میں نمٹا دیا ۔ اٹارنی جنرل نے کہا:۔
’’آغاز میں پہلے وہ تحریک جو کہ عزت ماب وزیرِ قانون نے پیش کی تھی، جناب والا! تحریک کے الفاظ یہ ہیں :۔
’’دینِ اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو‘‘۔
آئیے پہلے اس جملہ کی ترکیب کو لیں۔

’’ اسلام کے اندر حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا‘‘۔

’’ اگر ایوان کی یہ رائے ہو کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺکی ختمِ نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ مسلمان نہیں ہیں ، تو پھر ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ تحریک بذاتِ خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے ۔ اگریہ کہا جاتا کہ ’’اسلام میں یا اسلام کے حوالہ سے بحث کرنا‘‘ تو پھر بات سمجھ میں آسکتی تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ ’’اسلام میں حیثیت یا مقام‘‘ اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم نہ بھی ہو لیکن یہ تضاد ایوان کے نوٹس میں لانا میرا فرض تھا۔ یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے ان کی حیثیت کیا ہے‘‘۔
گویا اٹارنی جنرل خود ہی مفتی بھی بن گئے،عالمِ دین بھی بن گئے اور یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ تحریک اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ جب کوئی ختمِ نبوت کے ایک مخصوص مفہوم کا انکاری ہو گیا تو اس کی حیثیت اسلام میں متعین کرنے کا کیا سوال ہے؟ وہ اس بحث میں نہیں پڑے کہ آخرکوئی تصفیہ طلب اختلاف تھا تو معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا۔ اور وہ اختلاف ایسا تھا کہ اس وقت کے سیاسی اقتدار کی سوچ کے مطابق اس مسئلہ پر قومی اسمبلی کا غور کرنا ضروری تھا ورنہ وہ مسئلہ قومی اسمبلی میں نہ اٹھایا جاتا۔ جماعت احمدیہ کے امام اور وفد کو قومی اسمبلی میں طلب کرنے کا مبینہ مقصد ہی یہ تھا کہ اس مسئلہ پر ان کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقعہ دیا جائے اور پھر یہ غور ہو کہ ختمِ نبوت کے بارہ میں ایسا مؤقف رکھنے والوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔بات اسلام کے حوالہ سے ہی ہونی تھی اور اسی حوالہ سے غور بھی ہونا تھا۔
یہ بات کہ’’ اسلام میں‘‘ ان کی حیثیت کیا ہے اور ’’اسلام کے حوالہ سے ‘‘ ان کی حیثیت کیا ہے نفسِ مضمون کے لحاظ سے ایک ہی بات تھی مگر اٹارنی جنرل نے اسلام کے حوالہ سے بھی اس سوال پر بحث کرنا ضروری نہ سمجھا اور سمجھ لیا کہ اس بات پر امتِ مسلمہ مبینہ طور پر متفق ہے۔ اور اس بات پر کوئی بحث نہیں کی کہ امت کا اتفاق موجود تھا بھی یا نہیں۔امام جماعت احمدیہ اپنے تفصیلی بیان میں کہہ چکے تھے کہ امت کے آئمہ سلف کا اتفاق اس مفہوم پر تھا جو جماعت احمدیہ کے عقیدہ سے مطابقت رکھتا ہے۔
جناب اٹارنی جنرل گیارہ دن تک حضرت امام جماعت احمدیہ پر جرح کرتے رہے۔ اﷲ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملہ پر علمائِ دین نے، جو اسمبلی میں موجود تھے، کوئی مواد اٹارنی جنرل کو مہیا نہیں کیا جو اٹارنی جنرل بیان کریں کہ ایسے شخص کی اسلام میں کیا حیثیت ہے ۔ اس مسئلہ پر مکمل خاموشی رہی ۔کوئی قرآن و سنت کا حوالہ، کوئی آئمۂ سلف کے اقوال پیش نہیں کئے گئے اور کوئی ایک سوال بھی اس بارے میں نہیں کیا گیا کہ ’’ دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت کیا ہے جو حضرت محمد ﷺکے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتاہو‘‘ ۔اور نہ ہی اﷲوسایاکی مرتبہ کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے اپنی آخری بحث میں قرآن و حدیث کے حوالے سے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ جماعت احمدیہ اپنے محضرنامے میں اس بارے میں مفصل بیان داخل کر چکی تھی جس میں قرآن و حدیث کے علاوہ تیرہ صدیوں کے بزرگانِ سلف کی تحریرات و تفاسیر اس سوال کے جواب میں پیش کی تھیں ۔ علمائِ دین میں سے کوئی بھی اٹارنی جنرل کی مدد کو نہ پہنچے اور یوں ؂

رہروی میں پردۂِ رہبر کھلا

اٹارنی جنرل صاحب خود تو عالمِ دین( روایتی مفہوم میں )تھے نہیں، نہ ان کو اس بارہ میں کوئی دعویٰ تھا۔بلکہ وہ خود اقراری ہیں کہ ان کے لئے زبان کا مسئلہ ہے۔ مراد ان کی غالباً عربی زبان سے تھی، ورنہ اردو اور انگریزی پر تو انہیں عبور حاصل تھا۔ علمائِ دین نے ان کو جماعتِ احمدیہ کے اٹھائے گئے سوالات اور حوالوں کا جواب مہیا نہیں کیااور بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو علامہ اقبال پر انحصار کرنا پڑا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے متعدد حوالے دئے ۔
علامہ اقبال نے عصرِ جدید میں پڑھے لکھے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے ۔ علامہ کے فکر میں جدت پسندی ، کسی حد تک روایت سے بغاوت ، خانقاہوں اور تصوف اور ملائیت کی مخالفت اور فلسفہ اور منطقی مباحث شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے اسلام کا مطالعہ بھی فلسفہ کی نظر سے کیا ہے اور کہاجا سکتا ہے کہ اقبال نے اسلامی فکر کو ایک نئی زبان عطا کی ہے ۔ گو اس بارہ میں اختلاف ہو سکتا ہے، اور موجود ہے کہ ایسا کرنے میں اقبال کا فلسفیانہ نقطۂ نظر کہاں تک اسلامی فکرسے ہم آہنگ ہے۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرما چکے ہیں:۔
’’میری مذ ہبی معلومات کا دائرہ نہائت محدود ہے ۔ میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور نقطہ ٔخیال ایک حد تک طبیعتِ ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یا نا دانستہ میں اسی نقطہ ٔ خیال سے حقائقِ اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں‘‘۔ (اقبال نامہ‘ حصہ اول صفحہ ۴۶۔۴۷‘ ناشر شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور)
مگر اٹارنی جنرل نے اپنے استدلال کی بنیاد اقبال کے خیالات پر ر کھی اور کہا:۔
’’علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔
فتحیت کے نظریہ سے یہ مطلب نہ اخذکیا جائے کہ زندگی کے نوشتہ تقدیر کا انجام استدلال کے ہاتھوں جذباتیت کا مکمل انخلاء ہے۔ ایسا وقوع پذیر ہونانہ توممکن ہی ہے اور نہ پسندیدہ ہے۔ کسی بھی نظریہ کی دینی قدرو منزلت اس میں ہے کہ کہاں تک وہ نظریہ عارفانہ واردات کے لئے ایک خود مختارانہ اور نافذانہ نوعیت کے تحقیقی نقطۂ نگاہ کو جنم دینے میں معاون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر اس اعتقاد کی تخلیق بھی کرے کہ اگر کوئی مقتدر شخص ان واردات کی وجوہ پراپنے اندر کوئی مافوق الفطرت بنیاد کا داعیہ پاتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس نوعیت کا داعیہ تاریخ انسانی کے لئے اب ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح پر یہ اعتقاد ایک نفسیاتی طاقت بن جاتا ہے جو مقتدر شخص کے اختیاری دعویٰ کو نشوونما پانے سے روکتا ہے۔ ساتھ ہی اس تصور کا فعل یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کے واردات قلبیہ کے میدان میں اس کے لئے علم کے نئے مناظر کھول دے۔‘‘
پھرحضرت مرزا غلام احمد کے حوالے سے علامہ اقبال فرماتے ہیں:۔
’’ اختتامیہ جملے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ولی اور اولیاء حضرات نفسیاتی طریقے سے دنیا میں ہمیشہ ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔ اب اس زمرہ میں مرزا صاحب شامل ہیں یا نہیں، یہ علیحدہ سوال ہے۔ مگر بات اصل یہی ہے کہ بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کرکے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے رو گردانی کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آدمی کو فی زمانہ یہ حق ہے کہ ان حضرات کے واردات قلبیہ کا ناقدانہ طورپر تجزیہ کرے ۔ ختمیتانبیاء کا مطلب یہ ہے جہاں اور بھی کئی باتیں ہیں کہ دینی زندگی میں جس کا انکار عذاب اخروی کا ابتلاء ہے ،اس زندگی میں ذاتی نوعیت کا تحکم و اقتدار اب معدوم ہو چکا ہے۔‘‘
اقبال کے مندرجہ بالا اقتباس کا نتیجہ اٹارنی جنرل نے یہ نکالاکہ:۔
’’اس لئے جناب والا! آئندہ کوئی فردیہ نہیں کہے گا کہ مجھے وحی الٰہی ہوتی ہے اور یہ اﷲ کا پیغام ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔لازم صرف وہی ہے جو قرآن پاک میں پہلے سے آچکاہے۔‘‘
اقبال کی اس عبارت پر ذرا غور کریں تو اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو اٹارنی جنرل نے اخذ کیا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے ختمِ نبوت کا جو یہ اجتماعی مفہوم گویا بیان کر دیا کہ بس اب وحی بند ہے ۔ اس پر علّامہ اقبال کا مؤقف وہی ہے جو حضرت محی الدین ابنِ عربی(۵۶۰ھجری۔۶۳۸ھجری) کا ہے، صرف زبان اور اصطلاحات کا فرق ہے ۔اقبال فلسفہ کی زبان میں وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو حضرت محی الدین ابنِ عربی الٰہیات اورتصوف کی زبان میں فرما رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:۔
فَالنّبُوّۃ سَارِیَۃٌ اِلَی یَومِ الْقِیَامَۃِ فِی الْخَلْق واِنْ کَانَ التَّشْرِیعُ قَدْ اِنْقَطَعَ فَالتَّشْرِیْع جُزْئٌ مِن اَجْزَائِ النّبُّوَّۃ فَاِنّہ‘ یَسْتَحِیْلُ أنْ یَنْقَطِعَ خَبَرُاﷲ وأخبَارہ مِنَ الْعَالم،اِذ لَو انْقَطَع وَلَمْ ےَبْقَ لِلْعَالم غذَاء ےَتَغذی بِہ فِی بقَاء وُجودہ۔ (الفتوحات المکیۃ الجزء الثالث ۔ صفحہ ۱۵۹ ، سوال نمبر ۸۲ ۔ دارالفکر للطباعۃ والنشر والتوزیع الطبعۃ ۱۹۹۴ء)
ترجمہ: نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے گو تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے۔ پس شریعت، نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔اور یہ محال ہے کہ اﷲ کی طرف سے خبریں آنی منقطع ہو جائیں اور دنیا کے لئے غذا باقی نہ رہے، جس سے اس کے وجود کو بقا حاصل ہو۔
گویا محی الدین ابنِ عربی’’ نبوت ‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اقبال اسے ’’عارفانہ واردات‘‘ کہتے ہیں ۔ محی الدین ابنِ عربی، اخبار الٰہی کا منقطع ہونا محال قرار دیتے ہیں تو اقبال یہ کہتے ہیں،’’ مگر بات اصل یہی ہے بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کرکے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے رو گردانی کی۔‘‘
ان بشری وقوعات کو اقبال اولیاء کی نفسیاتی وارداتِ قلب کے طور پر بیان کرتے ہیں اور محی الدین ابنِ عربی اخبارِ الٰہی کے طور پر۔
جناب اٹارنی جنرل نے تو اقبال کی فلسفیانہ توجیہات پرانحصار کر لیا جبکہ اقبال خود کہتے ہیں کہ مغربی فلسفہ کا نقطۂ خیال ایک حد تک ان کی طبیعتِ ثانیہ بن گیا ہے اور وہ دانستہ یا نا دانستہ اسی نقطۂ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔اور علماء حضرات نے اٹارنی جنرل کی کوئی راہنمائی نہ کی کہ جماعت احمدیہ نے محی الدین ابنِ عربی کا جو حوالہ پیش کیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔ غیر مشروط آخری نبی کا تصور جس پر کوئی جرح اور بحث نہیں ہوئی اور جسے متفق علیہ مان کر برآمد کر لیا گیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اسے نہ دیوبندی حضرات کے مسلمہ بزرگوں کی تائید حاصل ہے، نہ بریلوی حضرات کے بزرگوں کی، نہ آئمہ سلف کی۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی کہتے ہیں :

’’عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپؐ کا زمانہ انبیائِ سابق کے زمانہ کے بعداور آپ سب میں آخری نبی ہیں ۔ مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔ پھر مقام مدح میں (ولٰکِنْ رَّسُوْلَ اﷲِوَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ) فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مدح قرارنہ دیجئے تو البتہ خاتمیت با اعتبارِ تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہو گی۔(تحذیر الناس صفحہ ۳)

دیوبندی حضرات میں سے کسی نے نہ جرح میں کوئی سوال اٹھایا،نہ ہی اٹارنی جنرل کو توجہ دلائی کہ بانی ٔ دیو بندتو آنحضرت ﷺکو غیرمشروط طورپرآخری نبی نہیں مانتے ۔ان کے نزدیک تو خاتمیت باعتبارِ زمانہ نہیں ۔
بریلوی بزرگوں میں سے مولوی ابوالحسنات محمد عبدالحئی صاحب لکھنوی فرنگی محلی اپنی کتاب ’’دافع الوسواس‘‘ کے صفحہ ۱۶ پر اپنا مذہب ختم نبوت کے بارہ میں یوں پیش کرتے ہیں:۔
’’بعد آنحضرت ﷺکے زمانے کے یا زمانے میں آنحضرت ﷺ کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔‘‘
پھر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ میرا عقیدہ ہی نہیں بلکہ علمائے اہلِ سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے چلے آئے ہیں ۔چنانچہ فرماتے ہیں :
’’ علمائے اہلِ سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے عصر میں کوئی نبی صاحبِ شرعِ جدید نہیں ہو سکتا ۔ اور نبوت آپؐ 5 کی عام ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہو گا وہ متبع شریعتِ محمدیہ کا ہو گا۔‘‘ (مجموعہ فتاویٰ مولوی عبدالحئی صاحب جلد ۱صفحہ۱۴۴)
گویامولوی ابوالحسنات محمد عبدالحئی صاحب لکھنوی فرنگی محلی بھی آنحضرتﷺکو غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک آخری نبی سے مراد یہ ہے کہ آپ آخری شرعی نبی ہیں اور آپ کے بعد صاحبِ شرعِ جدیدکوئی نہ ہو گا۔مگر اسمبلی میں موجود کسی بریلوی عالم نے جرح میں سوال نہیں اٹھایا ،نہ ہی اٹارنی جنرل کو توجہ دلائی۔
یہ تو گویا ماضی قریب کے بزرگان کا ذکر تھا۔ پرانے بزرگوں میں سے حضرت امام عبدالوہاب شعرانی کا ایک قول سنئے۔ یہ معروف مشہور صوفی بزرگ جن کی کتاب ’’الیواقیت والجواہر ‘‘ کو ایک خاص سند حاصل ہے اس میں آپ فرماتے ہیں:۔
’’ اِعْلَمْ اَنَّ النبوۃ لم ترتفعً مطلقاً بَعد مُحَمَّدٍ ﷺوانّما ارتفع نبوۃُ التشریع فقط‘‘ (الیواقیت و الجواھر فی بیان عقائد الاکابر ۔ الامام عبع الوہاب الشعرانی۔ الجزء الثانی۔ صفحہ ۳۵ ۔ دارالمعرفۃ للطباعۃ و النشر بیروت لبنان ۔ الطبعۃ الثانیہ ۔۱۹۰۰ )
ترجمہ: جان لو مطلق نبوت نہیں اٹھی ۔ صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے۔
انکشاف یہ ہوا کہ جو ترمیم پیش ہو کر منظور ہوئی وہ کبھی زیرِ غور ہی نہیںآئی ا ور جس صورت میں منظور ہوئی اس پر کسی کا اتفاق نہیں۔ ’’ غیر مشروط آخری نبی‘‘ کا تصور امت میں موجود ہی نہیں۔ سب
کے سب حضور کے آخری نبی ہونے کو کسی نہ کسی رنگ میں مشروط مانتے ہیں۔ کچھ بزرگ شرعی اور غیر شرعی کی بنیاد پر مشروط قرار دیتے ہیں، کچھ زمانے اور مرتبہ کی بنیاد پر اور کچھ پرانے اور نئے کی بنیاد پر۔
جو ترمیم کی گئی ہے اس کے مطابق مندرجہ ذیل حضرات اور بزرگان غیر مسلم ٹھہرا دئے
گئے ہیں اور ان کو کان و کان خبر نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ سب بزرگان آخری نبی ہونے کو کسی نہ کسی رنگ میں مشروط مانتے ہیں۔ شرط کی نوعیت میں اختلاف ہے مشروط ہونے میں اختلاف نہیں ۔
۱۔ مولانا سید محمد قاسم نانوتوی۔
یہ آنحضرت ﷺکو شرعی نبی ہونے کے لحاظ سے آخری نبی مانتے ہیں اور آخری نبی ہونا تشریع سے مشروط ہے۔ ان کے نزدیک حضورؐ زمانے کے لحاظ سے آخری نہیں،مقام و مرتبہ کے لحاظ سے آخری ہیں۔ غیر مشروط بہر حال نہیں۔
۲۔ مولانا مفتی محمود۔ کیونکہ وہ بانی دیو بند سید قاسم نانوتوی کے ہم مسلک ہیں۔
۳۔ مولانا سید عبدالحئی فرنگی محلی۔
۴۔ مولانا شاہ احمد نورانی، کیونکہ وہ بھی غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتے۔ملاحظہ ہو اﷲ وسایا کی کتاب میں مولانا شاہ احمد نورانی کہتے ہیں ۔
’’جناب خاتم النبیین کا معانی ای لاینبأ احد بعدہ واما عیسیٰ علیہ السلام ممن نبیٌ قبلہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا اور مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ نبی ہیں جو حضور علیہ السلام سے پہلے نبی بنائے جا چکے ۔‘‘ (صفحہ ۱۲۹)
گویا مولانا شاہ احمد نورانی اس شرط کے ساتھ حضو ر ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں کہ جسے آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی وہ آپﷺ کے بعد آ سکتا ہے۔ یعنی آپ کی خاتمیت زمانے سے مشروط نہیں، بعثت سے مشروط ہے۔
جو ترمیم منظور کی گئی اس کی رو سے جو شخص کسی مصلح کا ظہور بھی تسلیم کرے، غیر مسلم ٹھہرا دیا گیا ہے جبکہ علامہ اقبال اس بات کے قائل ہیں کہ :۔
’’بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کرکے لوگوں کی رہنمائی کے لیئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے رو گردانی کی۔‘‘
تو گویا علامہ اقبال بھی غیر مسلم ٹھہرے۔ اٹارنی جنرل کا سارا استدلال اقبال کے حوالہ سے تھا وہ تو باطل ہو گیا اور قرآن و حدیث اور آئمہئِ سلف کے اقوال علماء نے پیش نہ کئے ۔ جماعت احمدیہ نے پیش کئے تو ان پر جرح نہ کی گئی ۔ یہ خصوصی کمیٹی کی کارروائی کی تصویر ہے جو اﷲ وسایا کی کتاب سے ابھرتی ہے۔ علماء حضرات کی موجودگی میں کھلی آنکھوں اور سنتے کانوں ان کی رہبری میں یہ ترمیم منظورہوئی اور یوں ؂

رہروی میں پردۂِ رہبر کھلا

(۱۲) اے اہلِ وطن!

پاکستان کی قومی اسمبلی نے مسلمان کی تعریف تو متعین نہ کی مگر آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعہ احمدیوں کو آئین و قانون کی اغراض سے غیر مسلم قرار دے دیا۔احمدیوں کے لئے یہ صورت کتنی بھی ناگوار کیوں نہ ہو، مگر قانونی پوزیشن یہی ہے ،کہ پاکستان کے آئین کی رو سے احمدی غیر مسلم ٹھہرا دیئے گئے ہیں۔ احمدی حضرات اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور وہ اس بات پر راضی ہیں کہ وہ خدا کے حضور مسلمان ٹھہریں اور روزِ حشر آنحضرت ﷺ کی امّت میں ان کا شمار ہو، آنحضرت ﷺ کی شفاعت ان کو حاصل ہو اور حضور ﷺ کا دامن انہیں میسر رہے۔ ان کی اس خواہش کو ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔
اپوزیشن کا ریزولیوشن اور وزیرِ قانون کی تحریک، جو ہماری اس کتاب کے پہلے باب میں پس منظر کے عنوان کے تحت درج کر دی گئی ہے، ان کا جائزہ لیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے اپنی بحث کے دوران یہ کہا کہ:۔
’’ لیکن میرا فرض ہے کہ میں معزز اراکین کی توجہ اس امر کی طرف دلاؤں کہ اگر آپ شہری آبادی کے کسی حصہ کو ایک الگ مذہبی جماعت قرار دیتے ہیں،تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا مذہب تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔ ان کو اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کا حق دیں۔‘‘(صفحہ۲۶۱)
پھر اپنی بحث کے آخری حصہ میں اس بات کا اعادہ کیا اور کہا:۔
’’اب میں دستور کے مطابق احمدیوں کی حیثیت کے بارہ میں گزارشات کروں گا، فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو، اراکین جو بھی راستہ اختیار کریں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ وہ پاکستانی ہیں اور شہریت کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ ’’ذمی‘‘ یا دوسرے درجہ کے شہری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یاد رکھئے کہ پاکستان لڑ کر حاصل نہیں کیا گیا بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ایک معاہدہ تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ ہندوستان میں ایک مسلمان قوم تھی اور دوسری ہندو قوم، اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ مسلمان قوم بھی تقسیم ہو گئی اور اس کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ ہم ان کوبے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ چنانچہ یہ قرار پایا کہ ان کے شہری اور سیاسی حقوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔ اسی طرح ہم پاکستان میں ہندؤوں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔ اس بات کا ذکر آپ کو چوہدری محمدعلی کی لکھی ہوئی کتاب، Emergence of Pakistan(ایمرجینس آف پاکستان) میں ملے گا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہوا تھا جسے قائدِاعظم نے خطاب کیا تھا۔ وہ ایک نہائت مشکل دور تھا۔ بے شمار مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ قربانیا ں دی گئی تھیں ۔ اس معاہدہ کے باوجود ہندو مسلمانوں کو ذبح کر رہے تھے جس کا قدرتی طور پر پاکستان میں ردِ عمل ہوا۔ قائدِاعظم نے مسلمانوں سے پر امن رہنے کی پر سوز اپیل کی۔ وہ ہمیں اپنے وعدے کا احساس دلا رہے تھے ۔ وہ حکومتِ پاکستان کو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی یاددہانی کرا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا:۔

’’آپ اپنے مندروں میں جانے کو آزاد ہیں، اپنی مسجدوں میں جانے کو آزاد ہیں۔‘‘

اورمزید فرمایا:۔
’’ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان،مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ سب کے لئے سیاسی آزادی برابرہو گی‘‘۔(صفحہ۳۱۶۔۳۱۷)
اس طرح آئینی ترمیم سے قبل عوام اور عالمی رائے عامہ کو اطمینان دلانے کے لئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ احمدیوں کے شہری حقوق محفوظ ہوں گے اور ان تحفظات کے ساتھ آئینی ترمیم منظور کی جا رہی ہے۔ آئین کی ترمیم کے ذریعہ مذہب میں دخل اندازی کو سنجیدہ طبقہ نے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا مگر پھر بھی یہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی کہ شائد روز روز کے جھگڑوں ، تشدد پسند مولویوں اور ان کے نت نئے مطالبوں سے نجات مل جائے گی۔ لیکن احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ احمدیوں کے حقوق سلب کر لینے کے مطالبات شروع ہو گئے اور بالآخر ۱۹۸۴ء میں ایک فوجی آمر نے اپنے ناجائز اقتدار کو سہارا دینے کے لئے ایک ایسا قانون نافذ کر دیا جس سے مذہبی اذیت پسندوں کی مراد بر آئی اور احمدیوں کے لئے اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کے نام سے پکارنا اور نماز کے لئے اذان دینا، قابلِ تعزیر جرم ٹھہرا اور تین سال قید با مشقت اور غیر معین جرمانہ کی سزا مقرر کر دی گئی۔ان کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی گئی اور قانون کی دفعات میں ایسی راہیں کھول دی گئیں کہ احمدیوں کے لئے اپنے مذہبی اعتقاداور ضمیرکے مطابق نہ صرف خدا کے حضور عبادات بجا لانا محال کر دیا گیا بلکہ ان کی روز مرہ زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔ السلا م علیکم کہنے پر،ماہِ رمضان میں اپنے ہی گھر میں اعتکاف بیٹھنے پر، عزیزوں دوستوں کو افطار کے لیے مدعو کرنے پر، دعوتی کارڈ پر بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم لکھنے پر مقدمات قائم ہوئے اور سزائیں دی گئیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ یہ مطالبے شروع ہو گئے کہ تین سال کی سزا نا کافی ہے۔ نت نئی صورتیں احمدیوں کو اذیت پہنچانے کی پیدا کی جانے لگیں ۔اور تو اور’ ربوہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کے مطالبے ہونے لگے اور بالآخر نام تبدیل کر دیا گیا۔تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں مگر امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہر ممکن حملہ احمدیوں کی مذہبی آزادی پر کیا گیا ۔ان کی تبلیغ پر پابندی لگا کر یکطرفہ زہریلا پراپیگینڈا ان کے خلاف کیا جا رہا ہے ۔ احمدیوں کے سالانہ جلسہ اور معمول کے اجتماعات پر سرکاری احکام کے تحت پابندیاں عائد کی گئیں ۔ان کے جرائد و رسائل پر لاتعداد مقدمات قائم کئے گئے۔ غرضیکہ احمدیوں کے لئے نہ مذہبی آزادی میسر رہی، نہ آزادیٔ اظہار، نہ آزادیٔ اجتماع۔
اس ارضِ پاک میں کلمہ ٔ طیّبہ مٹانے کی مہم بھی چلائی گئی اور اس غرض کے لئے انتظامیہ اور پولیس کو استعمال کیا گیا ۔ اہلِ وطن اپنے احمدی ہم وطنوں کی مذہبی آزادی سلب ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہے۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ احساس بالکل ہی اٹھ گیا ہوتا۔ایسا بھی ہوا کہ ایک موقعہ پر’’ایک مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ آئی ہوئی پولیس فورس کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ (احمدی) بغیریونیفارم کے تو کسی کو کلمہ نہیں مٹانے دیں گے‘ یہ تو سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھے ہیں ‘ لیکن اگر حکومت مٹائے تو احمدی کہتے ہیں کہ ہم مزاحمت نہیں کریں گے ۔ اس صورت میں اﷲ جانے اور حکومت۔ جب وہ مجسٹریٹ اتنی بات کہہ رہا تھا ‘ تو ایس ایچ او نے کہا کہ جناب یہ باتیں تو بعد میں طے ہونگی پہلے یہ بتائیں کہ مٹائے گا کون؟ اس نے کہا کہ لازماً تم ہی مٹاؤ گے، تمہیں اسی لئے ساتھ لایا ہوں ۔ اس پر ایس ایچ او نے کہا یہ میری پیٹی ہے اور یہ میرا STAR ہے جہاں مرضی لے جائیں مگر خدا کی قسم میں کلمہ نہیں مٹاؤں گااور نہ ہی میری فورس کا کوئی آدمی کلمہ مٹائے گا۔ اس لئے جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ کلمہ کون مٹائے گا اس وقت تک یہ ساری باتیں فضول ہیں کہ کس طرح مٹایا جائے۔اس قسم کا ایک واقعہ نہیں ہوا، پاکستان کے طو ل و عرض میں ایسے کئی واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ پولیس جو پاکستان میں سب سے بدنام انتظامیہ مشہور ہے اور جسے ظالم‘ سفاک‘ بے دین اور بے غیرت کہا جاتا ہے اور ہر قسم کے گندے نام دیئے جاتے ہیں کلمہ کی محبت ایسی عظیم ہے، کلمہ کی طاقت اتنی عجیب ہے کہ ایک جگہ نہیں متعدد جگہوں سے بارہا یہ اطلاعات ملی ہیں کہ پولیس نے کلمہ مٹانے سے صاف انکار کر دیاہے اور یہ کہا کہ کوئی اور آدمی پکڑو جو کلمہ مٹائے،ہم اس کے لئے تیار نہیں۔
اسی طرح بعض مجسٹریٹس کے متعلق اطلاعیں مل رہی ہیں کہ وہ بڑے ہی مغموم حال میں سر جھکا ئے ہوئے آئے ، معذرتیں کیں اور عرض کیا کہ ہم تو مجبور ہیں ، ہم حکومت کے کارندے ہیں ، ہماری خاطر کلمہ مٹا دو ۔ احمدیوں نے کہا کہ ہم تو دنیا کی کسی حکومت کی خاطر کلمہ مٹانے کو تیار نہیں ہیں، اگر تم جبراً مٹانا چاہتے ہو تو مٹاؤ ۔ پھر مجسٹریٹ نے کہا اچھا سیڑھی لاؤ تو جواب میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ سیڑھی بھی لے کر نہیںآئیں گے ۔پھر انہوں نے کسی اور سے سیڑھی منگوائی اور ایک آدمی کلمہ مٹانے کے لئے اوپر چڑھایا۔ اس وقت احمدیہ ’’ مسجد‘‘ سے ایسی درد ناک چیخیں بلند ہوئیں کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کا سب کچھ برباد ہو چکا ہے اور کوئی بھی زندہ نہیں رہا۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ خود مجسٹریٹ کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں اور ابھی کلمہ پر ایک ہی ہتھوڑی پڑی تھی کہ مجسٹریٹ نے آواز دی کہ واپس آ جاؤ ہم یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے ۔حکومت جو چاہتی ہے ہم سے سلوک کرے، ہم اس کے لئے تیار ہیں ‘‘۔ (زھق البا طل صفحہ۱۷۸تا ۱۷۹)
’’ایک اور انتہائی دردناک واقعہ جو ہمارے علم میں آیا وہ اس سے بھی زیادہ ظالمانہ ہے کہ ایک موقعہ پر جب پولیس نے بھی کلمہ مٹانے سے انکار کر دیا اور گاؤں کے سب مسلمانوں نے بھی صاف انکار کر دیا کہ ہم ہر گز یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے تو اس بدبخت مجسٹریٹ نے سوچا کہ میں ایک عیسائی کو پکڑتا ہوں کہ وہ کلمہ مٹائے۔ چنانچہ اس نے ایک عیسائی کو کہا کہ وہ کلمہ مٹائے ۔ اس نے کہا کہ میں اپنے پادری صاحب سے پوچھ لوں۔ پادری نے یہ فتویٰ دیا کہ دیکھو !اﷲسے توہمیں کوئی دشمنی نہیں ہے خدا کی وحدانیت کا تو ہم بھی اقرارکرتے ہیں اور وہ بھی۔ اس لئے کسی عیسائی کا ہاتھ لَااِلٰہ اِلَّااﷲ کو نہیں مٹائے گا ہاں جاؤ اور (نعوذباﷲ من ذٰلک ) محمدرسول اﷲصلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کے نام کو مٹا دو۔ اس بدبخت اور لعنتی نے یہ گوارہ کر لیا کہ ہمارے آقاومولیٰ محمد مصطفی کا نام ایک عیسائی کے ہاتھ سے مٹوا دے ‘‘۔(زھق الباطل صفحہ ۱۸۰۔۱۸۱)
امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد نے متنبہ کیا:۔

’’ مگر میں ان کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہمارے خدا کو جس طرح اپنے نام کی غیرت ہے اسی طرح ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفی کے نام کی بھی غیرت ہے۔ محمد مصطفیٰ ﷺ خود مٹنے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر خدا کے نام کو مٹنے نہیں دیتے تھے۔ہمارا خدا نہ خود مٹ سکتا ہے اور نہ محمد ؐ کے پاک نام کو کبھی مٹنے دے گا۔ اس لئے اے اہلِ پاکستان!میں تمہیں خبردار اور متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تم میں کوئی غیرت اور حیا باقی ہے تو آؤ اور اس پاک تحریک میں ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔ کلمہ، اس کی عزت اور اس کی حرمت کو قائم کرو‘‘۔

اور فرمایا:۔

’’پس اے اہلِ پاکستان! اگر تم اپنی بقا چاہتے ہوتو اپنی جان ، اپنی روح ، اپنے کلمہ کی حفاظت کرو۔ مَیں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اس کلمہ میں جس طرح بنانے کی طاقت ہے اس طرح مٹانے کی بھی طاقت موجود ہے۔ یہ جوڑنے والا کلمہ بھی ہے اور توڑنے والا بھی مگر ان ہاتھوں کو توڑنے والا ہے جو اس کی طرف توڑنے کے لئے اٹھیں۔ اللہ تمہیں عقل دے اور تمہیں ہدایت نصیب ہو‘‘۔(زھق الباطل صفحہ ۱۸۱ ،خطبہ جمعہ فرمودہ یکم مارچ۱۹۸۵ مسجد فضل لندن)

آخر میں ہم ا ہل وطنِ اور دانشورانِ قوم سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ایک کھلی کھلی نا انصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے اورتشدد، منافرت اورعدم رواداری کے دہکتے ہوئے الاؤ سے قوم کو نجات دلائی جائے۔
(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل ۲۹؍مارچ ۲۰۰۲ء تا ۱۶؍مئی ۲۰۰۲ء)

مزید معلومات کیلئےویڈیو دیکھئے: سلسلہ ء انٹرویو رکن وفد قومی اسمبلی دوست محمد شاہد

قول فیصل – مباحثہ شملہ کا فیصلہ

قول فیصل : نبوت مسیح موعود کے متعلق مباحثہ شملہ کا فیصلہ

https://www.scribd.com/embeds/249400428/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-JUs0vFER8Abts0zGT5Uq&show_recommendations=false

تحقیقی مقالہ قسمة ضیزی یعنی تقسیمِ ناقص

تحقیقی مقالہ قسمة ضیزی یعنی تقسیمِ ناقص از انصر رضا :
 سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گالیاں نکالنے ، توہین انبیاء ؑ اور توہین صحابہؓ کے الزامات کے جوابات

https://www.scribd.com/embeds/282732561/content?start_page=1&view_mode=scroll&access_key=key-N0Joh7pu8JqLhTK503OP&show_recommendations=false